
میں عصر کے وقت اٹھا میرے ذہن میں وہی فلم دوڑنے لگی تھی میں اس پر کافی شرمندہ ہوا اور خود کو لعن طعن کی کہ تو اپنی سگی بیٹی نصرت کا سوچ کر مٹھ لگا رہا تھا تجھے ذرا بھی شرم نہیں آئی بیٹیوں کے بارے میں بھی بھلا کوئی ایسا سوچتا ہے میں یہ سوچتا ہوا کچھ دیر پڑا رہا میں کافی شرمندہ ہو رہا تھا میں سوچ رہا تھا کہ پتا نہیں نصرت میرے بارے میں کیا سوچے گی کہ اس کا باپ اس کے بارے سوچ کر مٹھ لگا رہا تھا میرا ندامت سے برا حال تھا میں کچھ دیر پڑا رہا اتنے میں دروازہ کھلا اور میری چھوٹی بیٹی مدیحہ اندر آئی میں اسوقت قمیض کے بغیر ہی لیٹا ہوا تھا کیونکہ جب مٹھ لگا رہا تھا تو میں قمیض اتار دیا تھا اس لیے اب قمیض نہیں پہنا تھا مدیحہ اندر آئی اور میں آنکھیں بند کرکے لیٹا اپنی سوچ میں مگن تھا مدیحہ نے مجھے آواز دی ابو میں اپنی سوچ میں گم تھا میں نے نہیں سنی تو چلتی ہوئی قریب آئی اور میرے ننگے بدن پر ہاتھ لگا کر مجھے ہلا کر جگایا اپنی بیٹی مدیحہ کے نرم ہاتھ کا لمس اپنے جسم پر محسوس کرکے میں مچل سا گیا مجھے کرنٹ سا لگا اور میں سیدھا ہو کر جاگ چونک کر آنکھیں کھول کر دیکھا تو مدیحہ تھی مدیحہ میری تیسری بیٹی تھی لیکن وہ نصرت اور جویریہ سے الگ ہی تھی اکثر گھر میں دوپٹے کے بغیر رہتی تھوڑی سی شوخ اور آزاد خیال لڑکی تھی مدیحہ اس وقت بھی دوپٹے کے بغیر تھی مدیحہ کا جسم تھوڑا پتلا تھا لیکن اس کے جسم کے ابھار اپنی بہنوں کی طرح شاندار تھے میں نے ایک نظر اپنی بیٹی کی اٹھی چھاتیوں پر ڈالی اگلے لمحے مجھے خیال آگیا کہ یہ تو میری بیٹی ہے میں نے نظر چرا کر اسے دیکھا تو وہ مجھے ہی غور رہی تھی اس نے مجھے اپنی چھاتیوں کو تاڑتا دیکھ لیا تھا اس کی آنکھیں میں ہلکی سی لالی اتری ہوئی تھی میں یہ دیکھ کر شرمندہ سا ہو گیا اور نظر نیچے کر لی مدیحہ بولی ابو اٹھ جاؤ کافی ٹائم دے ستے پئے ہو دکان تے نہیں جانا میں نے ٹائم دیکھا تو کافی ٹائم ہوگیا تھا میں بولا بس ایویں آکھ لگ گئی پتا ہی نہیں لگا مدیحہ تھوڑی شریر تھی اس کو بھی میرے کردار کا پتا تھا کہ میں باہر عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ زنا کرتا ہوں مجھے چھیڑتے ہوئے بولی اچھا جی فر کسے نویں نال اکھ لگ گئی آگے تجوریاں پینٹ میں اسکی اس بات پر چونک گیا اور نظر اٹھا کر مدیحہ کو دیکھا تو مدیحہ شرارتی انداز میں مجھے دیکھتی ہوئی مسکرا رہی تھی میں بھی اس کی بات سے مسکرا دیا اور بولا میری ماں کسے نال اکھ نہیں لگی بس نیندر آگئی وہ بولی اووو اچھا مطلب نیندر اچ اکھ لگ گئی مجھے سمجھ نہیں آئی میں بولا ہاں وہ ہنس کر بولی اچھا جی نیندر اچ کس نال اکھ مٹکا کر رہے سی میں اس کی بات پر ہنس دیا اور بولا بس کر میری ماں تنگ نا کر آج موڈ نہیں وہ میرے قریب ہوئی اور بولی ابو خیر تے ہے موڈ کیوں نہیں۔ کسے نال لڑائی ہو گئی میں ہنس دیا اور بولا ہنڑ ساریاں گلاں تینوں دسنڑ آلیاں نہیں مدیحہ کو بھی سمجھ آگئی وہ مسکرا سی گئی اور پھر کچھ نا بولی اور میرے بدن کو غور کر ایک نظر دیکھا اور مڑ کر باہر نکل گئی میں نے نظر اٹھا کر مدیحہ کے جسم پر ایک نظر ڈالی تو مدیحہ کے کسے ہوئے لباس میں سے باہر کو نکلی گانڈ تک رہی تھی مدیحہ کی لمبی گت گانڈ پر پڑی ہلتی ہوئی کیا نظارہ دے رہی تھی مدیحہ چلتی ہوئی دروازے پر پہنچ کر باہر نکلتے ہوئے مڑ کر مجھے گہری نظروں سے دیکھا میں اس کی گانڈ کو غور رہا تھا مدیحہ کے مڑنے پر میں نے نظر گھما کر اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ مجھے گہری آنکھوں سے دیکھتی ہوئی باہر نکل گئی مدیحہ مجھے اپنی گانڈ کا نظارہ کرتے دیکھ چکی تھی میں یہ دیکھ کر شرمندہ سا ہوگیا اور خود کو کوسنے لگا کہ مجھے ہوا کیا ہے میری گرمی اب میری بیٹیوں پر نظر ڈالنے کو مجبور کر رہی تھی میں نے سوچا کہ کچھ کرنا پڑے گا کوئی عورت ڈھونڈنی پڑے گی میں یہ سوچ کر اٹھا اور واشروم چلا گیا نہا کر میں نکلا تو مجھے سامنے نصرت کیچن میں جاتی ہوئی نظر آئی نصرت کی نظر مجھ سے ملی تو نصرت نے ایک لمحے تک مجھے دیکھا اور پھر نظر چرا لی نصرت کے چہرے پر لالی اتری ہوئی تھی میں نصرت کو شرمندہ دیکھ کر خود بھی شرمندہ ہوگیا میں نکل کر دکان پر چلا گیا کامی مجھ دکان پربٹھا کر خود بھی چلا گیا میں شام تک دکان پر رہا دکان پر کچھ مصروفیت رہتی تھی جس سے میرے ذہن سے بات نکل گئی دکان پر میں نے ملازم بھی رکھا ہوا تھا میں شام کو آجاتا تھا دکان کامی کے حوالے کرکے کیونکہ وہ بھی شام کو آوارہ گردی کرکے آجاتا تھا اور دکان رات گئے تک چلاتا تھا کیوںکہ شام کو وہ اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ آتا تھا اور رات گئے تک وہاں محفل لگتی تھی اس لیے وہ خریدو فروخت بھی کرتے تھے جس سے دکان کی گاہکی ہو جاتی تھی شانی آوارہ تو تھا پر کاروبار کا خیال رکھنے والا تھا میں گھر آنے لگا تو میرے ذہن میں بات آئی میرے ذہن نے کہا کہ نصرت گھر کی بڑی بیٹی اور سمجھدار ہے یہ نا ہو وہ کچھ غلط سمجھے میرے ساتھ تو سب بیٹیوں کا تعلق اچھا تھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں ایک زنائی اور برے کردار والا آدمی ہوں پھر بھی انہوں نے مجھے باپ کی عزت دی ہوئی ہے کبھی مجھ سے شکوہ نہیں کیا میں نے سوچا کہ مجھے خود ہی بات کلئیر کر دینی چاہئیے نا کہ نصرت خود کوئی نتیجہ نکلے میں گھر آیا شام ہو چکی تھی میں دروازہ کھول کر اندر آیا تو سامنے جویریہ صحن میں بیٹھی آٹا گوندھ رہی تھی جویریہ نے اپنے سینے پر دوپٹہ لے رکھا تھا لیکن سر پر نہیں تھا جویریہ کی گت نظر آ رہی تھی جویریہ نے یک بلو۔کلر کا سوٹ پہن رکھا تھا جو اس کو تھوڑا تنگ تھا جویریہ اکثر کھلے کپڑے ڈالتی تھی پر آج اس کو ہلکا سا تنگ لباس پہنا دیکھ کر میں بھی سوچ میں پڑگیا تھا تنگ لباس اسکے بدن کو واضع کر رہا تھا جوریہ کے بیٹھنے سے اس کے موٹے چوتڑ باہر کو نکلے نظر آ رہے تھے اس کے کسے ہوئے پیٹ کے بل بھی نظر آرہے تھے جویریہ کا جسم تھوڑا بھرا ہوا تھا جس سے اس کے جسم کا انگ انگ واضح ہو رہا تھا میں نے ایک نظر اسے دیکھا تو اسکی نظر مجھ سے ملی اس نے جلدی سے نظر چرا لی جویریہ ہلتی ہوئی آٹا گوندھ رہی تھی میں کچھ سامان بھی لایا تھا میں اندر گیا تو سامنے چولہے پر بیٹھ کر نصرت ہانڈی بنا رہی تھی نصرت پہلے بھی تنگ لباس ہی ڈالتی تھی وہ تھوڑی سی آزاد خیال لڑکی تھی گھر میں تو وہ مرضی کرتی تھی پر گھر سے باہر وہ پردے کا خاص خیال رکھتی تھی میں نے نصرت کو دیکھا تو نصرت کے تنگ لباس سے نصرت کے جسم کا انگ انگ نظر آرہا تھا نصرت کے موٹے چوتڑ اور پٹ باہر کو نکل کر نظارہ کروا رہے تھے دوپٹے سے اسنے اپنا باہر کو نکلا سینہ ڈھانپ رکھا تھا میں نصرت کو ایک نظر دیکھا نصرت کے لمبی گت اسکے چتڑوں تک آرہی تھی مجھے دیکھ کر نصرت سنبھلی اور اپنا دوپٹہ سر پر کر لیا میں نے بھی نظر ہٹا لی اور سامان سنک پر رکھ کر پانی کا گلاس کولر سے بھرا اور پاس ہی پڑی پیڑھی پر بیٹھ کر پی گیا نصرت آج چپ چپ تھی پہلے جب میں آتا تھا تو نصرت ایک باپ کی طرح مذاق مذاق میں میری کبھی کلاس لیتی کبھی کوئی مذاق کرتی وہ ایک بیٹی کی طرح مجھ سے اپنے پیار کا اظہار کرتی آج وہ چپ تھی اور آنے کام میں مگن تھی میں سمجھ گیا کہ وہ کیوں چپ ہے جتنا اسے برا لگا تھا اتنا مجھے بھی برا لگا تھا میں نے اسے بات کرنے کےلیے پوچھا نصرت عارفہ کدے ہے نصرت نے مجھے دیکھے بغیر ہی جواب دیا امی تے مدیحہ ماموں اوراں آل گئیاں ہینڑ نصرت کے دو ماموں تھے دونوں ہی میری طرح عورتوں کے شیدائی تھے ان ک گھر قصبے کے ساتھ والے ٹاؤں میں تھا جو شہر سے ملحقہ تھا اتنا دور نہیں تھا پیدل آیا جایا جا سکتا تھا میں نے تھوڑا توقف کیا اور بولا نصرت توں ناراض ہیں میرے نال نصرت چونک گئی اور بولی نہیں ابو میں تے کوئی نہیں آسکی نظر جھکی ہوئی تھی اس نے اپنا جسم آب ڈھانپ لیا تھا وہ پہلے بھی ڈھانپ کے رکھتی تھی گھر میں بھی میں بولا جی نہیں توں ناراض ہیں وہ بولی نہیں ابو اور اپنی انگلیوں سے کھیلتی ہوئی نظر نیچے کرکے بولی بس ابو تھوڑی جئی شرمندہ ہاں میں چونک گیا اور بولا نصرت مینوں پتا اے میرے توں غلطی ہو گئی اے نصرت مسکرا دی میں بولا نصرت مینوں پتا اے توں میری سکی دھی ہیں تے دھیاں دے بارے اے کوئی کرنا تے دور سوچ وی نہیں سگدا۔ نصرت بولی پر ابو توں تے سوچیا ہے نا میں بولا نصرت میں اپنی غلطی من تے رہیا آں تے تیرے کولو معافی وی منگ رہیا آں پتا نہیں مینوں کی ہویا سمجھ ہی نہیں آئی بس آج کل ذہن تے ہر ویلے اے گند ہی سوار رہندا اے نصرت بھی مجھے شرمندہ دیکھ کر نرم پڑ گئی اور مجھے دیکھ کر بولی ابو مینوں پتا اے اے زنا سارے مرد کردے ہینڑ مرد تاں ہی کردے ہینڑ جے عورتاں وی اوہناں دا ساتھ دیونڑ تے ابو مرد ہی تے صرف قصور وار نہیں ہینڑ ناں میں بولا میری دھی گل تے سہی اے پر اپنے وس وس دی گل اے نصرت بولی ابو کوئی گل نہیں جے عورتاں کر رہیاں ہینڑ تے تھوانوں وی کرن دا اتنا ہی حق ہے میں تے اج تک تھواڈے تے اعتراض نہیں کیتا نا تھوانوں منع کیتا ہے۔ اس دی وجہ اے ہی ہے کہ تسی اس نوں گھر تو باہر ہی رکھتے ہو میں نصرت کی باتوں سے شرمندہ ہو رہا تھا نصرت سمجھداری کی باتیں کرتی تھی وہ بہت سمجھدار اور دانا لڑکی تھی میں بولا میری دھی بس کی کراں اگاں خیال رکھساں گیا نالے کوشش کردا آں کہ ہنڑ اس نوں چھوڑ دیواں نصرت میری اس بات پر مسکرا دی اور بولی ابو اے تے نہیں ہو سگدا میں شرمسار سا ہوکر بولا کیوں نہیں ہو سگدا نصرت بولی ابو اے تے ہنڑ عادت ہے تھواڈی تے عادت چھوڑنا مشکل ہوندا میں ہنس کر بولا کوشش تے کرنی چاہی دی نصرت بولی ابو ہک گل دساں میں بولا دس میں اس حق اچ نہیں آں کہ تسی زنا چھڈو۔ میں نصرت کی اس بات پر چونک گیا اور بولا کیوں نصرت بولی ابو اے تسی بڑے عرصے تو کر رہے ہو تے اے تھواڈے جسم اچ رچ گیا اے ہنڑ تسی چھوڑسو تے اے تھواڈی صحت واسطے ٹھیک نا ہوسی میں بولا او تے ہے پر ہنڑ کجھ ڈھیر ہی ہو رہیا اے گل گھر تک ا رہی اے نصرت مسکرا کر شرارتی انداز میں مسکرائی اور بولی ابو تسی ذہن اچ سانوں بیٹیاں ہی رکھو ناکہ بازار عورتاں اور کھلکھلا کر ہنس دی میں بھی ہنس دیا نصرت پہلے بھی ایسے مذاق کرتی تھی پر حد میں ہی رہتی تھی میں بولا او تے گل ٹھیک ہے پر ہنڑ تھواڈے بارے وی کجھ سوچنا اے تسی وی جوان ہو گئیاں ہو تھواڈی ہنڑ شادی دی عمر اے نصرت ہنس کر بولی ویسے ابو بڑا ٹائم نال یاد آیا کہ اسی جوان ہو گئیاں آں میں مسکرا دیا اور بولا یاد تے آگیا ہے نا نصرت ہنس دی اور بولی ویسے ابو تھواڈی اس نظر نال ویکھنڑ دا اے فایدہ تے ہوگیا کہ ساڈا خیال وی تھوانوں آگیا میں ہنس دیا نصرت خاموش ہوکر کام کرنے لگی اور پھر ایک لمحے بعد بولی ویسے ابو ہک گل تے دسو میں بولا پچھو وہ بولا ابو ویسے اے تھواڈے ذہن اچ گل آئی کدو مینوں انج ویکھنڑ الی میں ہنس دی اور بولا بس آگے آپ ہی آکھ رہی ہائیں ناں کہ اے جسم اچ رچ گیا اے تے اج کل گرمی ہے تے ملاقات گھٹ ہوندی ہے سہیلیاں نال اس توں کافی دن ہو گئے ہانڑ تے گرمی عقل دی مت مار دیتی نصرت ہنس دی اور بولی ابو او تے گل ٹھیک ہے پر اپنے آپ نوں ٹھنڈ پاونڑ لگیاں دروازے نوں کنڈی لا لئی کرو اور کھلکھلا کر ہنس دی میں نصرت کی اس بات شرم سے پانی ہوگیا اور مجھے یاد آگیا کہ آج میری بیٹی نصرت نے مٹھ لگاتے ہوئے مجھے پکڑ لیا تھا میں شرمندہ سا ہوکر کچھ نا بولا تو نصرت بھی سمجھ گئی اور بولی کوئی گل نہیں ابو اے ہو جاندا اے پریشان نا ہووو میںرے مذاق کیتا میں بولا اچھا جی وہ پھر ہنس کر بولی بس کنڈی لالینا ہنڑ۔ میں اس کی اس بات پر چڑھ سا گیا اور اسکے آگے ہاتھ جوڑ کر بولا اچھا معاف کردے میری ماں غلطی ہو گئی میرے توں نصرت میرے ہاتھ جڑے دیکھ کر ہنس دی اتنے میں جویریہ آٹا اندر لے کر آئی اور مجھے معافی مانگتا دیکھ کر بولی نصرت آج ابو نوں معافی نا دیویں آج چنگا تنگ کر اس نوں اے سانوں تنگ کردا اے جویریہ بھی میرے ساتھ کافی فرینک تھی نصرت ہنس کر بولی جی نہیں بس آج واسطے اتنا کافی اے ابو فر آکھسی کہ بڑا تنگ کردیاں اسدیاں دھیاں میں ہنس دیا اور بولا جویرو توں رہ گئی ہاں توں وی آجا جویریہ ہنس کر آٹا رکھ دیا اور ہاتھ دھونے لگی اتنے میں دروازہ کھلا اور عارفہ اور مدیحہ بھی آگئیں نصرت پھر روٹی بنانے لگی سب نے کھانا کھایا میں اندر ٹی وی دیکھنے لگا ٹی وی دیکھنے کے دوران نصرت۔ آئے لائی کچھ دیر ٹی وی دیکھتے ہے پھر سونے کا ٹائم ہو گیا میں اور عارفہ سونے چلے گئے بیٹیاں اپنے کمرے میں تھیں میں نے جاتے ہی عارفہ کو قابو کر لیا اور اسے چومنے لگا عارفہ کی عمر 45 سال تھی لیکن اتنی بھی بیکار نہیں تھی کبھی کبھار ساتھ دیتی تھی میں عارفہ کو چومتا ہوا ننگا کر دیا اور خود بھی ننگا ہو گیا عارفہ مجھے چومتی ہوئی میرا لن مسلنے لگی میرا لن کہنی سے بھی بڑا اور موٹا تھا عارفہ سسک کر کراہ کر بولی افففف ساجوووو کیڈا لما لن ہے تیرا اور منہ نیچے کرکے لن کو چوتی ہوئی چاٹنے لگی میں سسک کر کراہ رہا تھا کئی دنوں سے پھدی مل نہیں رہی تھی اس لیے میرے اندر بھی آگ لگی تھی میں سسکتا ہوا عارفہ ہے اوپر ہوا اور عارفہ کی ٹانگیں آٹھ کر کاندھوں سے لگا کر اوپر ہوا تو عارفہ بولی وے ساجو سارا دن باہر ہی منہ ماردا رہندا ایں کجھ دھیاں دا وی سوچ لئے اس وقت عارفہ کو یہ باتیں کرتا دیکھ کر میں مچل سا گیا جھٹ سے میرے ذہن میں میری بیٹی نصرت آئی میں سسک گیا اور عارفہ کے اوپر ہوکر بولا ہنڑ اس ٹائم تینوں دھیاں دا کی خیال آ رہیا اے عارفہ مسکرا دی اور بولی وے ہنڑ اے وڈیاں ساریاں ہو گئیاں ہینڑ ہنڑ اوہنا دی شادی دی عمر لنگھی جا رہی تے توں کجھ سوچ ہی نہیں رہیا میں بولا میں کی کراں وہ بولی تینوں پتا کی کرنا میں کچھ نا سمجھا وہ بولی وے ہک گل تے دس آج جدو نصرت فریج ابو برف کڈھ رہی ہا توں اس آلو کیویں ویکھ رہیا ہائیں میں چونک گیا اور بولا دھی یاوی آ بس ذہن کے خراب ہا تے پتا ہی نہیں لگا عارفہ ہنس دی اور بولی تینوں نصرت چنگی لگدی اے میں بولا دھی یاویے کی آکھ رہی ہیں دھی ہے او میری وہ بولی ہلا اس ویلے دھی کوئہ نا میں بولا بس ذہن اچ گرمی سوار ہا پتا ہی نہیں لگا وہ ہنس دی اور بولی ویسے ہک گل دساں نصرت تے جویریہ دی عمر ہنڑ کافی ہوو گئی اے تے ہنڑ رشتے آلے وی نخرے کردے ہینڑ ہک سال ہور لنگھیا تے رشتے آنے ہی کوئی نہیں ددواں دی عمر پکی ہوندی پئی تے پکی عمر دیاں چھوریں دیاں شادیاں رہ ویندیاں ہینڑ پر نصرت تے جویریہ ہنڑ مسیں ودیاں ہینڑ اپنے آپ نوں بڑی ہمت نال قابو کیتا ہویا ہینڑے مینوں پتا میں جیویں اوہناں نوں سنبھالی ودی آں توں تے باہر چسکے چیندا رہندا ایں میں بولا نصرت تے جویریہ لگدیاں تے نہیں پکی عمر دیاں ہلے تے ٹھیک ٹھیک ہینڑ عارفہ بولی تینوں لگدا اے لوگ تے کیڑے کڈھدے ہینڑ میں بولا وت ہنڑ کی کرئیے وہ بولی جے نصرت یا جویریہ باہر منہ مار لیا تے بڑی بدنامی ہوسی میں اس کے اوپر جھکا تھا باتوں سے میرا لن مرجھا رہا تھا میں بولا ہنڑ فر کی کرئیے وہ بولی میرے کول ہک حل ہے جس نال شادیاں دھیاں دی آگ وی بجھ جاسی تے عزت وی گھر اچ محفوظ رہسی میں چونک کر بولا اوہ کی عارفہ بولی ساجو جے توں اپنی دھیاں دا کیڑہ مار چھڈیں تے ساڈی دھیاں دا کم وی ہو جاسی تے عزت وی بچ جاسی میں اس کی بات سن کر ایک بار تو پیچھے جا پڑا اور بولا توں پاگل تے نہوں ہو گئی او میریاں دھیاں ہینڑ میں دھیاں نال اے کیویں کرساں عارفہ بولی انج ہی کریں جیویں اکھیں پاڑ کے نصرت دیاں چھاتیاں ویکھ رہیا ہائیں میں بولا ویکھنڑ تے ہور ہے پر دھیان نال زنا کرنا ہور گل اے مجھے پتا ہی نہیں چلا تھا میرا لن عارفہ کی بات سے تن کر کھڑا ہو چکا تھا میں بولا میں اے کنج کرساں گیا عرفہ میرے لن کو تنا ہوا دیکھ کر بولی توں کیویں کرسیں پر تیرا لن تے تیار اے میں اسے دیکھ کر شرما گیا مجھ سے کوئی بات نا ہوئی میں بولا میرے کولو ہو وی جاوے تے میری دھیاں جے نہیں مننڑا عارفہ بولی او میں منا لیساں اوہنا دی جو حالت ہے اوہنا نوں تے اس ٹائم مرد چاہی دا بھاویں باہر دس ہووے یا گھر دا میں بولا اے توں کی اکھ رہی ہیں وہ بولی وے تینوں نہیں پتا تیریاں دھیاں مسیں ودیاں ہینڑ اس ٹام توں تے اپنی آگ میرے تے کڈھ رہیاں ایں پر او وی تے ہینڑ جپڑیاں پکی دوئی دی آگ آپ کڈھدیاں ہینڑ میں بولا کی مطلب۔ وہ بولی جا کے ویکھ لئے تینے فل ننگیاں ہوکے ہکو دوئی نوں چنڑیاں ہونیاں تے اپنی آگ مٹا رہیاں ہونیاں کیڈی زیادتی اے سادی دھیاں نال گل تیار جوانیاں تے اوہناں واسطے مرد کوئی نہیں میں سوچ کر مچل سا گیا تھا میرا لن فل تن چکا تھا میرے ذہن میں صبح کی طرح نصرت گھومنے لگی مجھ سے رہا نہیں گیا عارفہ میری حالت سمجھ گئی اور بولی توں فکر نا کر میں صبح نصرت نوں منا لیساں گیا اوہ ڈھیر کاہلی ہے مرد واسطے میں اس نوں گل کرساں گئی کہ پیو نال سئیں کے اپنی گرمی لاہ لئے یہ سن کر میرے لن نے جھٹکا مارا اور تن کر کھڑا ہوگیا عارفہ بولی ویکھ تے سہی دھی واسطے کیڈا بے قرار ہیں اس سے پہلے کہ کوئی اور بات کرتی میں نے لن عارفہ کی پھدی پر رکھ کر دھکا مارا اور پورا لن جڑ تک اس کی پھدی ہے پار کردیا عارفہ کرلا کر تڑپ گئی میں رکے بغیر پوری شدت سے دھکے مارتا ہوا عارفہ کہ پھڈی میں پن پوری شدت سے گھمانے لگا عارفہ میرے دھکوں سے تڑپ گئی میرے ذہن میں میری بیٹی نصرت ننگی گھومنے لگی جس سے میں تڑپ کر کراہ گیا اور ہٹ ہٹ کر دھکے مارتا پوری شدت سے لن عارفہ کی پھدی میں گھمانے لگا جس سے عارفہ تڑپ کر بکانے لگی پہلے میرے اندر اتنی طاقت کبھی نہیں اور نا کسی کو اتنی شدت سے چودا تھا بیٹی کو چودنے کا ذہن میں کا کر میں مچل کر بے قابو ہو چکا تھا میرا ندر سے آگ نکل رہی تھی میں دو تین منٹ میں ہی میری ہمت ٹوٹ گئی اور۔ میں کرلاتا ہوا لن جڑ تک عارفہ کی پھدی میں پار کرکے نڈھال ہوکر فارغ ہوگیا میرے اندر سے ساری جان نکل چکی تھی میں نڈھال ہوکر عارفہ کے اوپر گر کر ہانپنے لگا عارفہ تڑپتی ہوئی کراہ رہی تھی میں اپنی بیٹی نصرت کا چودنے کا سوچ کر بے قابو پایا تھا میرے سانس بھی یہ سوچ کر بے ترتیب تھی عارفہ بھی میری جنونیت سے مسلی گئی تھی کچھ دیر بعد وہ کرا ہ کر تڑپتی ہوئی سنبھل کر بولی ہالنی اماں میں مر گئی ساجو ہلے تے میں صرف تیری دھی دی تیرے نال گل کیتی ہے۔ جے تیرے ہیٹھ تیری دھی نصرت آگئی تے توں تے اس نوں پاڑ دیسیں گیا میں سسک کر کراہ کر بولا دھی یاویے میرے کولو کی کراؤ ہیں عارفہ ہنس کر بولی جیویں تیرا دل کوئی نہیںاے کرن تے میں چپ ہو کر اس سے الگ ہوکر لیٹ گیا عارفہ کراہ کر اپنی کمر مسل کر بولی آج تے رگڑ کے رکھ دتی ہئی ٹھہو ہی تیری دھی نوں تیرے تھلے لئے آندی آں توں اوہنا دے سہی قابل ہیں تیریاں دھیاں نوں تیرے جئے مرد دی لوڑ ہے توں ہی اپنی دھیاں دی آگ سہی طرح بجھیسیں گیا میں ہانپتاہوا آنکھیں بند کیے پڑا تھا عارفہ میرے سینے سے لگ کر مجھے چومنے لگی نصرت کا سوچ کر میرا لن پھر سے تیار تھا عارفہ ہنس کر بولی آگے تے توں آکھ رہیا ہائیں کہ توں دھیاں نال نہیں کر سگیدا ہنڑ تے تیرا لن نصرت تے ہڑیا کھلا میں سسک کر بولا اففف عارفو پتا نہیں کی ہویا اے میں تے باہر دیاں زنانیاں نوں یہ یہ کے درندہ ہو گیا ہاں بازاری عورتوں تے اپنی دھیاں اب کوئی فرق نہیں لگ رہیا عارفہ ہنس کر بولی اے چنگا ہے انج ہی سوچ توں ہی توں دھیاں دے اتے چڑھسیں گیا میں ہانپتا ہوا بولا عارفہ پر مینوں لگدا نصرت نہیں مننڑا وہ بولی اے۔ توں میرے تے چھڈ دے تینوں نہیں پتا نصرت اب کیڈی آگ اے میں جانڑدی آں جیوں میں اس نوں قابو کیتا ہویا اے نہیں تے نصرت ہنڑ تک کسے مرد نال نس گیا ہونا ہا میں چونک کر بولا سچی دس نصرت تے بڑی سمجھدار تے سلجھی ہوئی اے وہ بولی بندہ جیڈا وی سمجھدار تے سلجھایا ہووے ہک حد تک اپنے آپ نوں قابو کر سگدا اے جدو اے پھدی دی آگ مچھردی وت کجھ سمجھ نہیں آندا بس دل کردا کہ پھدی اچ لن ہی جاوے تے تیریاں دھیاں دی آگ تیرے تے گئی اے توں ہی بجھانی اے میں نصرت کے بارے میں بات سن کر حیران رہ گیا تھا وہ تو بہت شریف اور پردہ دار تھی اپنی عزت کی حفاظت کرنے والی پر وہ سچی ہی تھی کب تک اپنی آگ کو قابو میں رکھتی میں بولا تینوں پتا او کون ہے جس نال نصرت سیٹ اے وہ بولی ہا مینوں پتا اے میں بولا کون وہ بولی قاسو مصلی نال سیٹ اے میں یہ سن کر چونک گیا ہمرے گھر سے دو گھر چھوڑ کر اس کا گھر تھا کالا کلوٹا بھدا سا لیکن جسامت اور مردانی وجاہت اچھی تھی میں چونک کر بولا اس اچو نصرت نوں کی لبھا عارفہ بولی عورت جدو مشکی ہوئی ہوندی او مرد دی طاقت ویکھدی مرد دی شکل صورت نال اس نوں غرض نہیں میں بولا وت وہ بولی مینوں پتا لگ گیا ہا اے راتی اس نوں ملنڑ جاندی ہا پر فکر نا کر میں قابو کر کئی اے کیتا کجھ نسو سادی عزت محفوظ اے بس دو چار دن میں چوک جاندی تے نصرت نس جانا ہا اس نال نکاہ دا بندوبست کر لیا ہا اہنا۔ میں حیرانی سے بولا باقیوں دا وی پتا ہئی وہ بولی جویریہ تے مدیحہ وی چھوراں نال رابطے اچ ہینڑ پر فکر نا کر انج محفوظ ہینڑ بس گلاں ہی کردیاں ہینڑ اس دی خیر اے دھیاںے ہی لگیاں ہویاں ہینڑ اپنی بیٹیوں کی حالت کا سن کر مجھے ان پر ترس آگیا تھا میرا لن بیٹھ چکا تھا عارفہ میرے ساتھ لگ کر بولی ساجو اس تو پہلے کوئی چن چڑھے توں اپنی دھیاں نوں آپ ہی نتھ پا دے میں نے اسے دیکھا اور بولا توں نصرت نال گل کر میں تیار ہاں عارفہ مجھے دیکھ کر ہنس دی اور بولی میں دھمی ہی اس نل گال ٹوردی ہاں گھر دی گل گھر اچ ہی رہوے تے چنگی ہے عارفہ میرے کندھے پر رکھ کر مطمئن ہوکر سونے لگی میں لیٹ کر چھت کو دیکھتا ہوا کچھ سوچنے لگا تھا اتنا کچھ مجھ سے چھپا ہوا تھا میں باہر کی عورتوں کو ٹھنڈا کرنے میں مگن تھا جبکہ میری بیٹیاں گھر میں جوانی کی آگ میں تڑپ کر مرد کےلیے ترس رہی تھیں میں نے سوچ لیا کہ اب میں اپنی بیٹیوں کی محرومیاں دور کروں گا انہیں ہر سکھ دوں گا پر پتا نہیں نصرت مانے گی کہ نہیں یہ سوچ کر میں گھوم کر عارفہ کو باہوں میں بھر کر سینے سے لگا لیا عارفہ سو چکی تھی میرا دل تو تھا پر اس کے ساتھ ہی پہلے ہی زبردستی کر دی تھی شدت سے دھکے مار کر مجھے اس پر پیار آگیا اور میں اس کو چوم کر اسے باہوں میں لپیٹ کر سو گیا