گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 78 )

زیبا نے چونک کر میری طرف دیکھا اور پوچھا کیا مطلب پکڑے جا چکے ہیں۔۔۔​ ​ میں نے ہسنتے ہوئے کہا کوئی تو ہے جو شمروز کو آپ کی ساری رپورٹ دے رہا ہے جس کی وجہ سے یہ سب ہوا۔۔۔۔​ ​ مجھے اس جگہ کتنے دن ہو گئے ہیں کوئی ایسی ویسی بات نہیں … Read more

گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 79 )

لن اندر جانے کو بیتاب تھا زیبا پھدی میں لن لینا چاہتی تھی ایک میں تھا جو لن کو صرف پھدی کے لبوں تک ہی محدود رکھے ہوئے تھا۔۔۔۔​ ​ زیبا کی جان اٹکی ہوئی تھی لن کی ٹوپی پھدی کے پانی سے بھیگ چکی تھی۔۔۔​ ​ میں اس سب سے بے فکر ہو کر … Read more

گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 80 )

پھر تم وہ سب کچھ حاصل کر لو گی جس کی خواہش ہے تمہاری ہر مراد پوری ہو گی تم بالکل راج کماری کی طرح زندگی گزارو گی اب تم پر منحصر ہے کہ ان درندوں کی ہوس کا نشانہ بننا ہے یا اس کے بعد شاہانہ زندگی گزارنی ہے۔۔۔۔​ ​ شبو چپ ہو گئئ … Read more

گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(آخری قسط )

شمروز بہت بے چین تھا ہماری موت کی خبر سننے کے لیے،اس نے اپنے بندوں کو سپیشل ہمیں مارنے کے لیے بھیجا تھا۔۔۔۔​ ​ پہلے جو لگ ہمیں اٹھا کر لائے تھے ان کے علاوہ اس نے کچھ اور لوگوں کو بھیجا تھا جن کو یہ ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ ہمیں ان کے … Read more

گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 77 )

میں نے فون بند کیا اور اس آدمی سے کہا آپ بے فکر رہیں اب وہ آپ لوگوں کو تنگ نہیں کرے گا ۔۔۔۔​ ​ اس کے بعد میں وہاں سے گھر کی طرف چل پڑا سیدھا گھر آیا اور کچھ دیر آرام کرنے کے لیے لیٹ گیا۔۔۔۔​ ​ میرے موبائل پر بیل ہوئی میسج … Read more

ڈکیت۔۔۔۔(قسط 1)

br> میں اکثر ایک خاص قسم کی خبریں پڑھ کر سوچا کرتی تھی کے ایسا کیسے ممکن ہے کہ کوئی عورت اپنے ہنستے بستے گھر سے بھاگ جائے، اپنے بچوں اور خاوند سے ناطہ توڑ لے، اپنی خوشحال زندگی کو چھوڑ دے۔ نو عمر اور نوجوان لڑکیوں کی تو سمجھ آتی تھی کے چلو کم … Read more

ڈکیت۔۔۔۔(قسط 2)

br> میں اُس کے اِس مکروہ کھیل میں پوری طرح سے شریک ہو چُکی تھی۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اُس کے سر کو پکڑ لیا اور اپنی گانڈ کو اوپر اُٹھا کر چوت اس کے منہ سے رگڑنے لگی۔ میں لذت کے سمندر میں ڈوبی جا رہی تھی۔ وہ کبھی میری رانوں پر … Read more

ڈکیت۔۔۔۔(قسط 3)

br> وہ جا چُکا تھا اور میں یونہی بُت بنی بیٹھی تھی۔ اچانک جیسے میں خواب سے بیدار ہوئی۔ سب سے پہلے میں نے اپنے کپڑے تبدیل کیئے بیڈ شیٹ بھی تبدیل کی فرش پر گری گندگی کو صاف کیا اور بھاگ کر نیچے گئی جہاں میری ساس سُسر اور دیور ابھی تک بندھے تھے۔ … Read more

ڈکیت۔۔۔۔(قسط 4)

br> اس سے باتیں کرتے کرتے میرا جسم بہت گرم ہو چُکا تھا۔ حقیقت میں تو میں چاہ رہی تھی کے وہ اسی وقت آجائے۔ لیکن ایسا فی الوقت ممکن نہیں تھا۔ کچن میں کام کرتے ہوئے بھی میرا دھیان اس کی باتوں میں اٹکا رہا۔ میں یہی سوچتی رہی کے کیسے موقع ملے کے … Read more

ڈکیت۔۔۔۔(آخری قسط )

br> میں نے بھی کوئی مزاحمت نہ کرتے ہوئے قمیض اُتارنے میں اس کی مدد کی۔ وہ میرے فلیٹ پیٹ کے تھوڑی اوپر میری چھاتی کے گول گول ابھاروں کو للچائی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے منہ سے نکلتی رال مجھے صاف نظر آ رہی تھی ۔ اس نے جلدی جلدی میری برا … Read more