گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 13)

اس نے مجھے پیچھے دھکیلا مجھے ایسا لگا جیسے کوئی بہت بڑا خزانہ ہاتھ سے نکل گیا ہو۔ میں اسی سوچ میں تھا کہ اس ما ہ رخ نے میرے سر پر ہاتھ رکھا ۔ میں نےاس کی طرف دیکھا تو اس حسینہ کے چہرے پر چودیں کے چاند کی سی چمک اور آنکھوں میں … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 14)

میں بولا جو بولنا ہے سچ بول اور جلدی بول میری پاس تیری فالتو بکواس سننے کا وقت۔ نہیں ہے۔ تو بولا یار تو سمجھ نہیں رہا ہے جو میں کہہ رہا ہوں وہ سچ ہے ۔ میں نے کہا چل ٹھیک ہے اب تو اپنی زبان بند کر اور اپنا بوتھا لے کر یہاں … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 15)

ہم اسی طرح چلتے ہوئے دکان پر گئے بے مقصد وہاں بیٹھ کر گپیں ہانکتے رہے ۔ کچھ اور گاؤں کے لڑکے بھی آ گئے کافی دیر ہنسی مذاق چلتا رہا ۔ عصر کے وقت ہم واپس گھر آئے میں شہر جانے کے لیے گھر سے نکل پڑا ۔ جیسا کہ پہلے سب دوستوں کو … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 16)

جیسے ہی میرے دماغ میں اس کے بارے میں یہ بات آئی میں نے بھی کہا جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ کیونکہ مجھے شک نہیں بلکہ یقین ہو گیا تھا کہ شانزل جھوٹ بول رہی ہے اس کو ماہواری وغیرہ کچھ نہیں ائی میں نے پھر سے اس کوگلے لگایا اس کےنرم وگداز سینے … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 9)

میں نے آنکھیں موندھ لیں اور اپنے آپ کو پرسکون کرنے لگ گیا ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ مجھے اپنے لن پر نرم نرم چیز کا احساس ہوا پھر وہ احساس حقیقت میں بدلتا گیا کیوں کہ مجھے اپنے نتھنوں میں ایک عجیب سی مست کر دینے والی مہک کی شدید لہر کے … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 10)

جیسے ہی چھنو کی بھتیجی جس کا نام صنم تھا میرے پاس سے گزری اس کے جسم کی مہک اس کے جوان سینے سے اٹھنے والی پرزور قسم کی خوشبو میرے نتھنوں سے ٹکرائی تو میرے دماغ کی بتی راشن ہو گئی یہ تو ویسی ہی شہوت بھری مہک ہے جس نے کماد میں میرے … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 11)

میں کچھ بھی سمجھنے کے موڈ میں نہیں تھا شانزل کے نرم وملائم رسیلے ہونٹوں کو چومنے لگ گیا اور اپنا اتنے دن سے پیاسہ لن اس کی ٹانگوں میں گھسا دیا جو سیدھا اس کی پھدی پر جا لگا اب صورتحال یہ تھی کہ شانزل میرے بازوؤں میں کسمسا رہی تھی اس کے ہاتھ … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 12)

میرا لن چھنو کی پھدی میں اپنے گرم پانی سے چھڑکاو کر رہا تھا۔ چھنو کی پھدی میرے سخت اکڑے ہوئے لن کو اپنی نرم نرم شریانوں سے جکڑے نہلا رہی تھی ہم مزے میں ڈوبے ایک دوسرے کے اعضائے تناسل کی گرمی سے اپنے جسموں کی آگ بجھاتےجا رہے تھے۔ ابھی گرمی کا زور … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 5)

ادھر آوازیں قریب آتی جا رہی تھیں دوسری طرف میری بنڈ نے بھی کانپنا شروع کر دیا تھا۔پسینے سے میری بری حاکت ہو چکی تھی مجھے اپنی سانس سے چھی ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں باہر سنائی نہ دے جائے ۔صورتحال ہی کچھ ایسی تھی کہ اگر میں وہاں پکڑا جاتا تو خاندان میں … Read more

گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 6)

میں اس کے ہونٹ کان ٹھوڑی گردن گال ہر جگہ چومتا گیا یہاں تک کہ اس منہ پر ہر جگہ میرا تھوک چمکنے لگا۔میرا دایاں کاتھ جو اس کے نرم و ملائم پیٹ پر رینگ رہا تھا اس کی مدد سے میں نے اس کو محسسوس ہوئے بغیر اسکی قمیض کو اٹھانا شروع کیا ساتھ … Read more