تلاشِ زِیست 11

 

ہمیں شام سے پہلے ہی ساحل تک پہنچنا تھا۔ ورنہ جنگل میں رات اس بار ہمارے لیے موت تھی۔ سنجے کے لیے جلد ہی کچھ کرنا پڑے گا، ورنہ سنجے کا بچ پانا شاید ممکن نہ رہے۔ جتنی ہمت سنجے نے کی تھی خود کی لائف کو بچانے کے لیے، اتنا ہی سنجے کی سانسیں اس سے دور ہوتی جا رہی تھیں۔ 

راجہ: ظہیر، جتنی بھی ہمت ہے وہ لگا دو اور جتنی جلدی ہو سکے ہمیں اس جنگل سے نکلنا ہے۔ ورنہ ہمارا بچ پانا ممکن نہیں۔ صرف تین یا چار کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اگر ہم نے ہمت کی تو تین گھنٹے میں پہنچ ہی جائیں گے۔ اور ابھی شام ہونے میں چھ گھنٹے باقی ہیں۔ لیکن جیسے ہماری حالت ہے اور جیسا جنگل کا راستہ ہے، ہماری سپیڈ کم ہو سکتی ہے۔ لیکن ہمیں اپنی سپیڈ کو کم نہیں ہونے دینا، ورنہ ہم سب فنش۔ 

ظہیر: ٹھیک ہے راجہ، اب آخری دم بھی لگا دیتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ ہمارے لیے کیا لکھا ہوا ہے۔ 

میں نے رانا کی طرف دیکھا تو وہ بھی میری بات سن کر خود کو اندر سے سٹرانگ بنانے لگا۔ رانا کے چہرے پر مجھے زندہ رہنے کا عزم دکھائی دینے لگا۔ ظہیر سے بھی زیادہ بری حالت میں تھا رانا، لیکن پھر بھی وہ خود کو سب سے زیادہ سٹرانگ دکھانے میں لگا ہوا تھا۔ رانا مجھے پسند آنے لگا۔ اگر ہم بچ گئے تو رانا سے فرینڈشپ اچھی رہے گی۔ 

ہم نے سمندر کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ جتنا ہو سکا، اتنا تیز ہم چل رہے تھے۔ اور دو گھنٹے میں ہی ہم نے آدھے سے زیادہ سفر طے کر لیا، جو کہ ہمارے لیے بہت ہی اچھا تھا۔ 

رانا کچھ بہتر تھا، لیکن ظہیر اور میری حالت اب بہت خراب ہونے لگی تھی۔ میں سب سے زیادہ سخت جان تھا۔ لیکن میرے بھی ایک کندھے میں درد تھا، تو دوسرے کندھے پر سنجے تھا۔ اور کل صبح سے ہم بھوکے پیاسے تھے۔ اور ہمیں کچھ بھی کھانے پینے کو نہیں ملا تھا۔ 

لیکن میری سوچ سنجے، ظہیر اور رانا تینوں سے ہی مختلف تھی۔ مجھے زندہ رہ کر خود کی تلاش کرنی تھی۔ میں کون ہوں اور میرے وارث کون ہیں؟ کیا میں ایسے ہی لاوارث مر جاؤں گا؟ نہیں، میں خود کو ڈھونڈنے سے پہلے مرنا نہیں چاہتا تھا۔  بس یہی بات تھی جو میری ہمت کو ٹوٹنے نہیں دے رہی تھی۔ 

اس بیچ ہم نے دو بار کچھ منٹس کے لیے سانس درست کی تھی۔ ہمیں حیرت تھی کہ اس طرف ہمیں کوئی خطرناک جانور کیوں نہیں دکھا۔

اور پھر میری یہ حیرت بھی جلد ہی ختم ہو گئی کہ اس طرف جنگلی جانور کیوں نہیں ہیں۔ ہوا یہ کہ مجھے اچانک سے ظہیر کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔ 

آہہہہہہہہ راجججججججججججااااااااا 

میں نے ظہیر کی طرف دیکھا تو ظہیر ایک دلدل میں پھنسا ہوا تھا۔ ظہیر کو دیکھتے ہی میرا برا حال ہو گیا۔ ظہیر کو دلدل میں پھنسا دیکھ کر میں پاگل ہونے لگا۔   رانا بھی رک گیا اور ظہیر کو دلدل میں پھنسا دیکھ کر رانا کی بھی حالت خراب دکھنے لگی۔ 

میں نے جلدی سے سنجے کو اپنے کندھے سے اتارا تو مجھے اپنے دوسرے کندھے میں بھی درد محسوس ہونے لگا۔ میں نے اپنے درد کو برداشت کیا۔ لیکن سنجے اب ہر قسم کے درد سے نجات پاتے ہوئے بیہوش ہو چکا تھا۔ 

جس دلدل میں ظہیر گرا تھا، وہ خشک پتوں سے ڈھکی ہوئی تھی اور اس کی چوڑائی نو فٹ کے قریب تھی۔ ظہیر دلدل میں تین فٹ آگے تھا اور چھاتی تک دلدل میں دھنسا ہوا تھا۔ میں نے آس پاس دیکھا کہ کچھ مل جائے ظہیر کو باہر نکالنے کے لیے۔ لیکن مجھے کچھ نہیں دکھا۔ کوئی لکڑی بھی نہیں ملی۔ میں نے رانا کو چاقو دیا ۔ 

راجہ: رانا، یہ چاقو پکڑ اور جلدی سے کوئی لکڑی کاٹ کہیں سے۔ لیکن دیر مت کرنا۔ 

رانا نے دیر کیے بنا ہی میرے ہاتھ سے چاقو لیا اور لکڑی کی تلاش میں نکل گیا۔ رانا کو جاتے دیکھ کر میں نے ظہیر کو دیکھا تو ظہیر بہت ہی تیزی سے نیچے جانے لگا۔ میں نے سوچا رانا کو دیر ہو جائے گی۔ اور ظہیر کو بچانا ممکن نہیں رہے گا۔ کیا کرنا چاہیے؟ 

ظہیر: راجہ، مجھے بچاؤ، میں مرنا نہیں چاہتا۔ مجھے اپنے گھر جانا ہے۔ راجہ، پلیز میرے لیے کچھ کرو۔ میری ماں، میری بہن۔۔ 

پھر ظہیر نے روتے ہوئے سب ہی گھر والوں کو یاد کرنا شروع کر دیا۔ 

ماں۔۔ پاپا۔۔ چھوٹی۔۔ 

مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں ظہیر کے لیے کیا کروں۔ پھر میری نظر اچانک سے سنجے کے کندھے پر بندھی ہوئی رسی پر گئی۔ 

اور میں پھر فوراً سنجے کے کندھے سے رسی کو الگ کرنے لگا۔ سنجے بیہوش تھا اور درد کو بھولا ہوا تھا۔ میں نے دیر نہ کرتے ہوئے رسی کو سنجے سے الگ کیا۔ اور رسی لیے ظہیر کے پاس بھاگا۔ ظہیر کا منہ اور ناک دلدل میں دھنس چکے تھے۔ 

اور ظہیر آنکھوں میں آس لیے مجھے دیکھ رہا تھا۔ میں نے رسی کو ظہیر کی طرف اچھالا۔ ظہیر نے ہمت رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ نہیں ڈوبنے دیے تھے۔ 

رسی ظہیر کے پاس پہنچی تو ظہیر نے رسی کو پکڑ لیا۔ میں نے ظہیر کو اوپر کھینچنا شروع کر دیا۔ لیکن ظہیر کو جیسے کسی نے نیچے سے پکڑا ہوا تھا۔ ظہیر بری طرح سے دلدل میں دھنسا ہوا تھا۔ میں پورا زور لگانے لگا اور ظہیر مجھے زور لگاتے ہوئے دیکھنے لگا۔ ظہیر نے رسی نہیں چھوڑی، پر اب ظہیر کے سر کے کچھ بال ہی نظر آ رہے تھے۔ یا اس کے رسی کو تھامے ہوئے ہاتھ دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے اپنی پوری جان لگا دی۔ رانا بھی بھاگتا ہوا آیا اور میرے ساتھ رسی کو پکڑ کر جتنی اس میں ہمت تھی، رانا نے لگا دی۔ اور پھر ظہیر ایک جھٹکے میں دلدل سے باہر آ گیا۔ 

ظہیر نے رسی تو نہیں چھوڑی تھی، پر اس کی ناک، منہ اور آنکھوں میں دلدل کا کیچڑ چلا گیا تھا۔ اور ہمارے پاس پانی نہیں تھا ظہیر کو فوراً ہی واش کرنے کے لیے۔ پانی ہوتا تو ظہیر کے منہ، ناک اور آنکھ میں گئے دلدل کے زہریلے اثرات ختم کیے جا سکتے تھے۔ 

ظہیر کی حالت تو پہلے ہی خراب تھی، اوپر سے اس نے اپنی جان بچانے کے لیے بھی اپنی آخری انرجی استعمال کر لی تھی۔ اب سنجے کے ساتھ ساتھ ظہیر بھی ایکسپائر ہونے لگا تھا۔ 

میرا دل رونے لگا۔ مجھے وہ دن یاد آنے لگا جس دن میں نے دونوں کے بھاگنے کی پلاننگ سنی تھی۔ کتنا شوق تھا دونوں کو ہی زندہ رہنے کا۔ اور اپنی زندگی اپنے خاندان والوں کے ساتھ گزارنے کا۔ 

لیکن دونوں ہی زندگی کی آخری سانسیں گن رہے تھے۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں اپنی سانسیں دونوں کو ہی دے کر مرنے سے بچا لوں۔ ظہیر کا چیخنا اور چلانا، اپنی ماں، اپنی بہن اور اپنے پاپا کے لیے رونا۔ کتنا درد تھا ظہیر کی آواز میں۔ کیسے اس کی آواز میں زندگی کی لگن دکھ رہی تھی۔ لیکن اوپر والے نے شاید سنجے کے ساتھ ساتھ ظہیر کے بھی نصیب میں زندگی نہیں لکھی تھی۔ 

پھر میں دل ہی دل میں ہنسنے لگا کہ ابھی تو میری اور رانا کی بھی ایسی ہی کنڈیشن ہونے والی ہے۔ 



Source link

Leave a Comment