شادی شدہ بیوی کی پیاس ۔۔۔

br>

urdu sex stories

میں رضا لاہور سے ہوں۔ میں ایک شادی شدہ اور سمجھدار آدمی ہوں۔ میری عمر 29، 30 سال ہے۔ میں نے جب بھی کسی لڑکی سے دوستی کی اس کو ہمیشہ سچ بتایا کہ میں ایک شادی شدہ مرد ہوں۔ اس لیے کہ سچ بولنے سے لڑکیاں آپ پر بھروسہ کرتی ہیں۔ میری دوستی لڑکیوں کے ساتھ ایسے ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کرتا، نہ ان کو زبردستی ملنے کا کہتا ہوں۔ میں کوئی زیادہ خوبصورت تو نہیں لیکن بھروسے کے لائق ہوں۔ میری دوستی لڑکیوں کے ساتھ ان پر منحصر کرتی ہے کہ وہ کیا چاہتی ہیں۔ میں نے ہمیشہ سچ بولا اس لیے لڑکیاں میرے ساتھ سیکس کرتی ہیں۔

اب میری کہانی۔ یہ بات شادی کے 1 سال بعد کی ہے۔ ایک دن یاہو چیٹ روم میں چیٹ کر رہا تھا کہ ایک پیغام آیا asl plz۔ میں نے اپنا asl بتا دیا۔ وہ لاہور سے تھی اور اس کی عمر 23، 24 سال کی تھی، غیر شادی شدہ تھی، اور اس نے ماسٹرز کیا ہوا تھا۔ فرض کریں اس کا نام ثنا ہے، یہ کہانی اس کی اجازت سے لکھ رہا ہوں۔ کچھ دن یونہی رسمی چیٹ ہوتی رہی۔ پھر بات دوستی کی طرف آئی، میں نے اس کو سچ بتا دیا کہ میں لڑکیوں سے دوستی بھی کرتا ہوں۔ وہ بہت خوش ہوئی اور کہا کہ آج کل نیٹ پر تو شادی شدہ مرد بھی اپنے آپ کو غیر شادی شدہ بتا کر دوستی کرتے ہیں۔ پھر اس نے پوچھا کس طرح کی دوستی کرتے ہو لڑکیوں کے ساتھ، میں نے بتادیا جیسی لڑکی چاہتی ہو۔ اس نے پوچھا کبھی کسی گرل فرینڈ سے سیکس کیا۔ میں نے کہا ہاں، وہ کہنے لگی کہ آپ جھوٹ بھی بول سکتے تھے میرے ساتھ کہ کبھی کسی گرل فرینڈ سے سیکس نہیں کیا۔ میں نے کہا میری دوستی کی بنیاد سچ ہوتی ہے۔ وہ بہت متاثر تھی میرے سچ بولنے سے۔

میں نے اس سے پوچھا کبھی گھر میں اکیلی ہوئی ہو تو اس نے کہا کہ اکثر شام کو 3، 4 گھنٹے کے لیے اکیلی ہوتی ہوں۔ میں نے اس کو مشورہ دیا کہ میں تمہارے گھر آ کر تمہارے ساتھ سیکس کر سکتا ہوں اس طرح تم کو گھر سے باہر بھی نہیں آنا پڑے گا اور تم سیکس انجوائے بھی کر سکو گی۔ اس نے کہا کہ سوچ کر بتاؤں گی۔ ایک ہفتے کے بعد وہ آن لائن آئی تو اس نے کہا کہ ہفتے کو اس کے گھر والے کسی شادی میں سیالکوٹ جا رہے ہیں اور وہ کوئی بہانہ بنا کر رک جائے گی، تم آ جانا۔ میں نے اس کو کہا ٹھیک ہے۔ اس نے پتہ بتا دیا۔ اور میں ہفتے کو اس کے گھر جانے کی تیاری کرنے لگا۔ اس سے چیٹ کے دوران نہ میں نے اس کی تصویر مانگی اور نہ ہی اس نے کہا، میں سمجھتا ہوں جو لڑکی بھروسہ کرنا جانتی ہو اس کو تصویر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہفتے کو اس کے دیے ہوئے پتے پر پہنچا اور ڈور بیل کی، اف میرے تو ہوش ہی اڑ گئے، میرے سامنے ایک خوبصورت ترین لڑکی کھڑی تھی، کالے رنگ کے شلوار قمیض میں۔ میں اس کے ساتھ اندر چلا گیا۔ وہ مجھے اپنے بیڈ روم میں لے گئی۔ اس نے میرے لیے چائے بنائی۔ چائے کے بعد وہ میرے سامنے آ کر بیٹھ گئی۔ میں اس کے پاس گیا اور اس کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ وہ شرما رہی تھی۔ میں نے اس کو کھڑا کیا اور اپنے گلے سے لگا لیا۔ میں نے اس سے پوچھا کبھی سیکس مووی دیکھی، اس نے کہا جی دیکھی ہے۔ اس نے کہا کیا آپ وہ سب کچھ کر سکتے ہو میرے ساتھ۔ میں نے کہا اگر تم چاہو۔ پھر اس کی گردن پر بوسہ دینا شروع کیا اور اس کے کانوں کو کاٹنے لگا۔ وہ تیز تیز سانس لے رہی تھی۔ وہ مدہوش ہو رہی تھی۔ پھر میں نے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چومنا شروع کیا۔ اب وہ بھی مجھے جواب دینا شروع ہوئی۔ اس کی چومنے میں بہت مزہ تھا۔ میں نے اس کا منہ کھول کر اس کی زبان چوسی، وہ بھی میری زبان چوسنے لگی۔ اس نے کہا آپ بہت اچھا پیار کرتے ہو۔ پھر میں چومتا رہا اور اس کو بستر پر لٹا دیا۔ اور اس کے اوپر لیٹ گیا۔ اب اس کی گردن پر دوبارہ بوسہ دینا شروع کیا اور ایک ہاتھ سے اس کے چھاتی کو دبانا شروع کیا۔ اس کی چھاتی کا سائز 34 تھا جو میرا آئیڈیل ہے۔ وہ چھاتی کے دبانے سے آآآ اممم کی آواز نکال رہی تھی۔ پھر میں نے اس کی قمیض کو تھوڑا سا اوپر کیا اور اس کے بدن کو چومنا شروع کیا۔ ساتھ ساتھ اس کی شرٹ اوپر کرتا جاتا۔ پھر اس کی شرٹ میں نے اتار دی۔ اس کے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو گئی تھی۔ اس نے کالے رنگ کا برا پہنا ہوا تھا، میں نے وہ بھی اتار دیا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ اب میں نے اس کی چھاتی کو چوسنا شروع کیا جس سے اس کے نپلز سخت ہونا شروع ہو گئے۔ جب میں نے اس کی چھاتی کے نپلز کو کاٹا تو وہ تڑپ اٹھی اور کہا آہستہ کرو، میں تھوڑا رک گیا اور پھر دوبارہ چھاتی چوسنے لگا۔ 10 منٹ کے بعد میں نے اس کی چھاتی کو چوسنا بند کیا اور اس کے پاؤں کی طرف آیا اس نے کہا کیا کرنے لگے ہو۔ میں نے کہا میری جان بس دیکھتی جاؤ۔ میں نے اس کے پاؤں کی انگلیوں کو چوسنا شروع کیا، اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ میں اس کی انگلیوں کو چوستا ہوا اس کی شلوار کو اوپر کرتا جا رہا تھا اور ٹانگوں کو چوم بھی رہا تھا۔ اس نے میرے آنے سے پہلے ٹانگوں کے بال ہیئر ریموونگ کریم سے صاف کیے تھے۔ اس نے شلوار میں الاسٹک پہنا ہوا تھا۔ میں نے اس کی شلوار اتارنا چاہا تو اس نے روک دیا۔ میں نے پوچھا کیا ہوا، اس نے کہا کہ آج میں تمہاری ہوں اگر مجھے جیسا میں نے سوچا ہے اس طرح کا مزہ دو گے تو میں اپنی دوستوں اور کزنز سے بھی تمہاری دوستی کرواؤں گی۔ میں نے کہا تم فکر نہ کرو میری جان۔ پھر میں نے اس کی شلوار اتار دی اور اس کی ٹانگیں کھولیں تو میرے سامنے ایک صاف ستھری، چھوٹی سی اور ٹائٹ پھدی تھی۔ میں نے کہا تم نے کبھی انگلی کی، اس نے کہا کہ نہیں اس کو ڈر لگتا تھا انگلی سے۔ اب وہ میرے سامنے پوری ننگی لیٹی ہوئی تھی۔ پھر میں نے اس کی پھدی میں ایک انگلی ڈالی، اف کیا ٹائٹ پھدی تھی اس کی، وہ چیخ پڑی، میں نے اس کو کہا کہ ثنا تم کو تھوڑا حوصلہ کرنا پڑے گا، صبر سے کام لو گی تو مزہ آئے گا تم کو، ایک انگلی سے تم چیخ رہی ہو تو میرے لن سے کیا حال ہو گا۔ اس نے کہا ٹھیک ہے لیکن آہستہ آہستہ کرنا میں کنواری ہوں۔ اس کی پھدی گیلی ہو چکی تھی۔ میں نے اس کو کہا ایک منٹ میں آتا ہوں۔ اور اس سے اس کے

کچن کا پوچھ کر کچن میں سے شہد کی بوتل اٹھا لایا۔ اس نے پوچھا اس کا کیا کرو گے۔ میں نے کہا بس دیکھتی جاؤ۔ پھر میں نے شہد کی بوتل کھولی اور اپنی انگلی پر اچھی طرح شہد لگا کر اس کی پھدی پر شہد لگانا شروع کر دیا۔ وہ پاگل سی ہو گئی۔ جب اس کی پھدی اچھی طرح شہد سے بھر گئی میں نے اس کی کمر کے نیچے ایک تکیہ رکھا اور اس کی ٹانگیں کھولیں اور اس کو بتائے بغیر اس کی پھدی پر اپنی زبان رکھ دی۔ وہ ایک مچھلی کی طرح مچلنے لگی۔ میں شہد بھی چاٹ رہا تھا اور اس کی پھدی بھی۔ میں نے اس کی ٹانگیں اور کھولیں اور اس سے پھدی کے ہونٹ کھل گئے۔ اب میں نے اس کی پھدی کو دیوانہ وار چاٹنا شروع کیا۔ مجھے اس کی آواز آ رہی تھی، اف امی میں مر جاؤں گی آج، آآآآآ، اممم، کیا مار ڈالو گے مجھے رضا آج۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد اس کی پھدی سے اس کا رس نکلنا شروع ہوا اور وہ ڈسچارج ہونے کے بعد ڈھیلی پڑ گئی۔ ایک دو منٹ کے بعد اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور مجھے دیوانہ وار چومنے لگی۔ میں حیران ہو گیا اور اس سے پوچھا کیسا محسوس ہوا۔ اس نے کہا کہ رضا میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم اتنا اچھا پیار کرتے ہو۔ میں نے اس کو کہا اگر تم میرا ساتھ دو تو اور بھی مزہ آئے گا تم کو، اب تم مجھے پیار کرو۔ اس نے فوراً مجھے بستر پر دھکا دیا اور میرے اوپر آ گئی۔ میری قمیض اتار کر میری چھاتی پر بوسہ دینے لگی۔ اور پھر میری پینٹ کی زپ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ اس نے میری بیلٹ کھولی اور کہا اپنی پینٹ اتارو اب صبر نہیں ہوتا مجھ سے۔ میں بھی پورا ننگا ہو گیا اور وہ میرا لن دیکھ کر حیران ہو گئی۔ میرے لن کا سائز کوئی 7 انچ لمبا ہے۔ اور کافی موٹا بھی۔ اس نے کہا کہ کیا تم اس سے میری پھدی مارو گے؟ میں نے کہا جی۔ وہ پہلے تو ڈر گئی پھر کہنے لگی، ٹھیک ہے آہستہ ڈالنا اور پریگنینسی نہ کرنا۔ میں نے کہا اوکے میری جان۔ اب اس کے لن کی ٹوپی ہاتھ میں پکڑی اور اس سے کھیلنے لگی۔ میں نے پیار سے اس کے سر پر اور بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ اور اس نے میرا لن اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنا شروع کیا، پہلے تھوڑا سا منہ میں ڈالا پھر کسی بھوکی شیرنی کی طرح پورا ڈال کر چوسنے لگی۔ افف دوستو میں بھی مدہوش سا ہو گیا تھا۔ 3، 4 منٹ کے بعد جب میرا مادہ نکلنے والا تھا تو اس نے میرا لن کو نہیں چھوڑا اور مجھے اپنا سارا مادہ اس کے منہ میں چھوڑ دیا۔ وہ میرا سارا مادہ پی گئی۔ میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا وہ بہت مطمئن تھی۔ 10 منٹ کے آرام کے بعد میں نے اس کو کہا اب تمہاری پھدی پھاڑ دوں وہ ذہنی طور پر تیار ہو گئی۔ میں نے اپنے پرس سے 2 امپورٹڈ کنڈوم نکالے اور لن پر چڑھا دیا۔ وہ خوش ہو گئی۔ میں نے اس کی پھدی دوبارہ چاٹی تو اس نے کہا رضا پیچھے سے چودو گے مجھے۔ میں نے کہا کہ تمہیں بہت درد ہو گی۔ وہ نہیں مانی۔ پھر میں نے اس کی ٹائٹ گانڈ پر لوشن لگایا اور اس کو گھوڑی بنایا۔ اب اس کی گانڈ پھٹنے والی تھی۔ میں نے کہا تیار ہو اس نے کہا جی۔ میں نے لن کی ٹوپی گانڈ میں ڈالی تو وہ نہیں گئی۔ پھر میں نے لن پر لوشن لگایا۔ اور دوبارہ کوشش کی، افف تھوڑا سا لن گانڈ میں گیا اور اس نے چیخ ماری، میں مر گئی رضا۔ میں نے کہا میں باہر نکالوں اس نے کہا نہیں پورا کرو۔ میں نے کہا ایک ہی جھٹکے میں ڈال دوں۔ وہ کہنے لگی جی۔ مجھے اتنی درد دو کہ میں آپ کو کبھی بھی بھلا نہ سکوں۔ پھر میں نے لن تھوڑا سا باہر نکالا اور دوستو ایک بھرپور جھٹکا مارا اور میرا لن اس کی کنواری ٹائٹ گانڈ کو پھاڑتا ہوا پورا اندر غائب ہو گیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا اس کا سانس رک گیا ہے۔ لیکن وہ درد سے رو رہی تھی۔ میں نے کہا اب میں گانڈ چودنے لگا ہوں اس نے اوکے کا سگنل دیا اور دوستو اب میں نے اس کی گانڈ مارنی شروع کی، وہ زور زور کی چیخیں مار رہی تھی۔ 4،5 منٹ کے بعد میرا مادہ نکل گیا اور کنڈوم سے بھر گیا۔ میں نے

لن باہر نکالا تو وہ بستر پر گر پڑی۔ میں نے دیکھا اس کی گانڈ سوج گئی تھی۔ وہ بہت خوش دکھائی دے رہی تھی۔ پھر کوئی 15 منٹ کے بعد میں نے اس کو دوبارہ پکڑ لیا اور بوسہ دینا شروع کیا، اب میں اس کی کنواری پھدی بھی پھاڑنے والا تھا۔ اس کو اچھی طرح گرم کرنے کے بعد میں نے اس کی کمر کے نیچے تکیہ رکھا اور اس کی ٹانگیں کھول دیں۔ اس نے میری آنکھوں میں دیکھا اور پھر آنکھیں بند کر لیں جس کا مطلب تھا پھاڑ دو میری پھدی بھی۔ اب میں نے اس کی پھدی کے سوراخ پر لن پر دوبارہ 2 نئے کنڈوم چڑھا کر رکھا اور بغیر لوشن کے ڈالنے کی کوشش کی، لن اس کی پھدی میں نہیں جا رہا تھا۔ پھر اس کی پھدی پر تھوڑا سا لوشن لگایا اور میں نے اب اس کی پھدی میں لن ڈالنا شروع کیا۔ ابھی ایک انچ ہی گیا تھا کہ اس نے آنکھیں کھولیں اور چیخ مارنی شروع کی۔ اس کو بہت درد ہو رہی تھی، میں تھوڑی دیر رکا اور پھر اس سے پوچھا ایک ہی جھٹکے میں پھاڑ دوں پھدی یا آہستہ، اس نے پھر کہا جس سے بہت زیادہ مزہ آئے، میں نے کہا کہ ایک ہی جھٹکے میں پھدی میں جانے سے درد بھی بہت ہوتا ہے لیکن مزہ بھی بہت آتا ہے۔ پھر اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے اور دوستو تھوڑا سا لن باہر نکالا اور ایک زور کا جھٹکا۔ اس کی پھدی پھٹ چکی تھی کیونکہ وہ میرے نیچے ایک بغیر پانی کے مچھلی کی طرح مچل رہی تھی۔ جب وہ ذہنی طور پر ٹھیک ہوئی تو اب اس کی پھدی کی چدائی شروع کی، افف کیا ٹائٹ پھدی تھی اس کی۔ میں نے اس کی پھدی مارتا رہا اور کوئی 3 منٹ کے بعد اس نے پھدی کو ڈسچارج کیا۔ میں نے اپنی رفتار اور تیز کی اور کچھ دیر بعد میرا بھی مادہ نکل گیا۔ میں اس کے اوپر ہی گر گیا۔ وہ آنکھیں بند کر کے لیٹی رہی 5 منٹ کے بعد جب میں اٹھا تو بیڈ شیٹ پر خون بھی تھا اور اس کا مادہ بھی۔ اب ثنا کنواری نہیں رہی تھی دوستو۔

پھر اس نے کہا رضا شاید میرا شوہر بھی مجھے سیکس کا اتنا مزہ نہیں دے سکے گا جتنا آپ نے دیا۔ آپ میری دوستوں اور کزنز کو بھی چود سکتے ہو، میں نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر دوستو میں نے اس کی دوستوں کو بھی چودا۔



Leave a Comment