گھریلو عشق۔۔۔(قسط 12)

 

صرف ٹٹے ہی نظر آرہے تھے خالہ نے دونوں ہاتھ میرے سینے پر رکھے اور خود ہی اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن چوت کے اندر باہر کر رہی تھیں اور اب خالہ میرے اوپر بیٹھ کر بھرپور چودائی کا مزہ لے رہی تھیں لن۔۔۔۔۔ خالہ کی بچہ دانی کو ٹچ کر رہا تھا جب لن خالہ کی بچہ دانی سے ٹچ ہوتا تو خالہ کی ایک آہ نکلتی اور خالہ کی چوت سختی سے میرے لن کو دبا لیتی خالہ اب میرے لن پر اچھل اچھل کر چودائی کروا رہی تھیں اور خالہ کے اچھلتے ہوئے ممے جو خالہ کے اوپر نیچے ہونے سے ایک سیکسی منظر پیش کر رہے تھے کچھ دیر خالہ تھک گئیں اور بولیں

خالہ۔۔۔۔۔ بھانجے بس اب میرے اوپر آجاؤ

خالہ سیدھی ٹانگیں کھول کر لیٹ گئیں اور میں نے اوپر آکر ایک ہی جھٹکے میں لن چوت میں اتار دیا لن کا جھٹکے سے اندر جاتے ہی خالہ مجھ سے لپٹ گئیں اور بولیں

خالہ۔۔۔۔۔ بھانجے چود اپنی خالہ کو اوہ جانی مزہ آگیا آج تو خالہ کی مار لی اب خوش ہو میں۔۔۔۔۔ خالہ بھی خوش ہے

خالہ مجھے چومتے ہوئے بولیں خالہ۔۔۔۔۔ بھانجے آج تو تم نے خالہ کو اپنی کنیز بنا لیا ہے اب تو میری زندگی میں تم ہی ہو اوہ بھانجے اب میں فارغ ہونے والی ہوں

چوت کی لن پر گرفت سخت ہو گئی تھی لن بھی اب چوت کی گرمی اور سختی کو برداشت نہیں کر پا رہا تھا میں بولا میں۔۔۔۔۔ خالہ میں بھی فارغ ہونے والا ہوں خالہ۔۔۔۔۔ بھانجے چوت میں فارغ نہیں ہونا باہر فارغ ہونا

میں نے دو تین زور دار جھٹکے مارے اور لن باہر نکال کر خالہ کے پیٹ پر بہت مزے اور سرور کی کیفیت میں لن پکڑ کر لن کی ساری منی خالہ کے پیٹ پر نکال دی اور تھک کر خالہ کے برابر لیٹ گیا خالہ بولیں

خالہ۔۔۔۔۔ بھانجے مجھے واش روم لے کر چلو میری تو ہمت نہیں ہے مجھے پیشاب کرنا ہے

میں نے خالہ کے پیٹ سے پہلے ٹشو سے اپنی منی صاف کی اور پھر خالہ کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور واش روم لے کر گیا خالہ کو کموڈ پر بٹھا دیا اور پھر خالہ نے پیشاب کرنا شروع کیا خالہ کی چوت سے پیشاب ایسے نکلا جیسے خالہ کا پیشاب بہت دیر سے رکا ہوا تھا چودائی کے ساتھ خالہ کا پیشاب کرتے دیکھنے کا تو نظارہ ہی الگ تھا خالہ مجھے دیکھتے ہوئے بولیں

خالہ۔۔۔۔۔ بھانجے میری چوت پر پانی ڈال کر صاف کرو تم نے حالت بری کر دی مجھ سے تو ہلا نہیں جا رہا

میں نے پاکی شاور سے خالہ کی چوت پر پانی ڈالا اور چوت پر ہاتھ پھیرتے ہوئے چوت کو صاف کیا اور پھر خالہ کو پکڑ کر واش روم سے نکال کر روم میں لایا اور بیڈ پر لیٹا دیا خالہ بولیں

خالہ۔۔۔۔۔ بھانجے تم بہت ظالم ہو اپنی خالہ کی تو حالت خراب کر دی اور آج چدنے کے بعد تو پیشاب کرنے میں بھی بہت مزہ آیا میں۔۔۔۔۔ خالہ آپ کی چوت سے پیشاب بھی بہت تیز نکلا خالہ۔۔۔۔۔ جب تم چود رہے تھے جب سے پیشاب لگا تھا لیکن میں نے روکا ہوا تھا تاکہ چودائی کا مزہ خراب نہ ہو

میں بھی خالہ کے برابر میں لیٹا ہوا خالہ کے ممے سہلا رہا تھا اچانک خالہ کی نظر گھڑی کی طرف گئی اور بولیں خالہ۔۔۔۔۔ کامی اٹھو ساڑھے بارہ ہو گئے ہیں نازی بھی آتی ہو گی اس کے ٹیسٹ چل رہے ہیں وہ آنے والی ہو گی

یہ کہتے ہوئے خالہ اٹھ کر کپڑے پہننے لگیں اور مجھے بھی کہا تم بھی اوپر جاؤ میں اٹھنے ہی لگا کہ بیل بجی جس کا مطلب کہ نازی آگئی تھی میں ننگا ہی اوپر چلا گیا اور بیڈ پر جا کر لیٹ گیا تھوڑی دیر کے بعد میں اٹھ کر واش روم گیا نہا کر نیچے آیا تو نازی سے ملاقات ہوئی نازی لاؤنج میں ٹی وی دیکھ رہی تھی نازی نے سلام کیا میں نے جواب دیا اور پوچھا کہ ٹیسٹ کیسا ہوا نازی۔۔۔۔۔ بھائی بہت اچھا ہوا میں۔۔۔۔۔ نازی خالہ کہاں ہیں نازی۔۔۔۔۔ بھائی نہانے گئی ہیں

میں نازی کے سامنے بیٹھ گیا نازی بولی نازی۔۔۔۔۔ بھائی خالہ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی میں۔۔۔۔۔ کیوں کیا ہوا نازی۔۔۔۔۔ بھائی جب میں آئی تو خالہ بہت نڈھال سی لگ رہی تھیں اور ان سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا

ہم باتیں کر رہے تھے تو خالہ بھی نہا کر آگئیں خالہ نہانے کے بعد کافی فریش لگ رہی تھیں میں نے خالہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا میں۔۔۔۔۔ خالہ خیریت نازی بتا رہی ہے کہ آپ کی طبیعت کچھ خراب ہے خالہ۔۔۔۔۔ نہیں نہیں اب ٹھیک ہے

نازی نے خالہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا نازی۔۔۔۔۔ جب آپ نے گیٹ کھولا تو اس ٹائم مجھے لگا کہ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے خالہ۔۔۔۔۔ نہیں اب نہا کر فریش ہو گئی ہوں

یہ کہتے ہوئے خالہ میرے سامنے بیٹھ گئیں پنک شرٹ اور وائٹ ٹراؤزر میں خالہ کھلے ہوئے گلاب کی طرح لگ رہی تھیں چودائی کے بعد جب عورت نہا کر نکلتی ہے تو اس کے چہرے پر ایک عجیب قسم کی فریشنس ہوتی ہے نازی بھی خالہ کو دیکھتے ہوئے بولی نازی۔۔۔۔۔ خالہ اس ٹائم تو آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں

اب اس کو کیا پتا کہ خالہ کی اس فریشنس کا راز اس چودائی کا ہے جو خالہ نے اپنے بھانجے سے کروائی ہے خالہ بولیں خالہ۔۔۔۔۔ بھانجے کھانا کھا کر شاپ پر جاؤ گے میں۔۔۔۔۔ نہیں خالہ میں چلتا ہوں

نازی اپنے کالج کا یونی فارم چینج کرنے چلی گئی نازی روم میں گئی تو میں بھی جانے کے لیے اٹھ گیا خالہ بھی کھڑی ہو گئیں میں نے نازی کے روم کی طرف دیکھتے ہوئے خالہ کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور بولا میں۔۔۔۔۔ جان کیسا لگا نہا کر تو اور بھی کھل گئی ہو دل کر رہا ہے ایک دفعہ پھر چود دوں

خالہ مجھے پیچھے ہٹاتے ہوئے بولیں خالہ۔۔۔۔۔ بھانجے تم نے ابھی جو حال کیا ہے نہ وہی کافی ہے

میں آگے بڑھا اور گالوں کو کس کرتے ہوئے بولا میں۔۔۔۔۔ جان آج رات کو بھی خالہ۔۔۔۔۔ اچھا اب زیادہ فری نہ ہو اور شاپ پر جاؤ

نازی بھی چینج کر کے آگئی تھی تو میں نے سوچا اب شاپ پر جایا جائے بائیک نکالنے کے لیے باہر آیا تو نازی گیٹ بند کرنے آئی تھی نازی نے جب گیٹ بند کرنے لگی تو نازی نے وائٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور بغیر دوپٹے کے تھی جس میں سے اس کا پنک بریزر نظر آرہا تھا میں۔۔۔۔۔ پنک کلر بھی اچھا لگ رہا ہے

نازی بولی نازی۔۔۔۔۔ بھائی کیا دیکھ رہے ہیں بھائی یہ تو وائٹ شرٹ ہے

لیکن جب اس کو احساس ہوا کہ میں پنک بریزر کی بات کر رہا ہوں تو نازی شرماتے ہوئے بولی نازی۔۔۔۔۔ بھائی آپ بہت وہ ہیں

اور مسکراتے ہوئے گیٹ بند کر دیا میں نے بائیک اسٹارٹ کی اور شاپ کی طرف روانہ ہو گیا شاپ پر آنے کے بعد تھوڑا کام میں مصروف رہا جب فری ہوا تو یاد آیا کہ ثانی کے میسج تو دیکھوں میں نے موبائل آن کیا اور میسج دیکھنے لگا ثانی کے کافی میسج آئے ہوئے تھے

ثانی۔۔۔۔۔ بھائی کہاں ہیں ثانی۔۔۔۔۔ بھائی ریپلائی کریں

اس طرح کے میسج تھے میں نے ثانی کو میسج کیا میں۔۔۔۔۔ گڑیا کہاں ہو ثانی۔۔۔۔۔ بھائی آپ کو خیال آگیا آپ نے تو پوچھا ہی نہیں میں۔۔۔۔۔ میری گڑیا میں بزی تھا اور بتاؤ کیسی ہو ثانی۔۔۔۔۔ بھائی ایسا کہاں بزی تھے

اب میں کیا بتاتا کہ خالہ کی چودائی میں بزی تھا میں۔۔۔۔۔ بس گڑیا بزی تھا تم بتاؤ امی ابو ٹھیک ہیں اور کیا ہو رہا ہے ثانی۔۔۔۔۔ بھائی سب ٹھیک ہیں لیکن بھائی یہ تو بہت بیک ورڈ گاؤں ہے میں۔۔۔۔۔ کیوں کیا ہوا مزہ نہیں آرہا ثانی۔۔۔۔۔ بھائی لوگ تو بہت عزت کر رہے ہیں بہت خیال رکھتے ہیں میں۔۔۔۔۔ اور کیا کر رہی ہو ثانی۔۔۔۔۔ بھائی بوریت اور کچھ نہیں خالہ اور نازی کیسی ہیں میں۔۔۔۔۔ دونوں ٹھیک ہیں ثانی۔۔۔۔۔ بھائی ایک بات پوچھوں میں۔۔۔۔۔ جی میری گڑیا پوچھو ثانی۔۔۔۔۔ بھائی آپ جب ہمیں چھوڑنے آئے تھے تو امی جب عبایا اتار رہی تھیں تو آپ کی نظریں کہاں تھیں میں۔۔۔۔۔ میں سمجھا نہیں تم کیا کہنا چاہ رہی ہو ثانی۔۔۔۔۔ بھائی آپ امی کے بوبز کو بہت غور سے دیکھ رہے تھے میں۔۔۔۔۔ ارے یار وہ تو ایسے ہی نظر پڑ گئی تھی کیونکہ امی میرے سامنے تھیں اس لیے ثانی۔۔۔۔۔ اچھا اور امی کے کان میں آہستہ سے کیا کہا تھا میں۔۔۔۔۔ ارے کچھ نہیں کہا تھا

میں یہ سوچ رہا تھا کہ ثانی نے کیا کچھ نوٹ کیا ثانی۔۔۔۔۔ امی کی بریزر رکھ دی امی کی الماری میں میں۔۔۔۔۔ ارے بھول گیا کل رکھ دوں گا اور تم یہ بتاؤ تم اس کے لیے کیوں پریشان ہو یہ تمہاری بریزر تو نہیں ہے ثانی۔۔۔۔۔ بھائی میری ہوتی تو میں آپ سے خود مانگ لیتی میں۔۔۔۔۔ اچھا کیسے مانگتیں ثانی۔۔۔۔۔ بھائی میری بریزر دے دیں میں۔۔۔۔۔ واہ کیا بات ہے شرم نہیں آئے گی بھائی سے بریزر مانگتے ہوئے ثانی۔۔۔۔۔ شرم کس بات کی بھائی تو پہلے بھی میرے بوبز کو دیکھتے ہی رہتے ہیں۔

The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 12) appeared first on Urdu Stories.

Leave a Comment