گھریلو عشق۔۔۔(قسط 23)


رات کی چودائی کے بعد ایسی نیند آتی ہے کہ ہوش ہی نہیں رہتا۔ میری آنکھ موبائل کی بیل سے کھلی، ٹائم دیکھا تو 10 بج رہے تھے۔ موبائل پر دیکھا تو خالہ کی کال تھی۔

میں۔ جی خالہ؟
خالہ۔ بھانجے ابھی تک اٹھے نہیں؟
میں۔ جی خالہ اٹھ گیا ہوں۔
خالہ۔ بس جلدی آؤ، رات کو بہن کو چود لیا اب آکر خالہ کی چودائی کرو، تمہارا انتظار کر رہی ہوں۔

نازی نے میری آواز سن کر آنکھیں کھولیں اور مجھے دیکھا۔
میں۔ جی خالہ آرہا ہوں۔

نازی پوچھنے لگی: "کامی صبح صبح کس سے بات کر رہے تھے؟"
میں۔ جان، خالہ کی کال تھی، ان کو لینے جانا ہے۔
نازی مجھ سے لپٹتے ہوئے بولی: "کامی چھوڑو خالہ کو، ان کو نہ لے کر آؤ۔ آج ہم دونوں میاں بیوی انجوائے کریں گے، خالہ کو کسی طرح ٹال دو۔"

میں نے سوچا نازی ٹھیک کہہ رہی ہے، میں نے کہا: "ٹھیک ہے جان کچھ کرتا ہوں۔"
نازی میرے اوپر آگئی اور میرے ہونٹوں پر کس کرتے ہوئے بولی: "جانی جتنا مزہ کرنا ہے کر لو، پھر امی آجائیں گی تو ایسے مزے مشکل ہو جائیں گے۔"
میں نے لن نازی کی چوت پر رگڑتے ہوئے کہا: "ٹھیک ہے جان جیسا تم کہو، لیکن مجھے تھوڑی دیر کے لیے شاپ پر جانا پڑے گا، بینک کا کام کر کے آتا ہوں۔"
نازی: "نہیں جان! آج بس کہیں نہیں جانا، آج کا دن ہم دونوں کا ہے۔ آج اپنی دلہن کے ساتھ مزہ کرو، آج چھٹی کر لو نئی شادی جو ہوئی ہے۔"

میں بولا: "اوکے جان، پھر ناشتہ کرتے ہیں، ہم دونوں آج گھر میں ننگے رہیں گے۔" نازی میرے اوپر سے اٹھ کر واش روم نہانے چلی گئی۔ اب خالہ کا کیا کروں؟ ان کو بھی چودنا تھا۔ میں انہی سوچوں میں تھا کہ موبائل پر ثانی کا میسج آیا۔

ثانی۔ بھائی کیا ہو رہا ہے؟
میں۔ کچھ نہیں میری گڑیا، تم بتاؤ؟
ثانی۔ کچھ نہیں بھائی، امی بازار گئی ہیں اور ابو بھی باہر گئے ہیں۔ ہم لوگوں کی کل صبح کی ٹرین سے بکنگ ہو گئی ہے، ہم کل شام تک آجائیں گے۔ آج ولیمہ ہے۔
ثانی۔ ابو بھی کل لاہور چلے جائیں گے۔

میں ثانی سے بات کر رہا تھا کہ نازی نہا کر ننگی واش روم سے باہر آئی اور بولی: "جان آپ بھی نہا لیں، میں نیچے جا کر ناشتہ بناتی ہوں۔" میں نے نازی کے ممے دباتے ہوئے کہا: "جانی تم ناشتہ بناؤ میں آرہا ہوں۔" نازی نیچے چلی گئی۔

ثانی۔ بھائی کیا ہوا ریپلائی تو دیں۔
میں۔ جی میری گڑیا بولو۔
ثانی۔ بھائی ایک بات پوچھنی ہے۔
میں۔ جی پوچھو۔
ثانی۔ بھائی یہ "پھدی" کیا ہوتی ہے؟ یہاں لڑکیاں یہ لفظ بہت بولتی ہیں کہ "آج پھدی مروائے گی"، اس لیے آپ سے پوچھا۔ میں نے تو یہ لفظ پہلی دفعہ یہاں سنا ہے۔
میں۔ اور کیا کیا سن لیا؟
ثانی۔ بس بھائی لڑکیاں جب آپس میں بیٹھ کر باتیں کرتی ہیں تو ان کے منہ سے یہ لفظ سنا ہے۔ کچھ تو یہ بھی کہتی ہیں کہ "آج بھائی نے پھدی ماری"۔ تو آپ بتائیں کہ یہ پھدی مارنا کیا ہوتا ہے؟ اور کیا آپ نے کبھی پھدی ماری ہے؟

ثانی کا یہ میسج پڑھ کر مجھے شوق لگا کہ اسے کیا ریپلائی دوں کہ خالہ کی کال آگئی۔ میں نے ثانی کو میسج کیا کہ ابھی بتاتا ہوں، خالہ کی کال آئی ہے۔ فون اٹینڈ کیا تو خالہ بولیں: "بھانجے کب آرہے ہو؟ چوت تمہارے لن کے لیے تڑپ رہی ہے۔"
میں بولا: "بس نکل رہا ہوں۔"

میں جلدی سے واش روم گیا، نہا کر کپڑے پہنے اور نیچے آگیا۔ نازی نے مجھے دیکھا تو بولی: "کامی کپڑے کیوں پہنے؟"
میں۔ جان ایک کام سے جانا ہے، بس ابھی آجاؤں گا۔
یہ سن کر نازی کا موڈ آف ہو گیا۔ میں نے اسے گلے لگایا: "جان ناراض نہ ہو، جلدی آجاؤں گا، پلیز بہت ضروری کام ہے۔ میرا بھی اپنی جان کو چھوڑ کر جانے کا دل نہیں کر رہا لیکن مجبوری ہے۔ چلو ابھی آجاؤں گا اور کل کا پورا دن تمہارے ساتھ۔"

نازی مجھ سے الگ ہوتے ہوئے بولی: "ابھی شادی کو دو دن ہوئے ہیں اور آپ اس طرح کر رہے ہیں، بعد میں کیا ہو گا؟" میں نے اسے منایا، ناشتہ کیا اور بائیک نکال کر خالہ کے گھر پہنچ گیا۔ خالہ کی ساس نے گیٹ کھولا، ان کو سلام کیا۔
آنٹی۔ کامران آج کیسے راستہ بھول گئے؟ بہت دنوں بعد آئے ہو۔
میں۔ آنٹی بس شاپ کی وجہ سے ٹائم نہیں ملتا، آج شاپ نہیں گیا اس لیے خالہ کے پاس آگیا۔

آنٹی مجھے اندر لے گئیں، تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھا، پھر بولیں: "تمہاری خالہ اوپر کمرے میں ہیں، چلے جاؤ۔" میں اوپر گیا، دروازہ کھولا تو خالہ ننگی بیڈ پر لیٹی ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔ مجھے دیکھ کر وہ بیڈ سے اٹھیں اور مجھ سے لپٹ گئیں: "بھانجے بہت انتظار کروایا، کب سے ننگی لیٹی ہوں۔"
خالہ کے بڑے اور ٹائٹ ممے میری چیسٹ میں دبے ہوئے تھے۔ وہ میرے ہونٹوں کو چومتے ہوئے بولیں: "بس کپڑے اتار کر خالہ پر چڑھ جاؤ۔"

میں نے کہا: "خالہ میرے کپڑے آپ اتار دیں۔" انہوں نے مجھے ننگا کر دیا۔ میرا لن ان کے ہاتھ میں جاتے ہی کھڑا ہو گیا۔ خالہ بولیں: "بھانجے تمہارا لن تو آج کل کنواری چوت کا مزہ لے رہا ہے" اور یہ کہتے ہوئے میرا لن منہ میں لے کر چوسنے لگیں۔ بہت جوش سے لن چوسنے کے بعد خالہ ٹانگیں کھول کر لیٹ گئیں: "بھانجے اب خالہ کی چوت چاٹو۔"

میں خالہ کی ٹانگوں کے بیچ آیا اور ان کی چوت چاٹنے لگا۔
خالہ۔ آہ۔۔۔۔ اوہ بھانجے خالہ کی چوت کھا لے! اوف۔۔ زبان اندر ڈال!
خالہ نے گانڈ اوپر کر کے چوت میرے منہ سے لگا دی۔ ان کا جسم اکڑا اور سارا پانی میرے منہ میں نکال دیا۔ پھر انہوں نے مجھے بیڈ پر لٹایا اور میرا لن اپنی چوت میں ڈال کر بولیں: "بہن چود! اب خالہ کو چود۔ بہن چود کے بعد تو اب خالہ چود بھی بن گیا ہے۔"

میں بولا: "خالہ، چود تو تم نے بنایا ہے، اس کے بعد بہن چود بنا ہوں۔" خالہ لن پر اچھلتے ہوئے بولیں: "جب گھر میں چوت مل جائے تو مزے کرو۔ نازی کو کتنی دفعہ چودا؟"
میں۔ خالہ رات میں ایک دفعہ۔
خالہ۔ بس ایک دفعہ؟ میں ہوتی تو کم سے کم تین دفعہ چوداتی۔

خالہ میرے اوپر سے اتر کر گھوڑی بن گئیں: "اب لن ڈال کر اپنی خالہ پر چڑھ جاؤ۔" میں نے پیچھے سے لن چوت میں ڈالا اور جم کر چودائی شروع کر دی۔ کمرے میں تھپ تھپ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ خالہ فارغ ہونے والی تھیں: "بھانجے میں بھی فارغ ہونے والی ہوں، تم بھی اندر ہی فارغ ہو جاؤ۔"
میرا لن بھی تیار تھا، ہم دونوں ایک ساتھ فارغ ہو کر بیڈ پر گر گئے۔

کچھ دیر بعد میں نے کپڑے پہنے۔ خالہ بولیں: "Love u بھانجے، دل کرتا ہے تم سے ہی چودواتی رہوں۔"
میں نے ان کی گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا: "خالہ اب آپ کی گانڈ مارنی ہے۔"
خالہ۔ بھانجے جب چوت مروالی تو گانڈ بھی مار لینا، لیکن آرام سے، گانڈ ابھی تک کنواری ہے۔

میں نے کہا: "جی خالہ جانی، نیکسٹ ٹائم۔" میں گھر سے باہر نکلا تو نازی کی کال آگئی: "جانی کہاں ہیں؟ کھانا تیار ہے۔"
میں نے کہا: "بس آرہا ہوں، بہت بھوک لگی ہے۔"

گھر پہنچا تو نازی نے گیٹ کھولا، اس نے ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہنا تھا لیکن برا نہیں پہنی تھی جس کی وجہ سے اس کے ممے ہلتے ہوئے بہت اچھے لگ رہے تھے۔
نازی۔ کامی بعد میں سب کچھ دیکھ لینا، ابھی اندر آئیں اور کھانا کھائیں۔

میں فریش ہو کر ٹاول لپیٹ کر نیچے آگیا۔ نازی نے بتایا: "امی کی کال آئی تھی، کل شام تک آجائیں گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ آپ اسٹیشن چلے جائیں۔"
میں۔ ہاں ثانی کا بھی میسج آیا تھا، اس نے بتا دیا تھا۔
نازی۔ کامی امی آجائیں گی تو ہم دونوں کو خیال رکھنا پڑے گا۔
میں۔ جان تم فکر نہ کرو، میں خیال رکھوں گا۔

کھانا کھا کر نازی نے برتن سمیٹے اور میرے پاس آکر بولی: "کامی چلو چل کر سوتے ہیں۔"
میں۔ چلو تمہارے روم میں چل کر سوتے ہیں۔ جان دو گی؟
نازی۔ نہیں جی اب نہیں دوں گی، آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
میں نے اس کے ممے دباتے ہوئے کہا: "جان اب کل شام تک میں صرف تمہارے ساتھ ہوں۔"
نازی نے دوسری طرف کروٹ لی: "ابھی تو سو جائیں، رات کو سوچوں گی کہ دینی ہے یا نہیں۔"

میں نے ٹاول اتار کر ننگا ہو کر اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔

The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 23) appeared first on Urdu Stories.



Source link

Leave a Comment