گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 7)

میں اور فجا جب پھدیوں کا مزہ لے کر بیٹھک میں آکر لیٹ گئے اور میں نے کچھ دیر سونے کی کوشش کی جس سے فجے کو یقین ہو گیا کہ میں بھی سو گیا ہوں لیکن میرے دماغ میں آج ناہید کی پھدی کی بناوٹ گھسی ہوئی تھی اس سے پہلے میں نے صرف چھنو کی پھدی کو قریب سے دیکھا تھا جیسے ہی چھنو کی پھدی میرے ذہن میں آئی مجھے یہ بھی یاد آیا کہ چھنو کی پھدی سے خون نہیں نکلا جبکہ ناہید کی پھدی سے خون نکلا اور چھنو کی پھدی میں لن آرام سے چلا گیا تھا جبکہ ناہید کی پھدی تنگ تھی میرے لن کے جانے سے اس کے کافی درد ہوا تھااور میرا لن پھنس گیا تھا۔جیسے جیسے سوچتا گیا میرے دماغ میں یہ بات واضح ہوتی گئی کہ ناہید کنواری تھی اور چھنو پہلے ہی اپنی پھدی کا افتتاح کروا چکی تھی مجھے ایک عجیب سی جیلسی ہوئی کہ کون سالا ایسا تھا جس کو چھنو نے اپنی پھدی کا پردہ بکارت پھاڑنے موقع دیا ہوگایہ سوچتے سوچتے میری بھی آنکھ لگ گئی اور دوبارہ آنکھ شام کے قریب دھما چوکڑی گینگ کے شور سے یوا جو ہمارے سرہانے کھڑے ہو کر شور کر رہے تھے خیر ہم بھی اٹھ گئیے اور جنگل پانی کے لیے گھر کے بیٹھک کے سامنے بہتے کھالے کے پار گئیے اور ریلیکس ہو کر واپس آئے تو سب گینگ والے بانٹے یعنی کہ گولیاں کچھ لوگ گگڑاں بھی کہتے ہیں کھیل رہے تھے دوستو گگڑوں سے ایک کھیل کھیلتے تھے جس کو نکا پور کیتے ہیں میں اس کا چمپئین تھا قدرتی طور پر مہارت حاصل تھی ۔

میں نے ایک بچے سے دس گگڑاں ادھار لیں اور کھیلنے لگ کچھ ہی دیر میں اس کی واہس کر کے اس کو اضافی دے کر کھیل رہا تھا۔اسی طرح کھیلتے ہوئے میں نے سب سے جیت لیں اور اپنی قمیض کی جھی چھر لی پھر سن گگڑوں کو لے جر گھر گیا اور ایک بوری میں ڈال دیں جس پہلے ہی کوئی دو یزار کے قریب گگڑیں تھیں ۔ اسی طرح شام ہوئی ہم کھانا کھا کر کچھ کھیل کر اپنے اپنے صحن میں ڈو گئے صبح ہوئی اسی طرح اٹھے سکول کا کوئی ڈر نہیں تھا چھٹیاں تھیں اس لیے تسلی سے ناشتہ کیا اور پھر کھیلنے نکل پڑے لیکن دوپہر سے پہلے پہلے واپس آکر بیٹھک میں گئے تو وہاں ہمارے بڑے چچا لوگ اپنی محفل جمائے بیٹھے تھے تو ہم نامراد لوٹ آئے ہم گھر کے صحن میں لگی ٹالی کے نیچے جہاں ساری عورتیں بیٹھ کر اپنا ازلی کام کر رہی تھیں دوستو اپ صحیح سمجھے دوسروں کی برائیاں کرنے میں مصروف تھیں۔ ہم نے موقع اچھا سمجھا اور سارے کزن فجا اور بالو بھی شامل تھے گھر سے نکل کر اپنے ٹیوب ویل پر جانے والے رستے پر نکل پڑے دوستو ٹیوب ویل ہمارے گاؤں سے کوئی 2 کلومیٹر دور ہماری زمینوں میں تھا اورہم پگڈنڈی کے رستے چل پڑے پگڈنڈی کے رستے سفر تھڑا بنتا تھا ۔

ہم جا رہے تھے کہ فجے نے مجھے آنکھ کے اشارے سے پیچھے پیچھے چلنے کا کہا میں بھی کچھ سمجھی کچھ نا سمجھی سے پیچھے ہو گیا۔ اور اس کے ساتھ چلنے لگا تو اس نے آہستہ سے کہا کہ ادھر جو بیری آتی ہے وہان چلتے ہیں کوئی شکار مل جائے گا مجھے شکار کی سمجھ تو نہ آئی لیکن فجا یار تھا اس کی مدد سے تو مجھے پہلی دفعہ پھدی میں پانی نکالنے کا موقع ملا تھا تو اس کی بات کیسے ٹال سکتا تھا بس جیسے ہی کماد کی فصل شروع ہوئی فجے نے مجھے بازو سے پکڑ کر کماد میں کھینچ لیا اور میری کان میں سرگوشی کی کہ ان کو آگے جانے دو ہم اس طرف چلتے ہیں ۔اس نے مجھے بازو ڈے پکڑا اور کماد کے بیچوں بیچ چلتے ہوئے دوسری طرف جا نکلے۔ پھر اس ہم ادھرادھر کی بونگیاں مارتے ہوے بالو کی موٹی گانڈ اور بے وقوفیوں پر ہنستے ہوئے جس کھیت میں بیری تھی اس کے قریب پہنچ گئے دوستوآپ بھی سوچتے ہوں گے کہ بیریوں کا بہت ذکر ہے تو بتاتا چلوں کہ اس دور میں ہمارے گاوں میں کیا اور بھی بہت سے گاوں میں پھل لے پھیری والے شاذونادر ہی آتے تھے۔کیونکہ وہ شہر سے سائکل پر لے کر آتے اور گاؤں گاؤں جس کر بیچنا بہت مشکل ہوتا تھا ہمارا گاوں شہر سے بھی دور تھا اور پکی سڑک بھی ہمارے گاوں سے دور تھی جیسا کہ پہلے بتا چکا ہوں کہ ہمارے گاوں جانے کے لیے سڑک پر اتر کر ایک اور گاوں سے ہو کر گزرنا پڑتا رھا ویسے تو تین

جگہوں سے اتر کر جا سکتے تھے لیکن زیادہ تر ایک گاوں جس کا نام حافظ والا تھا وہاں اترتے تھے اس کی آبادی بس کوئی 02 گھروں پر مشتمل تھی۔

خیر بات کہیں اور نکل گئی ہم اس کے کھیت کے اندر گھس گئیے اور فجا آگے اور میں اس کے پیچھے اس نے منہ پر انگلی رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا اور دبے پاؤں چلنے لگا گاوں میں دوپہر کے وقت اور وہ بھی گرمیوں میں ہر کوئی چھاوں ڈھونڈ کر آرام کےتھا اس لیے ہر طرف خاموشی ہوتی تھی خیر دبے پاؤں چلتے ہوئے آگے بڑھتے گئے تو ہمیں کسی کے باتیں کرنے کی آوازیں آنے لگیں اب میری سمجھ میں آیا فجا ادھر کیوں کے کر آیا وہ ادھر اکثر آتا ہوگا یا اس کا ٹائم بنا ہوگا لیکن مجھے اس وقت حیرت ہوئی میں تو اس کی معشوق سمجھ رہا تھا جس کی اسنے کل پھدی ماری تھی لیکن یہ تو کوئی اور تھیں یہ تو کومل اور اس کے کزن شازیہ تھیں اور یہ بیری شازیہ لوگوں کی فصل میں تھی میں تو وہاں سے کھسکنے لگا تھا لیکن جب فجا نے ہنستے ہوے کہا لو جی میں تاں سمجھیا کوئی بلا بیٹھی ہونی اے ۔ ایتھے تاں آ بیٹھیاں نے آ جا بلو تو شازیہ نے جواب دیا نہیں تیرا کی مطلب اے اسیں بلاواں آں ۔چل نکل ساڈی بیری تھلوں اسیں بیر نیں کھان دینے میں ابھی تک فجے کے ہیچھے تھا شازیہ نے مجھے نہیں دیکھا تھا فجا چلتے ہوے بیری کے نیچے پہنچ گیا اور میں بھی اس جے پیچھے پہنچ گیا فجا بھی اک نمبر کا ڈھیٹ تھا بولا تو بلا نہیں تو تاں چڑیل ایں جہیڑی انساناں نوں کھا جاندی اے شازیہ بھی کم نہ تھی بولی تو بچ کے رہیں تینوں نا ں کھا جاواں فجا بولا مینوں کھا کے کی لبھنا اے تینوں تو کسی شہری بابو نوں کھا مینوں کالے کلوٹے کھا کے کیوں آودا منہ خراب کرنا ای ایویں زیادہ گلا نہ کر چل نکل ساڈے کھیت اچوں تہنوں دسدا نئی اسی ایتھے پہلے توں بیٹھیاں سانوں ہکا یقین تھا کہ تو ای وہ ہے جو روز ہمارے بیر توڑ کر کے جاتا ہے آج بچو نہیں ملنے چل جا کام کر اپنا جا کر منہ دھو شاید کچھ رنگ نکھر آئے تو فجا ترقی با ترقی بولا اگر رنگ گورا کر لوں تو مجھے دے گی میری تو یہ بات سن کر گانڈ پھٹ گئی اور فجا کتنی ڈھٹائی سے بے خوف ہو کر کھڑا تھا اتنی بڑی بات اس کتنے آرام سے کہہ دی شازیہ غصے سے پھنکارتی ہوئی اٹھی فجا ہنستا ہوا میرے سامنے سے ہٹ گیا میری نظر جیسے ہی شازیہ پر پڑی نیں اپنی نظر ہٹانا بھول گیا دوپٹہ گلے میں لہرا رہا تھا اس کا سینہ ابھرا ہوا تھا اس کے غصے سے اٹھنے کی وجہ سے شاید کچھ زیادہ ہی اس کا سینہ اکڑ گیا تھا اس کے سینے کا ابھار بتا رہا تھا مال بہت جاندار ہے مجھے جو بعد کے تجربات سے ہتہ چلا بتاتا چلوں اس کے سینے کا ابھار 38 تھا جو کہ اس عمر کے لحاظ سے بہت زیادہ تھا کمر اس کی 30 تھی گانڈ کیونکہ کہ مجھے نظر نہیں آئی تھی اس کا منہ میری ظرف تھا اور اس کے ہاتھ میں لکڑی تھی جو اس نے فجے کو مارنے کے لئے اٹھائی ہوئی مجھ پر نظر پڑتے ہی اس کا ہاتھ بھی وہیں رک گیا تھا ۔جس سے مجھے اس کے ابھرے ہوئے مموں کے ابھار سے سے اپنی آنکھیں سینکنے کا موقع مل گیا تھا میں اس کے سینے ہر نظریں جمائے اس کے مموں کے زیر زبر میں کھویا ہواتھا اس کو ھی میری نظروں کا احساس ہوا تو جلدی سے اس نے دوپٹ درست کیا تو مجھے اپنی آنکھوں جی قسمت پر افسوس ہوا کہ اتنا خوبصورت نظارہ اتنے مختصر وقت کے لیے میرے دماغ کی سکرین ہر ناہید کے ممے آ گئیے ان کی گولائی ان می دلکش بناوٹ ان کی خوبصورتی ان کا گلابی رنگ اور سب سے بڑھ کر ان کا ذائقہ ان سے اٹھتی ہوئی مہک جو میرے حواس ہر چھائی ہوئی تھی ۔ شازیہ نے مجھ سے کچھ ہوچھا کیونکہ میں تو کسی اور جہاں میں پہنچا ہوا تھا کوئی جواب نہ دیا اس نے پھر پوچھا تو فجے نے مجھے ہلایا اور اس کو جواب دیا بلو نے بیر کھانے کو کہا تو مینے اس کو بتایا شازی کے بیر پکے اور بہت میٹھے ہیں آج تمہیں کھلا کر لاتا ہوں لیکن تم نہیں کھلانا چاہتی تو میں اس کو کے جاتا ہوں میں بھی پتہ نہیں کیسے بیچ میں بول ہڑا مجھے نہ اگلی بات کا پتہ تھا نہ پچھلی کا بولا آ کا یا ر میں چھنو نو اک واری آکھ دیندا تاں اوہنے ساری بیری مینوں ڈے دینی سی اور کہنا تھا جنی واری مرضی کھا ۔

شازیہ کو چھنو کا نام سن کر برا لگا بولی اوہ گندی رن کولوں بیر کھا نے جاو گے تو اوہ کچھ اور بھی دے دے گی ۔ میں بڑا حیران ہوا مجھے کچھ سمجھ نہ آئی ہوچھ بیٹھا کیا دے گی اور تو اس نے کہا چک چھوڑ چل آ تجھۓ میٹھے بیر کھلاوں فجا نے پھر ٹانگ اڑائی ککے بیر ای یا کجھ ہوور وی تو شازی بولی مجں تیرا منہ توڑ دینا گندے بوتھے آلا کومل بولی شازی تو ہر ویلے کیوں اہینوں کھان نوں پینی ایں اس نے تمھارا کیا بگاڑا ہے شازی بولی تو اس کی ہی سائیڈ لے گی پھر میری طرف دیکھ کر بولی بلو تو دفعہ آجا میں بیر اتارتی ہوں تم کھا لو یا لے کر جانے ہیں تو لے جانا وہ گھوم کر بیری کی طرف چلی تو میری نظر اس کی گانڈ ہر ہڑی 36 کی گانڈ اس کے چوتڑوں کی پھاڑیا الگ الگ شان بے نیازی سے ادھر ادھر اُدھر اچھل رہی تھیں میری لن میں اس کی شاندار گانڈ دیکھ کر تناو آ گیا جس کو میں اپنے لن پر ہاتھ رکھ کر چھپانے کی کوشش کی ۔میں اس کی گانڈ مست تھا وہ چلتی ہوئی بیری کے تنے پر چڑھنے لگی لیکن اس سے چڑھا نہ گیا اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور بولی کومل کتھی گئی تو میں نے بھی دیکھا تو وہ نہیں تھی جب میں اپنی دائی طرف دیکھا تو فجا بھی نہیں تھا مطلب دونوں غائب تھے اس مجھے کہا کہ میں اس کو اوپر چڑھنے میں مدد دوں میں نے کہا میں خود چڑھ جاتا ہوں تو بولی نیں تو رہن دے میں خود اتار دیتی ہوں تو بس تھڑا سا سہارا دے میں اس کے پاس گیا اس نے اپنے ہاتھ اوپر کر کے ایک ٹہنی پکڑی اور بولی میں اوپر زور لگاتی ہوں تم پیچھے سے مجھے اوپر دھکیلنا میں اوکے کیا اس نے اوپر اٹھنے کے لیے زور لگایا میں اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اوپر زور لگانا شروع کیا تو مجھے یوں لگا جیسے میں نے کسے مولٹی فوم کو پکڑکیا ہو اتنی نرم کمر کہ میرا ہاتھ اس میں دھنس سا گیا اور زور لوڑا لگنا تھا میں تو اس کی کمر سے مزے لینے لگ گیا تھا اس نے نیچے ہو کر کہا ایتھوں نہیں تھوڑا نیچے ہاتھ رکھ کر مجھے اوپر اٹھا اس کا اشارہ اپنی موٹی تازی ہلی ہوئی گانڈ کی طرف تھا اس کی گانڈ موٹی گانڈ والی انگریز عورتوں کی طرح باہر نکلی ہوئی تھی صرف گانڈ ہی ںہیں اس کا سارا فگر ہی کسی انگریز ھاٹ ماڈل کی طرح تھا ۔اس نے پھر وکی عمل دہرایا میں ہمت کر اس کی گانڈ کے نیچے ہاتھ رکھا اور اس کو اوپر اٹھانے کے لیے زور لگایا​​





Source link

Leave a Comment