گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 6)

میں اس کے ہونٹ کان ٹھوڑی گردن گال ہر جگہ چومتا گیا یہاں تک کہ اس منہ پر ہر جگہ میرا تھوک چمکنے لگا۔میرا دایاں کاتھ جو اس کے نرم و ملائم پیٹ پر رینگ رہا تھا اس کی مدد سے میں نے اس کو محسسوس ہوئے بغیر اسکی قمیض کو اٹھانا شروع کیا ساتھ ساتھ ہی میں نے اس کی گردن پر اس کے کان کے قریب ہونٹ رکھے اس کی سسکی نکل گئی وہ ایکدم سیدھی ہوئی اور میری گود میں چڑھ کر بیٹھ گئی میرا ہاتھ جو اس کی قمیض سے کھیل رہا تھا آزاد کو وہ میری گود میں میری طرف منہ کر کے دائیں بائیں اپنی گوشت سے بھری ٹانگیں رکھ کر بیٹھ گئی اس کے اس طرح بیٹھنے سے اس پھدی میری لن سے رگڑ کھانے لگی اس سینے پکے محافظ جو دیدہ دلیری سے کھڑے تھے مجھ سے چند انچ کے فاصلے پر رہ گئے۔ اس میری جان کی دشمن ان چھوئی نازک اندام حسینہ سے میری پیشانی پر ہونٹ رکھ دیے چومتی ہوئی میری آنکھوں ہر آئی اس کی گرم گرم سانسیں مجھے اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھیں ۔اس دائیں آنکھ چومی پھر بائیں آنکھ کو اپنے نرم ہونٹ سے شرف قبولیت بخشا اور چوم لیا اس کے بعد دائیں گال پھر بائیں گال پھر میری لمبی ستواں ناک پر اپنی زبان سے پونچھا پھیرا اور تھوڑا اپنی لچکدار کمر کو خم دے کر پیچھے کو ہوئی گانڈ پیچھے ہوئی تو لن نے اپنی قسمت پر افسوس کیا کہ اتنی رسیلی کنواری چُوت مجھ سے دور ہو گئی اس نے اپنے غصے کے اظہار میں ایک جھٹکا مارا لیکن اس ظالم حسسینہ کا اگلا وار اسی طرح کمان کی طرح رہتے ہوئے میری گردن پر تھا اس نے میرے نرخرے پر اپنی شہد سے میٹھی زبان رکھی میرے اندر جزبات کا سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگا میری برداشت جواب دینے لگی میں نے اپنا منہ اوپر کرنے کی کوشش کی تو ناہید مجھے پیچھے دھکیل کر گرایا اور میرے اوپر میرے ساتھ آ گری اس طرح گرنے سے اس کی پھدی میری تنے ہوئے لن کے اوپر آ گئی لن نے بھی اس کی پھدی کے لبوں پر بوسا دیے کر اپنی خوشی کا اظہار کیا اس نے اپنی ٹانگیں سیدھی کیں اور میرے اوپر جھک گئی میرے ہاتھ پھر حرکت میں آ گئے اس کی قمیض کو اوپر کھنچنا شروع کر دیا اس گانڈ کو تھڑا سا ہلا کر مجھے گانڈ کے نیچے سے قمیض نکالنے میں مد د کی ادھر اس کے اوپر ہونے سے اس کے بھرےبھرے مموں پر موجود اس نپل میرے سینے کو چھو گئیے اک لمحے کو ہزارویں حصے میں مجھے جھٹکا لگا بے اختیار لبوں سے افففف نکلا ادھر میں نے جیسے ہی اس کی قمیض اوپر کرنے کے لیئے اپنیے ہاتھ اس کیگانڈ سے تھڑا اوپر رکھ کر قمیض کے اندر داخل کیے میرے ہاتھوں کو اس جسم کی نرماہٹ اور کوملتا نے رومانس اور سیکس کی گہرائیوں میں اتار دیا میں نے جزبات میں غطہ زن ہوتے ہوئے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا ساتھ ساتھ قمیض کو اوپر کرتاگیا ادھر وہ اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے اب میری گرن کے نچلے حصے یعنی سینے کے آغاز میں پہنچ چکی تھی تھی اس کے جزبات میں آگ لگ چکی تھی اس نے اپنی گانڈ کو بھیچا اور پھدی لبو ں کو لن کی ٹوپی پر مسلا یہ اس کا پہلا کھلا وار تھا میرے اندر میرے جزبات کو بھڑکا گیا میجھ اسب برداشت می انتہا برداشت نہ ہوئی میں نے تیزی سے قمیض اوپر کی اور اس کی نازک کمر تھام کر بیٹھ گیا اس طرح بیٹھنے سے اس کے ممے میرے سینے میں دب گئے اس نے میری گردن کے گرد اپپنے بازو پھیلا دئیے اور اپنے شربتی لب میرے بالوں میں لگا دئیے نیچے اس کی پھدی عین میرےلن کے اوپر آ گئی مجھے اپنے لن پر اس کی پھدی کا پانی محسوس ہوا پتہ کب سے بہہ رہی تھی میں نے بھی آگے بڑھنے کا سوچا اور قمیض جو دونوں اطراف سے پکڑ کر اوپر کی طرف کرنا شروع کیا تو اس نے بھی میری مدد کرتے ہوئے سامنے سے پنے مموں سے قمیض اوپر کر دی جیسے ہی اس کے ممے آزاد ہوئے برا کے بغیر ممے 34 سائز کے بھرے ہوئے دودھ کے پیالے جیسے سرخ وسفید ہلکے چمکتے ہوئے اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ تن کر کھڑے ہوئے میرے جزبات کو بھڑکا رہے تھے اوپر سے ان پر چھوٹے چھوٹے ہلکے گلابی رنگ کے نپل مموں کی خوبصورتی میں اضافہ کا باعث بن رہے تھے ۔

دوستو اتنے خوبصورت ممے سامنے ہوں اور بندہ ان سے کھیلے نہ تو پھر اس کے مرد ہونے پر شک کرنا لازمی ہے

بس پھر کیا تھا بلو بھی اپنا صبر پن کھو بیٹھا اور ندیدوں کی طرح ان دودھ کے بھرے پیالوں پر ٹوٹ پڑا ایک کو ہاتھ مییں پکڑا دوسرے کے نپل کو منہ میں لیا ادھر اس نے ایک ہاتھ سے قمیض اوپر اٹھائی دوسرے سے سر میرے سر کو اپنے ممموں پر دبا دیا میں نے اس کا نپل منہ میں لے کر چوسنا شروع کیا مانوں کہ جیسے سچ میں گرم گرم دودھ کا پیالا منہ سے لگ گیا ہو میں نے نپل کو بہت بے صبری سے چوسا دوسرے ہاتھ کو اس کے دوسرے ممے کو دبایا کچھ زیادہ ہی ​

کچھزیادہ ہی بے صبرے پنپن کا مظاہرہ کر گیا اس کی پے مموں کو زیادہ ہی زور سے دبا گیا تھا ایک طرف اس کے دودھ سے چھلکتے پیالوں کی گولائی اوپر سے ان کی نرماہٹ اور ہلکی گلابی مائل رنگت بندہ اپنے ہوش نہ کھوئے تو اور کیا کرے میں نے اپنا ہاتھ ہلکا کیا اور پھر سے اس کے چھٹے پنک نپل اپنے منہ میں لے کر کر ان کا نیم گرم احساس اپنے اندر اتارنا شروع کر دیا دوستو سچ میں ایسا احساس تھا جیسے ان کنوارے مموں سے گرما گرم دودھ میرے ہونٹوں کے ذریعے میرے منہ میں آ رہا ہو ایک میٹھا سا لطیف احساس میرے منہ کے رستے میرے دل

میں اتر رہا تھا میں بے خودی کے عالم میں اس کے انتہا کے شہوت انگیز عریاں پستان پر اپنی زبان کا لعاب چھوڑتا جا رہا رہا اس کے اندر شہوت کی آگ بھڑکنا شروع ہو رہی تھی کیوں کہ اس نے اپنی کنواری چوت کے لبوں کو میرے مچلتے لن کی ٹوپی پر کپڑوں کے اوپر سے ہی مسلنا شروع کر دیا تھا میں ایک پیالے سے دودھ پیا تھا دوسرے سے انصاف کرنا بھی ضروری تھا میں جیسے ہی اس مرمریں پیالے سے ہونٹ ہٹاکر دوسرے پر رکھنے کی کوشش کی تو ناہید کسمسا کر بولی ہوووں جیسے کہہ رہی ہو آج ان کو اتنا چوسو کہ ان سے دودھ کی نہر پھوٹ پڑے شیریں بھی اگلے جہاں میں بیٹھ کر سوچے کہ میں کیسی پاگل تھی ایسا عاشق تھا تو دودھ کی نہر یہاں اپنے شباب کی پہاڑیوں سے نکلوا لیتی خوامخواہ فرہاد بیچارہ تیسے سے نہر کھودتا رہا۔

خیر میں نے اس مے ایک دودھ سے منہ ہٹا کر دوسرے کے نپل کو اپنی زبان سے مسلا تو اس کی زرہ بلند سسکی نکلی سسئئئئئ اور میرا منہ میرے سر پر اپنے نازک ہاتھ رکھ کر اپنے نشہ آور پستانوں پر دبا دئیے ۔

اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق میں تو پہلے ہی اس کے پرشباب مموں کو پورا منہ میں لینا چاہتا تھا لیکن میرے ہونٹوں کا دہانہ اتنا نہیں تھا کہ وہ اندر جا سکتے اس نے دبایا تو کافی حد تک اندر آگیا مجھے تو اپنے ساتھ کے گاوں والے بابے فوجی کی دیسی گھی کی برفی یاد آ گئی اتنے نرم اور مٹھاس سے بھرپور ممے کہ میرا بے اختیار دل کیا بلو کھا جا ہھر ہتہ نہیں یہ موقع ملے یا نہ ملے ۔ اتنا میرے منہ میں چلا گیا کہ اس کا چھوٹا سا اس کے دودھ کا بٹن میرے تالو میں لگنے لگا میں دل پر پتھر رکھ کر اس دودھ کی برفی کو منہ سے نکالا اور ایک ہاتھ سامنے سے اس کی پھدی پر رکھا تو اس نے میرا ھاتھ اپنی پھدی پر بھیچ لیا اور زور سے سسکاریاں لینے لگ گئی مجھے اس وقت اپنے دوست کی بات یاد آ گئی کہ پھدی جتھے وی لبھے اگر گرم کوئے تا ں لن پا دئیو موقع دا پورا پورا فائدہ اٹھاو۔

جیسی ہی مجھے یہ احساس ہوا کہ اب ناہید فل گرم ہے تو میں نے اس کو جلدی سے گھما کر اپنے نیچے کیا اور اس کی شلوار پکڑ کر اتارنے لگا اس نے اپنی ہوش سے بیگانہ کر دینے والی موٹی تازی بھری بھری گانڈ اٹھا کر نیچے سے ںکالنے میں مدد کی میں ایک پاوں سے نکال کر دوسرے ٹانگ کے ساتھ لپیٹ دی اور اپناناڑا کھولتے ہوئے اس کی پھدی پر نظر ڈالی ۔مجرا لن اس کی پھدی کو دیکھ کر شلوار پھاڑ کر باہر انے کو تیار تھا اس کی پھدی کے لب آپس میں ملے ہوئے اور گوشت سے بھرپور پھدی کے لبوں پر اس کی چوت سے نکلنے والا امرت موتیوں کی ظرح چمک رہا تھا میں اس کی پھدی کے دیدار میں کھو کر اپنا ناڑا کھولنا بھول گیا۔ اس نے میری نظروں کا تعاقب کیا اورجلدی سے اپنی پھدی پر ہاتھ رکھ کر میری طرف شرارت سے دیکھنے لگ گئی اور بولی کی ویکھی جانا ایں گندا گندا گندا گندا بچہ میں نے دل

میں سوچا ابھی اس ان چھوئی کلی کو اپنے لن سے پھول بنا دوں گا چھپا لو جتنا چھپانا ہے۔ میں جلدی سے اپنا ناڑا کھولا تو میرا لن پھنکارتا ہو ا باہر نکل کر لہرانے لگ گیا ۔

میں نے بھی زیادہ دیر کرنا مناسب نہ سمجھا کیوں کہ کافی دیر دیر ہو فئی تھی اس لیے اس کی ٹاںگوں کے بیچ آیا اور اس کی ٹانگیں آٹھا کر فولڈ کر کر کے اس کے سینے سے لگا دیں اور اپنے بازو ان اوپر سے گزار کر اس کی گردن کے ںیچے رکھے لن خود بخود اس کی پھدی کے لبوں میں گھس کر دستک دینے لگا نیچے سے ناہید نے بھی ہل کر لن کو پھدی پر سیٹ کیا میں اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں کیے اور تیار ہوا کہ اب گھسا دیتا ہوں لیکن اس نے نیچے سے ہلکا سا گھسا مارا لن کی ٹوپی اندر گھس گئی اس نے میرے ہونٹوں پر دانت گاڑھ دئیے انکھیں بھیچ لیں میں نے موقع کا فائیدہ اٹھایا اور ایک جاندار گھسا مارا لن 5 انچ تک اس کی پھدی کو چیرتے ہوے گھس گیا اس کی سیل کے پھٹنے کا ایک انوکھا احساس میرے اندر اتر ا لیکن جب اس کے چہرے پر نظر پڑی تو تو وہان کرب کا احساس تھا اس کی آنکھیں بند اور آنکھوں کے کناروں سے شبنمی موتیوں کی ظرح پانی بہ رہا رھا تھا میں نے اپنی زبان سے ان موتیوں چننا شروع کیا ساتھ ساتھ اپنے ہاتھوں سے اسکے مموں جو مسلنے لگ گیا کچھ ہی دیر میں اس آنکھیں کھولیں میں اپنا چہرہ پیچھے کیا اس می آنکھوں میں دیکھا تو ہزاروں شکوے پنہاں تھے۔ لیکن میں اس کے ممے مسلنے جاری رکھے اور اسکے یونٹوں پر پاری کر کے اپنی زبان اس کے منہ میں داخل کر دی اور اس کی زبان کو پکڑلیا اب زبانوں کی لڑائی شروع ہوئی تو اس ساری توجہ ہونٹ چوسنے اور زبان لڑانے کی طرف ہو گئی میں نے نیچے سے تھوڑا سا لن باہر نکالا اور آرام سے اند کیا تو لن پھنس سا گیا ساتھ ہی اسکے خون کی خوشبو میرے نتھنوں سے ٹکرائی۔ کچھ دیر آہستہ آہستہ کرنے کے بعد میں نے سپیڈ تیز کردی اس کو بھی مزہ آنے کگ گیا تھا کیونکہ اس کی پھدی پھر سے گیلی ہو گئی تھی لن روانی سے اندر باہر ہونے لگ گیا اس آواز میں بھی سسکیاں شامل ہو گئیں آہہہہ آہہہہ اااوووئیی ساتھ ساتھ اس نے گانڈ اٹھا کر اند لینا شروع کر دیا تو میری سپیڈ بھی خودبخود تیز ہوتیگئی اور فل سپیڈ سے پھدی میں لن نے دھمال ڈالنی شروع کر دی۔

ادھر ناہید کی سسکیاں تیز ہو گئیں اااااہہہہہہہہہ ہہہہہہہ آآہہ ببببلللللوووووو آآہہہہہ آووووئئییی بببللللوووو مممممیییررررییییی ججججاااان میں تتیییننننوووںںںں ببببہہییووووووتتتتتت پییییااار کرتتتتتتتییییی آااااآںںںںں۔

اسی طرح اس آواز بے ربط ہتی جا رہی تھی اس کی گرفت میری کمر پر بھی سخت سے سخت ہوتی گئی اور اس کی آوازوں میں بھی شدت آتی گئی

اور اس کے ساتھ ہی اس نے میری کمر پر ناخن گاڑھ دئے اور میرے ہونٹوں کو کاٹ لیا اس کی پھدی میرے لن کے گرد سخت ہو گئی لن کو اپنے حصار میں جکڑ لیااور اس کے ساتھ ہی مجھے اپنے لن پر گرم گرم مائع گرتا ہوا محسوس ہو اسی مزے کے احساس کے ساتھ ہی مجھے اپنا خون ابلتا ہو ا محسوس ہوا اور آنکھوں کے آگے اندھیرا سا محسوس ہوا مزے کی انتہا پر پہنچ گیا میرے جسم نے بھی زور کا جھٹکا کھایا اور منی کا فوارا اس کی پھدی کے پانی میں چھوڑ دیا مجھے واضح محسوس کوا جب میرے لن نے اس کی پھدی میں پہلی پچکاری ماری تو اس کو کے جسم کو جھٹکا لگا۔ میں بھی فارغ کو کر نڈھال ہو گیا اور اپنا جسم اس کے گرا دیا کچھ ہم دونوں جھٹکے کھاتے ہوے فارغ ہوتے رہے پھر جب فارغ ہو گئے تو الگ ہوے اس کی پھدی ہر نظر پڑی تو لال ٹماٹر بن چکی تھی میں ادھر ادھر دیکھا اور تو کچھ نہ ملا تھوڑے فاصلے پر نلا تھا جس میں پانی تھا اس کو کہا وہاں جا کر اپنی پھدی دھو لو اس نے مجھے گندا چچہ کہا اور خود کو گھسٹیتی ہوئی نالے پاس لے گئی اور اپنی پھدی دھو کر وہاں سے ہی مجھے دیکھے بغیر اپنی دوست کو آواز دے کر بلایا اور گھر چلی گئی ہم بھی کچھ دیر بعد واپس گھر آ گئیے اور بیٹھک میں گھس کر سو گئے۔۔۔۔۔



Source link

Leave a Comment