ممی میری جان ۔۔۔(قسط 1)

br>

میرا نام عرفان ہے میری عمر بیس سال ہے اور میں بی ایس سی کر رہا ہوں میں اپنے والدین کا اکلوتا ہوں میرے ڈیڈی بزنس مین ہیں اور اکثر ملک سے باہر جاتے رہتے ہیں ممی سوشل ورکر ہیں اپنا این جی او بنایا ہوا ہے جس کی وجہ سے مصروف رہتی ہیں ممی اپنے این جی او کے ساتھیوں کی اکثر گھر میں دعوت کرتی ہیں جس میں ڈرنک بھی چلتی ہے ممی بھی ڈرنک پیتی ہیں ڈیڈی جب گھر پر ہوتے ہیں تو ان کے بزنس کے حوالے سے بھی دعوتیں ہوتیں ہیں اکثر گھر میں ہلہ گلہ چلتا رہتا ہے میں ممی ڈیڈی کی جانب سے توجہ کی کمی کی وجہ سے تنہائی پسند سا ہو گیا ہوں مجھے دنیا کی ہر چیز میسر تھی مگر ممی ڈیڈی کے پیار کی کمی اپنی جگہ تھی اکثر پارٹیاں رات کو ہوتی تھیں مجھے ان پارٹیوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر ایک بار رات جب میں کسی کام سے اپنے روم سے باہر نکلا تو ممی کے کمرے سے سسکاریوں کی آوازیں سن کر میں رک گیا اور ان کے کمرے میں کھلی ہوئی کھڑکی سے ایک لمحے کو دیکھا اور میں سب سمجھ گیا ممی کسی بندے کے نیچے تھیں اور وہ بندہ ممی کی چدائی کر رہا تھا ممی کی لذت میں ڈوبی سسکاریاں دور تک سنائی دے رہی تھیں میں وہاں رکا نہیں جلدی سے اپنے روم میں آگیا اور ممی کے بارے میں سوچنے لگا ممی کی عمر چالیس سال تھی ان کا جسم بھرا بھرا تھا گوری رنگت لمبے بال خوبصورتی ایسی کہ ہاتھ لگائیں تو میلی ہو جانے کا ڈر نہایت نفیس اور خوبصورت عورت تھیں کسی بھی مرد کو حسن کے جال میں پھانسنے کا مکمل سامان تھیں آج کے واقعے نے تو مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا ڈیڈی اکثر ملک سے باہر رہتے تھے ممی کو مرد کی ضرورت رہتی ہے لہذا انہوں نے نئے نئے مردوں سے چدوانے کا خوب پروگرام بنایا تھا اور دعوت کے بہانے راتیں رنگین کرتیں تھیں میں نے ممی کی جوانی سے کھیلنے کا پروگرام بنانے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا اس سے پہلے میں نے کبھی اپنی خوبصورت اور سیکسی ممی کے بارے میں ایسا نہیں سوچا تھا مگر غیر مردوں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے دیکھ کر میرا اندر کا شیطان جاگ گیا تھا میں اس رات واش روم جا کر ممی کے نام کی مٹھ لگائی مزہ ہی آگیا اب مجھے اگلی پارٹی کا انتظار تھا اور مجھے اس کے لیے زیادہ انتظار کرنا نہیں پڑا ایک ہفتے بعد ہی ممی نے بتایا کہ ہفتے کو دوستوں کی پارٹی ہے میں سمجھ گیا کہ آج پھر چدائی کا پروگرام ہے رات جب پارٹی ختم ہوئی سب چلے گئے تو میں نے آہستہ آہستہ ممی کے روم کی جانب اپنے قدم بڑھا دیے ممی کھڑکی کھلی رکھتی تھیں کیونکہ اس جانب کوئی نہیں آتا تھا میں نہایت خاموشی سے کھڑکی تک پہنچا باتیں کرنے اور کسنگ کرنے کی آوازیں آرہی تھیں میں نے جھانکا تو ممی ننگی تھیں اور ان کے ساتھ موجود آدمی ممی کے گلابی رخسار پر کس کر رہا تھا اس کا ایک ہاتھ ممی کے بریسٹ پر تھا اور دوسرا ہاتھ ممی کی چوت پر اس کے جسم پر صرف نیکر تھی باقی کپڑے اتار دیے تھے میں نے اپنا موبائل نکالا اور ویڈیو بنانے لگا دیکھتے ہی دیکھتے ممی نے اپنے پارٹنر کی نیکر اتار دی اور اس کے لنڈ کو پکڑ کر بے تابی سے چوسنا شروع کر دیا جلد ہی ممی کا پارٹنر ممی کی چدائی کر رہا تھا اور ممی کی سسکاریاں او او ہاں ہاں اور اور جیسی آوازیں سنائی دینے لگیں میں نے نیچے جھک کر موبائل کو کھڑکی پر رکھ کر کچھ دیر ویڈیو بنایا اور کھڑکی سے ہٹ گیا اپنے روم میں آکر میں نے ویڈیو چیک کی بہت اچھی اور کلیئر فلم بنی تھی میں نے چیک کرنے کے بعد اگلے پلاننگ کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا میں نے اس بے چین اور خوار ممی کو نئے نئے مردوں سے بچانے کا پلان سوچا اور سو گیا بڑی مشکل سے نیند آئی دوسرے دن کالج سے آنے کے بعد میں ممی کی تلاش میں ان کے روم کی جانب گیا وہ کچن میں تھیں کبھی کبھی کچھ پکا بھی لیتی تھیں

ممی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسے ہو میرے شیر انہوں نے مجھے دیکھ کر کہا عرفان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں اور یہاں کچن میں کیا کر رہی ہیں میں نے ان سے پوچھا ممی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آج ماسی نہیں آئی ہے سوچا تمہارے لیے کچھ پکا لوں ممی نے میرا بغور جائزہ لیتے ہوئے کہا عرفان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا پکا رہی ہیں میں نے انہیں اپنی جانب دیکھتے پا کر پوچھا ممی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ کباب ہیں کچھ کٹلس ہیں بریانی بھی ہے نیا آرڈر کیا ہے جو اچھا لگے کھا لو انہوں نے کھانوں کی ڈیٹیل بتائی عرفان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا ٹھیک ہے آج ہم آپ کے روم میں کھانا کھائیں گے ممی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واہ چلو ٹھیک ہے ممی نے جلدی سے کہا کھانا ٹرے میں رکھ کر میں ممی کے ساتھ ان کے روم میں گیا اور ڈور بند کر دیا ممی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں بند کیا ہے ڈور ممی نے پوچھا میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے انہیں اپنی جانب جھکا کر ان کے چہرے پر پہلا کس کر لیا ممی مجھے حیرانی سے دیکھنے لگیں میں نے انہیں ابھی تک پکڑا ہوا تھا ممی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا ہے بیٹا ممی نے نہ سمجھتے ہوئے پوچھا میں نے ان کے ہاتھ سے ٹرے رکھی۔۔۔۔



Leave a Comment