میں بولا جو بولنا ہے سچ بول اور جلدی بول میری پاس تیری فالتو بکواس سننے کا وقت۔ نہیں ہے۔
تو بولا یار تو سمجھ نہیں رہا ہے جو میں کہہ رہا ہوں وہ سچ ہے ۔
میں نے کہا چل ٹھیک ہے اب تو اپنی زبان بند کر اور اپنا بوتھا لے کر یہاں سے نکل میں خود پتہ کر لوں گا کیا معاملہ ہے۔ تو ایویں ای گانڈ نہ مروا لینا اپنی۔
اس کو برا تو لگا ہو گا لیکن وہ چپ کر کے کھڑا ہوا چند قدم چلا اور پھر واپس آیا اور بولا دیکھ بلو میری بات سمجھنے کی کوشش کر ۔۔
میں نے کھڑے ہو کر کہا تو جاتا ہے یا تیری گانڈ پھاڑوں سالیا چل نکل مجھے پتہ ہے کہا معاملہ ہے کون تھا وہاں تو بلا وجہ میرے لن پر نہ چڑھ مجھے تیری نصیحت کی ضرورت نہیں ۔
چل شاباش اور سن یہ جو تو کہہ رہا ہے نا ساتے پنڈ کو میرا اور چھنو کا یا جس کا بھی تو کہہ رہا ہے لن تے چڑھ گیا سب میرا کسی سے بھی تعلق جوڑتے پھرو مجھے کوئی پرواہ نہیں کیونکہ جب میرا کسی سے کوئی چکر ہوا تو تیری بنڈ پہلے ماروں گا باقی کسی کی بعد میں اور تو جو چن چڑھاتا پھر رہا ہے نہ صنم کے ساتھ مجھے سب پتہ ہے ۔
اس کے رنگ اڑ گئیے یہ سب سن کر وہ بدلی ہوئی آواز میں بولا کی مطلب تیرا ۔
میں نے پھر کہا جو کہا تو نے سن لیا صنم کی جو مارتا ہے نہ میں سب جانتا ہوں اپنا ڈرامہ بند کر اور مجھے سب سچ سچ بتا معاملہ کیا ہے۔
وہ میری بات کا جواب دینے کی بجائے ایک دم پریشان ہو گیا اور تیز تیز قدم اٹھاتا نکل گیا۔
میں بھی کچھ دیر وہاں بے مقصد بیٹھا رہا ۔
اور غور کرتا رہا کہ اس کی بات اگر سچ ہے تو واقعی بڑا پنگا ہو جانا ہے۔اگر نہیں تو اس نے یہ بات کیوں کی۔
پھر میں نے دماغ میں سارا سین دھرایا چھنو کی پھدی میں لن اتارنے سے پہلے اور بعد کے واقعات پر غور کیا ۔تو مجھے یاد آیا کہ کوئی آیا تھا جس سے چھنو سے بات کی اور کہا تھا تو جا میں آوندی آں۔
میں سوچا اگر اس کا پتہ لگ جائے اس کا پتہ لگ جائے کہ وہ کون تھا تو سب کچھ پتہ چل جائے گا۔
سارا معاملہ سلجھ جائے گا۔ ایک بات تو واضح ہو گی کہ ڈنگی جھوٹ بول رہا تھا اس سارے جھمیلے سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا ۔
یہ سارا رائتہ کسی اور کا پھیلایا ہوا تھا۔
میں نے فیصلہ کیا کہ خود سے ہی سارے معاملے کا پتہ لگایا جائے ۔
میں وہاں سے نکل کر گاوں کی طرف روانہ ہوا تو مجھے کوئی عورت آتی دکھایی دی۔
شوخ رنگ کے کپڑے جو دور سے ہی چمک کر پہننے والے کے ذوق کا پتہ دے رہے تھے ۔چال میں ایک مستانہ پن اور اردگرد سے بے خبر اپنی مستی سے چلی آ رہی تھی۔
میں اپنی عادت سے مجبور تھا میں نے اس کے فگر کو سمجھنے کی کوشش کی جان گیا کہ ایک سیکس بم ہے ایک دم پٹاخہ ٹائپ کا فگر جو دیکھنے والے کو بار بار دیکھنے پر مجبور کر دیتا ہو گا۔
وہ مجھ سے کافی فاصلے پر تھی اور میں ویسے بھی ٹاہلی کے نیچے چھاوں میں تھا ایک تو وہ اپنی مستی میں گم تھی اس کا دھیان ہی کہیں اور تھا ۔
اتنے فاصلے کے باوجود بھی میں نے اس کے فگر کو جج کر لیا تھا۔ لیکن اس کا چہرہ مجھے نظر نہیں آ رہا تھا ۔ جیسے جیسے وہ قریب آتی جا رہی تھی اس کا فگر مجھے اپنی ظرف متوجہ کرتا جا رہا تھا۔
اس کے سینے پر لگے دو تربوزوں کی اچھل کود مجھے واضح محسوس ہونے لگ گئی
اس کا رخ ساتھ والے کھیت کی طرف تھا ۔
جب اس کا فاصلہ کم رہ گیا تو مجھے غور کرنے کی ضرورت نہ پڑی کیونکہ اس قاتل فگر کی مالک سیکس کی پڑیا نہیں بلکہ پٹاری کو میں نے پہچان لیا ۔
یہ وہ ہی گورے جسم بڑے بڑے سفیدی کے پہاڑوں والی موٹے چوتڑوں والی اور پوری دلجمعی سے چدوانے والی تھی۔ جس نے مجھے سیکس سے روشناس کرایا۔
میرا مطلب جس کو چدواتے دیکھ کر مجھے سیکس میں دلچسپی ہوئی جس کے ہوشربا چدائی کے سین سے میری للی میں بھی خارش شروع ہوئی تھی۔
ہاں جی آپ لوگ بھی صحیح سمجھے وہ عاصمہ ہی تھی جس پہلی بار کماد میں میں نے اپنے بھا سے چدواتے دیکھا تھا جب میں 10سال کا تھا ۔
سوری میں اکیلے نے نہیں بالکہ ناہید اور میں نے دیکھا تھا جب پہلی بار میری للی ناہید کی گانڈ میں گی تھی۔
میں اس کو دیکھ کر مبہوت ہو گیا ۔ پتہ نہیں کئی لوگ ہمیشہ ہی جوان رہتے ہیں جب پہلی بار اس کو چدواتے دیکھا تھا جیسی تب تھی ویسی ہی اب تھی وہی فگر وہی چال وہی رنگت اور وہی بے فکری ۔
وہ چلتی ہوئی بے نیازی سے گندم کے کھیت میں گھس گئی اور تیزی سے بیٹھ گئی ۔
میں جو اس کے فگر کی حشر سامانیوں میں کھویا ہوا تھا اس کے بیٹھنے سے ہوش کی دنیا میں آیا اور سوچنے لگا کہ کیا کروں اس کے پیچھے جاوں یا نہ جاؤں کیوں کہ مجھے پہلے دن سے ہی اس کے جسم سے کھیلنے کا شوق پیدا ہو گیا تھا اس دن سے جس دن اس کے خربوزوں کو اچھل کود کرتے دیکھا تھا۔
میں ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ وہ اٹھ کھڑی ہوئی کمال کی لاپرواہ تھی اس کو کوئی فکر نہیں تھی کہ کوئی دیکھ بھی رہا تھا یا نہیں ۔
وہ اٹھی تو میں بھی تیزی سے ٹاہلی کے نیچے سے نکل کر اس طرف چلا جدھر سے اس نے نکلنا تھا ۔
وہ بھی باہر آ گئی اور میں بھی اس کے سامنے پہنچ گیا وہ مجھے دیکھ کر چونکی اور بولی واہ بھئی واہ ہیرو کدھر نوں
میں نے کہا کہیں بھی نہیں بس ایسے ہی
بولی ایسے ہی کیسے جا تو رہے ہو کہیں نہیں بتانا تو نہ بتاؤ
میں بولا ایسی موئی بات نہیں
تو اس نے کہا چل فیر دس دے تیرے ارادے ٹھیک نہیں لگدے کہیڑے چکراں اچ ایں
میں اس کی چہرہ شناسی پر حیران ہوا کہ ہے تو ان پڑھ لیکن بہت چالو چیز ہے میرا چہرہ دیکھ کر اندازہ لگا لیا۔
لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پائی کہ میں اس کے چکر میں ہی تھا۔
میں نے کہا ایسی کوئی گل نیں بس ٹاہلی کے نیچے چھاوں میں سویا تھا ادھر شور کی اواز آرہی تھی تو سوچا دیکھوں ےو صحیح کیا مسئلہ ہے کون لڑ رہا ہے ۔
اس ہہہہوں کیا اور بولی چل نہ دس ہن تو وی جوان ہو گیا ایں ۔
چل جا فیر میں وی جانی آں
میں اس کو روکنا چاہتا تھا لیکن ںیں روک پایا روکتا بھی کیسے کیا کہتا پھدی دے مینوں ۔
میں کہہ بھی دیتا اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ اس نے بھا کو بتا دینا ہے ۔اور پھر جو میرے ساتھ ہونا تھا وہ میں ہی جانتا ہوں۔
خیر وہ چلی تو میں نے اس کے پیچھے دیکھا اس کی گانڈ دو الگ الگ حصوں میں بٹی اوپر نیچے ہو رہی تھی اور میرا لن اس کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔
وہ چلتی ہوئی رکی پیچھے مڑ کر دیکھا اور میری نظر کی سمت دیکھا تھوڑا غصے کا ردعمل دیا اور پھر چل پڑی لیکن اب اس کی چال میں ایک الگ ہی رنگ تھا۔ پہلے کی نسبت زیادہ مٹک رہی تھی۔
خیر وہ چلتی ہوئی دور نکل گئی لیکن میں وہیں کھڑا رہا مجھ یکدم گرمی کا احساس ہوا تو پتہ چلا کہ پسینہ میرے پاوں تک پہنچ چکا ہے ۔
مطلب میں پسینے سے شرابور ہو چکا تھا۔
تو وہاں سے چلا گھر گیا نلکا چلایا پانی پیا اور اپنی تائی سے کھانا مانگا ۔
میں ابھی کھانا ہی رہا تھا کہ تائی بولی ویکھی ناں اوو اپنی چھنو نیں اوہدی ماں نے اج کسے نوں آودی بیثھک اچ ویکھ لیا اے
کی زمانہ آ گیا اے پتہ نیں کی ویکھیا آے تاں ہن ۔۔۔۔۔ جاندا اے
میری تاں سٹی گم ہو گئ پیٹ پی بھوک مٹ گئی ۔
اور ڈرتے ڈرتے پوچھا کون سی کوئی پتہ چلا۔
تو تائی بولی پتہ نہیں کون سی پر جدوں او آئی او بھج گیا سی۔
تے لڑکی کون سی ۔
تائی نے بتایا کہ وہ لڑکی صنم تھی لیکن لڑکا پتہ نہں کون تھا۔
مجھے سکھ کا سانس آیا کہ مجھے نیں دیکھا کسی نے اور نہ کی شک ہے کسی کو میرے اور چھنو کے بارے میں
میں ابھی یہ ہی سوچ تھا کہ تائی بولی بچہ تو وی بچ کہ رہیا کر بڑے چکر لانا ایں اوہناں دی گلی دے
ویکھیں کوئی نواں نہ چن چڑھا دیں۔
میں نے کہا لو جی ہن اس میں میں کہاں سے آ گیا ۔
میں آپ کو ایسا لگتا ہوں اپ بھی نہ ایسے ہی شک کرتی رہتی ہیں۔
تائی بولی نہ بچہ نہ مینوں تیرے پیو نے آکھنا اے تیرے کول ای آندا سی تو وی خیال نیں رکھیا تے ویکھ لے ہن کی کم وکھا دتا۔ جے تو کوئی ایسا ویسا کم کیتا تے۔
میں تاں تینوں سمجھا رہی آں۔بچہ باقی تیری مرضی۔۔۔
میں ساری باتیں سنتا رہا تائی اور بھی نصیحتیں کرتی رہی میں سنتا رہا ۔
کچھ دیر میں فجا آیا اور مجھے اشارے سے باہر بلایا۔
میں اس کے پیچھے کھانا کھانے کے بعد گیا تو وہ ہماری سیکرٹ جگہ جہاں ناہید کے ساتھ پہلی دفعہ کیا تھا اس طرف جا رہا تھا میں بھی اس کے پیچھے چل پڑا۔۔
فجا وہاں پہنچ کربیری کے نیچے بیٹھ گیا میں بھی وہاں گیا تو اس نے بیٹھنے کو کہا میں بھی بیٹھ گیا ۔
اس نے کہا ماماں تیرے لن نوں سکون نیں اج فیر تو چھنو نوں ملن گیا سی۔
میں نے کہا کی گل اے صحیح صحیح بتا ہوا کیا ہے۔۔
تو یہ سب کیوں بول رہا ہے۔
تو اس نے کہا اس کی ماں نے کسی کو دیکھا ہے وہ جو کہہ رہی ہے کہ کوئی ان کی بیٹھک میں تھا اور بھاگ گیا۔
مجھے پکا یقین ہے تو ہی ہوگا۔ ہن تو مان یا مان۔
میں نے کہا یہ سچ ہے کہ میں چھنو سے ملنے گیا تھا لیکن میں بہت پہلے وہاں سے نکل گیا تھا اور میں دروازے سے نکلا تھا اس وقت تک اس کی ماں نیں آئی تھی۔
فجا بولا سچی بتا اگر کوئی مسئلہ ہے تو
یں سنبھال لوں گا باقی اگر جھوٹ بولو بے تو میں کوئی مدد نیں کر سکوں گا۔
میں نے کہا یار تیرے سامنے جھوٹ کیوں بولوں گا بھلا۔
یہ ہی سچ ہے جو تمہیں بتا دیا اب وہاں کون تھا کیا ہوا وہاں میں کچھ نیں جانتا میں تو اس وقت شازی لوگوں کی بیری کے نیچے بیر کھا رہا تھا اچھی جب واپس آیا تو یہ سب شور سنا اور کچھ نیں۔
اس کہا چل ثھیک ہے آجا فیر دکان پر چلتے ہیں ہم دکان پر جانے کے لیے چھنو کی گلی سے گزرے چھنو کی ماں ملی اس نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور سب گھر والوں کے حال چال پوچھے ۔
فجا بھی یہ سب دیکھ کر مطمئن ہو گیا تھوڑا آگے جا کر بولا اب مجھے یقین ہو گیا کہ وہ تو نہیں کوئی اور تھا۔۔۔۔۔۔۔