گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 13)

اس نے مجھے پیچھے دھکیلا مجھے ایسا لگا جیسے کوئی بہت بڑا خزانہ ہاتھ سے نکل گیا ہو۔

میں اسی سوچ میں تھا کہ اس ما ہ رخ نے میرے سر پر ہاتھ رکھا ۔

میں نےاس کی طرف دیکھا تو اس حسینہ کے چہرے پر چودیں کے چاند کی سی چمک اور آنکھوں میں طلوع آفتاب کی سی لالگی تھی۔

اس پری چہرہ میری جان من میرے جذبات میں ہلچل پیدہ کرنے والی حسیں مورت کے چہرے کا اک اک لوں چیخ چیخ کر اس کے جذبات کی عکاسی کر رہا تھا۔

اس نے جھک کر میرے کندھوں کو تھام کر اپنے مقابل کھڑا کیا ۔اور اپنی نازک پنکھڑیوں کے سے لبوں کو جنبش دی اور پھولوں کی طرح الفاظ نکلے ۔

میری جان میرے راجہ اے غلط اے گندی جگہ نوں کیوں چمن لگیا سی۔

میں بولا تمہارے جسم کا انگ انگ ایک ایک عضو میرے لیے قابل تعریف ہے دل کرتا ہے تمہیں سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک چوموں تم سمجھ نہیں سکتی میرے لیے تم کیا ہو ۔

تم میری زندگی

تم ہی میری بندگی

تم میری پریت ہو

اس نے مجھے ٹوکتے ہوئے میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے سی دیا اور اپنی لمبی زبان میرے منہ میں داخل کر دی ۔

ساتھ ہی مجھے پیچھے دھیکیلا اور اپنے نیچے گرا لیا۔

نیچے گر نے سے اس بھرا بھرا سینہ میرے سینے سے لگ کر اندر تک میرے جذبات کو بھڑکانے لگا۔۔

اابھی میں اس کے مومی سینے کا ابھاروں کے لمس میں کھویا تھا کہ اس نے اپنی رانوں کو بھینچ کر میرے کب سے جھٹکے کھاتے گھوڑے کو دبا لیا اور اپنے چوت کو اس پر مچلنے لگی جو کہ اس قمیص کے کپڑے سمیت میرے لن کو جو دو تہوں میں تھا اپنے اوپر دبا رہی تھی۔

مجھ سے ابھی برداشت کرنا مشکل ہو گیا

میں نے اس کو گھماکر اپنے نیچے کیا اور شلوار کا ناڑا کھول لیا۔

اس کی قمیض کو جو کہ چوت کو چھپانے کی کوشش میں تھی اوپر کیا اور اپنی قمیض کو اپنے دانتوں میں دبا لیا ۔

ساتھ کی ناہید کی ٹانگوں کو اٹھا کر چوت کو واضح کیا اور لن کو چوت کے پھولے ہوئے لبوں پر رگڑا ۔

ناہید نے نیچے سے گانڈ اٹھا کر اپنی چوت میں لن لینے کی کوشش کی لیکن اس کا نشانہ مس ہو گیا۔

چوت کے لبوں میں نیچے سے اوپر تک لن کی ٹوپی کو پھیرتا رہا ٹوپی چوت کے پانی سے تر ہو گئی ساتھ ہی ناہید کی تڑپ بھی بڑھتی گئی ۔

اس کی سسکاریاں نکلنے لگ گئیں اس نے کہا بلووو نہ کر ہن پا وی دے میری بس ہو گئی اے ۔

بلو کی کردا بلو تے چاہیندا ای آ ای سی لن سیدھا کیا اور نشانہ ٹکایا اور دھے دھکا دیا اور لن اپنی معشوقہ کے اندر بہت گہرائی میں جا ٹکرایا ایک آہہہہ کی آواز کے ساتھ ناہید نے اپنا منہ ہاتھ رکھ کر بند کیا ۔

اس کے چہرے پر درد کے واضح آثار تھےیکن میں نے اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پھر لن نکالا اور پہلے سے بھی زیادہ زور سے ڈال دیا۔ وہ پھر تڑپی اس بار اس نے مجھے اپنے اوپر گرا لیا اور بولی آرام نہ کر بلو کیوں مینوں مارنا اے میں کی وگاڑیا اے تیرا۔

بلو پر تو پھدی کا نشہ سوار تھا اوپر سے اتنی ٹائیٹ پھدی نیچے سے لن پیچھے نکال اور پھر زور سے ڈالا ناہید جو کچھ بولنے لگی تھی اس کی آواز بللللوووااااا۔ کییی کککرر دااا پییییااا ایں میں بدل گئی ۔۔۔

میں نے اس کے شربتی ہونٹوں سے شربت پینا شروع کر دیا۔ اس اس نے اپنے ہاتھ میری کمر پر رکھ کر اپنی طرف سے

جھے جھٹکے مارنے سے روکنے کی کوشش کی ۔

لیکن جب لن ہو پھدی میں تو بندہ بہت طاقتور کو ہو جاتا ہے اور لن تو اپنا رستہ خود ڈھونڈ لیتا ہے۔

میں نے نیچے سے ہلنا شروع کر دیا بس پہلے سے سپیڈ کم تھی۔ اس نے ہونٹ چومنے کے ساتھ ساتھ میں نے ایک ہاتھ سے اس کے ممے تھام لیے اور ان کو دبانا شروع کر دیا۔ وہ تین طرفہ وار کی وجہ سے مچلنے لگ گئی جلد ہی اس کی سسکاریاں شرور ہو گئیں۔

جو مجھے روک رہی تھی اس کی میری کمر پر گرفت ڈھیلی ہو گئی ساتھ ہی میری سپیڈ تیز ہو گئی۔ وہ پہلے ہی بہت برداشت کر چکی تھی اس کچھ ہی دیر کے بعد اس کی آواز میں لڑکھڑاہٹ آنے لگ گئی آآآاہہہہ بللللوووووو ننننہہہہ کر آہہہہ آہہہہ اوووووئیہہ ماااارررر دتتتااا ایییی مینوں کجھ ہوئئئییی جااان ننددداااا اایییی

اااہہہہ ااممممییی مممممممممم ۔

اور ساتھ ہی اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا اور اس کے ناخن میری کمر پر گڑھ گئیے ۔ نیچے اس کی نرم سے چوت بھی مجھے سخت لگنے لگی جس نے میرے لن کو کسنا شروع کر دیا میرے لیے گھسا مارنا مشکل ہو گیا۔

لیکن اس کی سسکاریاں تیز ہوتی گئیں اور وہ اپنے مزے کے عروج پر جا پہنچی اور ایک زور دار جھٹکا کھاکر اپنی گاند کو اٹھا کر لن کو اپنی بچہ دانی میں لے کر اپنی چوت کی دیواروں سے لن پر ابلتے پانی کی برسات شروع کر دی۔

کچھ دیر وہ ایسے ہی مجھے جکڑے فارغ ہوتی رہی جب وہ پرسکون ہوئی تو میں نے پھر سے لن کو اندر باہر کرنا شروع کر دیا اور اس بار لن آسانی سے اور سپیڈ سے اندر جاتا اور اس کی بچہ دانی سے ٹکراتا اس نے پھر سے ہائے ہائے ااآآاہہ درد ہو رہا ہے کہنا شروع کر دیا اس کو چودتے ہوئے مجھے 10 منٹ ہو گئے تھے اس نے کہا میری ٹانگیں درد کر رہی ہیں ۔

میں اوپر سے اترا اور اس کو الٹا کر لیکن وہ لیٹ گئی میں نے اس کی گانڈ کو پکڑ کر اوپر کیا ۔

لیکن وہ پھر ویسے ہو گئی تو میں نے اس کو سمجھایا کہ اپنی گانڈ باہر نکالو اس کو سمجھ آئی کہ نہیں لیکن اس نے اپنی گانڈ اوپر کر لی ۔

اس کی موٹی تازی پلی ہوئی گانڈ دیکھ کر میرے لن میں اس کی سیر کرنے کی خواہش جاگی۔لیکن ابھی ایسا کرنے سے خود کو روکا یہ سب کسی اور موقع کے لیے چھوڑ دیا۔

پھر ناہید کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اس کو دبایا تو اس کی پھول جیسی چوت کے لب مجھے نظر آئے میں نے لن کو پکڑ کر اس کی سختی چیک کی اور چوت میں گھسا دیا اس نے چونکہ اپنی ٹانگیں جوڑ رکھی تھیں اس لیے لن پھنس کر بہت زیادہ رگڑ کھاتے ہوئے اندر گیا۔

اس نے میری طرف منہ کر کے کہا ہولی کر لے یہ کون سا بھاگی جا رہی ہے ۔

لن اندر رگڑ کھاتے ہوئے گیا اور میرے سپیڈ بھی شروع ہو گئ میں نے نان سٹاپ گھسے مارنے شروع کر دییے۔

لن اس کی چوت میں جاتا رگڑ لگاتا ہوا واپس آتا میری رانیں اس کے چوتڑوں سے ٹکراتیں تھپ کی آواز آتی کچھ ہی دیر میں اس کی آواز کے سر بدل گئیے۔

ناہید بولنے لگ گئی۔بلوووو آہہہآہہہہ انج ای کر آہہ اہہہ اہتھے ماررر بببہت مزززااا آ ریییااا واا۔اہہہ ااہہہہ اس نے اپنی گانڈ ہلا ہلا کر لن لینا شروع کر دیا۔

میں بھی مزے کی انتہا کو پہنچ رہا تھا اس لیے میری گھسے مارنے کی رفتار بھی بہت تیز ہو چکی تھی ۔

اب مسلسل تھپ تھپ ہو رہی تھی۔ ناہید بھی مزے لے لے کر چدوا رہی تھی۔میں مزے کی انتہا کو پہنچ گیا ادھر اس نے بھی اپنی گانڈ کو زور زور سے پیچھے میرے لن پر مارنا شروع کر دیا اور ایک جھٹکے سے میں نے لن نکالا اور مزے کی انتہا میں پہنچا ہوا تھا پھر چوت کا نشانہ لے کر گھسا دیا اور گھپپپپپ گھپپپپ کی آواز سے لن کو اندر باہر کرنے لگا۔

میری ٹانگوں میں خون کی گردش تیز ہو گئی اور میرے منہ سے آہہہ اااہہہہممم کی اواز نکلی ادھر اس نے بھی کہا آہہہہہہ بببلللووووؤ ہہہممممممممم میں آیک زوردار جھٹکا مارا سارا لن اس کی چوت میں گھسا دیا اس نے لن کو جکڑ لیا اور فارغ ہونے لگ گئی جیسے ہی میں اپنی انتہا کو پہنچا میں نے لن نکالا اور اس کی گانڈ پر رکھ دیا اور اور ہاٹھ آگے بڑھا کر اس کے دودھ پکڑ لیے۔

میرے لن سے گرم گرم لاوا نکل کر اس کی گانڈ پر گرنے لگا وہ بھی اپنی ٹانگوں کو بھینچتے ہوئے نیچے گر گئی جب ساری منی اس کی گانڈ پر گرا دی تو ایک سائڈ پر ہو کر کھڑا ہو گیا۔

وہ بھی سیدھی ہوئی میری طرف دیکھ کر بولی بلو مینوں چھڈ تا نیں دیں گا ۔

میں نے کہاتینوں کی لگدا اے۔

بولی مینوں لگدا اے تو ۔۔۔۔

میں نے کہا کی۔۔

تو بولی میرا دل کہندا اے نہیں۔ چھڈدا پر ڈر لگدا اے ۔

چھنو نے کئی گلاں کیتیاں نے کہ تو۔۔۔۔ تے اوہ۔۔

مجھے سب سمجھ آ گئی تھی لیکن میں نے اس کو محسوس نہ کروایا اور بولا تمہں مجھ پر یقین نہیں ہے ۔

وہ بولی ایسی کوئی گل نیں مینوں بہت یقین اے بالکہ خود سے زیادہ یقین ہے۔

تو پھر ایسا کیوں سوچ رہی ہو

بولی میں نیں سوچ رہی تو تاں ناراض ہو گیا ایں

میں نے کہا نیں ناراض نہیں ہوا بس دکھ ہوا کہ تم مجھے ایسا سمجھتی ہو جو کر کسی کی پھدی مارتا پھرے گا۔

اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کہا آہہہ گندہ تو کتنی گندی باتیں کردا ہے۔

کوئی ایویں وی بولدا ہے

میں نے کہا اور کیا پھدی کو پھدی نہ کہوں تو کیا کہوں۔

اس نے چھیی گندیاں گلاں نا کر بسس

میں نے اس چھیڑنے کے لیے کہا ابھی بھی تو تمہاری پھدی ماری ہے ۔ اس مے شرماتے ہوے مجھے کہا تو جا

شہر جا کے توبڑا گندہ ہو گیا ایں ۔

اچھا ہن جا کوئی آ نہ جائے

میں نے کہا اک واری ہور کرن دے ناں

بولی نیں جییی انا شوخا نہ بن ہن جا

میں نے آگے ہو کر اس کے بازو پکڑ کر کھڑا کیا اور اس کے ہونٹوں پر اپنی زبان پھیرتے ہوئے کہا۔

جاؤں

وہ بولی ہوووں جاوو

میں نے پھر اس کے ہونٹوں پر زبان پھیری اور ہونٹ چوم کر کہا

جاؤں اس نے اپنے ہاتھ سینے پر رکھ کر کہا

ہہہہہہوووں جاؤ نہ

میں نے کہا مجھے سمجھ نیں ائی

بولی دل تاں نیں کردا کہ تینوں جاں دیواں پر ۔۔۔۔۔

پر کیا بتاو نہ

تو اس نے کہا کچھ نیں بس ہن جاو اسی وقت مجھے بھی یاد ا گیا کہ چھنو نے کہا تھا کہ وہ بھی ائے گی ۔تو میں نے اس کے ہونٹوں چومنا شروع کر دیا کچھ دیر ہونٹوں کا رس پینے کے بعد میں میں نے اپنی شلوار اٹھائی پہنی اور ناڑا باندھنے لگ گیا ۔

اس نے بھی اپنی شلوار پہن لی۔

اور میں ایک بار پھر اس کے پاس گیا اس کے ہونٹ چومے اور باہر نکل آہا اور چھنو اور ناہید کے بارے میں سوچتے ہوئے گاؤں کی طرف چل پڑا۔۔۔۔

جیسے ہی میں گاوں کی حدود میں داخل ہوا مجھے بہت سی آوازیں ایک ساتھ آنے لگیں جیسے کوئی لڑ رہا ہو ۔

میں نے اپنے قدموں کی رفتار بڑھا دی اور تیز تیز چلتا ہوا گاوں میں داخل ہوا ۔

تو مجھے پتہ چلا کہ کوئی چھنو کی ماں گالیاں دے رہی ہے میں ان کے گھر کی طرف جانے لگا کہ پتہ کروں کیا معاملہ ہے ۔

جیسے ہی میں اس طرف چلا تو مجھے سامنے سے ڈنگی آتا دکھائی دیا اس نے مجھے دیکھتے ہی ہاتھ کے اشارے سے روکا ۔

اور تقریباً بھاگتے ہوئے میری طرف آیا اور مجھے بازو سے کھینچ کر ایک طرف لے گیا

میں پوچھتا رہا کیا ہوا اس کو ماں بہن کی گالیاں بھی دیں تو وہ بولا لن تے بعد اچ چٹھ لیں پہلے ایتھوں چل تیری بند نہیں ماردا۔

جیسے ہی ہم دوسری گلی میں پہنچے تو اس نے کہا جہاں نہیں چل ادھر چل کر بتاتا ہوں ۔

میں متجسس تھا کہ کیا ہوا ہے اوپر سے سالا ڈنگی جس کے ساتھ میری لڑائی بھی ہوچکی ہے وہ مجھے کدھر لے کر جا رہا ہے اور ایسا کیوں کر رہا ہے ۔ پھر بھی میں اس جے ساتھ چلتا گیا ۔

ہم گاوں سے باہر ایک نکل کر ایک طرف ٹاہلی کے درخت کے نیچے پہنچے تو اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کیا اور بولا تیرے لن نوں سکون نیں ۔

میں بولا لن تے دندیاں نہ وڈ ےو اے دس ایتھے کیوں لے کے آیاں اے۔

تو وہ بھی غصے سے بولا سالیا جہیڑا کم تو نے پکڑا ہوا ہے اس کی وجہ سے ہوا ہے سب کچھ۔

میں نے سیدھی طرح بکواس کر جو کہنا ہے بول۔۔۔۔

تو اس نے کہا چل بیٹھ جا اور اٹھ کر دائیں بائیں دیکھتے ہوئے بولا ماما تو نے جو گاؤں میں کام شروع کیا ہوا ہے اس کی وجہ سے آج چھنو کی ماں نے رولا ڈالا ہوا ہے اس نے چھنو کو بھی مارا ہے ۔

میری تاں بنڈ کے پسینے چھوٹ گئے اور کپکپاتی ہوئی آواز سے بولا کیا ہوا ہے میں نے کیا کیا ہے۔

ڈنگی نے کہا لوڑا میرا ہن تاں من جا سب کو پتہ ہے لڑکیوں میں گاؤں کی آدھی سے زیادہ جانتی ہیں کہ تو اور چھنو کیا چن چڑھاتے ہو۔ اور آج اس کی ماں کو شک ہوا یا کسی نے کچھ بتایا تھا جو اس نے چھنو کی چھترول کی اور صنم کی ماں گئی تو اس مے ساتھ بھی لڑائی شروع ہوگئی۔

پھر کیا تھا دونوں نے ایک دوسرے کی بیٹیوں کے کرتوت گنوانا شروع کر دییے اور سارا گاوں تماشہ دیکھنے والا ہے سب بہن چود مزے لے رہے ہیں۔

میں نے پوچھا کیا بتایا چھنو کی ماں کو کس نے بتایا ۔

تو اس نے کہا یہ تو پتہ نہیں کس نے بتایا اور کیا بتایا لیکن تھا کسی لڑکے کا چکر۔ کیوں کہ میں ایک عورت سے پوچھا تو اس نے کہا کہ چھنو کا کسی کے ساتھ چکر ہے اور وہ اس سے یہہوا رہی تھی کسی نے دیکھ لیا اور اس کی ماں کو بتا دیا۔

نام نیں بتایا کس کے ساتھ چکر ہے۔۔۔۔

ڈنگی بولا نیں ابھی تک تو نیں یا ہو سکتا ہے چھنو نے بتا دیاہو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نہ بتایا ہو۔ بس تم نہ جاؤ ادھر۔

میں حیران ہو رہا تھا کہ یہ میرا دوست نیں پھر ایسا کیوں کر رہا ہے بلکہ اس کو تو میری شکایت لگانی چاہیے تھی ۔ لیکن یہ مجھے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

میں بھی سنبھل چکا تھا اس سے پوچھا وہ تو سب ٹھیک ہے لیکن تو کیوں مجھے یہ سب بتا رہا ہے میرا اس سب سے کیا تعلق۔۔۔

تو وہ بولا اس نے کہا تو جانتا ہے سب سے تمہارا کتنا تعلق ہے مجھے تو یہ بھی پتہ ہے کہ آج تو ہی تھا اس کے ساتھ ان کی بیٹھک میں جب۔۔۔ چل چھوڑ تو بس اچھی شہر نکل جا میں سب کو بول دوں گا کہ تو میرے سامنے آج صبح شہر گیا ہے۔

میں نے کہا تو یہ جھوٹ کیوں بولے گا میرے لیے یہ سب کرنے کی کوئی تو وجہ ہے مجھے سب سچ بتا نیں تو میں جا رہا ہوں ان کے گھر کی طرف کیوں اس نے جو بات بدلی تھی اس سے مجھے یقین ہو گیا تھا کہ معاملہ کچھ اور ہے ۔

میں اٹھا جانے لگا تو وہ بولایار بیٹھ جا تجھے بتاتا ہوں ۔۔۔۔۔



Source link

Leave a Comment