تلاشِ زِیست 06
سنجے درد کے مارے تڑپ رہا تھا۔ ایک بار پھر سے مشین گن کا ٹریگر دبانا اس کے لیے مشکل تھا۔ کندھا جو ہل گیا تھا۔ لیکن اس بار وہ جھٹکے سے بچ جائے گا، کیونکہ میں نے مشین گن کی بیلٹ کو سنجے کی طرح اپنے گلے میں ڈال لیا۔ اب سنجے کی … Read more
سنجے درد کے مارے تڑپ رہا تھا۔ ایک بار پھر سے مشین گن کا ٹریگر دبانا اس کے لیے مشکل تھا۔ کندھا جو ہل گیا تھا۔ لیکن اس بار وہ جھٹکے سے بچ جائے گا، کیونکہ میں نے مشین گن کی بیلٹ کو سنجے کی طرح اپنے گلے میں ڈال لیا۔ اب سنجے کی … Read more
دلدل اور زہریلے کانٹے بھی تھے اس جنگل میں۔ اکثر قیدی اس دلدل اور زہریلے کانٹوں سے بچ بھی جاتے تھے، لیکن پھر بھوک اور پیاس کے مارے وہیں جنگل میں مرنے لگتے تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو جنگل سے بچ کر نکل بھی جاتے تھے، لیکن جیسے ہی جنگل سے باہر نکلتے، … Read more
7 سالوں سے میں سوچ ہی تو رہا تھا۔ اب کرنے کا وقت آیا تھا تو پیچھے ہٹنا صحیح نہیں تھا۔ اب نہیں تو پھر کبھی بھی نہیں۔ یہی سوچ کر میں نے سنجے اور ظہیر کو گرین سگنل دے دیا۔ میرے سگنل ملتے ہی دونوں کے دل کی دھڑکن بڑھ گئی۔ اور ان کے … Read more
میرا نام راجہ ہے اور اس وقت میری عمر 19 سال ہے۔ جہاں اس وقت میں موجود تھا، وہ ایک جزیرہ تھا۔ اور اس جزیرے پر پھنسے ہوئے مجھے 7 سال ہو گئے تھے۔ میں 12 سال کا تھا جب مجھے یہاں اغوا کر کے لایا گیا تھا۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا … Read more
کہتے ہیں کہ جن کے لیے دل میں جگہ بن جائے، ان کی یاد مرتے دم تک نہیں بھولتی۔ میں تو ابھی مرا نہیں تھا۔ صرف بھوک کے ختم ہونے سےاور اب کھانا مل جانے کی وجہ سے نیند آ رہی تھی۔ لیکن پھراچانک سے مجھے اپنے دوستوں کی یاد آنے لگی۔ اوہ! شِٹ! … Read more