باجی نصرت اور میں – Urdu Stories


‎ویسے تو محرم رشتے وہ ہوتے ہیں جنہیں آپ سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ انہیں آپ سے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن بعض اوقات یہی محرم رشتے آپ کے ساتھ نا محرموں کی طرح جا سلوک اپنا لیتے ہیں جو کہ بہت دلکش رشتہ بن جاتا ہے۔ میں ندیم ہوں عمر کوئی 25 سال کے قریب ہو رہی ہو گی میں گھر میں اکلوتا بیٹا ہوں مجھ سے بڑی بہن بڑی بہن نصرت کی عمر 30 سال کے قریب ہے باجی نصرت ابھی تک کنواری ہے۔ باجی نے ماسٹر کر رکھا ہے اور سکول کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہے کنوارا رہنے کی وجہ باجی نصرت کے برابر کا کوئی رشتہ نا ملنا ہے۔ نصرت سے چھوٹی بہن سعدیہ کی عمر 27 سالیو رہی ہوگی سعدیہ مجھ سے بڑی ہے وہ بھی ابھی تک کنواری ہے اس کی وجہ بھی کوئی بہتر رشتہ نا مل پانا ہے خیر اس کے بعد میں بھی ابھی کنوارا ہوں۔ امی کی عمر 45 سال کے قریب ہے جو کہ ابھی تک جوان لگتی ہے۔ ابو کا انتقال ہو چکا ہے گاؤں میں اپنی کچھ زمین ہے جس کا انتظام اب میرے ذمے ہے۔ زمین کی آمدن کافی اچھی ہے جس سے گزر بسر بہت بہترین ہے۔ اسی آمدن سے ابو نے ایک سوزوکی سوٹزر بھی خرید رکھی تھی جو اب میرے پاس ہوتی تھی۔ گھر میں امی کے بعد باجی نصرت کی چلتی ہے بلکہ یوں کہیں کہ باجی صرف کا رعب و دبدبہ امی سے بھی زیادہ ہے تو بے جا نا ہو گا لین دین میں زمین کے حساب کتاب میں باجی نصرت کافی مدد کرتی ہے کیونکہ پہلے ابو کے ساتھ بھی وہ یہ سب کرتی تھی اس لیے اب میری بھی مدد گار ہے تو اسے سب معلومات ہیں کہ کونسی فصل سے کتنا سرمایہ آ رہا ہے۔ جب سے میں نے سنبھالا ہے مجھے دوسرا سال تھا حساب ابو سے کم ہی باجی کو ملتا جس کا بانی برملا اظہار کرتی اس کی وجہ تھی میرا لڑکیوں کا شوق۔ میں آئے روز نئی لڑکیوں سے دوستی کرتا اور ان کے ساتھ وقت گزارتا اور ان پر خرچ کرتا اب ظاہری بات تھی میں یہ سب اپنی جیب سے کرتا تو اس کا کافی اثر تھا حساب کتاب چونکہ باجی نصرت کے پاس بھی تھے تو اسے بھی علم تھا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ آج کل اکثر اوقات میں گھر لیٹ آنے لگا تھا۔ایک دن جب کافی رات میں گھر واپس پہنچا تو گیٹ باجی نصرت نے ہی کھولا میں نے گاڑی اندر کھڑی کی تو باجی گیٹ بند کرکے ہاتھ سینے پر باندھے مجھے غصے سے غور رہی تھی باجی نصرت کا میرے ساتھ تعلق بہت گہرا تھا کبھی باجی نے مجھے ڈانٹا نہیں تھا نا کبھی کچھ کہا تھا لیکن آج باجی کے تیور دیکھ کر مجھے بھی ڈر لگا کہ آج خیر نہیں میں اپنے روم میں آکر چینج کیا ہاتھ منہ دھویا اور انتظار کیا کہ باجی نصرت شاید آئے پر باجی نہیں آئی میں سو گیا صبح دس بجے مجھے جاگ ہوئی میں اٹھ کر باہر آیا دن کافی چڑھ چکا تھا۔ میں واشروم چلا گیا نہا کر نکلا باہر صحن میں آیا تو امی بیٹھی تھی امی نے نصرت کو آوقز دی کہ مجھے ناشتہ دے۔ سعدیہ گاؤں کے پرائمری سکول میں ٹیچر تھی وہ سکول چل گئی تھی تھی باجی نصرت باہر نکلی اور طنز کرکے بولی جاگ ہوگئی جناب بادشاہ وقت نوں امی بولی نی ناں نہ میرے شہزادے نوں کجھ نا آکھ باجی نصرت تھوڑے سے سخت لہجے میں بولی امی بس ایس گل تو تیرا لاڈلہ خراب ہو گیا اے تینوں تے پتہ ہے میں ہنس کر امی کے پاس بیٹھا اور بولا ویکھ امی باجی دا وس چلے تے مینوں اندر ڈک دیوے باجی نصرت کیچن کے دروازے پر پہنچ کر رکی اور بولی تیرا چال چلن تو لگ کچھ ایسا ہی رہیا میں ہنس کر رہ گیا باجی اندر سے ناشتہ لائی وہیں صحن میں بیٹھ کر ناشتہ کیا اور چائے لے کر اوپر چھت پر چلا آیا آج رات اسی لڑکی کی کال تھی جس کے پاس سے آیا تھا میں آگے کو جنگلوں پر ٹیک لگا کر بات کر رہا تھا میرے پیچھے کی طرف سیڑھیاں تھیں جو نیچے کو جاتی تھیں۔ دوسری طرف سے وہ بولی ہاں جی جناب کیسا لگا میرا ساتھ پھر رات کو۔ میں ہنس کر بولا افف یار کچھ نا پوچھ مزہ آگیا ایسا ساتھ تو کسی نے نہیں دیا وہ بولی پھر دیکھ لو میں بولا ہاں دیکھ رہا ہوں میں ہی تمہیں کب سے بول رہا تھا پر تم مان ہی نہیں رہی تھی اسی لمحے میں گھوما تو سامنے باجی نصرت کھڑی تھی اس نے سب سن لیا تھا اور وہ غصے سے لال پیلا تھی میں چونک گیا اور جلدی سے کال کاٹ دی باجی نصرت بولی اچھا تو یہ ہیں ہمارے شہزادے کی مصروفیات۔ میں بولا نہیں باجی ایسی گل نہیں باجی بولی تے فیرکیسی گل اے۔ میں بولا بس باجی ٹائم پاس۔ باجی بولی اے سہی ٹائم پاس ہے۔ اپنی محنت دی کمائی آوارہ لڑکیاں تے ضائع کرنا اپنا وقت برباد کرنا اہناں دے پچھے۔ اس تو کی ملے گا تینوں صرف اور صرف اپنی ناکامی۔ جے توں اس طرح ٹائم پاس کرد رہیا تے گھر اب نا دانہ رہسی نا پانی۔ فیر رج لویں۔ میں چپ سا ہو کر کھڑا ہو گیا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ باجی بولی ویکھ دیمی اے سب کچھ تیرا ہی ہے۔ اسی آج ہاں کل اپنے گھر ہونا۔ پر ہک مہربانی کر اپنے قدم ٹائم نال سنبھال لئے فائدہ تیرا ہی ہے۔ باقی تیری مرضی۔ یہ کہ کر باجی اٹھ کر چلی گئی۔ باجی کی باتیں میرے دل میں چبھ سی گئیں۔ میں چاہ کر بھی کچھ کہ نا سکا میں کچھ دیر وہیں بیٹھا کر سوچتا رہا کہ کیا کروں باجی کو سب پتہ چل چکا تھا اور وہ ناراض بھی ہو گئیں تھیں ادھر میں بھی اب اس سب کے بغیر رہ نہیں پاؤں گا میں کشمکش میں تھا پر باجی نصرت میرے لیے سب سے پہلے تھیں میں انہیں منانے نیچے گیا تو وہ کیچن میں برتن دھو رہی تھیں مجھے دیکھ کر کچھ نا بولیں امی کہیں نکل گئیں تھیں باجی کیچن میں کھڑی تھی میں بولا سوری باجی بس ایویں ہی ٹائم پاس واسطے ہے ہور کوئی غلط تعلق نہیں باجی نے بغیر دیکھے کہا سن تے میں لیا کناں نال ہنڑ جھوٹ دا فائدہ میں چپ سا ہوگیا پکڑا تو میں رنگے ہاتھوں گیا تھا اب کوئی جھوٹ نہیں تھا اس لیے اقرار جرم ہی حل تھا میں جانت تھا باجی کا مج سے بہت لگاؤ تھا وہ مجھے کچھ نہیں کہیں گی۔ میں بولا باجی بس غلطی ہوگئی تے پہلی تے آخری سمجھ کے موقف کردے آگے تو نہیں ہوندی باجی نے پہلی بار مجھے مسکراتے ہوئے دیکھا اور بولی پکی گل اے آگے تو نا ہوسی میں بولا پکی باجی بولی جے ہو گئی تے میں بولا فیر جو سزا قبول۔ باجی ہنس کر بولی اسدا مطلب غلطی دی گنجائش تے ہے نا۔ میں بھی ہنس کر بولا باجی انسان ہاں غلطی ہو ہی جاندی باجی ہنس دی۔ اور بولی ٹھیک ہے میں تیرا پہرہ تے نہیں دے سگدی پر تو آپ ہی ہنڑ ایمانداری نال اس تو۔ دور رہنا میں بولا جی باجی اور نکل کر ڈیرے کا چکر لگایا زمینوں کے کچھ کام دیکھے اور پچھلے وقت واپس گھر آیا امی نے کھانا دیا میں کھانا کھانے لگا نصرت اور سعدیہ اس وقت گاؤں کے بچوں کو چھت پر پڑھاتی بھی تھیں سعدیہ گاؤں کے سکول میں پڑھاتی تھی اس لیے اس کے پاس لڑکیاں پڑھنے آجاتی تھیں تو باجی نصرت بھی اس کے وقت گزاری کےلیے ہیلپ کروا دیتی۔ میں بھی کھانا کھا کر چائے لے کر چھت پر پہنچ گیا باجی نصرت اسوقت فری بیٹھی تھی جبکہ سعدیہ تھوڑی دور پڑھا رہی تھی بچوں کو۔ میں اس کے پاس بیٹھ گیا باجی میرے ساتھ کافی فرینک بھی تھی بڑی بہن جو تھی باجی بولی کسیا گزرا پھر دن میں بولا اچھا گزر گیا۔ باجی مسکرا کر شرارت بھرے انداز میں بولی میرا مطلب کسے آوارہ لڑکی تنگ تے نہیں کیتا یا پھر توں کوئی کوشش کیتی میں ہنس کر بولا نہیں باجی نا اوہناں کیتا ناں میں کیتا باجی بولی کیوں اوہناں نوں کنج پتا چل گیا کہ توں پکڑیا گیا اور زور سے ہنس دی میں بولا نہیں باجی میں اوہ نمبر ہی بند کردتا اے۔ باجی مسکرا آکر بولی واہ فیر تے لوس رہیا یونیاں کھسماں کھانیاں۔ میں مسکرا کر بولا باجی ایڈا غصہ باجی بولی تے ہور کی ایہو جہیاں آوارہ نوں میرا بھرا ہی لبھیا میں ہنس کر رہ گیا۔ باجی نصرت بولی ویسے بھائی ہک گل دس اے گرل فرینڈز بوائے فرینڈز بنا کے لبھدا کی ہے میں مسکرا کر بولا باجی جیویں تینوں پتہ نہیں۔ باجی شرارتی انداز میں بولی میں کوئی تمہارے جیسی ہوں میں مسکرا کر بولا تو بن کر دیکھ لو۔ باجی بولی جی نہیں مجھے ضرورت نہیں میں بولا پھر بھی آپ کو پتہ نا ہو یہ ہو نہیں سکتا باجی بولی سچی میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں تم ہی بتاؤ کہ اس سب سے کیا ملتا ہے لڑکی کو دوست بنا کے میں بولا بس باجی ٹائم پاس۔ باجی بولی اس کا مطلب تو اگلے بندے کو دھوکہ دینا ہوا میں بولا وہ کیسے باجی بولی ایسے کہ اس کا وقت جذبات سب کے کر بدلے میں ٹائم پاس میں بولا باجی اگلا بھی تو یہی کر رہا ہوتا ہے اور اسے بھی پتہ ہوتا ہے کہ وہ بھی ٹائم پاس ہی کر رہا ہے۔ باجی بولی فیر تے اے بیکار اچ مغز ماری کر رہیا ایں اے ٹائم پاس توں میرے نال کر لئے میں چونک سا گیا اور باجی کو دیکھ کر بولا باجی تینوں پتہ ہے گرل فرینڈز بوائے فرینڈ دا مطلب کی ہوندا۔ باجی ہاں ہاں مینوں پتہ ہے جو مطلب توں سمجھ رہیا ہیں میں او آلی گل نہیں کر رہی میں بولا۔ فیر کی مطلب اس گل دا باجی بولی بھائی جے اس طرح دا ہی ٹائم پاس کرنا تے فیر میرے نال کر لئے میں ہنس دیا اور بولا باجی بھیناں نال تے ایس جیہا کم نہیں ہو سگدا باجی مسکرا کر بولی میں تے تیرے واسطے کر رہی آں کہ توں جے باہر لوگوں تے پیسہ ٹائم جذبات ضائع کر رہیا ایں میں مسکرا دیا اور بولا باجی ہنڑ نہیں کردا ہنڑ مینوں سمجھ لگ گئی اے باجی ہنس دی اور بولی اچھا جی بڑی گل اے۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد باجی نصرت بولی ویسے دیمی گرل فرینڈ کس طرح بنائی دی میں باجی کی بات پر ہنس دیا اور بولا کی مطلب باجی مسکرا کر بولی ہاسے دی گل نہیں سہی دس کس طرح بنائی دی۔ میں بول باجی کنج دساں کہ کس طرح بنائی دی باجی بولی بدھو مطلب سب توں پہلے مرحلہ کی ہوندا میں بولا باجی سب تو پہلے تے لڑکی لبھی دی اپنے طرح دی باجی بولی اوہ ہنڑ کس طرح پتہ چلدا کہ اے لڑکی اپنے آر اے میں بولا باجی او لڑکی دے چال چلن توں پتہ لگ جاندا کہ اے لڑکی گرل فرینڈ بننا چاہندی باجی مطلب کس طرح ری ایکٹ کردی۔ میں بولا باجی سب تو پہلے تے اکھیاں چار ہندیاں تے فیر ہک دوجے دے دل دی گل پہنچ جندی باجی بولی اچھا تے فیر اے کنج پتی لگدا کہ اس دے دل اچ کی۔ میں بولا باجی دل دی گل اکھیاں اچ آپے آجاندی تے دوجے دی اکھیاں دے ذریعے دل تک پہنچ جاندی۔ باجی ہنس کر بولی واہ عاشقاں دے فلاسفر بڑا تجربہ اے۔ میں ہننس دیا باجی بولی فیر اس تو بعد کی ہوندا میں بولا باجی فیر ہک دوجے دا نمبر ایکسچینج ہوندا باجی بولی اوہ ہنڑ کس طرح ہوندا میں مسکرا کر بولا باجی بس جیویں موقع ملے یا تو ہک دوجے نوں لکھ کے پکڑا دیندے یا رش ہووے بندیاں دا تے فیر لکھ کے اس دے سامنے سٹ دینا باجی مسکرا دی فیر میں بولا فیر اس موقع ویکھ کے چا لینا تے اس فیر گل بات شروع باجی بولی اچھا۔ بس اتنا ہی میں بولا جی باجی بولی اس تک تے بری گل نہیں کہ گل بات کردے رہو میں بولا ہاں پر باجی تیرے نال تے او گل نہیں ہوسگدی جہڑی دوجی لڑکی نال ہو سگدی۔ باجی بولی ایسی کیڑیاں گلاں ہینڑ جہڑیاں نہیں ہوسگدیاں میں بولا باجی سمجھیا کر۔ باجی بولی فیر وی دس تے سہی میں چڑ کر بولا ٹھیک ہے باجی فیر بن کے ویکھ لئے باجی ہنس دی۔ اور بولی ٹھیک ہے فیر میں انج ہی بننا جس طرح توں دسیا۔ میں بولا مطلب باجی بولی بدھو جس طرح توں دسیا ہے پورا طریقہ گل فرینڈ بنانے دا اس طرح شروع تو۔ میں باجی کی بات سمجھ کر ہنس دیا اور بولا باجی کر لئو شوق پورا باجی مسکرا دی اور ہنس کر بولی ٹھیک ہے فیر میں بولا ہنڑ فیر کس طرح شروع کرنا باجی بولی اے تے توں آپ نوں پتہ چل جانا میں ہنس دیا مجھے کال آ گئی ڈیرے سے میں ڈیرے پر چلا گیا شام کو میں گھر آیا تو باجی نصرت کیچن میں تھی میں باہر بیٹھا تو باجی نصرت نکل کر روٹی کی طرف جانے لگی باجی نے مجھے گہری نظروں سے گھورا میں باجی نظروں میں بھری مدحوشی دیکھ کر چونک سا گیا باجی نے نظر بھر کر مجھے دیکھا تو یکا یک مجھے یاد آیا کہ باجی کیوں گرل فرینڈ پھنسانے کا طریقہ پوچھ رہی تھی یہ سوچ کر میرے تو طوطے اڑ گئے۔ میںرے کان گرم ہوگئے کہ باجی یہ سب کیوں پوچھ رہی تھی میں تو سمجھا تھا کہ بس بات شروع ہو جائے گی ایسے ہی پر باجی نصرت تو پورا پلان بنا ر بیٹھی تھی میں یہ دیکھ کر گھبرا سا گیا باجی ٹوٹی کی طرف جاتی ہوئی مسلسل مجھے غور رہی تھی میں گھبرا کر مسکرا گیا تو میں بھی مدہوشی سے مسکرا کر منہ آگے کر گئی اور ٹوٹی پر پانی ڈالنے لگی میں باجی کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ کیا خوبصورت جوانی ہے باجی کا قد کاٹھ اچھا خاصہ تھا ہلکا سا بھرا ہوا جسم خوبصورت نین نقش گورا رنگ تنے ہوئے ہوا میں اکڑ کر کھڑے ممے پتلی کمان کی طرح کمر صراحی گردن مور کی طرح آنکھیں۔ بھری ہوئی چوڑی گانڈ باہر کو نکلے ہوئے موٹے چوتڑ۔ شکور میں کسے موٹے پٹ خوبصورت پاؤں۔ میں نے ایک نظر پوری باجی نصرت کے جسم پر گھما کر اندازہ لگا لیا کہ باجی نصرت خوبصورت جسم کی مالک ہے۔ اوپر سے عمر کے جس حصے میں تھی پک کر فل تیار تھی۔ پر تھی تو بہن جس کو میں کر کچھ بھی نہیں سکتا تھا باجی مڑی اور ایک بار پھر نظر سے نظر ملا کر کی ن میں چلی گئی جب تک کھانا کھا کر سونے تک ہم رہے باجی نصرت سعدیہ اور امی کے ہوتے ہوئے چوری چوری میرے بتائے ہوئے طریقے سے آنکھیں چار کر رہی تھی سونے کے وقت میں کمرے میں آکر لیٹ گیا اور اس سارے واقعے پر غور کرنے لگا انجانے میں میں باجی نصرت کی طرف کھینچا چلا جا رہا تھا بار بار یہی سوچ آ رہی تھی کہ باجی نصرت میری ہی گرل فرینڈ کیوں بننا چا رہی تھی میں تو اس کا سگا بھائی اور وہ میری سگی بہن ہے۔ ویسے بھی بہن بھائی ہے درمیان تو ایسا تعلق پنپ نہیں سکتا۔ مجھے خیال آیا کہ شاید باجی بھی اکیلے رہ رہ کر بور ہو گئی ہے اسے بھی کچھ چاہئے اسی لمحے باجی کا میسج آیا کیسے ہو بھائی۔ میں بولا ٹھیک ہوں آپ سناؤ باجی بولی بھائی ایک بات بولوں ناراض مت ہونا میں بولا جی میں کیوں ہوں گا۔ باجی بولی جو سب ابھی ہوا ہے نا اس پر سوری پر میں تم سے کچھ نہیں چھپاؤں گی۔ اصل بات یہ ہے کہ میں اتنے عرصے سے اکیلی یوں۔ کوئی ساتھی نہیں۔ پہلے تو صبر بہت کیا پر بھائی میرے اندر بھی ایک دل ہے میرے بھی جذبات ہیں۔ کب تک دبا کر بیٹھ سکتی ہوں۔ بھائی سچی بات ہے اگر باہر منہ ماروں گی تو بہت مل جائیں گے لیکن بھائی اس سے آپ کی بدنامی ہوگی اور خاندن کا نام بھی خراب ہوگا میں بولا باجی بات تو سہی کی ہے۔ باجی بولی بھائی میرے پاس تو یہی طریقہ ہے کہ میں تمہاری اور تم میرے فرضی دوست بن کر میرا اور اپنا سہارا بن جاؤ باہر بھی تم نے وقت اور پیسہ ضائع کرنا ہے وہ وقت میرے ساتھ گزار لو۔ ہم غلط کچھ نہیں کریں گے ہم بہن بھائی ہیں۔ بس جب ہم دوست ہوں گے تو دوست ہی ہوں گے۔ بہن بھائی والی جھجھک نا رکھنا۔ میں بولا باجی کوئی بات نہیں اگر آپ چاہتی ہیں تو میں بھی یہ قربانی دینے کو تیار ہوں۔ باجی بولی اوکے اب ہم سب کے سامنے بہن بھائی ہیں لیکن اپنے پرائیویسی میں دوست۔ میں بولا وہ تو ٹھیک ہے پر اب شروع کیسے کرنا ہے۔ باجی بولی وہ تمہیں صبح پتہ چل جائے گا ابھی بس اتنا ہی میں بولا جی ٹھیک ہے۔ باجی کے جنے کے بعد میں سوچنے لگا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے باجی بھی سچی تھی اتنے عرصے سے جو وہ چاہتی تھی وہ ابھی تک کوسوں دور تھا اور وہ اب اس طریقے سے اپنی چاہ اتارنا چاہ رہی تھی تھا تو رسکی پر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ میں یہ سوچتا سو گیا صبح اتوار تھی سعدیہ کو چھٹی تھی اور اتوار کا دن صفائیاں اور کپڑے دھونے کا تھا صبح سویرے کی سعدیہ نے مجھے اٹھانا شروع کردیا میں اٹھا اور وشروم چلا گیا میں نہا کر نکلا تو سامنے باجی نصرت بیٹھی چولہے پر ناشتہ بنا رہی تھی باجی کا بھرا ہوا خوبصورت جسم میرے سامنے گھوم گیا میں تو یہ دیکھ کر گھوم سا گیا پہلے بھی باجی ایسے ہی گھر میں ہوتی تھی لیکن میری نظر ایسی نہیں تھی کل سے کچھ ایس بدلا کہ باجی کچھ اور ہی نظر آنے لگی تھی میں نے نظر اٹھا کر باجی کو دیکھا تو باجی اسی طرح مجھے مدہوشی سے غور رہی تھی میں شرما کر اندر چل گیا میں کپڑے پہن کر نکال ناشتے کے دوران بھی باجی موقع دیکھ کر مجھے غور لیتی میں تھوڑا پزل ہوجاتا لیکن پھر سنبھل بھی جاتا ناشتہ کرکے میں ڈیرے پر آگیا باجی لوگوں نے آج صفائیاں اور کپڑے دھونے تھے میں کچھ کام کاج کرکے گھر کو آیا گھر میں صفائیاں چل رہی تھیں سعدیہ کے سکول کی لڑکیاں اکثر کام کروانے اتوار کو آجاتی تھیں وہ بھی آئین ہوئیں تھیں گھر میں رش سا لگ ہوا تھا میں گھر میں داخل ہو تو بھی نصرت بغیر دپٹے کے کام کر رہی تھی میں نے باجی کا جسم دیکھ کر ایک بار تو مچل گیا بھرا ہوا گداز جسم قمیض میں ہلکے سے کسے ہوئے تن کر کھڑے ممے چپٹا بھر ہوا پیٹ موٹی چوڑی گانڈ اوپر سے بالوں کی گت کرکے نیچے گانڈ تک جو چلنے سے اچھل اچھل کر گانڈ کو ٹچ ہو رہی تھی اوپر ناک میں کوکے کی خالی جگہ باجی نے ناک چھدو کر ایسے ہی چھوڑ رکھا تھا کوکا ابھی نہیں ڈالا تھا لیکن لگتا خوبصورت تھا۔ میں نے باجی کو اوپر سے نیچے دیکھا میری نظر بھی سے ملی باجی مدیوش نظروں سے مجھے دیکھ کر مسکرا دی میں بھی مسکرا دیا۔ باجی نے بھی دوپٹہ لے لیا تھا میرے آنے پر اسی دوران بھی اندر گئی سعدیہ اور امی کپڑے دھو رہی تھیں مشین سے نکال کر جبکہ باجی اٹھ کر سوکھنے ڈال رہی تھی ساتھ میں لڑکیاں بھی ہیلپ کروا رہی تھیں۔ اسی لمحے باجی نے خالی بالٹی اٹھا کر میرے پاس سے گزری اور گزرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے ایک کاغذ میرے پاس گرا دیا میں یہ دیکھ کر مچل سا گیا اور چپکے سے کاغذ اٹھا لیا میں نے بھی کو دیکھا تو باجی ہلکی سی مسکرا دی باجی بالکل وہی طریقہ آزما رہی تھی جو میں نے بتایا تھا میں ندر جا کر کھوا تو اندر ایک نمبر لکھا ہوا تھا جو کہ باجی کا اصل نمبر نہیں تھا کوئی نیا نمبر تھا میں حیران ہوا کہ یہ کونسا نمبر ہے خیر میں نے نمبر سیو کرلیا اور اسی وقت میسج بھیجا السلام علیکم جی۔ دوسری طرف سے مجھے پتہ تھا کہ کوئی جواب نہیںآئے گ کیونکہ باجی مصروف تھی لیکن تھوڑی دیر بعد ہی وعلیکم السلام کا جواب آگیا ساتھ میں باجی نے میسج کیا کون۔ میں مسکرا دیا کہ باجی تو کافی بے قرار تھیں۔ میں بولا وہی جس کو تھوڑی دیر پہلے اپنا نمبر دیا باجی بولی چھا تو آپ ہیں۔ میں بولا جی۔ باجی بولی آپ نام میں بولا جی ندیم نام ہے اور آپکا نام۔ باجی بولی کیوں اتنی جلدی نام کی پر گئی۔ میں بولا ظاہری بات ہے جب ب بات چیت شروع ہو گئی ہے تو نام تو پتہ ہونا چاہئیے باجی بولا ہاں سہی کہا۔ میں بولا تو بتائیے نام مبارک اپنا حضور باجی بولا میں نصرت ہوں۔ میں بولا واؤ خوبصورت نام ہے۔ ویسے نصرت کا مطلب فتح کرنا ہے

‎ تو آپ نے جلد ہی ہمیں فتح کر لیا باجی بولی جی نہیں میں تو بس دوستی کرنی آئی ہوں کہ وقت گزر جائے اچھا میں بولا چلیں ہم بھی کوشش کریں گے کہ اچھا وقت گزرے۔ ساتھ ہی میں نے باجی ہے اصل نمبر پر میسج کیا باجی باجی بولی جی میں بولا آپ کو نام سے بلا لوں یا باجی ہی بلاؤں باجی بولی بدھو وہا میرے دوست ہو تم اور دوست جو نام سے بلایا جاتا ہے وہاں تم مجھے میرے نام سے ہی بلاؤ گے میں بولا ٹھیک ہے۔۔ باجی بولی اور ہاں کوشش کرنا کسی کو کچھ پتہ نا چکے تمہارے میرے درمیان یہ راز ہی رہے اور جب ملیں تو ایسا کچھ ظاہر بھی نا میں بولا بے فکر رہیں جس ہی ہوگا۔ پھر باجی نصرت نے دوسرے نمبر سے میسج کیا چلیں ٹھیک ہے میں تھوڑی مصروف ہوں فری ہو کے بے کرتی ہوں میں بولا جی بہتر میں وہیں لیٹ کر آرام کرنے لگا تو میری آنکھ لگ گئی۔





Source link

Leave a Comment