بھائی بہن کی مستیاں ۔۔۔(قسط 3)

br>

” بہت مزہ آئے گا، گاؤں کی شادی ہے، ہم لوگوں کے ساتھ وی آئی پی ٹریٹمنٹ ہوتا ہے۔” میں بولا، “ثانی میرا بھی دل کر رہا ہے لیکن مجبوری ہے، امی ابو سے بولیں کہ آپ نازی اور ثانی کو لے جائیں، میں رک جاتی ہوں۔”

فرینڈز! میری پھوپھی رحیم یار خان کے پاس ایک جگہ صادق آباد کے ایک گاؤں میں رہتی ہیں۔ تو سب لوگ اپنی اپنی رائے دے رہے تھے۔ ابو بولے، “بیگم! پھر ہم لوگ چلتے ہیں، تم تیاری کر لو، تمہارے بغیر تو میں نہیں جاؤں گا۔” امی بولیں، “کامی کو مشکل ہوگی، میرے بیٹے کو ناشتہ اور کھانے کا مسئلہ ہوگا۔ بس آپ نازی اور ثانی کو لے جائیں، میری طرف سے معذرت کر لیجیے گا۔” میں بولا، “نہیں، کوئی مشکل نہیں ہوگی، آپ لوگ سب جائیں۔” ہم سب یہی بحث کر رہے تھے تو نازی بولی، “امی میرا جانا مشکل ہے، میرے کالج کے ٹیسٹ ہونے ہیں۔” تو ثانی بولی، “آپی! آپ کے بغیر تو میں بور ہو جاؤں گی، آپ بھی چلیں۔” ابو بولے، “بس تو نازی کے ٹیسٹ ہیں تو کامی کا یہیں پر اہم حل ہو گیا۔” اس پر امی بولیں، “نازی بھی گھر اکیلی ہوگی؟ میں ایسا کرتی ہوں کہ نجمہ کو کہہ دیتی ہوں کہ وہ کچھ دن کے لیے آ جائے۔”

امی نے فون اٹھایا اور نجمہ خالہ کو کال کرنے لگیں۔ آپ کو نجمہ خالہ کے بارے میں بتا دوں، نجمہ خالہ امی کی چھوٹی بہن ہیں۔ نجمہ خالہ کے شوہر کویت میں جاب کرتے ہیں اور ان کی شادی کو پانچ سال ہوئے ہیں۔ نجمہ خالہ اپنے ساس سسر کے ساتھ رہتی ہیں۔ اب خالہ کے آ جانے سے نازی کے ساتھ مزہ کیسے کروں گا؟ میں تو خوش ہو گیا تھا کہ تین چار دن نازی کے ساتھ مزہ کروں گا، نازی کی چودائی کا پروگرام تھا لیکن اب امی خالہ کو بھی بلا رہی تھیں۔ نازی بولی، “امی خالہ کو کیوں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں سب سنبھال لوں گی۔” امی بولی، “بیٹی! تمہارے ٹیسٹ ہوں گے اور دن بھر تم گھر میں اکیلی رہو گی، کامی تو رات کو دس گیارہ بجے تک آتا ہے۔”

امی کی بات سن کر نازی چپ ہو گئی۔ امی نے خالہ سے بات کر کے ہمیں بتایا کہ خالہ جمعرات کو آ جائیں گی۔ یہ سن کر ابو بولے، “ہم تینوں جمعرات کی رات کو خیبر میل سے چلے جاتے ہیں۔” میں نے نازی کی طرف دیکھا تو وہ نارمل تھی، جبکہ ثانی اس کو بار بار یہ کہہ رہی تھی کہ “آپی چلو نہ!” نازی بولی، “یار میرے ٹیسٹ نہ ہوتے تو ضرور چلتی، مجھے بھی پھوپھی سے ملے ہوئے کافی دن ہو گئے ہیں۔” ابو بولے، “کامی! بعد میں تم اور نازی پھوپھی سے ملنے چلے جانا، شاپ پر میں بیٹھ جاؤں گا۔” میں بولا، “ہاں یہ ٹھیک ہے۔” نازی نے بھی میرا ساتھ دیا، نازی بولی، “میں اور بھائی چلے جائیں گے۔” میرے دماغ میں اب یہ چل رہا تھا کہ خالہ کے ہوتے ہوئے تو کچھ نہیں ہو سکے گا۔ ابو نے امی سے بولا کہ اب تم تیاری کر لینا، امی نے ثانی کو بھی کہا کہ تم بھی اپنے کپڑے وغیرہ دیکھ لینا ۔

امی ابو اپنے روم میں چلے گئے، نازی اور ثانی بھی اپنے روم میں چلی گئیں۔ میں اٹھ کر اپنے روم میں آ گیا اور اسی بارے میں سوچتے ہوئے سو گیا۔

صبح آنکھ کھلی، ٹائم دیکھا تو دس بج رہے تھے۔ باتھ روم سے فارغ ہو کر نیچے آیا تو امی لاؤنج میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں نے امی سے پوچھا، “امی خیریت؟ آپ بینک نہیں گئیں؟” امی بولیں، “آج آف کیا ہے، بازار بھی جانا ہے اور شادی میں جانے کی تیاری کرنی ہے۔” امی بولیں، “ناشتہ بنا دوں؟” میں بولا، “جی امی۔” امی کچن میں ناشتہ بنانے چلی گئیں۔ نازی اور ثانی کالج چلی گئی تھیں۔ میں ٹی وی دیکھ رہا تھا، کچھ دیر کے بعد امی ناشتہ لے کر آ گئیں۔ میں نے ناشتہ کیا، امی بولیں، “کامی! ناشتہ کر کے میرے روم کی الماری کے اوپر سے ہینڈ کیری اتار دینا۔” میں بولا، “ٹھیک ہے۔”

ناشتہ کر کے میں امی کے روم میں گیا۔ امی نے الماری کے پاس کرسی رکھ دی، میں کرسی پر کھڑا ہو کر ہینڈ کیری اتارنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امی کرسی کو پکڑ کر کھڑی تھیں۔ اچانک میری نظر نیچے گئی تو امی کے جھکنے کی وجہ سے امی کے گورے گورے ممے، جو بلیک برا میں قید تھے، نظر آئے۔ آج فرسٹ ٹائم اس طرح امی کے ممے دیکھ رہا تھا۔ امی کے مموں پر نظر پڑتے ہی میرے سوئے ہوئے لن نے انگڑائی لی۔ امی اوپر کی طرف بھی دیکھ رہی تھیں۔ امی بولی، “کامی جلدی کرو کیا ہوا؟” میں بولا، “امی بہت پیچھے رکھا ہوا ہے، آگے کافی سامان رکھا ہوا ہے۔” امی بولیں، “لاؤ وہ سامان اتار کر مجھے دو۔” میں امی کو نیچے سامان پکڑانے لگا۔ امی نے ہاتھ اوپر کیا اور سامان کو پکڑنے کے لیے ہاتھ اوپر کیا تو اچانک سامان کو پکڑتے ہوئے امی کا ہاتھ میرے لن سے ٹکرا گیا، جس سے لن کو اور مجھے بھی ایک جھٹکا لگا۔

امی کا ہاتھ لگتے ہی لن ٹراؤزر میں ٹن ٹن ہو گیا، لن پورا کھڑا ہو گیا تھا۔ امی کا چہرہ میرے لن کے قریب تھا اور امی کی نظر میرے لن پر تھی۔ سامان اتارتے ہوئے امی کا ہاتھ کئی بار میرے کھڑے لن سے ٹچ ہوا تھا۔ جب سارا سامان نیچے اتار دیا تو پھر ہینڈ کیری اٹھا کر نیچے امی کو پکڑانے لگا۔ جب امی ہینڈ کیری پکڑنے لگیں، ہینڈ کیری تھوڑا بھاری تھا، امی اسے پکڑنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ اچانک ہینڈ کیری پکڑنے کے چکر میں امی نے میرے لن کو پکڑ لیا۔ امی کا ہاتھ لن پر ذرا سخت تھا، میرے منہ سے ‘سی’ کی آواز نکل گئی۔ “اوہ! کامی بیٹا سوری۔” میں بولا، “نہیں، کوئی بات نہیں۔” امی نے ہینڈ کیری نیچے رکھا، امی کا چہرہ لال ہو رہا تھا۔ میں کھڑے ہو کر ٹراؤزر کے اوپر سے لن کو سہلا رہا تھا۔ امی پھر بولیں، “سوری بیٹا پتا ہی نہیں چلا، چلو تم نیچے آ جاؤ، میں یہ سامان اوپر رکھتی ہوں۔” امی کی نظر لن پر تھی۔ میں بولا، “نہیں، آپ دیں میں رکھ دوں گا۔” امی بولی، “نہیں تم نیچے آ جاؤ مجھے کچھ اور دیکھنا ہے۔” میں نیچے آ گیا، امی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ لیا۔…”



Leave a Comment