یہ اس وقت کی بات ہے جب میں نے میٹرک کرلیا تھا یعنی اسوقت میری عمر اٹھارہ سال تھی ھماری فیملی چھ افراد پر مشتمل ہے پہلے نمبر بڑا بھائ جسکا نام فیصل ہے
دوسرے نمبر پر بہن جس کا نام سائرہ ہے تیسرے نمبر جناب مابدولت ہیں اور چوتھے نمبر پربہن جسکانام مائرہ ہے اور امی ابو جب میں نے میٹرک کرلیا تھا اسوقت بڑے بھائ کی شادی کو تین سال ہوچکے تھے اور ایک بچہ ہے جس کی عمر اس وقت ڈھیڑ سال تھی جبکے سائرہ کی شادی کوڈھیڑسال ہو
چلا تھا اور مائرہ کی منگنی ہوچکی تھی اور شادی ک تیاریاں ہورہی تھیں اورمیں ان دنوں فار غ تھا ابو سعودیہ میں تھے میں معاملات کی سمجھ بوجھ رکھتا ہوں جبکہ بڑا بھائ بس ایویں ہےھمارا گھرانہ نارمل گھرانہ ہےھم لوگ پنڈی کے نواح میں رہتے ہیں سائرہ کا سسرال جہلم میں ہے۔
ایک دن میں باہر سے گھوم پھر کے گھر ایا تو امی نے کہا۔۔۔ ادھر آو۔۔ امی پریشان سی بیٹھی تھی
میں نے کہا ۔۔۔امی کیا بات ہے آپ پریشان ہیں؟
امی نے کہا۔۔۔ بیٹاسائرہ کا فون ایا تھا کہ رہی تھی شہزاد(میرا نام) کو کل میرے پاس بھیج دو
(اس وقت موبائل فون نیانیا آیا تھا 3310۔ 1100 وغیرہ تو ابو نے سعودیہ سےدو سیٹ بھجوا دیے تھے ایک سائرہ کیلیے اور ایک گھر کیلیے)
امی نے کہا ۔۔۔ وہ کچھ پریشان لگ رہی تھی میں نے بہت پوچھا کہ کوئ پریشانی والی بات تو نہیں لیکن اس نے کہا نہیں ایسی کوئ بات نہیں بس آپ بھا ئی کو میرے پاس بھیج دیں تو امی نے کہا بیٹا تم کل صبح سویرے بہن کی طرف نکل جاو مجھے لگ رہا کہ پھر شوہر کے ساتھ کوئ گڑبڑ ہوگئ ہے
اس سے پہلے بھی وہ تین چار بار اس طرح روٹھ کے گھر آچکی تھی پھر وہ لوگ آکے معافی تلافی کر کے منا کے لے جاتے۔ میں نے امی کو تسلی دی اور اگلے صبح جہلم جانے کیلیے کوچ میں سوار ہوگیا جانے سےپہلے میں نے فون پر اسے بتادیاتھاکہ میں 7بجے والی گاڑی پر آوں گاجہلم پہنچ کرجیسے ہی گاڑی سے اترا ایک دس بارہ سال کا لڑکا میری طرف بڑھا۔
کیا آپ کا شہزاد ہے۔۔ اس نے پوچھا
جی میرا نام میرا شہزاد آپ کون؟
میرا نام اکرم ہےسائرہ آپی نے آپ کو لینے کیلئے بھیجا ہے۔۔ اُس نے کہا
تم نے مجھے پہچانا کیسے؟ ۔۔۔میں نے پوچھا
اپ کے سن گلاس کی وجہ سے آپی نے مجھے بتیاہا تھا
اوہ! اصل میں میری عادت ہے کہ جب میں گھر سے باہر نکلتا ہوں تو سن گلاس لگاتا ہوں چاہے موسم جیسا بھی ہو سوائے بارش کے
” کیوں خیر تو ہے نا باجی ٹھیک تو ہے”
“ہاں خیریت ہے آپی بھی ٹھیک ہے وہ پرسوں شام سے ھمارے گھر آئ ہوئ ہیں “
میں نے کہا کیوں
“مجھے نہیں پتا لیکن میں نے محسوس کیا ہے وہ کچھ پریشان ہیں”
میں نے ذیادا کرید مناسب نہ سمجھی اور اسکا اوراسکے گھر والوں کا حال احوال پوچھتا ہوا گھر چل پرےقریبا”آدھاگھنٹہ پیدل چلنے کے بعداسنے ایک خوب صورت گھر کی طرف اشارہ کرکے بتای کہ یہ ہمارا گھر ہے جس کی چھت پر چاردیواری ڈیزائن کے ساتھ بنی ہوئ تھی گھر پہنچ کراکرم کی امی نے ہمارا استقبال کیاجو تقریبا” میری امی کی ہم عمر ہیں میں نے سلام کیا
سائرہ بیٹی دیکھو کون آیاہے آنٹی میرے سلام کا جواب دیتے ہوئے آواز دی ایک کمرے سے تین لڑکیاں باہر نکل ائین اور انھوں نے بھی سلام کیا
شہزاد بیٹا یہ میری بیٹیاں ہیں یہ جو سب سے بڑی ہے اسکا نام صائمہ ہے اس سے چھوٹی فائزہ ہے اور ان سے چھوٹی نائلہ ہے وہ تینوں خوب صورت ہیں لیکن جس پر دل آگیا وہ درمیان والی فائزہ ہے وہان دونوں سے زیادہ حسین ہےمیں نے تینوں کے ساتھ گرم جوشی سے ہاتھ ملایا لیکن فائزہ کے ہاتھ کو ذرا زور سے دبایا اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور مسکرا دی اتنی دیر میں باجی اندر کمرے سے نکلیں اور اتے ہی مجھے گلے لگا لیا اسکے بوبز میرےسینے میں چھب سے گئے جس سے میرے پورے بدن میں کرنٹ دوڑ گیا چونکہ ھمارے درمیان ایساویسا کچھ نہیں تھا اس لئے باجی کے علیحدہ ہوتے ہی یہ بات ذہن سے محو ہوگئ ویسے میری باجی کا سائز 38 28 34 ہے جو کہ میرے نقطہ نظر سے بہت ہی سیکسی ہے میں نے باجی سے خیر خیریت پوچھی اتنے میں انٹی نے کہا ارے بیٹا اندر کمرے میں آجاو کیا کھڑے کھڑے خیرت پوچھ رہے ہو تھوڑا ریلیکس ہو جاو پھر باتیں کرو سمجھو یہ تمھارا اپنا گھر ہے اور اس کے ساتھ ہی اپنی صائمہ کو آواز دیکر کھا بنانے کیلئے کہہ دیا باجی مجھے اندر کمرے میں لے آئ بھیا یہاں بیٹھ جائیں باجی نے صوفے کی طرف اشارہ کیا اور خود بھی بیٹھ گئ چونکہ میری باجی کے ساتھ بچپن سے ہی بتکلفی تھی لیکن میں نےاسے کبھی بھی نام سے نہیں پکارتا تھا بلکہ باجی ہی کہتا تھا
“باجی اکرم کہہ رہا تھا کہ آپ پرسوں س یہاں ہو کہیں سسرال میں پھر کوئ مسلہ”
“اسی لیئے تو میں نے تم کو بلایا ہے”باجی نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا پھر کہنے لگی دیکھو بھائ یہ بات ایسی ہے کہ میں تمھارے سوا کسی سے نہیں کہہ سکتی اور امی ابو کو بھی تمہی نے سمجھانا ہے
میں سمجھ گیا ہوں باجی کہ اسنے تمھیں چھوڑ دیا ہے لیکن میں کمینے کو زندہ نہیں چھوڑوں گا
مجھے اس کمینے پر شدید غصہ آگیا
تم ایسا کچھ نہیں کروگے کیوں کہ باجی کو پتا تھا ایسا کرنا میرے لیئے کچھ مشکل نہیں
” لیکن کیوں اگر ایسی کوئ بات تھی تو میں آکے سیدھا کردیتا”نہیں مجھے پتا ہے کہ یہ سیدھا ہونے والا آدمی نہیں ہے کہ تم آکے اس کو سیدھا کر لیتے پہلے میری پوری بات سنومیں نے خوداس سے طلاق کا مطالبہ کیا تھاکیوں کہ میں روز روز کے بک بک سے تنگ آگئ تھی اور اس نے مجھے اپنا پوراحق دےدیاہے اور میں نے تمھیں اس لئے بلایا ہے کہ تم تو سمجھ بوجھ رکھتے ہو اس لئے امی ابو کو تم سمجھا سکتے ہو کیوں کہ تمھارے ساتھ میرا تعلق دوستوں جیسا ہے
اور تمہیں پتہ ہے کہ میں روٹھ کے میکے کتنی بار آئ ہوں لیکن اس کے علاوہ ہر ہفتے یہی ہوتا تھا لیکن میں یہاں آجاتی پھر کبھی وہ لوگ مجھے منا کے لےجاتے کبھی اس گھر والے بیچ میں پڑ کے صلح صفائ کرالیتے اس اور
بیٹاہاتھ منہ دھولو کھانا تیار ہے
باجی کی بات آنٹی کی آواز سے ادھوری رہ گئ
چلو بھیا کھانا کھاتے ہیں اور پھر جانے کی تیاری کرتے ہیں
ہم دونوں باہر آئے تو دیکھا برآمدے میں دستر خوان لگا ہوا تھا بیٹھ کے کھانا شروع کیا تو آنٹی نے کہا بیٹا سائرہ کی بات تم نے سن لی
“جی آنٹی”
بیٹا سائرہ کو میں نے اپنی بیٹی بنائ ہوئ ہے
“بیٹا کوئ بھی لڑکی اپنا گھر نہیں اجاڑتی مگر جب مجبوری آجاتی ہے تو ایسے تلخ فیصلے کرنے پڑتے ہیں کوئ بھی ماں یہ نہیں چاہتی کہ میری بیٹی کو طلاق ہو جائے لیکن میں خوش ہوں کہ سائرہ بیٹی نے درست فیصلہ کیا ہے اس کی زندگی تباہ ہونےسے بچ گئ ہے