میں آپ کو اپنے بارے میں بتا دیتا ہوں، میرا نام کامران ہے اور میں ایک ہی بھائی ہوں، میری دو بہنیں ہیں۔ ایک بہن مجھ سے بڑی ہے اور شادی شدہ ہے، دوسری ایف ایس سی کر رہی ہے۔ میں دسویں کلاس کا طالب علم ہوں، میری عمر اس وقت 17 سال ہوگی۔ والد کنسٹرکشن کمپنی میں جاب کرتے تھے، وہ گھر بہت کم آتے تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب میری امی ہسپتال میں داخل تھیں ٹی بی کی وجہ سے۔ میں اور میری بہن امی کے ساتھ ہسپتال میں رہتے تھے۔
ایک رات میں اور سسٹر امی کے پاس ہسپتال میں تھے تو ڈاکٹر صاحب آئے جن کا نام ڈاکٹر وسیم تھا۔ وہ امی کا چیک اپ کر رہا تھا تو بار بار میری بہن کو نیچے سے اوپر تک دیکھ رہا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا، “میرے روم میں آ جاؤ میں نئی میڈیسن ( لکھ دیتا ہوں”۔ میں اور باجی ڈاکٹر کے روم میں گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا، “بیٹا تم باہر جاؤ، اپنی امی کے پاس، مریض کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے”۔ میں امی کے پاس آ گیا اور میری بہن ڈاکٹر کے روم میں تھی۔ 15 منٹ ہو گئے باجی نہیں آئیں، تو میں ڈاکٹر کے روم کی طرف چل دیا اور دروازہ کھولا تو دونوں ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔ ڈاکٹر نے کہا، “تم پھر آ گئے بیٹا، تم ادھر امی کی دیکھ بھال کرو بس تھوڑی سی بات کرنی ہے”۔ پھر باجی بھی بول پڑیں، “ہاں کامران بھائی تم جاؤ، میں ابھی آتی ہوں”۔ میں واپس آ گیا۔
30 منٹ کے بعد باجی واپس آئیں اور منہ ہاتھ دھونے چلی گئیں۔ مجھے شک ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے لیکن میں کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا۔ پھر باجی آئیں، امی کو میڈیسن دی اور رات کے 11 بج گئے۔ میں بینچ پر بیٹھا تھا کہ تھوڑی دیر میں میری آنکھ لگ گئی۔ میں نے پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی، مجھے محسوس ہوا کہ کوئی مجھے چھو رہا ہے۔ یہ باجی کا ہاتھ تھا جو میری ٹانگ پر آ گیا۔ میں جان بوجھ کر سویا رہا، پھر باجی نے میری پینٹ کی جیب سے موبائل نکالا اور پھر ایک کاغذ کھولا اور نمبر ڈائل کیا اور آہستہ سے کہا کہ “میں 10-15 منٹ میں آپ کے روم میں آ رہی ہوں”۔ بس یہی کہہ کر کال کاٹ دی۔ باجی نے مجھے اٹھایا اور کہا، “تم اپنا موبائل نہیں سنبھال سکتے، یہ لو اپنا موبائل، نیچے گرا پڑا تھا اور ہاں سنو، ڈاکٹر صاحب آئے تھے میں ان کے پاس جا رہی ہوں، امی سوئی پڑی ہیں، اگر کوئی مسئلہ ہو تو بتا دینا”۔
باجی ڈاکٹر کے روم میں چلی گئیں۔ ساری دال ہی کالی تھی، میں بیٹھا بیٹھا سوچ رہا تھا کہ مجھے پھر نیند آ گئی۔ ایک گھنٹے کے بعد نرس آئی اور کہا، “مسٹر اٹھو، پیشنٹ کی کیئر کرو، اگر سونا ہے تو اپنے گھر یا باہر جا کر سو”۔ میں نے گھڑی دیکھی تو رات کا ایک بج رہا تھا اور باجی پتا نہیں کہاں ہیں۔ میں ڈاکٹر کے روم کی طرف گیا، روم کا دروازہ لاک (بند) تھا۔ میں نے دستک دی تو کوئی جواب نہ آیا، میں نے دوبارہ دستک دی تو ڈاکٹر صاحب آئے اور بولے “کیا ہوا؟” میں نے کہا، “ادھر میری باجی تو نہیں آئیں؟” وہ کہنے لگے، “آئی تھی، اسی وقت چلی گئی”۔ میں روم میں داخل ہو گیا تو دیکھا اس روم کا ایک اور دروازہ بھی تھا جو کہ کھلا تھا۔ میں پھر واپس امی کے پاس آیا تو باجی امی کے پاس بیٹھی تھیں۔ باجی کا حال برا ہوا تھا، بال بکھرے بکھرے تھے، لپ اسٹک بھی مٹ چکی تھی اور لباس بھی آگے پیچھے اوپر نیچے ہوا پڑا تھا۔
“کہاں تھیں آپ؟” “اتنی دیر میں ڈاکٹر کے پاس تھی، پھر واش روم اور اب ادھر ہی ہوں۔ اچھا تمہیں نیند آئی ہے تم سونا چاہتے ہو تو سو جاؤ”۔ میں نے کہا، “نہیں باجی مجھے نیند نہیں آئی”۔ “ٹھیک ہے، نہ سو، مجھے تو نیند آ رہی ہے میں سونے لگی ہوں، ذرا کمر سیدھی کر لوں”۔ باجی بینچ پر سیدھی لیٹ گئیں اور دوپٹہ اوپر لے لیا۔ باجی سو گئیں تو باجی کے اوپر سے دوپٹہ کھسک گیا اور آہستہ آہستہ نیچے گر گیا۔ باجی کے گول گول ممے قمیض میں پھنسے ہوئے تھے، میں باجی کے سر والی سائیڈ پر تھا جس کی وجہ سے مجھے آدھے ممے نظر آ رہے تھے۔ اب سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کروں، مزے سے دیکھ تو رہا تھا لیکن ڈر بھی تھا کہ کوئی دیکھ نہ لے اور کہیں باجی اٹھ گئیں تو کیا کہیں گی۔ میں اٹھا اور دوپٹہ اٹھایا اور باجی پر دوپٹہ ڈال دیا، باجی پھر بھی سوئی رہیں۔
صبح امی کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا اور کہا کہ اب یہ ٹھیک ہیں، گھر لے جاؤ اور میڈیسن دو، پرہیز کرواؤ۔ ڈاکٹر نے کہا، “میڈم آپ سمجھدار لگتی ہو، میرے روم میں آنا آپ کو میڈیسن سمجھانی ہے، یہ بچہ ہے کہیں غلط میڈیسن نہ دے دے”۔ باجی ڈاکٹر کے پیچھے پیچھے روم میں چلی گئیں۔ دل تو کر رہا تھا کہ ان کے پیچھے جاؤں لیکن امی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ 10 منٹ بعد باجی آئیں اور کہا، “چلو بھائی، میڈیسن سمجھ لی ہے میں نے”۔ میں نے امی کو سہارا دے کر اٹھایا اور دوسری سائیڈ پر باجی تھی۔ جب باجی امی کو اٹھانے کے لیے جھکیں تو میری نظر باجی کے مموں پر پڑی۔ میں نے غور سے دیکھا تو ایسا لگ رہا تھا جیسے باجی کے ممے پر کسی نے کاٹا ہو اور زور سے کاٹا ہو، دانتوں کا نشان تھا۔ سفید جسم کی وجہ سے کاٹنے کا نشان صاف نظر آ رہا تھا۔ خیر ہم نے اپنا سامان اٹھایا اور ہسپتال سے باہر آئے، ٹیکسی لی اور گھر پہنچ گئے۔ میری اس باجی کا نام حنا ہے، عمر 17 سال ہے، رنگ گورا، اسمارٹ باڈی، کالی آنکھیں اور لمبے بال ہیں۔
حنا باجی کی نظر کمزور تھی، وہ چشمہ استعمال کرتی تھیں۔ ایک دن حنا باجی بولیں، “پاپا میری نظر کمزور ہو رہی ہے، اسٹڈی میں پرابلم (مسئلہ) ہوتا ہے تو ڈاکٹر کو چیک اپ کروا لوں”۔ والد نے کہا، “کامران جاؤ حنا کے ساتھ چیک اپ کروا کے آؤ”۔ حنا باجی بولیں، “ابو میرے پاس ڈاکٹر کا کانٹیکٹ نمبر ہے، ایسا کرتے ہیں فون کر کے ٹائم لے لیتے ہیں، آج کل لوڈشیڈنگ ہے اور پھر رش سے بھی بچ جائیں گے”۔ والد نے کہا، “ہاں حنا بہت سمجھدار ہو گئی ہے، ایسا ہی کر لو”۔ حنا باجی نے فون کیا اور چیک اپ کروانے کا کہا تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ “انہیں میرے پرائیویٹ کلینک پر لے آنا دو دن بعد”۔
میں اور حنا باجی ڈاکٹر کے بتائے ہوئے ٹائم کے مطابق کلینک پہنچ گئے۔ ڈاکٹر کے روم میں گئے، ڈاکٹر صاحب نے حنا باجی کو اپنے ساتھ والے اسٹول پر بٹھایا اور آنکھیں چیک کیں اور کہا، “حنا جی آپ کا پرابلم زیادہ ہے، آپریشن کرنا پڑے گا”۔ حنا باجی نے کہا، “کامران بھائی گھر فون کر دو کہ ہمیں دیر ہو جائے گی اور پاپا کو کہو کہ آپریشن کی فیس بھی پہنچا دیں”۔ میں نے پاپا کو فون کیا تو 15 منٹ کے بعد پاپا آئے۔ ڈاکٹر صاحب کو آپریشن کی فیس دی اور چلے گئے۔ پاپا نے کہا، “کامران بیٹا تم اپنی بہن کا خیال رکھنا، مجھے بہت ضروری کام ہے شام کو گھر میں ملیں گے”۔ حنا باجی نے کہا، “ڈاکٹر صاحب کوئی زیادہ مسئلہ تو نہیں ہے نا؟ درد تو نہیں ہوگا؟” ڈاکٹر نے کہا، “تھوڑا سا تو درد ہوگا لیکن آپ برداشت کر لو گی۔ آپ ساتھ والے روم میں بیٹھ جاؤ، میں 15-20 منٹ بعد آپ کو آپریشن روم میں بلواتا ہوں”۔
20 منٹ بعد ڈاکٹر آپریشن روم گئے، 5 منٹ بعد حنا کو ایک لڑکا بلوانے آیا کہ “حنا کون ہے؟ وہ آپریشن روم میں آئے”۔ وہ لڑکا جو تھا میرا کلاس فیلو نکلا جس کا نام کاشف تھا۔ ہم نے ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ میں نے حنا باجی سے کہا، “یہ میرا کلاس فیلو ہے”۔ حنا باجی مجھ سے زیادہ بڑی تو نہیں ہیں لیکن پھر بھی مجھے باجی کہنا اچھا لگتا ہے۔ ہم تھوڑی دیر باتیں کرتے رہے، میں کاشف کو سائیڈ پر لے گیا اور پوچھا، “یار یہ تمہارا ڈاکٹر کیسا ہے؟” “تھرکی مزاج ہے”۔ “ہاں، لگ بھی رہا ہے”۔ “ٹائم ہو رہا ہے میں آپریشن تھیٹر میں چلتا ہوں”۔ میں نے کہا، “یار مجھے بھی دیکھنا ہے کہ کیسے آپریشن کرتے ہیں”۔ “نہ یار تم نہ جاؤ”۔ “ہم اتنے دنوں کے بعد ملے ہیں، کیا تم میرا کہنا نہیں مانو گے؟” “تمہیں کیسے سمجھاؤں یار، اچھا چلو تمہیں بھی دکھا دیتا ہوں کیسے آپریشن ہوتا ہے”۔
میں کاشف کے ساتھ آپریشن تھیٹر میں داخل ہوا، آپریشن روم سے پہلے ایک ڈریسنگ روم تھا۔ کاشف نے مجھے وہاں سے لباس دیا، سبز رنگ کی شرٹ، ٹراؤزر اور جو منہ پر پہنتے ہیں۔ مکمل آپریشن ڈریس پہنا۔ میں اور کاشف آپریشن روم میں داخل ہی ہونے لگے تھے کہ ڈاکٹر صاحب اور میری بہن حنا دونوں ہنس ہنس کے باتیں کر رہے تھے۔ حنا باجی کہہ رہی تھیں، “کوئی دیکھ لے گا تو کیا کہے گا”۔ “تم اس بات کی ٹینشن نہ لو، دروازے کو لاک کرو اور ادھر آ جاؤ میرے پاس۔ اچھا اب آرام سے کرنا پلیز، پہلے بھی نشان نہیں گیا اور اس نشان کو چھپانا بہت مشکل ہو رہا ہے”۔ “میں کریم دوں گا وہ لگا لینا جلدی ٹھیک ہو جائے گا”۔
میں روم میں داخل ہونا چاہا تو کاشف نے مجھے روک لیا اور کہا، “یہی رک جاؤ اور دیکھتے ہیں یہ کیا کرتے ہیں”۔ آہستہ آہستہ دونوں نزدیک ہو رہے تھے، دونوں ساتھ ہو کر بیٹھ گئے۔ ڈاکٹر نے حنا باجی کا ہاتھ پکڑا اور اپنی طرف کھینچا۔ ڈاکٹر نے حنا باجی کو گلے لگایا اور کسنگ شروع کر دی۔ حنا باجی شرماتے ہوئے اور ناں ناں کرتے ہوئے بھی ڈاکٹر کا ساتھ دے رہی تھیں۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ یہ کیوں ہو رہا ہے۔ میں اندر جانے لگا تو کاشف نے مجھے روک دیا اور کہا، “یار برا نہ ماننا پلیز، مجھے پتا تھا تمہاری بہن کے ساتھ یہی کچھ ہونا ہے لیکن تمہاری بہن جوان اور خوبصورت ہے تو میرا بھی دل کر رہا تھا کہ میں تمہاری بہن کو چدتا دیکھوں۔ وہ تمہاری بہن ہے، ڈاکٹر کوئی زبردستی نہیں کر رہا ہے، اس میں تمہاری بہن کی رضا شامل ہے۔ کرنے دو جو یہ کرنا چاہتے ہیں، کچھ نہیں ہوتا، لن کسی کا بھائی نہیں ہے اور نہ پھدی، دونوں ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں”۔
میری غیرت مر گئی تھی، جب بہن کو اپنی عزت کا خیال نہیں ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ میں دور سے باہر کھڑا تھا اور کاشف بھی میرے ساتھ تھا۔ ڈاکٹر نے باجی کے چہرے کو چوم چوم کر سرخ (Red) کر دیا۔ قمیض کے گلے میں سے باجی کا ایک دودو باہر نکالا اور دبوچا اور بوسہ دیا۔ میرا لن سخت ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر نے حنا باجی کی قمیض اتاری اور ساتھ ہی شلوار بھی۔ میری بہن نے سیاہ بریزیئر پہنا ہوا تھا، ڈاکٹر نے وہ بھی اتار دیا اور میری بہن کو ننگا کر دیا۔ ایسے چومنے چاٹنے لگ گیا جیسے کتا مکھن کھاتا ہے۔ پہلی بار اپنی بہن کو ننگا دیکھا تھا، مجھے تو پتا بھی نہیں تھا میری بہن اتنی خوبصورت اور سیکسی ہے۔ ڈاکٹر نے تو میری بہن کے مموں اور ہونٹوں کو چوس چوس کے سرخ کر دیا تھا، بہن سسکیاں لے رہی تھی اور پھر میری بہن بھی ڈاکٹر کا ساتھ دینے لگی۔ حنا باجی نے ڈاکٹر کا ہتھیار اپنے ہاتھ میں لیا اور مسلتی رہی اور ہونٹوں سے ہونٹ ملا کر چوستی رہی۔
کاشف نے کہا، “یار میں نے بہت سی ٹرپل ایکس مووی اور اپنے اس ڈاکٹر کی ریئل مووی دیکھی ہے لیکن جیسی تمہاری بہن ہے ایسی لڑکی آج تک نہیں دیکھی، کیا جسم ہے یار”۔ کاشف میرے پیچھے آ گیا اور اپنا لن میری گانڈ پر لگا رہا تھا۔ میں نے کہا، “کاشف یار ہم دوست ہیں، ایسا نہیں کرتے”۔ “یار کہا تو تھا یہ لنڈ، گانڈ، چوت کسی کی دوست نہیں ہے، جو مل جائے مزے کرو”۔ پھر کاشف نے میرے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا ہاتھ میری شلوار میں ڈال دیا اور میرا لنڈ پکڑ لیا۔ لنڈ پہلے سے ہی سخت تھا اور بھی سخت ہو گیا۔ ایک ہی منٹ میں میرے لنڈ کا پانی نکل گیا۔ پھر کاشف نے میرا ٹراؤزر اتارا اور مجھے نیچے الٹا لیٹنے کو کہا اور کہا، “نیچے سے دیکھو، تمہاری بہن چد رہی ہے”۔
کاشف نے اپنے لنڈ پر کنڈوم چڑھایا، تھوک لگایا، میری گانڈ پر دو تین بار تھوک پھینکا اور ایک انگلی کو اندر ڈالنے لگا۔ میں نے کہا، “کاشف آرام سے، میں نے آج تک کسی سے گانڈ نہیں مروائی ہے پلیز آرام سے کرنا”۔ ادھر میری بہن چد رہی تھی اور ادھر میں۔ ڈاکٹر نے میری بہن کی ایک ٹانگ اٹھائی ہوئی تھی اور کبھی انگلی اور کبھی زبان لگاتا، میری بہن کے منہ سے “آہ، اوہ، ایہہ” کی آوازیں آ رہی تھیں۔ چوت چاٹنے کے بعد ڈاکٹر نے اپنا لنڈ میری بہن کی چوت میں ڈالنا چاہا تو نہیں گیا۔ پھر ڈاکٹر نے ایک ہاتھ سے لنڈ پکڑا اور چوت پر رکھا اور جھٹکا مارا۔ “آہ، ای، نکالوں باہر نکالو”۔ ایسا کہتے ہوئے باجی نے لنڈ باہر نکالنا چاہا لیکن ڈاکٹر نے باجی کو دیوار کے ساتھ لگایا ہوا تھا اور ڈاکٹر بہت طاقتور تھا۔ ڈاکٹر کا لنڈ باجی کی چوت میں تھا۔ باجی کے منہ پر منہ رکھا اور باجی کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کیا اور حنا باجی کی چوت میں آہستہ آہستہ سارا لنڈ اندر باہر ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر کا لنڈ میرے لنڈ سے بڑا تھا اور کاشف سے چھوٹا۔
کاشف نے میری گانڈ پر اپنا لنڈ رکھا اور اندر ڈالنے لگا تو مجھے بہت ڈر ہوا۔ میں اٹھنے لگا لیکن وہ میرے اوپر تھا، ذرا ٹس سے مس نہیں ہوا۔ “یار مجھے نہیں کروانا یہ سب کچھ”۔ “چپ، ورنہ انہیں پتا چل جائے گا”۔ کاشف نے پھر بہت سا تھوک میری گانڈ کے سوراخ پر پھینکا پھر لنڈ ڈالا تو درد تو ہو رہا تھا لیکن کیا کرتا۔ ادھر میری بہن کا پانی نکل چکا تھا لیکن ڈاکٹر ابھی تک فارغ نہیں ہوا تھا۔ ڈاکٹر نے دوبارہ حنا باجی کو بوسہ دینا شروع کیا اور چوت پر ہاتھ پھیرا، انگلی کبھی ڈالتا کبھی نکالتا۔ میری بہن کی چوت بالکل صاف تھی ایک بال بھی نہیں تھا اور رنگ سفید۔ میری بہن کے ممے 34 کے تھے کیونکہ جو بریزیئر باجی نے پہنا ہوا تھا وہ دروازے کے پاس ہی تھا اس پر چھوٹی سی چٹ تھی جس پر 34 لکھا تھا۔
باجی حنا نے کہا، “بس اب چلتی ہوں باقی پھر کبھی سہی”۔ ڈاکٹر نے کہا، “نہیں یار آؤ نا، ابھی میرے لنڈ کی پیاس نہیں بجھی، تم ایسا کرو میں نیچے لیٹتا ہوں تم اوپر آؤ اور اپنی چوت میں میرا لنڈ ڈالو”۔ باجی اٹھی اور ڈاکٹر کے لنڈ کو پکڑا اور اپنی چوت کے سوراخ پر رکھا اور آہستہ آہستہ اس کے اوپر بیٹھ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارا لنڈ باجی کی چوت میں چلا گیا۔ ادھر کاشف کی رفتار تیز ہو گئی اور ادھر باجی اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ ڈاکٹر نے باجی کے چہرے کو پکڑا اور اپنے ہونٹوں سے ہونٹ چوسے اور لنڈ تو باجی کی چوت میں ہی تھا۔
میں نے کاشف سے کہا، “بس کرو یار بس کرو، پھٹ جائے گی پلیز بس کرو”۔ “تیری گانڈ پر بھی بال نہیں ہے اور نہ ہی تیری بہن کے جسم پر کوئی بال ہے، آج تو جی بھر کے چودنے دے”۔ کاشف کے جھٹکے برداشت سے باہر ہوتے جا رہے تھے اور وہ دونوں بھی تیز ہو گئے تھے۔ 10 منٹ اندر باہر کیا کاشف نے لنڈ تو گانڈ کھل چکی تھی اب درد محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر نے جلدی سے اٹھا کر باجی کو نیچے لٹایا اور باجی کی دونوں ٹانگوں کو ہاتھوں سے پکڑ کر اوپر کر دیا۔ باجی کی چوت پر لنڈ رکھا اور زور زور کے جھٹکے لگانے لگا، “آہ، اوہ، بس، ہا، ہا”۔ ادھر کاشف نے رفتار تیز کی اور پھر کاشف کا پانی نکل گیا، وہ میرے اوپر سے ہٹ گیا۔ ادھر ڈاکٹر بھی فارغ ہو گیا اور ڈاکٹر نے اپنا پانی باجی کے پیٹ پر ڈال دیا اور پھر کپڑے سے صاف کر دیا۔
میں جلدی سے اٹھا، کپڑے تبدیل کیے اور باہر آ کر بیٹھ گیا۔ پانچ منٹ میں باجی بھی آ گئیں اور ایک آنکھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ میں نے کہا، “اتنی دیر کیوں لگا دی؟” وہ بولیں، “ڈاکٹر صاحب آپریشن کر رہے تھے، تمہیں کیا پتا آپریشن کرنے میں کتنا ٹائم لگتا ہے، کبھی آپریشن کیا ہو تو پتا ہو”۔ مجھے تو پتا تھا جو کچھ ہوا تھا۔ بہرحال، ہم ادھر سے گھر چلے۔ حنا باجی نے ایک دن بعد اپنی آنکھ کی پٹی اتار دی اور کہا، “اب میری آنکھ بالکل ٹھیک ہے، نظر بھی ٹھیک آ رہا ہے”۔
ایک دن حنا باجی نے کہا، “کامران بھائی میرے ساتھ مارکیٹ چلو کچھ شاپنگ کرنی ہے”۔ میں اور حنا باجی مارکیٹ پہنچ گئے وہاں پر ایک جنرل اسٹور کی دکان تھی۔ باجی نے وہاں سے اپنا نیا سامان لیا۔ دکان پر کچھ مختلف رنگوں کی چوڑیاں پڑی تھیں، باجی نے کہا، “یہ ایک درجن چوڑیاں کتنے کی ہیں؟” دکاندار نے کہا، “دیکھ لو پہن کر اگر آتی ہیں تو مناسب ریٹ لگا دیں گے”۔ باجی نے گلابی رنگ کی چوڑیاں پسند کیں جو کہ باجی سے اپنے ہاتھ میں نہیں جا رہی تھیں۔ تو دکاندار نے باجی کا ہاتھ پکڑا اور کہا، “آپ کو تو چوڑیاں پہننی بھی نہیں آتیں”۔ اس نے 4-5 چوڑیاں لیں اور باجی کے ہاتھ میں ڈالنے لگا۔ باجی نے ایک دم سے چیخ ماری “آئے” اور چوڑیاں باجی کی کلائی میں چلی گئیں۔ دکاندار نے باجی کا ہاتھ نہ چھوڑا، تھوڑی دیر بعد باجی نے خود ہی چھڑا لیا۔ باجی نے چوڑیوں کے پیسے دیے اور چل دیں۔
ایک دن کاشف ہمارے گھر آیا، میں نے کاشف کو بیٹھک میں بٹھایا۔ گھر پر امی، حنا باجی اور ثنا باجی تھیں۔ کاشف کے لیے چائے بنوائی اور بسکٹ۔ میں نے کہا، “آج کیسے ہماری یاد آ گئی؟” کاشف: “میں جب بھی رات کو سوتا ہوں تو مجھے تمہاری بہن کا جسم نظر آتا ہے، دل کرتا ہے روزانہ آؤں لیکن کام کی وجہ سے نہیں آ سکتا اور تیری گانڈ، واؤ یار آج پھر ہو جائے”۔ “نہیں یار سب گھر پر ہیں، شرم کیا کرو کچھ تو”۔ کاشف: “جو شرم کرتا ہے وہ کچھ نہیں کرتا، وہ ٹائم پاس ہی کرتا ہے۔ کامران اپنی بہن کو بلوا لو”۔ “یار حنا باجی نہا رہی ہیں، امی اور ثنا آپی ٹی وی دیکھ رہی ہیں۔ میں گھر والوں کو کیا کہوں گا کہ میں اپنی سگی بہن کو تم سے کیوں ملوا رہا ہوں، تمہارے پاس اس کا رابطہ ہوگا خود ہی فون کر لو”۔ کاشف: “تم اندر جاؤ اور 15-20 منٹ تک نہ آنا اور حنا کو بھیج دو چائے دے کر، زیادہ نہیں تو اوپر اوپر سے ہی کر لوں گا”۔
میں کچن میں گیا اتنے میں حنا باجی نہا کر آ چکی تھیں۔ میں نے کہا، “باجی ایک چائے بنا دو، میرا دوست کاشف آیا ہے”۔ “اچھا بناتی ہوں، ذرا بال سکھا لوں”۔ باجی نہا کر اور بھی خوبصورت لگ رہی تھیں، شلوار قمیض اور بالوں میں تولیہ۔ باریک شلوار قمیض تھی اسی وجہ سے بریزیئر کا رنگ نظر آ رہا تھا۔ میرے پاس آئیں تو جو جسم سے خوشبو آ رہی تھی میں بتا نہیں سکتا۔ “بھائی تم جاؤ میں چائے بناتی ہوں”۔ “چائے بنا کر بیٹھک میں لیتی آنا” یہ کہہ کر میں بیٹھک میں آ گیا۔ کاشف: “یار تم جاؤ، 5 منٹ میں حنا باجی آ جائیں گی”۔
میں کھڑکی کے پردے کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا کہ دیکھتا ہوں تم کیا کرو گے، کیسے لڑکی سیٹ کرتے ہو۔ پھر میری باجی چائے لے کر آئیں، میں پردے کے پیچھے چھپ گیا۔ باجی نے چائے میز پر رکھی، باجی جانے لگیں تو کاشف نے کہا، “حنا چائے کپ میں تو ڈال دو، چینی ایک چمچ ڈالنا”۔ باجی بیٹھ گئیں اور چائے کپ بنانے لگیں، پھر چائے کاشف کو دینے لگیں تو کاشف نے ہاتھ بھی پکڑ لیا۔ “یہ کیا کر رہے ہو؟ چھوڑو میرا ہاتھ، کسی نے دیکھ لیا تو ہم دونوں کی خیر نہیں ہوگی”۔ کاشف: “کون دیکھے گا؟ کامران مارکیٹ گیا ہے اور تمہارے گھر والے سب گھر کے کاموں میں مصروف ہیں”۔ کاشف نے باجی کے کان میں کچھ کہا اور باجی منٹوں میں راضی ہو گئیں۔ کاشف نے باجی کو اپنی گود میں بٹھا لیا، دونوں ہاتھوں سے زور سے جپھی ڈال لی پھر اپنی باہوں میں اٹھا کر سنگل بیڈ پر لے گیا۔ “میں دروازے کو لاک لگا دیتا ہوں تم بیڈ پر چلی جاؤ”۔ “مجھے ڈر لگ رہا ہے، آج نہیں کاشف پھر کبھی سہی”۔ کاشف: “زیادہ نہیں صرف 10 منٹ کا کام ہے، اتنی دیر میں کام ہو بھی جاتا ہے، وقت ضائع نہ کرو”۔
حنا باجی بیڈ پر چلی گئیں اور سیدھی لیٹیں، کاشف باجی کے اوپر چھلانگ لگا کر آ گیا اور چہرے پر بوسے دیے۔ اپنے ہاتھوں سے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر باجی کے منہ میں اپنی زبان ڈالتا نکالتا، باجی بھی زبان کو اپنے ہونٹوں سے پکڑتیں تو زبان پھسل جاتی۔ کاشف نے باجی کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کیا، پہلے نیچے والے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں لیا اور سارا منہ کھول رہا تھا جیسے کھا جائے گا۔ کاشف نے بوسہ لینا تیز کر دیا، پھر کاشف نے حنا باجی کے مموں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا اور مسلا۔ قمیض اوپر کی تو جسم پر سرخ سرخ بوسوں کے نشان تھے۔ کاشف: “اتنے سارے نشان؟ کون تھا؟ کس سے اتنا چدوایا ہے؟” حنا باجی: “تم جس کے پاس کام کرتے ہو، ڈاکٹر وسیم، وہ بہت ہاٹ ہے”۔
کاشف نے باجی کے مموں کو چاٹا اور بوسہ دیا جس سے باجی لرز اٹھیں۔ پھر کاشف نے جلدی سے اپنی پینٹ کی زپ کھولی، لنڈ نکالا اور باجی کے منہ کی طرف لے گیا۔ “اسے منہ میں لو مزہ آئے گا”۔ حنا باجی: “نہیں میں نے آج تک منہ میں نہیں لیا”۔ کاشف: “کچھ نہیں ہوتا، اچھا صرف اس پر ایک دو بوسے کر دو”۔ حنا باجی: “نہیں پلیز رہنے دو”۔
کاشف نے باجی کے سارے کپڑے اتار دیے، باجی کا جسم دن کی روشنی میں بہت ہی خوبصورت دکھائی دے رہا تھا اور باجی کی چوت ایسی صاف تھی جیسے 10 سال کی بچی کی ہوتی ہے۔ کاشف: “اچھا اپنا تھوک میرے لنڈ پر پھینکو اور اپنے ہاتھوں سے مسل دو، اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے لنڈ کو تمہاری چوت میں جانے میں آسانی ہوگی”۔ حنا باجی تھوڑی سیدھی ہوئیں اور کاشف کے لنڈ پر تھوک پھینکا پھر اپنے ہاتھ سے منہ بنا کر اندر باہر کرنے لگ گئیں۔ کاشف: “حنا چلو الٹی لیٹ جاؤ”۔ حنا باجی: “کیا پاگل ہو؟ نہیں میں پچھلے سوراخ میں نہیں ڈلوائوں گی اور تم اپنا لنڈ تو دیکھو میری مٹھی میں بھی مشکل سے آ رہا ہے، پھر پچھلے سوراخ کا کیا حال ہوگا؟ نہ جی نہ، جو کرنا ہے آگے کرو”۔
کاشف: “اوکے”۔ حنا باجی کی دو ٹانگیں سائیڈ پر کیں اور باجی کی چوت پر تھوک پھینکا اور چومی، پھر چومی، بار بار چومی۔ پھر باجی کی چوت کو اچھی طرح کھول کر اپنی زبان پھیرتا۔ “اف، آہ، ای، او”۔ کاشف نے میری باجی کی سرخ سرخ چوت پر ذرا ترس نہیں کھایا، خوب چوسا، چاٹا۔ پھر اپنا لنڈ باجی کی چوت پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے سے اندر ڈال دیا۔ “آہ، ماں مر گئی! آرام سے نہیں کر سکتے کیا؟ پاگل ایسے کرتے ہیں کیا؟ اف”۔ باجی کے منہ سے “او، آہ، ای” کی آوازیں آ رہی تھیں۔ کاشف نے باجی کی ایک نہ سنی، اپنا لنڈ چوت سے باہر ہی نہیں نکلنے دیا اور زور زور سے جھٹکوں کی بارش کرتا رہا۔ پھر ایک دم سے اپنا لنڈ نکالا اور باجی کے ساتھ ہی اپنے لنڈ کا پانی نکال دیا۔ بیڈ کی چادر میلی ہو چکی تھی اور بدبو بھی آ رہی تھی۔ باجی نے اپنے کپڑے پہنے اور پھر نہانے چلی گئیں۔
میں پردے میں سے باہر نکلا، کاشف نے کہا، “یار آج صحیح طرح مزہ نہیں لے پایا کیونکہ میں نے آج میڈیسن نہیں کھائی تھی، اگر میں ٹائمنگ والی گولیاں کھا لیتا تو تمہاری بہن کی چیخیں نکل جاتیں۔ اچھا یہ تو بتاؤ تم نے باجی کو کیا کہا تھا جو وہ راضی ہو گئیں؟” “یار میں نے اسے کہا تھا کہ میں نے اسے ڈاکٹر وسیم سے چدواتے دیکھ لیا ہے، اگر آج مجھے روکا تو میں تمہارے گھر بتا دوں گا، بس وہ ڈر گئی اور میں نے چود دیا”۔ “یہ کیا کامران؟ تیرا لنڈ کھڑا ہے، تو جا واش روم میں اپنی بہن کے نام کی مٹھ مار۔ جب گھر پر تم اور حنا اکیلے ہو تو مجھے بتا دینا میں آ جاؤں گا اور ہاں کیا تم اپنی بہن کو چودنا چاہتے ہو؟” “ہاں یار لیکن میں اپنی بہن سے کیسے بات کروں؟” “وہ میری ٹینشن ہے، جس دن اکیلا ہو تو مجھے بتا دینا میں تمہیں ٹائمنگ والی گولیاں بھی کھلا دوں گا پھر دل بھر کے چودنا اپنی بہن کو۔ ایک حسرت رہ گئی ہے وہ یہ کہ تیری بہن کی گانڈ نہیں ماری اور نہ ہی چوپے لگوائے، اگلی بار صحیح یار”۔
پھر کاشف چلا گیا، میں واش روم گیا اور حنا باجی کے نام کی مٹھ ماری۔ جب بیٹھک میں آیا تو بیٹھک بالکل صاف شفاف ہو چکی تھی جیسے ادھر کچھ ہوا ہی نہیں ہو۔ سالانہ امتحانات آ گئے اور ہم پڑھائی میں مصروف ہو گئے۔ میں نے نوٹ کیا کہ باجی رات کو فون پر باتیں کرتی رہتی ہیں لیکن وہ ڈیٹ پر اکیلی نہیں جاتی تھیں، یا میں ہوتا تھا یا اس کی کلاس فیلو۔ اس کے علاوہ بھی بہت بار بہن کو سیکس کرتے دیکھا، وہ میری سگی بہن ہے، میں اسے خود چود نہیں سکتا ، مگر چدتے ہوئے دیکھ کر ہی مزے لے لیتا ہوں ۔