
جیسے ہی میں نے جھٹکا مارا، اس کی آواز آئی: “اے کی کیتا ای ظالما!” میں حیران ہوا کہ پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے اشارہ کیا، میں نے اپنا لوڑا باہر نکالا اور پھر اسی سپیڈ سے گھسا دیا۔ اس کی آواز منہ میں ہی دب گئی جو کچھ بولنے لگی تھی، اور میری حالت بھی عجیب تھی۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے لن ابلتے پانی میں ڈال دیا ہو، اتنی گرمی تھی اس کی پھدی میں کہ مجھے لگا جیسے میرا للا جل رہا ہے۔ ادھر چھنو نے ایک اور حرکت کی، اپنی ٹانگوں کا شکنجہ کس لیا۔ میری کمر کا کڑاکا نکل گیا۔ سالی میں اتنی طاقت سچ میں تھی یا اس وقت جوش میں تھی، اس لیے اتنی طاقت آ گئی تھی۔
میں چھنو کے اوپر تھا، میرا سینہ اس کے مموں سے لگا تھا۔ مجھے ابھی سیکس کی الف ب کا بھی نہیں پتہ تھا، صرف کچھ بار چدائی ہوتی دیکھی تھی۔ میں شش و پنج میں تھا کہ اب کیا کرنا ہے۔ میں نے تو بھا کو عاصمہ کی پھدی میں تیز رفتار روٹر چلاتے دیکھا تھا اور یہ چھنو مجھے بے بس کر کے اپنی ٹانگوں کے شکنجے میں جکڑ چکی تھی۔ کوئی دو منٹ بعد اس نے میرے ہونٹ چوسنے شروع کر دیے اور ساتھ ہی اپنی ٹانگوں کو ڈھیلا کر دیا اور بولی: “آرام نال کریں، تو تاں میری جان کڈ دتی سی، انج وی کوئی کردا اے؟ اک واری اکو ای جھٹکے ٹھوک دتا ای، میری پھدی دا بیڑا غرق ہو جانا سی”۔
میں سمجھ گیا کہ اب ٹائم آ گیا ہے مشین چلانے کا۔ میں نے بھی اپنے ہینڈل کو کس لیا اور آہستہ آہستہ راڈ کو اندر باہر کرنے لگ گیا، ساتھ چھنو کے ہونٹوں کو چوسنے لگ گیا۔ وہ بھی مست ہونے لگی، اس میں پہلے والی گرمی آنے لگی جو کچھ دیر پہلے راکٹ کے غیر متوقع حملے کی وجہ سے کہیں غائب ہو گئی تھی۔
اس نے دیوانہ وار میرے لب چوسنے شروع کر دیے، اس کی سانسیں میری سانسوں میں گم ہونے لگ گئیں، ساتھ اس نے اپنی زبان میرے منہ میں داخل کر دی۔ مجھے تو سمجھو ایسا لگا جیسے دیسی گھی کی برفی کی ڈلی میرے منہ میں آ گئی ہو، میں نے اسے کھانا شروع کر دیا۔ اس کی مستی میں اور اضافہ ہوا اور میرے راکٹ کے حملے میں بھی اس کی برفی جیسی رسیلی زبان کی چوسائی سے شدت آ گئی۔ اس سپیڈ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کی زبان میرے دانتوں میں آ گئی، پر اسے کوئی احساس نہیں تھا۔ اس نے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر نیچے سے پورا لن لینا شروع کر دیا۔ میں نے بھی اپنی بنڈ کا پورا زور لگانا شروع کر دیا، جیسے جیسے میری سپیڈ بڑھتی جا رہی تھی اس کی عجیب حالت ہوتی جا رہی تھی۔ اس کی صرف سانسوں کی آوازیں نکل رہی تھیں اور منہ کس کے بند کیا ہوا تھا۔
مجھے بھی جوش چڑھ گیا؛ ایک چڑھتی جوانی کی طاقت، دوسرا ننگی گرم پھدی میں لن ہو تو بندے کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ میں نے اس طاقت کا استعمال شروع کر دیا۔ اس کی ایک سسکی نکلی، پھر دوسری، رک رک کر کچھ دیر سسکیاں نکلیں، اس کے بعد تو تواتر سے آنے لگیں: “آہ آہ آہ آہ”۔ آہستہ آہستہ آواز بھی بدلنے لگ گئی: “آااااااااااہہہہککہہہہہہہہہہہ”۔ بے ربط سی آوازیں آنا شروع ہو گئیں جو میرے جوش میں اضافے کا باعث بن رہی تھیں، ساتھ ہی اس نے بولنا شروع کر دیا: “بلو! پپپپپپووووورررراااا زززززووووررررر لللاااا کے مار، پوووووووررررراااا پپپااااااا”۔ میں اپنے کام میں لگا رہا، اس کی آوازوں سے بے نیاز دھکے پہ دھکا مارتا رہا۔ اس کی آوازوں میں شدت آتی گئی۔ مجھے چودتے ہوئے کوئی 6 منٹ سے اوپر ہو گئے تھے اور ایک ہی پوزیشن میں لگا ہوا تھا۔ اس نے ہاتھ سے اپنی قمیض اوپر کی اور اپنے ممے نکال کر مسلتے ہوئے میرا منہ ان پر رکھ دیا۔
میری نظر اس کے مموں پر پڑی تو مجھے عاصمہ اور نجاں کے ممے یاد آ گئے، ان کے مقابلے میں اس کے ممے کچھ بھی نہیں تھے۔ ایک بڑا سا نپل اور 32 سائز کے ممے۔ مموں کے سائز کے حساب سے نپل بڑا تھا، کیونکہ مجھے سیکس کا اندازہ نہیں تھا اس لیے سمجھ نہیں سکا، میں یہی سوچ رہا تھا کہ اس نے پھر میرا منہ اپنے مموں پر رکھ دیا اور میں نے اس کے نپل منہ میں لیے اور چوسنے لگ گیا۔ نیچے اس کی پھدی میں لن، اوپر ممے منہ میں، اس کی حالت بسترِ مرگ پر تڑپتے نوجوان جیسی ہو گئی۔ اس نے آہوں سے کمرہ سر پر اٹھا لیا۔ میں نے بھی اپنے لن کا پمپ ایکشن پھر سے سٹارٹ کر دیا۔
اس کی آوازیں اونچی ہوتی گئیں: “آااااا ااااہہہہہہییییہہہہہہہہ اااااااا بببببللللللوووؤوؤ پاپپپپڑڑڑڑڑڑڑ ددددددےےےےےےےےےے”۔ اس کے ساتھ ہی اس نے ایک جھٹکا لیا اور مجھے پھر سے جکڑ لیا۔ میرا لن اس کی پھدی میں جڑ تک اتر گیا اور میرا منہ اس کے مموں پر تھا۔ اس نے مجھے اپنے بازوؤں میں جکڑا ہوا تھا، میرا سانس رکنے لگ گیا۔ نیچے سے اس نے اپنی ٹانگوں سے میری کمر کو باندھ رکھا تھا، میں بے بس تھا۔ اس نے ایک جھٹکا کھایا، چند لمحوں بعد دوسرا، مجھے اپنے لن پر بھی کسی چیز کی گرفت محسوس ہوئی، ساتھ ہی لن پر گرم گرم پانی کی ٹکور کا احساس ہوا۔ میرے اندر ایک سرور کی لہر دوڑ گئی، لیکن میری سانس اس کی گرفت میں رک رہی تھی۔ اس کے فارغ ہونے کا انداز وحشیانہ تھا۔
میں اس کے وحشی پن کا شکار ہو رہا تھا، اس سے پہلے کہ میری سانس رک جاتی اور میں پھدی مارتے مارتے پرلوک سدھار جاتا، اس ظالم کو ترس آ گیا۔ اس نے اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑا تو میں نے زور سے سانس لی جو اس کے مموں میں ہی نکلی۔
جیسے ہی فارغ ہوئی، اس نے مجھے پیچھے ہونے کو کہا تو میں پہلی بار بولا: “کی ہویا؟” تو اس نے کہا: “بس ہن، ہور کی؟ اینا تھوڑا اے؟ کجھ دیر بعد پھر کھڑا ہو گیا تاں کرلاں گے”۔ میں نے لن نکال کر اس کے سامنے کیا اور بولا: “ویکھ آ تے کھڑا ای اے”۔ وہ حیران ہوتے ہوئے بولی: “تو چھٹیا نہیں؟” میں نے بدھوں کے سرداروں کی طرح اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا: “آ جا پھر، پا وچ، جلدی چھٹ جا”۔ میں نے جلدی سے اس کی پھدی میں لن گھسا دیا اور اندھا دھند ٹھکائی شروع کر دی، جیسے بھوکے کو کھیر مل جائے تو وہ ٹوٹ پڑتا ہے، میں بھی ایسے ہی ٹوٹ پڑا۔ اس کی آہوں کی پروا کیے بغیر چودتا رہا۔ کوئی 6، 7 منٹ بعد اس کی چیخیں پھر سے شروع ہو گئیں: “آاااااا چو چچچچچچچوووووووددددد ممممیییننننووو، میری پھھھھھھددددددیییییی پپپپاااااڑڑڑڑڑ دے، اااااآآآہہہہہہہہ آاااااووووووووئئئئئئیییییییہ اااممممممیییییی ججججییی ببببلللووووووووووو ماااااررررر زززززوووووورررررر ناااااللللل مااااررررر”۔
اس کے ساتھ ہی اس کا جسم اکڑا، مجھے پتہ لگ گیا، اس نے مجھے اپنی باہوں میں لینے کی کوشش کی، میں پہلے تجربے سے سیکھ چکا تھا اس لیے پیچھے ہو گیا اور اپنے ہاتھوں پر زور ڈال کر گوڈا (جھکا) ہوا تھا۔ اس کی باہوں کی رینج سے باہر تھا لیکن کمر پر اس نے اپنی ٹانگیں کس لیں، مجھے پھر رکنا پڑا۔ کچھ دیر وہ فارغ ہوتی رہی، پھر بولی: “ہن تاں بس”۔ میں نے نفی میں سر ہلایا، اس کی آنکھوں میں حیرانی تھی۔ اس نے ہاتھ سے لن پکڑ کر باہر نکالا اور دبا کر دیکھا، اس کی آنکھوں میں شدید پریشانی تھی۔ میں نے اس کو الٹا ہونے کو کہا، وہ بولی: “نہیں، اوتھوں نہیں”۔ میں نے کچھ نہ سنی، پکڑ کر الٹا کیا اور پھدی پر لن سیٹ کیا اور اپنی ازلی لاپروائی سے گھسا دیا۔ اس کی سسکی نکلی، ایک تو پھدی دو بار فارغ ہونے کی وجہ سے گیلی تھی، دوسرا لن کچھ زیادہ ہی سخت تھا اس لیے اندر گہرائی میں جا کر لگا۔ اس نے پیچھے مڑ کر کہا: “تو انسان نہیں بن سکدا”۔ میں نے سنی ان سنی کی اور سپیڈ سے چودنا شروع کر دیا۔ اس کی آہیں اور چیخیں مکس ہونے لگیں۔ میں نے ایسے چودنا شروع کیا جیسے آج کے بعد مجھے یہ ملنی نہیں۔ اس کی پھدی میں پانی تھا اور دوسرا میں نے اس کو گوڈا کیا ہوا تھا اور قمیض اس نے اپنے دانتوں میں دبائی ہوئی تھی۔ میری رانیں اس کی ابھری ہوئی گانڈ پر لگتیں تو تھپ تھپ کی آواز آتی۔ اسی طرح کافی دیر چودنے کے بعد اس کی بس ہو گئی اور وہ نیچے گر گئی، میں اس کے اوپر گرتا گیا۔ لن اس کے نیچے گرنے کی وجہ سے باہر نکل گیا تھا اور اس کی پھدی کے پانی سے گیلا تھا۔ میں نے اندھا دھند اس کے اوپر گرتے ہی گھسا مارا، اس کی دلخراش آواز نکلی: “آہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ کڈ باہر ایہنوں کتیا! آہ کتھے پا دتا ای؟” اس نے رونا شروع کر دیا ۔
میری تو بنڈ بندوق ہو گئی، مجھے کچھ سمجھ نہ آئی لیکن ڈر گیا۔ اسی وقت زور زور سے دروازہ کھٹکا، اس کو بھی ہوش آ گیا۔ اس نے جلدی سے میرے نیچے سے نکل کر اپنی شلوار اٹھائی اور پہن لی اور مجھے کہا: “ہن بدھوں وانگوں منہ کھول کے کیوں کھڑا ایں؟ جلدی نال شلوار پا کے او بیڈ دے پیچھے لک جا”۔ میں بھی سمجھ گیا کہ بھئی بلو! ہن نہیں بچدا، چھاپہ پے گیا ای، آج تیری خیر نہیں۔ میں نے جلدی سے شلوار پہنی، اس دوران دو دفعہ دروازہ کھڑک چکا تھا۔ چھنو اپنے کپڑے درست کرتی مجھے ایک دفعہ پھر اشارے سے چھپنے کی جگہ سمجھاتے ہوئے باہر نکل گئی۔ اس کے پہنچنے تک ایک بار پھر دروازہ دھڑ دھڑ بجا، وہ اونچی آواز میں بولی: “کون ایں؟” آگے سے بولنے والے کی آواز سن کر میری گانڈ پھٹ گئی، میری ٹانگیں بے جان ہو گئیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی اور آواز آتی، میں بھاگ کر بیڈ کے پیچھے اس جگہ جہاں چھنو اشارہ کر کے گئی تھی، چھپ گیا۔ باہر اونچی آواز میں بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں جو آہستہ آہستہ میرے نزدیک آتی جا رہی تھیں۔ جیسے جیسے وہ آوازیں نزدیک آ رہی تھیں، میری سانسیں بند ہوتی جا رہی تھیں، میرا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ مجھے موت اپنے سر پر نظر آ رہی تھی۔۔۔۔۔