میں نے آنکھیں موندھ لیں اور اپنے آپ کو پرسکون کرنے لگ گیا ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ مجھے اپنے لن پر نرم نرم چیز کا احساس ہوا پھر وہ احساس حقیقت میں بدلتا گیا کیوں کہ مجھے اپنے نتھنوں میں ایک عجیب سی مست کر دینے والی مہک کی شدید لہر کے بھبھکے آئےجو اتنے تیز اور شر انگیز تھے کہ مجھے اپنے دماغ پر اثر انداز ہوتے محسوس ہوئے میں اس خوشبو کے سرور میں مست ہونے لگا اپنی آنکھوں کو اور زور سے بھینچ کر اپنے اندر اتارنے میں لگ گیا یہ مہک اتنی پر اثر تھی کہ مجھ پر اک نشہ سا سوار ہو گیا عین اسی وقت جب میں اس پرکیف احساس میں ڈوبا تھا میرے منہ پر کوئی چیز ٹکرائی میں نے ہڑ بڑا کر آنکھیں کھولیں تو دوستو میں اک نئے جہاں سے آشنا ہوا میرے عین منہ کے اوپر ایک نئی دنیا کا انگریزی کے حرف وی جیسا پھول شبنمی قطرے برساتا کھل اور بند ہو رہا تھا اس کی خوشبو نے تو میرے ہوش پہلے ہی گم کر دیے تھے لیکن جب دیدار کروایا تو میری حالت ناقابل بیاں ہو گئی پھر کیا تھا میں نے اپنا ہاتھ نکالا اور اس پھول کی دونوں پنکھڑیوں کو کھول کر اندر جھانکنے کی کوشش کی لیکن شاید اس اس پھول کی مالکہ کو یہ منظور نہیں تھا اس کی خواہش کچھ اور تھی اس نے ایک جھٹکے سے خود کو دور کیا اور پھر عین میرے ہونٹوں پر رکھ دیا۔
میں تو دوسری نہیں بلکہ کسی چوتھی دنیا میں پہنچ گیا اک جاوداں نشہ میرے اندر اترتا چلا گیا
میں نے اپنا منہ اس پھول کا رس چوسنے کے لیے جیسے ہی ابھرے ہوئے لبوں پر رکھا اس مدہوش کر دینے والی خوشبودار مہکتے پھول کی پنکھڑیوں کی مالک کے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور اس کی گرفت میرے لن پر سخت ہو گئی جو اس کی جان کن محنت کی وجہ سے اب سر اٹھا چکا تھاجیسے ہی اس کے جسم نے جھٹکا کھایا اس کی پھدی سے نکمین پانی نکل کر میرے لبوں سے ہوتا ہوا میرے منہ میں سے اپنارستہ بناتا اپنا ذائقہ ہر طرف پھیلاتا گلے تک پہنچتا گیا جس کو میں نے اپنے معدے میں اتار لیا اور جوش میں اس کی پانی ٹپکاتی پھدی کے ابھرے ہوئے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں جکڑ لیا اور چوسنے لگ گیا۔
اب ہم 69 کی پوزیشن میں تھے دوستو اس وقت مجھے اس پوزیشن کی الف ب کا بھی نہیں پتہ تھا بس بلیو فلموں میں دیکھا تھا۔
ایک طرف وہ میرے لن کو اپنے لبوں میں لیے لولی پاپ کی طرح چوس رہی تھی دوسری طرف اس کی پھدی کا رس میں اپنے ہونٹوں سے نچوڑنے میں مصروف تھے کچھ دیر اس کی پھدی کو ہونٹوں سے چوسنے کے بعد میں نے اس کی پھدی کے اندر اپنی زبان ڈال دی آآہہ کیا مزہ تھا اس کی پھدی کا اتنی گرمی کہ مجھے لگا کہ میری زبان پر جیسے اس کی پھدی میں لگی آگ سے چھالے بن گئیے ہوں مجھے کچھ بھی ہوش نہیں تھا کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی دو دفعہ پھدی مار چکا تھا اور یہ بھی نہیں سوچ رہا تھا کہ یہ سیکس کی پڑیا کون ہے جو ایک ہی وقت میں دوسری بار میرا لن منہ میں لے کر اپنی پھدی کو میرے منہ پر دبائے چدوانے کے لیے تڑپ رہی ہے ۔ مجھے پتہ تھا تو صرف اتنا کہ میں پھدی کا رس پی رہا ہوں اور میرا لن کسی کے نرم رسیلے ہونٹوں کی گرفت میں ہے جو مجھے بدمست کییے جا رہے ہیں میری زبان جیسے اس کی پھدی کی پھاڑیوں میں سے رستہ بناتی ہوئی اندر گھسی اس کی سسکی مجھے اپنے لن کی اکلوتی آنکھ میں پچک کی آواز کے ساتھ سنائی دی۔ اس نے اور زور سے جتنا لن منہ میں جا سکتا تھا لینے کی کوشش کی نیچے سے میں نے بھی جوش میں گھسا مارا لن اس کے گلے تک جا پہنچا اس کی غغغوووں کی آواز آئی پورا زور لگا کر لن کو باہر نکالا اور کھانسنے لگ گئی لیکن میں نے اپنی زبان کو اس کی پھدی کی گہرائی میں گول گول گھمانا شروع کر دیا جس سے اس نے کھانستے ہوئے آآہہہ کیا اور اور تیزی سے اپنی پھدی کو میرے منہ سےنکال کر آگے لیجا کر لن کے اوپر بیٹھ کر رگڑنے لگی میرا لن اس کی گانڈ کی نرم نرم گوشت کی پھاڑیوں سے ہوتا ہوا اس کی پھدی کے ابھرے ہوے لبوں سے رگڑ کھا تا اس کی آہہہ نکلتی اور وہ اور تیزی سے آگے پیچھے ہوتی لن کو اپنی گانڈ کے چوتڑوں میں لے کر دباتی پھر چھوڑ کر آگے ہو جاتی اس طرح کرنے سے میں سرورولطف میں ڈوب جاتا اور بے اختیا ر میرے منہ سے مزے سے بھرپور سسکی نکلتی میں نے اس کی کمر پر پر ہاتھ رکھا اور دوسرا ہاتھ اس کی گانڈ کے ایک طرف رکھ کر اس کو تیز تیز آگے پیچھے کرنے لگا یکدم اس کی سسکیاں تیز ہونے لگ گئیں اس نے بھی زور سے میرا لن اپنی پھدی کے ساتھ رگڑنا شروع کر دیا اور ایکدم آگے کو جھک کر لن پکڑ کر اپنی پھدی پر سیٹ کر کے پیچھے کو جھٹکا دیا اور لن اپنی پانی سے بھری پھدی میں لے لیا لن جیسے ہی اس کی پھدی میں گیا میرے پورے جسم میں لن کے رستے اس کی پھدی کی گرمی اترتی چلی گئی میں نے تیزی سے لن کو پیچھے کھینچ کر ںیچے سے گانڈ اٹھا کر گھسا مارا اور اس کے ساتھ ہی اس نے پورا وزن میرے لن پر ڈالنے کےلئے اپنی گانڈ اوپر اٹھائی اور سیدھی ہو کر لن پر بیٹھ گئی اور اس کی پھدی نے میرے لن کو اپنی گرفت میں ایسے کس لیا جیسے کسی قیدی کو پولیس والے ہتھکڑی ڈال کر بے بس کر دیتے ہیں میرا للا بھی اسی طرح بے بس تھا۔ اس کے جسم نے ایک زوردار جھٹکا کھایا اور وہ کمر کے بل میرے اوپر لیٹتی گئ جس سے میرا لوہے کےراڈ کی طرح اکڑا ہوا لن اس کی پھدی کی گرفت میں ساتھ مڑتا گیا اور میری درد سے آآہہہ نکل گئی میں نےلن نکالنے کی کوشش کی لیکن اس نے اپنی ٹانگوں کو اس انداز سے کسا ہوا تھا کہ میں کامیاب نہ ہوا میری جان نکلنے والی ہو گئ ادھر وہ جھٹکے کھاتے ہوئے میرے لن کو اپنی منی سے نہلاتی رہی۔
کچھ دیر جھٹکے کھانے کے بعد وہ فارغ ہوئی اس کی پھدی سے لن نکلا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور شلوار پہننے لگی تو میں تیزی سے اٹھا اس کو گرایا اور اس کے اوپر آکر لن اس کی پھدی پر سیٹ کر کے جھٹکا دیا لن ایک ہی جھٹکے میں اس کی پھدی کی گہرائی میں گم ہو گیا
ابھی تک اسکا نقاب نہیں کھلا تھا اس نے نقاب اس طرح کیا ہوا تھا جیسے منہ پر اکثر چور یا ڈکیٹ کسی مفلر یا اور کپڑے سے کس کر باندھ لیتے ہیں جو لڑائی کے دوران بھی نہیں کھلتا میں نے لن اس کی پھدی میں ڈالا تو اس کے چہرے پر نظر پڑی میں نے اچھا موقع سمجھ کر ایک ہاتھ اس کے نقاب کی طرف بڑھایا تو اس نے جلدی سے میری کمر کو کس کر پکڑتے ہوئے اپنے اوپر لٹا لیا میں نے کوشش کو ترک کیا اور سوچا لن تے چڑھے جو وی اے پھدی اچ میرا لن تاں لے رہی اے ۔میں نے اس کی پھدی کی دھلائی اپنی گانڈ کو تیز تیز ہلاتے ہوئے شروع کر دی۔
اس کی پھدی دو دفعہ پانی چھوڑ چکی تھی جس کی وجہ سے لن آسانی سے اند ر باہر ہو رہا تھا اور اس کی گیلی پھدی کی وجہ سے شڑپ شڑپ شڑپ شڑپ کی آوزیں آ رہی تھیں مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے لن بس پانی میں مار رہا ہوں بہت زیادہ رواں تھی اس کی پھدی تو میں نے اس کی ٹانگوں کے نیچے ہاتھ ڈال کر اس کی ٹانگیں اوپر اٹھا کر اسکے مموں سے لگا دیں لیکن اس نے میری کمر کو ڈھیلا نہ کیا جیسے ہی اس کی ٹانگیں اس کے مموں سے لگیں لن کو کھلا میدان مل گیا لن اس کی پھدی کی گہرائی میں جانے لگ گیا اس نے بھی پھدی کو ٹائٹ کر کے اور مزہ دینا شروع کر دیا لن اس کی پھدی میں جا کر لگتا تو اس کی آہہہہ نکلتی جو وہ دبا رہی تھی۔
میں بھی پورا زور لگا کر اس کی پھدی مار رہا تھا اس کی سسکیاں اس کے منہ میں کی دب رہی تھیں جو اس نے منہ شاید پورا زور لگا کر بھینچ کر روک رکھی تھیں۔
مجھے یہ دیکھ کر اور جوش آ رہا تھامیں اور زور لگا رہا تھا اس کی پھدی ٹائیٹ ہوتی گئی اس کی گرفت میری کمر پر سخت سے سخت ہوتی گئی ۔
اس نے نیچے سے اپنی بنڈ اٹھا کر لن کو پورا اندر لے کر پھدی کو پورا کس لیا میری آہہہہککککک کی آواز نکلی میں نے لن کو زور سے اندر باہر کرنا جاری رکھا اس نے بہت کوشش کی مجھے گھسے مارنے سےروکے لیکن میرے اندر جوش اپنے جوبن پر پہنچ چکا تھا میں نے گھسے مارنے جاری رکھے اور میری آواز لڑکھڑنے لگی آہہہہہہ آہہہہہ یییییی ااااااہہہہہیییییی سپیڈ تو جیسے ٹرین کو مات دے رہی تھی اس کی پھدی کا بھی رو رو کر برا حال تھا میرے گھسوں کی تاب نہ لا کر اس کی ایک زودار چیخ نکلی آااااااہہہکہہہہ ماردتا اییییییی بس ایک ہی بار نکلی اس نے میری کمر سے اپنا بایاں ہاتھ اٹھا کر اپنے منہ پر رکھ لیا لیکن میں تو ہوش میں تھا ہی نہیں جو یہ سمجھ سکتا کہ یہ آواز کس کی تھی۔
میں اندھا دھند اس کی پھدی میں لن سے خندق کھود رہا رھا تھااس کی پھدی کب کی رو رو کر چپ ہو چکی تھی اس نے اپنا سر دائیں بائیں مارنا شروع کر دیا اسی دوران دوران مجھے اپنی ٹانگوں کا سارا خون چڈوں کی طرف دوڑتا محسوس ہوا میری سپیڈ ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکی تھی لیکن اس شہوت زادی نے افف تک کی آواز نہ نکالی بس اپنے منہ کو ہاتھ سے بند کر کے آنکھیں بھینچ کر ایک ہاتھ میری کمر پر رکھ کر بس برداشت کر رہی تھی مجھے کچھ ہوش نہیں تھا میرے دماغ پر اس کی پھدی کی گرمی اور اپنے لن کی منی سوار تھی۔
یکدم مجھے ایسا لگا جیسے میرا سانس رک رہا ہے میں زور دار ہہہہہہووووووووں کی اور میرے لن سے اتنے زور سے پچکاری نکلی کہ نیچے اس کے جسم نے بھی جھٹکا کھایا میرے لن سے نکلنے والی یہ پچکاری اس کی بچہ دانی میں جا گری اس کے بعد میں اسکے اوپر گرتا چلا گیا اور جھٹکے کھاتے ہوے فارغ ہوتا گیا۔ اور مدہوشی کی وادیوں میں اترتا گیا۔۔۔۔۔۔۔
آج ایک وقت میں تھوڑے تھوڑے وقفے سے تیسری بار اپنا پانی دو مختلف پھدیوں میں نکالنے بعد میں کچھ نڈھال سا ہو گیا تھا کچھ دیر لیٹا سستاتا رہا پھر جب کچھ ہوا س بحال ہوے تو مجھے اس شہوت کی آگ میں جلتی ہوئی پھدی والی کا خیال آیا تو جلدی سے اٹھ کر ادھر ادھر دیکھا تو مجھے وہ کہیں نظر نہ آئی میں نے جلدی شلوار پہنی اور نالا باندھتے ہوئے باہر نکلا لیکن مجھے اس کا کوئی نام و نشان نہ ملا ۔
کچھ دیر اس کی تلاش میں نظروں کو گھماتے ہوئے میں اءک طرف چل پڑا پھر مجھے اپنی حالت کا خیال آیا تو کچھ سوچ کر اپنا رخ ٹیوب ویل کی طرف کر دیا راستے میں مجھے ایک اور ٹیوب ویل نظر آگیا دوستو میں اپنے ٹیوب ویل پر جا رہا تھا لیکن جب راستے راستے میں مجھے ایک اور ٹیوب ویل چلتا نظر آیا جس پر کوئی بھی نہیں تھا میں اس طرف چل دیا اور کپڑوں سمیت ہی نہایا اور نہا کر گیلے کپڑوں سمیت گھر کی طرف چل دیا جب میں گاوں کی حدود میں داخل ہو کر اپنے گھر والی گلی میں داخل ہوا تو مجھے وہی کپڑے پہنی ایک لڑکی نظر آئی جس می کمر دوسری طرف تھی اور وہ تیزی سے گلی میں مڑ گئی میں بھاگ کر اس گلی کی نکڑ پر گیا لیکن وہ پھر غائب میں نے کافی دیر اس گلی میں چکر لگائے لیکںن جب کوئی نہ نکلا بلکہ ایک اماں نے مجھے روک کر پوچھا پتر بلو ایں میں کہا ہاں کی حال اے اماں نے کہا ساڈا کی اے پتر بس زندگی نو روڑی جانی آں تو سنا امی ابے دا کی حال اوی آئے نیں کہ نہیں ۔
میں نے سارے ای آئے آں ماں۔ چلو پتر انی گرمی اچ گھروں نہ نکلیا کر تاپ چڑھ جائے گا ۔جا شاباش جا تے کسی ٹھنڈی تھا تے سو جا۔
میں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ورنہ اماں سے جان چھڑوانا مشکل لگ رہا تھا جلدی سے چنگا اماں میں جا تے سونا آں نکل گیا اور سیدھا گھر جا کر سو گیا تین پھدیوں کی چودائی کی وجہ سے کافی تھکا ہوا تھا اس لیے بس لیٹتے ہی نیند کی وادیوں میں اترتا چلا گیا اور خواب میں بھی اس کافرانہ حد تک سیکس کی شوقین لڑکی کو چودتا رہا ۔
شام کو سو کر اٹھا پھر وہی روٹین کوئی خاص نہ ہوا دو تین دن ہمیں صبح سے لے کر شام تک گندم کی کٹائی کا موسم تھا کھیتوں میں لے جاتے شام کو آتے تھکے ہارے سو جاتے کافی چکر چلانے کی کوشش کی میں نے لیکن میرے تائے نے ایک نہ چلنے دی بالو کو اور مجھے لے جاتا کیوں کہ ہم ہی شہر سے چھٹیاں گزارنے آئے تھے ۔
چوتھے دن مجھے صبح صبح بھا بوٹا ساتھ لے کر دوکان پر گیا دوکان گاوں کے دوسری طرف تھی جہاں جانے کے لیے ہمیں چھنو کے گھر کے سامنے سے گزرنا پڑتا تھا جیسے ہی ہم چھنو کے گھر کے پاس سے گزرے تو مجھے اس کے گھر کی چھت پر وہ ہی سوٹ نظر آیا جو اس دن کماد میں میرے ساتھ سیکس کا کھیل کھیلنے والی لڑکی نے پہنا ہوا تھا مجھے اس کی قمیض کا کلر یاد تھا جو کہ فیروزی تھا اور سوٹ پر بڑے بڑے پھول بنے ہوئے تھے ۔
میں غور سے دیکھتا بھا کے ڈاتھ جارہا تھا کہ مجھے چھت پر چھنو کی بڑی ایک بھتیجی نظر آئی جو کہ اس کے کزن کی بیٹی تھی اور بھرپور جوان تھی 5فٹ 6 انچ قد بڑی بڑی آنکھیں جن کا رنگ براون تھا اور پتلی 28 کی کمر باہر کو نکلی ہو بھری بھری 32 کی گانڈ اور 36 کے کسے ہوئے ممے گلابی رنگت ستواں ? ناک پتلے پتلے لال ہونٹ گال جیسے پکے ہوئے سیب ہوتے ہیں چلتی تھی تو ایسے لگتا تھا جیسے کوئی ماڈل کیٹ واک کر رہی ہوں اپنی گانڈ کو مٹکا کر اور سینہ چوڑا کر کے گردن اکڑا کر میں نے کئی دفعہ اس پر لائین ماری لیکن اس نے مجھے گھاس نہیں ڈالی تھی مجھے فجے نے بتایا تھا کہ اس کا کسی کے ساتھ چکر ہے ۔ میں نے پھر اس پر ٹرائی مارنے کی کوشش کی اس کی طرف دیکھا اس نے بھی اک ادا سے میری طرف دیکھ کر سر کو جھٹکا دیا ۔
اتنی دیرمیں میں ہم آگے گزر گئیے اور دوکان پر چلے گئے اور میں یہ سوچنے لگ گیا کہ سگر یہ کپڑے ادھر ہیں تو اس دن چھنو ہی ہو گی لیکن چھنو کی پھدی میں دیکھی ہوئی تھی اس کا فگر مجھے ازبر تھا یہ یقیناً کوئی اور تھی میں یہ ہی سوچتا ہوا بھا کے ساتھ گیا دوکان سے سودا لیا اور واپس آئے تو چھت پر کوئی سوٹ نہ تھا لیکن جیسے ہم چھنو کے گھر کے پاس سے گزرے تو وہی اس کی بھتیجی اپنی گانڈ مٹکاتی گھر سے نکلی اور میری طرف نشیلی آنکھوں سے دیکھا مجھے یوں لگا جیسے وہ مسکرائی ہو تیزی سے میرے پاس سے گزر گئی ۔
جیسے ہی وہ میرے پاس سے گزری میرے اندر ایک جھماکا ہوا یہ تو ۔۔۔۔۔