br>
ثانی۔ بس بھائی آج شادی ہے کل ولیمہ ہو گا اس کے بعد ہم لوگ واپس آجائیں گے، ابو تو ایک ہفتہ کے لیے لاہور جا رہے ہیں، امی اور میں واپس آجائیں گے۔
میں۔۔۔۔۔ اچھا جی۔
ثانی۔۔۔۔۔ بھائی امی سے بات کریں۔
امی۔۔۔۔۔ کامران کیسے ہو؟
میں۔۔۔۔۔ جان کو مس کر رہا ہوں جلدی آجاؤ اب تو تمہارا شوہر بھی ایک ہفتہ کے لیے جا رہا ہے۔
امی۔۔۔۔۔ بدتمیز! میرا شوہر تمہارا باپ ہے سمجھے، اور ہاں میرا موبائل خراب ہو گیا ہے۔
میں۔۔۔۔۔ جان کراچی آؤ گی تو دوسرا لے دوں گا، تمہارا دوسرا شوہر ہے نہ اپنی سیکسی اور گرم بیوی کی فرمائشیں پوری کرنے کے لیے۔
امی۔۔۔۔۔ بہت بے شرم ہو گئے ہو، اچھا اب مجھے نہانے جانا ہے تم ثانی سے بات کرو۔
ثانی۔۔۔۔۔ بھائی میرا بیلنس ختم ہو گیا ہے۔
میں۔۔۔۔۔ میری گڑیا میں ڈال دوں گا بولو کتنا ڈالوں؟
ثانی۔۔۔۔۔ جتنا آپ ڈالنا چاہیں ڈال دیں۔
میں۔۔۔۔۔ گڑیا پورا ڈال دوں؟
ثانی۔۔۔۔۔ کیا پورا ڈالنا ہے؟
میں۔۔۔۔۔ میری گڑیا بیلنس کا بولا ہے کتنا ڈالنا ہے؟
ثانی۔۔۔۔۔ ڈالتے ہوئے نہیں پوچھتے کتنا ڈالنا ہے۔
میں۔۔۔۔۔ ثانی میں بیلنس کی بات کر رہا ہوں۔
ثانی۔۔۔۔۔ بھائی آپ دیکھ لیں جتنا ڈالنا ہو ڈال دیں۔ بھائی آپ 500 کا بیلنس ڈال دیں بس اب سمجھ آگئی۔
میں۔۔۔۔۔ جی میری گڑیا ڈال دوں گا۔
ثانی۔۔۔۔۔ اوکے بھائی امی بلا رہی ہیں پھر بات کرتی ہوں اور ڈالنا مت بھولیے گا!
یہ کہہ کر ثانی نے فون کاٹ دیا۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ ہو کیا رہا ہے، ثانی بھی میرے نیچے آنے کو تیار لگ رہی ہے لیکن ثانی تو ابھی بہت چھوٹی ہے وہ تو میرا ایک جھٹکا بھی برداشت نہیں کرے گی، اس کی چوت تو ابھی بہت چھوٹی ہے، اگر امی کو پتا چل گیا کہ ثانی کو بھی چود دیا ہے تو حالات خراب ہو جائیں گے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
شاپ پر کسٹمر آنے لگے میں اپنے کام میں بزی ہو گیا۔ 5 بجے نازی کا میسج آیا "جان 5 بج گئے ہیں اب آجائیں"۔ میں نے نازی کو کال کی اور کہا "بس بیگم آرہا ہوں" اور فون کاٹ دیا۔ اسلم صاحب کو سب کچھ سمجھا کر میں شاپ سے نکل آیا اور یہ دل میں سوچنے لگا کہ عورت بیوی ہو یا بہن، چودائی کروانے کے بعد الگ قسم کی محبت ہو جاتی ہے اور نازی بھی چودائی کروانے کے بعد والی محبت میں گرفتار ہو گئی ہے۔
یہ سوچتے ہوئے میں جیولری کی شاپ پر پہنچا اور نازیہ کی منہ دکھائی کے لیے ایک سونے کی اچھی سی رنگ لی اور بائیک گھر کی طرف موڑ لی۔ نازیہ کا میسج آیا "کہاں ہیں؟" میں نے ریپلائی دیا "جان آرہا ہوں"۔ گھر پہنچا تو گیٹ نازیہ نے کھولا۔ نازیہ نے پنک کلر کا کرتا اور بلیک ٹائٹ پجامہ پہنا تھا، ہلکا ہلکا میک اپ اور آنکھوں میں کاجل، بال پونی اسٹائل میں بنائے ہوئے تھے۔ نازی کو دیکھا تو وہ بالکل نئی نویلی دلہن کی طرح اپنے شوہر کے آنے سے پہلے تیار ہوئی تھی۔
نازی مجھے ایسے دیکھتے ہوئے۔۔۔۔۔ کیا ہوا؟ ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟
میں۔۔۔۔۔ جان اپنی پیاری بیوی کو، بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔
نازی۔۔۔۔۔ اچھا اندر آئیں ابھی رومنٹک نہ بنیں خالہ اندر ہیں۔
میں اندر گیا تو خالہ لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔ خالہ کو دیکھا تو خالہ بھی قیامت لگ رہی تھیں۔ خالہ نے سی گرین ٹائٹ شلوار قمیض پہنی تھی جس سے خالہ کی برا صاف نظر آرہی تھی اور شرٹ کا گلا بھی کافی لو کٹ تھا، خالہ جس اسٹائل میں بیٹھی تھیں اس کی وجہ سے ان کے ممے ایسے نظر آرہے تھے کہ ابھی شرٹ سے باہر آجائیں گے۔
خالہ نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ آؤ بھانجے، خیریت آج تو جلدی آگئے، آج کوئی خاص پروگرام ہے؟
نازیہ بھی لاؤنج میں آگئی اور بولی۔۔۔۔۔ بھائی آپ فریش ہو جائیں تو چائے بنا دوں۔
خالہ بولیں۔۔۔۔۔ جاؤ بھانجے فریش ہو جاؤ، پھر چائے پی کر مجھے گھر چھوڑ کر آجاؤ۔
میں۔۔۔۔۔ کیوں خالہ آپ رکیں گی نہیں؟
خالہ بولیں۔۔۔۔۔ بھانجے سسر صاحب گھر آگئے ہیں تو اس لیے جانا پڑے گا، صبح آجاؤں گی۔
میں اوپر آیا اور نہانے کے بعد جینز اور ٹی شرٹ پہن کر نیچے آیا تو نازیہ چائے لے کر آگئی۔
خالہ نے مجھے دیکھا تو بولیں۔۔۔۔۔ کیا بھانجے آج کوئی اسپیشل پروگرام ہے؟ بہت اچھے لگ رہے ہو اور آج تو پہلی دفعہ نازیہ کو بھی اس طرح تیار دیکھا ہے، یہ چکر کیا ہے؟
میں۔۔۔۔۔ ارے خالہ کچھ نہیں، آپ رک جاتیں تو ہم تینوں باہر کھانا کھانے چلتے۔
خالہ بولیں۔۔۔۔۔ باجی کے نہ ہونے سے تم بھائی بہن کے مزے لگے ہیں، آج پھر باہر جانے کا موڈ ہے؟
میں۔۔۔۔۔ خالہ کبھی کبھی تو موقع ملتا ہے۔
خالہ۔۔۔۔۔ بھانجے اس موقع کا تم دونوں فائدہ اٹھا رہے ہو۔
میں نے بات بدلتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ خالہ ایسے ہی باہر آؤٹنگ کرنے جائیں گے۔
خالہ بولیں۔۔۔۔۔ اوکے اب مجھے گھر چھوڑ کر آؤ۔
میں بھی یہی چاہ رہا تھا کہ خالہ جلدی گھر جائیں تو میں نازیہ کو لے کر باہر جاؤں۔ میں نے بائیک نکالی خالہ پیچھے بیٹھ گئیں۔ نازیہ نے گیٹ بند کیا۔ خالہ بیک سے ممے ٹچ کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔ بھانجے مبارک ہو بہن کی کنواری چوت!
یہ سنتے ہی میں نے ایک دم بریک لگا دی اور بولا۔۔۔۔۔ خالہ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟
خالہ بولیں۔۔۔۔۔ بھانجے بائیک چلاؤ پریشان نہ ہو۔
میں۔۔۔۔۔ خالہ یہ کیسے آپ نے کہا؟
خالہ بولیں۔۔۔۔۔ بھانجے میں یہ بات یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ کل رات تم نے نازیہ کی کنواری چوت لے لی ہے جس کا ثبوت میں نے تمہاری امی کی بیڈ شیٹ پر دیکھ لیا ہے۔ رات تم نے نازیہ کی چوت پھاڑ دی ہے۔ میں نے نازیہ سے کوئی بات نہیں کی اب تم مجھے بتاؤ۔ اور تم فکر نہیں کرو میں تمہاری دوست ہوں اور تم نے مجھے بھی تو چودا ہے۔
میں نے سوچا اب خالہ سے کیا چھپانا اور ان کو کہہ دیا۔۔۔۔۔ جی خالہ آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔
خالہ۔۔۔۔۔ آج بھی میں اسی وجہ سے گھر جا رہی ہوں کہ تم آج کی رات بھی نازیہ کو چود سکو لیکن ایک شرط ہے کہ تم مجھے بھی چودو گے تو پھر یہ راز میرے تک رہے گا۔
میں۔۔۔۔۔ خالہ آپ جیسا کہیں گی ویسا ہی ہو گا۔
خالہ۔۔۔۔۔ گڈ بھانجے، رات کو نازیہ کی چوت کا مزہ لو اور صبح مجھے تم لینے آنا اور جب لینے آؤ پھر مجھے بھی چودنا میری چوت کی پیاس اور بڑھ گئی ہے جب سے تمہارا لن چوت میں گیا ہے، چوت کی پیاس بڑھ گئی ہے۔
خالہ نے ممے میری بیک سے دباتے ہوئے کہا۔ اسی طرح باتیں کرتے ہوئے خالہ کا گھر آگیا۔ خالہ کو اتارا تو وہ بولیں۔۔۔۔۔ رات کتنی دفعہ نازی کو چودا؟
میں۔۔۔۔۔ خالہ بس ایک دفعہ۔
خالہ۔۔۔۔۔ اوکے آج عیاشی کرو دو دفعہ چودنا۔ مجھے تو نازی کو دیکھتے ہی پتا چل گیا تھا کہ رات کو تم دونوں نے کچھ کیا ہے تمہاری چودائی نے نازیہ کو اور زیادہ خوبصورت کر دیا ہے۔
خالہ نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہا کہ صبح آجانا۔ میں نے خالہ کے ممے دباتے ہوئے کہا اوکے جی آجاؤں گا۔ میں نے بائیک اپنے گھر کی طرف موڑ لی اور یہ فیصلہ کیا کہ یہ سب باتیں میں نازی کو نہیں بتاؤں گا وہ پریشان ہو جائے گی۔ گھر پہنچا تو نازی نے گیٹ کھولا۔
میں۔۔۔۔۔ بیگم بائیک پر چلنا ہے یا گاڑی پر؟
نازی۔۔۔۔۔ بائیک پر۔
میں۔۔۔۔۔ آجاؤ۔
نازی۔۔۔۔۔ میں عبایا پہن کر آتی ہوں۔
میں۔۔۔۔۔ جان ایسے ہی آجاؤ آج عبایا نہ پہنو۔
نازی۔۔۔۔۔ ایک منٹ رکیں آرہی ہوں۔
تھوڑی دیر بعد نازی آگئی، گیٹ لاک کیا اور بائیک پر مجھ سے چپک کر بیٹھ گئی۔
میں۔۔۔۔۔ جی بیگم کہاں چلنا ہے؟
نازی۔۔۔۔۔ کامی جہاں آپ کا دل کرے۔
نازی کے ممے میری بیک سے ٹچ تھے اور ایک ہاتھ میری ران پر رکھا ہوا تھا۔ ہم دونوں ایک نیولی میرڈ کپل لگ رہے تھے۔
نازی۔۔۔۔۔ کامی مجھے موتیے کے گجرے لے کر دیں نا۔
میں۔۔۔۔۔ بیگم واپسی پر لے دوں گا۔
نازی۔۔۔۔۔ خالہ کو تو کوئی شک نہیں ہوا؟
میں۔۔۔۔۔ نہیں تو۔
نازی۔۔۔۔۔ آج خالہ کہہ رہی تھیں کہ تم میں بہت تبدیلی آگئی ہے میں تو چپ رہی کوئی جواب نہیں دیا، کامی امی کو اگر خالہ نے بتا دیا تو کیا ہو گا؟
میں۔۔۔۔۔ جان نہیں بتائیں گی۔
نازی۔۔۔۔۔ کامی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔
میں۔۔۔۔۔ جان ڈرو نہیں میں ہوں نہ میں سب ہینڈل کر لوں گا۔
نازی۔۔۔۔۔ کامی بس اب تو نازی آپ کی ہو گئی ہے۔ آج سارا دن آپ کو یاد کیا، یہ میاں بیوی والا بھی پیار کیسا ہوتا ہے۔
میں۔۔۔۔۔ جان ہمارا پیار "گھر کا پیار" جو ہے، اور جان میں اب تمہارا ہوں۔
نازی۔۔۔۔۔ کامی بس میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ بس آپ میرے ہی رہیں۔
باتیں کرتے کرتے ہم لوگ پیزا ہٹ پہنچ گئے۔ وہاں ایک مانگنے والی عورت آگئی اور دعائیں دینے لگی "جوڑی سلامت رہے بابو، اپنی بیوی کا صدقہ دے"۔ میں نے اس کو پیسے دیے اور پیزا ہٹ میں داخل ہو گئے۔
نازی۔۔۔۔۔ کامی ہم دونوں تو اب کہیں سے بھی بھائی بہن نہیں لگ رہے، دیکھو لوگ کس طرح ہمیں دیکھ رہے ہیں اور آج آپ نے عبایا بھی نہیں پہننے دیا۔
میں۔۔۔۔۔ نازی تم ٹھیک کہہ رہی ہو سب کی نظریں ہماری طرف ہیں۔
ہم لوگ ایک ایسی جگہ بیٹھ گئے جہاں کم لوگ تھے۔ نازیہ نے اپنی پسند کا پیزا آرڈر کیا۔ ہم نے پیزا کھایا اور باہر آگئے۔
نازی۔۔۔۔۔ کامی چلیں تھوڑا اس شاپنگ مال کا چکر لگا لیں۔
میں۔۔۔۔۔ چلو جان۔
ہم لوگ شاپنگ سینٹر میں چلے گئے۔ گھومتے گھومتے مجھے انڈر گارمنٹس کی ایک شاپ نظر آئی۔
میں۔۔۔۔۔ نازی یہاں سے کچھ لینا ہے؟
نازی۔۔۔۔۔ کامی ایک نائٹی لے لیں۔
میں اور نازی اندر گئے۔ سیلز گرل نے نائٹی دکھاتے ہوئے کہا "میم یہ والی نائٹی آپ پر بہت اچھی لگے گی"۔ وہ ہاف ٹرانسپیرنٹ نائٹی تھی۔
نازی۔۔۔۔۔ نہیں اور کوئی دکھا دیں۔
میں۔۔۔۔۔ نازی یہ لے لو۔
نازی نے مجھے مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہا۔۔۔۔۔ اوکے جی۔
ہم نے وہاں سے نائٹی اور ٹراؤزر لیا۔ باہر سے موتیے کے گجرے دلوائے پھر پان کھایا۔
نازی۔۔۔۔۔ کامران اب گھر چلیں؟
ہم لوگ گھر پہنچ گئے۔ نازی مجھ سے لپٹ گئی میں نے نازی کو لپٹاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ جان آج تو سب لوگ ہمیں میاں بیوی ہی سمجھ رہے تھے۔
The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 17) appeared first on Urdu Stories.