br>
چوت مروانے کا اپنا ہی مزا ہے۔ میرا لن نازیہ کی بچہ دانی سے ٹکرا رہا تھا، جب لن بچہ دانی سے ٹکراتا تو نازیہ اپنی گانڈ میری طرف اور دباتی۔ کمرے میں بھائی بہن کی چودائی کی سیکسی آوازیں اور "تھپ تھپ" کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
نازیہ بولی: "کامی میں فارغ ہونے والی ہوں، آپ باہر فارغ ہونا۔"
نازیہ ایک دم سیدھی لیٹ گئی اور ٹانگیں کھول کر بولی: "جانی اندر کرو!"
میں نے لن چوت کے اندر کر دیا، نازی مجھ سے لپٹ گئی اور اپنی دونوں ٹانگیں میرے گرد لپیٹ کر چوت مروانے لگی۔ نازی میری زبان چوس رہی تھی، اب اس کی چوت نے میرے لن کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا اور نازیہ کی گرم چوت نے پانی چھوڑ دیا تھا۔ میرا لن بھی اب پانی نکالنے کو تیار تھا۔ میں نے لن چوت سے نکالا اور نازیہ کے گورے جسم پر اپنے لن کی منی نکال دی اور نڈھال ہو کر نازی کے برابر لیٹ گیا۔
نازی نے میری طرف کروٹ لے کر مجھے پیار کرنا شروع کر دیا۔ نازیہ بولی: "جانی مزا آگیا!" میرا ہاتھ اپنی چوت پر رکھتے ہوئے بولی: "جانی آج وعدہ کرو مجھے کبھی نہیں چھوڑنا اور اس چوت کی روز چودائی کرنا۔"
میں۔۔۔۔۔ جان چوت اور لن کا کھیل اب شروع ہو گیا ہے، اب یہ چلتا رہے گا اور تم میرے بچے کی ماں بھی بنو گی۔
نازیہ۔۔۔۔۔ جی جانی، تمہارا بچہ میں ہی پیدا کروں گی۔ اب نہ میں شادی کروں گی نہ آپ کرنا، بس اب ہم دونوں میاں بیوی بن گئے ہیں۔ میں نے آپ کو اپنا شوہر تسلیم کر لیا ہے اب کسی اور مرد کی میری زندگی میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
میں۔۔۔۔۔ جان میں نے بھی تم کو اپنی بیوی تسلیم کر لیا ہے، میری گرم اور سیکسی بیوی ہو۔
نازیہ۔۔۔۔۔ کامی اپنی بیوی کو پیشاب تو کروا دو۔
میں نازیہ کو لے کر واش روم میں آیا، پہلے نازیہ نے پیشاب کیا پھر میرا لن پکڑ کر بولی: "جانی اب میں آپ کو پیشاب کرواتی ہوں"۔ نازیہ نے میرا لن پکڑ کر مجھے بھی پیشاب کروایا۔ چودائی کرنے کے بعد دونوں کا ایک دوسرے کو پیشاب کروانے کا الگ ہی مزا ہے۔ ہم دونوں روم میں آگئے اور ننگے ایک دوسرے سے لپٹ کر سو گئے۔
صبح واش روم جانے کے لیے آنکھ کھلی تو اس وقت 10 بج رہے تھے۔ میں بیڈ سے اٹھ کر واش روم چلا گیا، واپس آیا تو نازی ننگی بیڈ پر سو رہی تھی۔ اس وقت نازی سوتے ہوئے بہت پیاری لگ رہی تھی۔ میں نازی کے برابر لیٹ کر اس کے سلکی بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔ رات کی چودائی نے نازی کو اور زیادہ پرکشش بنا دیا تھا۔ وہ بے خبر سو رہی تھی۔ میں نے نازی کے ہونٹوں پر کس کی تو اس کی آنکھ کھل گئی اور مجھے اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے بولی: "بھائی سونے دیں، رات کی چودائی کے بعد تو بہت اچھی نیند آئی تھی"۔
میں۔۔۔۔۔ جان دس بج گئے ہیں۔
نازی نے کروٹ دوسری طرف کر لی: "کامی ابھی اٹھنے کا موڈ نہیں ہے"۔
نازی کی گانڈ میری طرف تھی، میں نے پیچھے سے اپنا لن نازی کی گانڈ سے ٹچ کیا اور اس کے ساتھ لپٹ گیا، اپنا ایک ہاتھ آگے کر کے نازی کے مموں کو دبانے لگا۔
نازی۔۔۔۔۔ کیا ہے، سونے دیں۔
میں نے نازی کی گردن پر کس کی اور بولا: "جان رات کو مزا آیا؟"
نازی نے گانڈ لن پر دباتے ہوئے کہا: "جی کامی، سہاگ رات کا مزا آگیا"۔
میں نے ممے دباتے ہوئے کہا: "جان ایک اور دفعہ ہو جائے؟"
نازی۔۔۔۔۔ کیا ہو جائے؟
میں۔۔۔۔۔ جان لن دیکھو، تیار ہے چودنے کے لیے۔
میں نے نازی کو سیدھا کیا اور اس کے اوپر چڑھ گیا، لن نازی کی چوت سے رگڑنے لگا۔ نازی ننگی میرے نیچے تھی۔
نازی نے مجھے پیار کرتے ہوئے کہا: "سہاگ رات تو منا لی، میری منہ دکھائی کہاں ہے؟"
میں۔۔۔۔۔ بیگم آج تم دلہن کی طرح تیار ہونا، آج رات کو منہ دکھائی بھی دے دوں گا۔
نازیہ۔۔۔۔۔ جانی مذاق کر رہی تھی۔
میں۔۔۔۔۔ نازی آج سے ہم میاں بیوی بن گئے ہیں تو جان کو منہ دکھائی بھی دوں گا۔
میں اور نازی ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے پیار کر رہے تھے، نیچے سے لن نازی کی چوت کو پیار کر رہا تھا۔
میں۔۔۔۔۔ جان پھر کیا موڈ ہے؟
نازی۔۔۔۔۔ جانی اب تو میں آپ کی ہوں، میرے شوہر جو حکم دیں کنیز حاضر ہے۔
میں۔۔۔۔۔ جان تم کنیز نہیں میری شہزادی ہو۔ اندر لو گی؟
نازی۔۔۔۔۔ کیا اندر لینا ہے جان؟
میں۔۔۔۔۔ لن!
نازی۔۔۔۔۔ بھائی رات کو جو آپ نے چودائی کی تھی ابھی تک چوت میں درد ہے۔ جان میں اچھا سا نہا لوں اور آپ حلوہ پوری لے کر آئیں اپنی دلہن کے لیے، ناشتہ کر کے پھر جو کرنا ہے کر لیں۔
میں نازی کے اوپر سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ نازی نے لن کو دیکھا اور اسے پکڑ کر منہ میں لے لیا، چوستے ہوئے بولی: "رات اس لن نے کنواری چوت کا مزا لے لیا ہے اور نازی کو لڑکی سے عورت بنا دیا، بس اب اس شاندار لن پر میرا حق ہے"۔
نازی نے لن منہ سے نکالا اور نہانے چلی گئی۔ میں نے بھی نہایا اور چینج کر کے نیچے آیا تو نازی ٹاول لپیٹے بیٹھی تھی۔ میں نے اسے کس کی اور کہا: "جان آج ہم دونوں کپڑے نہیں پہنیں گے، دونوں آج ننگے رہیں گے"۔
نازی۔۔۔۔۔ جی جناب جو آپ کہیں، بس آپ حلوہ پوری لے کر آئیں میں چائے بناتی ہوں۔
میں بائیک نکال کر حلوہ پوری لینے چلا گیا۔ جب واپس آیا تو نازی ٹاول میں ہی تھی اور اب ہلکا ہلکا میک اپ بھی کیا تھا۔ نازی نے حلوہ پوری لے کر کہا: "آپ ٹیبل پر بیٹھیں میں ناشتہ لگاتی ہوں"۔ نازی کچن میں تھی کہ ڈور بیل بجی۔
نازی کچن سے نکلتے ہوئے بولی: "بھائی لگتا ہے خالہ آگئی ہیں، میں چینج کر کے آتی ہوں آپ گیٹ کھولیں"۔ نازی جلدی سے اپنے روم میں چلی گئی، میں نے گیٹ کھولا تو سامنے خالہ کھڑی تھیں۔
خالہ اندر آگئیں، میں نے گیٹ بند کیا تو نازی بھی ڈریس چینج کر کے آگئی تھی۔
خالہ۔۔۔۔۔ نازیہ ناشتہ کروا دو بہت بھوک لگی ہے، میں پیشاب کر کے آتی ہوں۔
خالہ واش روم چلی گئیں۔ نازی نے ناشتہ لگا دیا۔ خالہ باہر آئیں تو بولیں: "واؤ حلوہ پوری کا ناشتہ!"
خالہ اور نازی آمنے سامنے بیٹھے تھے اور میں نازی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ہم سب ناشتہ کرنے لگے، خالہ نے ناشتہ کرتے ہوئے نازی کو غور سے دیکھا اور بولیں: "نازیہ آج تو بہت چینج لگ رہی ہو، بہت پیاری اور فریش!"
نازیہ۔۔۔۔۔ خالہ ٹیسٹ ختم ہو گئے ہیں نہ، اس لیے فریش لگ رہی ہوں گی۔
خالہ۔۔۔۔۔ لیکن تمہارا چہرہ بہت گلو کر رہا ہے کل تو ایسا نہیں تھا، اور بھانجے تم بھی بہت فریش لگ رہے ہو۔
میں۔۔۔۔۔ خالہ رات کو نیند اچھی آئی تھی اس لیے۔
خالہ نے ناشتہ ختم کیا اور بولیں: "نازیہ میں چینج کر کے آتی ہوں بہت نیند آرہی ہے، ہسپتال میں ساری رات جاگتی رہی ہوں"۔ خالہ امی کے کمرے میں چینج کرنے چلی گئیں۔ میں نے نازی کو گلے لگایا تو وہ پریشان نظر آئی۔
میں۔۔۔۔۔ جان خیریت؟
نازیہ۔۔۔۔۔ بھائی خالہ امی کے کمرے میں گئی ہیں اور میں نے بیڈ شیٹ چینج نہیں کی۔
یہ سن کر میری حالت بھی خراب ہو گئی، اب تو خالہ کو پتا چل جائے گا کہ رات یہاں سہاگ رات منائی گئی ہے۔ ہم اسی پریشانی میں تھے کہ خالہ روم سے نائٹی پہن کر باہر آئیں، نائٹی کے نیچے کچھ نہیں پہنا تھا جس سے ان کے ممے اور گانڈ کا پتا چل رہا تھا۔ خالہ نارمل تھیں، لگا کہ بیڈ شیٹ پر ان کی نظر نہیں پڑی۔ وہ نازی کے روم میں سونے چلی گئیں۔
میں۔۔۔۔۔ جان بیڈ شیٹ جلدی سے چینج کر دو۔
نازیہ امی کے روم میں بیڈ شیٹ چینج کرنے چلی گئی اور میں اوپر جا کر تیار ہونے لگا۔
میں تیار ہو کر نیچے آیا، نازیہ ٹی وی دیکھ رہی تھی۔
میں۔۔۔۔۔ جان امی کا روم ٹھیک کر دیا؟
نازیہ۔۔۔۔۔ جی بھائی کر دیا۔
میں۔۔۔۔۔ اب میں شاپ پر جا رہا ہوں، آج رات کا کھانا باہر کھائیں گے تم اچھا سا تیار ہونا۔
نازیہ۔۔۔۔۔ بھائی آج نہ جائیں کل تو آپ کی شادی ہوئی ہے۔
میں نے نازی کو لپٹایا، وہ میرا لن دبا رہی تھی۔
نازیہ۔۔۔۔۔ یہ تو تیار ہے!
میں۔۔۔۔۔ جس کی بیوی اتنی سیکسی ہو تو یہ تو تیار ہو گا ہی۔ جان اب جانا پڑے گا ورنہ مشکل ہو جائے گی۔
میں نازی سے الگ ہوا، اس نے "مس یو" کہا، میں نے "مس یو ٹو" کہا اور شاپ کی طرف روانہ ہو گیا۔
شاپ پر پہنچا تو ثانی کی کال آئی۔
ثانی۔۔۔۔۔ بھائی السلام علیکم!
میں۔۔۔۔۔ وعلیکم السلام میری گڑیا، کیا کر رہی ہو؟
ثانی۔۔۔۔۔ بس بھائی آج شادی ہے کل ولیمہ ہو گا اس کے بعد ہم لوگ واپس آجائیں گے، ابو تو ایک ہفتہ کے لیے لاہور جا رہے ہیں، امی اور میں واپس آجائیں گے۔
میں۔۔۔۔۔ اچھا جی۔
ثانی۔۔۔۔۔ بھائی امی سے بات کریں۔
امی۔۔۔۔۔ کامران کیسے ہو؟
میں۔۔۔۔۔ جان کو مس کر رہا ہوں، جلدی آجاؤ اب تو تمہارا شوہر بھی ایک ہفتہ کے لیے جا رہا ہے۔
امی۔۔۔۔۔ تمیز! میرا شوہر تمہارا باپ ہے سمجھے۔ اور ہاں میرا موبائل خراب ہو گیا ہے۔
میں۔۔۔۔۔ جان کراچی آؤ گی تو دوسرا لے دوں گا، تمہارا دوسرا شوہر ہے نہ اپنی سیکسی اور گرم بیوی کی فرمائشیں پوری کرنے کے لیے۔
امی۔۔۔۔۔ بہت بے شرم ہو گئے ہو، اچھا اب مجھے نہانے جانا ہے تم ثانی سے بات کرو۔
ثانی۔۔۔۔۔ بھائی میرا بیلنس ختم ہو گیا ہے۔
میں۔۔۔۔۔ میری گڑیا میں ڈال دوں گا، بولو کتنا ڈالوں؟
ثانی۔۔۔۔۔ جتنا آپ ڈالنا چاہیں ڈال دیں۔
میں۔۔۔۔۔ گڑیا پورا ڈال دوں؟
ثانی۔۔۔۔۔ کیا پورا ڈالنا ہے؟
میں۔۔۔۔۔ میری گڑیا بیلنس کا بولا ہے کتنا ڈالنا ہے؟
The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 19) appeared first on Urdu Stories.