گھریلو عشق۔۔۔(قسط 27)

br>

میسج ثانی کا تھا۔

ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی کیا ہو رہا ہے؟
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی گڑیا کے آنے کا انتظار۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں جی میرا کس خوشی میں انتظار ہو رہا ہے؟
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنے دن ہو گئے ہیں اپنی گڑیا کو دیکھا جو نہیں ہے۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واہ بھائی بہت محبت آرہی ہے۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں بھائی بہن میں محبت نہیں ہوتی؟
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی جی ہوتی ہے۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں بھی اپنی بہن سے محبت کرتا ہوں۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی ایک بات پوچھوں؟
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی پوچھو۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رخسانہ اور اس کے بھائی والی محبت تو نہیں ہے؟
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا مطلب؟
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رخسانہ کہتی ہے کہ اس کا بھائی بھی اس سے بہت محبت کرتا ہے تبھی اس کی پھدی مارتا ہے تو آپ بھی تو کہیں وہ والی محبت تو نہیں کرتے؟
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری گڑیا یہ تو بہن پر ہے کہ وہ بھائی سے وہ والی محبت کرنا چاہتی ہے یا نہیں۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا جی یہ بات ہے لیکن میں نے تو یہ آپ سے پوچھا تھا آپ نے اپنی بات میرے اوپر ڈال دی۔ بھائی میں بھی آپ سے بہت محبت کرتی ہوں کیونکہ یہ بات میں آپ کے سامنے نہیں کر سکتی مجھے شرم آئے گی اس لیے میسج پر سب کچھ پوچھا اور کہا ہے اب یہ آپ پر چھوڑتی ہوں کہ کیسی محبت اپنی گڑیا کے ساتھ کرتے ہیں اور شام میں لینے آجائیے گا آپ۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی جناب خادم آجائے گا۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خادم جی آپ کی بہن آپ کے جواب کی منتظر رہے گی کہ آپ کون سی والی محبت کرتے ہیں اوکے بائے۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوکے بائے۔

ثانی سے بات کر کے سوچنے لگا کہ اب یہ بھی تیار ہے لیکن یہ تو ابھی چھوٹی ہے اس کی چوت تو میرا لن برداشت نہیں کر سکے گی۔ نازی کی روم سے آواز آئی کامی۔ میں نازی کے روم میں گیا تو دیکھا نازی اٹھ گئی تھی۔ نازی بولی جان ٹائم کیا ہوا ہے میں بولا جان 4 بج گئے ہیں۔ نازی بولی اف جان آپ نے اٹھایا کیوں نہیں اتنا سارا کام کرنا ہے۔ میں بولا جان اب طبیعت کیسی ہے نازی بولی جان اب کافی بہتر ہے نہا کر اور ٹھیک ہو جاؤں گی۔ میں بولا چلو دونوں ساتھ نہاتے ہیں نازیہ بولی بہت تیز ہیں اب نہاتے ہوئے بھی چودنا ہے میں بولا چلو تو۔ میں نے نازیہ کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا ہم دونوں واش روم میں آگئے۔ نازیہ اور میں ایک ساتھ نہائے اور نہاتے ہوئے نازیہ کی چودائی کی۔ ہم دونوں نہا کر واش روم سے باہر آگئے۔ نازیہ نے کپڑے پہنے اور مجھے بھی کہا بھائی آپ بھی کپڑے پہن لیں اب گھر کی صفائی کر دوں اور کچن میں رات کے کھانے کا بندوبست کر لوں امی آکر ناراض نہ ہوں آپ چینج کر کے نیچے آئیں تو بازار سے کچھ سامان لے کر آجائیں۔ میں نے کہا اوکے بیگم۔ میں اپنے روم میں آگیا کپڑے چینج کیے اور نیچے آیا۔ نازی نے کچھ سامان لانے کو کہا وہ سامان لے کر آیا۔ نازی کچن میں رات کا کھانا بنانے لگی ٹائم دیکھا تو 5 بج رہے تھے۔ امی کی ٹرین نے 6 بجے آنا تھا۔ میں اسٹیشن جانے کے لیے تیار ہوا تو بیل بجی گیٹ کھولا تو خالہ سامنے کھڑی تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی بولیں بھانجے موج مستی کر لی؟ میں بولا جی خالہ۔ خالہ نے گیٹ بند کیا اور میرے لن پر ہاتھ لگاتے ہوئے بولیں بھانجے اب میرے ساتھ کب کرو گے؟ میں بولا خالہ جانی بہت جلدی آپ اندر چلیں میں امی کو لے کر آؤں۔ خالہ بولیں بھانجے گاڑی تو باہر نکالو میں گیٹ بند کر دوں گی۔ میں نے گاڑی باہر نکالی اور خالہ نے گیٹ بند کر دیا۔

میں ٹائم پر اسٹیشن پہنچ گیا ٹرین پہنچنے والی تھی۔ ٹرین کے آنے کے بعد میں امی اور ثانی کو دیکھ رہا تھا کہ ایک بوگی سے ثانی کی آواز آئی بھائی۔ میں اس بوگی کی طرف گیا امی اور ثانی سامان لے کر بوگی سے باہر آئی تھیں۔ میں ثانی اور امی کے پاس گیا امی کو سلام کیا۔ ثانی مجھے بھائی کہتے ہوئے مجھ سے لپٹ گئی ثانی کے چھوٹے چھوٹے ممے مجھے فیل ہوئے۔ ثانی اسٹیشن پر ہونے کی وجہ سے جلدی الگ ہو گئی اور الگ ہوتے ہوئے بولی بھائی مس یو۔ میں نے بھی ثانی کے گال پر ہاتھ لگاتے ہوئے کہا مس یو ٹو۔ امی بولیں چلو گھر چلو بہت تھکن ہو گئی ہے۔ ہم تینوں اسٹیشن سے باہر آگئے میں امی اور ثانی کو لے کر گھر آگیا۔ گیٹ ثانی نے کھولا گاڑی اندر کی اور ہم سب لاؤنج میں آگئے۔ امی خالہ سے گلے ملیں تو میں امی سے بولا امی بیٹے سے بھی گلے مل لیں۔ امی میرے پاس آئیں اور سائیڈ سے مجھے گلے لگا کر بولیں خوش؟ میں نے کہا جی امی۔ امی خالہ سے بولیں میں پیشاب کر کے آتی ہوں اور امی اپنے روم میں چلی گئیں۔ ثانی کچن میں نازی کے ساتھ باتیں کر رہی تھی اور شادی میں جو کچھ ہوا تھا بتا رہی تھی۔ خالہ صوفے پر بغیر دوپٹے کے بیٹھی تھیں مجھے اپنے ممے دکھاتے ہوئے بولیں بھانجے بیٹھو۔ میں بیٹھ گیا۔ امی بھی واش روم سے آگئیں اور خالہ کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں۔ امی نے بھی بہت سیکسی ڈریسنگ کی ہوئی تھی کھلا گلا جس میں سے امی کے مموں کی لائن نظر آرہی تھی۔ ثانی کچن سے باہر آتے ہوئے بولی امی نازی آپی تو بہت پیاری لگ رہی ہیں یہ تو پہلے والی نازی آپی نہیں ہیں۔ اس پر خالہ بولیں ثانی نازی تو پہلے بھی ایسی ہی تھی تم نے بہت دن بعد دیکھا ہے اس لیے ایسی لگ رہی ہے۔ ثانی پھر کچن میں چلی گئی۔

امی اور خالہ آپس میں باتیں کرنے لگیں میں اٹھ کر اپنے روم میں آگیا۔ روم میں آکر میں نے کپڑے چینج کیے ٹراؤزر پہن کر بیڈ پر لیٹ گیا۔ مجھے پتا ہی نہ چلا کب آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ثانی کے ساتھ مستی کر رہا ہوں خواب میں ثانی بھی میرے ساتھ مستی کر رہی تھی۔ اس طرح کا خواب دیکھنے سے میرا لن ٹراؤزر میں فل کھڑا تھا مجھے لگا کوئی مجھے ہلا رہا ہے۔ میں نے آنکھیں کھولیں تو ثانی مجھے کندھے سے ہلا رہی تھی بھائی اٹھ جائیں کھانا کھا لیں امی بلا رہی ہیں۔ میں نے کہا ثانی سونے دو۔ ثانی بولی بھائی اٹھ جائیں۔ میں نے پوری آنکھیں کھول دیں۔ ثانی ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں کھڑی تھی ثانی لگ رہا تھا کہ نہا کر آئی تھی۔ میں نے کہا میری گڑیا بہت فریش لگ رہی ہے۔ ثانی بولی جی بھائی نہا کر آئی ہوں۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ ٹراؤزر میں لن پورا کھڑا ہوا ہے جس کو ثانی بھی دیکھ رہی تھی۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ثانی ابھی کھڑی ہوئی تھی میں بولا ثانی بیٹھ جاؤ۔ ثانی بولی نہیں بھائی آپ فریش ہوں میں چلتی ہوں۔ میں بولا ساتھ چلتے ہیں میں پیشاب کر لوں اور فریش ہو جاؤں۔ میں کھڑا ہوا تو لن ٹراؤزر میں تمبو بنا کر فل ٹن ٹنا تھا۔ ثانی بیٹھی ہوئی تھی میں اس طرح کھڑا ہوا کہ میرا لن ثانی کے بالکل سامنے اور قریب تھا جو صاف پتا چل رہا تھا۔ ثانی صوفے پر بیٹھی میرے لن کو بھی دیکھ رہی تھی۔ میں نے ہاتھ سے لن کو پکڑ کر ٹھیک کیا تو ثانی کھڑی ہو گئی۔ میں بولا کیا ہوا بیٹھو۔ ثانی بولی بھائی آپ فریش ہو کر نیچے آجائیں میں آپی کے ساتھ کھانا لگواتی ہوں۔ ثانی میرے روم سے چلی گئی۔ میں واش روم گیا فریش ہو کر نیچے آیا تو کھانا ٹیبل پر لگ چکا تھا۔ خالہ امی نازی سب لوگ میرا انتظار کر رہے تھے خالہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں بھانجے نیندیں پوری کر رہے ہو؟ میں بولا خالہ ایسی بات نہیں ہے بس آنکھ لگ گئی تھی۔ خالہ مسکراتے ہوئے بولیں اوکے بھانجے جوانی میں ایسا ہوتا ہے۔ ہم سب کھانا کھانے لگے۔ امی کھانا کھاتے ہوئے مجھے اور نازیہ کو بہت غور سے دیکھ رہی تھیں شاید وہ اندازہ لگا رہی تھیں کہ ان کے پیچھے بھائی نے بہن کی سیل توڑ دی ہے۔ نازی چپ چاپ کھانا کھا رہی تھی ثانی بولے جا رہی تھی۔

ثانی میری طرف دیکھتے ہوئے بولی بھائی آپ کل شاپ پر جائیں گے؟ میں بولا جی جاؤں گا۔ ثانی بولی بھائی کل مجھے اپنی فرینڈ کے گھر جانا ہے۔ میں بولا کب جانا ہے؟ ثانی بولی بھائی دو بجے میں۔ نے کہا اس ٹائم تو میں شاپ پر ہوں گا تم نازی کو لے کر چلی جانا۔ ثانی بولی ٹھیک ہے بھائی میں آپی کو لے کر چلی جاؤں گی۔ ہم سب نے کھانا کھا لیا۔ خالہ نے اپنے دیور کو فون کر کے بلا لیا اور خالہ اپنے گھر چلی گئیں۔ امی بھی تھکی ہوئی تھیں امی سے بھی زیادہ بات نہیں ہوئی امی بھی سونے چلی گئیں۔ نازی اور ثانی مل کر کھانے کے برتن اٹھانے میں مصروف ہو گئیں میں اوپر اپنے روم میں آگیا۔

The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 27) appeared first on Urdu Stories.

Leave a Comment