br>
میں۔ یار اب شرم کو چھوڑو مجھے اپنا دوست سمجھ کر سب بتادو۔
ثانی۔ اوکے بھائی۔
ثانی۔ بھائی وہاں کی لڑکیاں تو بہت بے شرم تھیں جب سب مل کر بیٹھتیں تو پھدی اور لوڑے کی باتیں کرتی تھیں۔ سب لڑکیاں کسی نہ کسی سے سیٹ تھیں، کوئی اپنے بھائی سے پھدی مراتی تھی کوئی اپنے چاچا سے اور کوئی اپنے ماموں سے۔ سب لڑکیاں اپنے گھروں میں کسی نہ کسی کے ساتھ پھدی مرواتی تھیں اور کچھ لڑکیاں تو بنڈ مرواتی تھیں۔ بھائی یہ بنڈ کیا ہوتی ہے؟ وہ کہتی تھیں کہ پھدی مروانے سے سیل پھٹ جاتی ہے تو وہ لوگ اپنے بھائیوں سے بنڈ مرواتی تھیں۔ مجھ سے بھی پوچھا کہ تم نے پھدی مروائی ہے یا بنڈ، میں تو چپ رہی میں نے کہا کہ کچھ بھی نہیں تو سب ہنسنے لگیں۔
میں۔ اوہ یہ بات ہے۔
ثانی۔ بھائی آپ نے بتایا نہیں کہ بنڈ کیا ہوتی ہے؟
میں۔ میری گڑیا بنڈ کو گانڈ بھی کہتے ہیں تمہارے دونوں چوتڑوں کے درمیان جو سوراخ ہے اس کو بنڈ کہتے ہیں۔
ثانی۔ اور بھائی یہ تو مجھے اب پتا چلا کہ اس کو بنڈ کہتے ہیں۔ وہاں تو زیادہ تر لڑکیاں بنڈ بھی مرواتی تھیں۔
میں۔ ہاں کافی لڑکیوں کو بنڈ مروانے کا شوق ہوتا ہے ان کو بنڈ مروانے میں بہت مزہ آتا ہے۔
ثانی۔ بھائی ایک بات اور آپ کو بتاؤں لیکن پلیز امی ابو سے اس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرے گا۔
میں۔ جی جی بتاؤ میں کسی سے نہیں کروں گا۔
ثانی۔ اوکے بھائی اب جو آپ کو بتانے جا رہی ہوں وہ پڑھ کر آپ حیران ہو جائیں گے۔
میں۔ اچھا جی بتاؤ۔
ثانی۔ بھائی جب میں نے بھی دیکھا تو میرے تو ہوش اڑ گئے۔ بھائی رات کو میں پیشاب کرنے کے لیے واش روم گئی، واش روم سے جب واپس جا رہی تھی تو پھوپھی کے روم کی لائٹ جل رہی تھی۔ پھوپھی کا روم اوپر تھا میں نے سوچا پھوپھی اس ٹائم جاگ رہی ہیں تو اوپر پھوپھی کے روم جا کر پوچھ لوں کہ پھوپھی کیوں جاگ رہی ہیں۔ میں اوپر سیڑھیاں چڑھ ہی رہی تھی کہ پھوپھی کے روم کی لائٹ آف ہو گئی۔ میں واپس نیچے اترنے ہی والی تھی کہ مجھے پھوپھی کے کراہنے کی آواز آئی۔ میں پھر واپس اوپر چڑھنے لگی کہ پھوپھی کی طبیعت خراب نہ ہو، میں اوپر روم کے دروازے پر پہنچ کر دروازہ کھولنے والی تھی کہ پھوپھی کی آواز آئی: "ناصر جلدی پھدی وچ لوڑا پا، کتنے دن ہو گئے توں پھدی نئیں ماری"۔ بھائی ناصر بھائی کو تو آپ جانتے ہیں وہ تو پھوپھی کے بڑے لڑکے ہیں۔ میں یہ سوچ رہی تھی کہ پھوپھی اپنے بیٹے سے پھدی مروا رہی ہیں یا یہ کوئی اور ناصر ہے؟ مجھے تجسس ہوا کہ کسی طرح اندر روم میں دیکھوں کون ہے جس کے ساتھ پھوپھی پھدی مروا رہی ہیں۔ روم کے اندر سے ہلکی ہلکی روشنی باہر آرہی تھی اس کا مطلب تھا کہ موبائل کی ٹارچ آن کی ہوئی ہے۔ بھائی مجھے ایک جگہ اندر دیکھنے کے لیے مل گئی، کھڑکی تھوڑی سی کھلی ہوئی تھی۔ جب میں نے اندر دیکھا تو اندر کا ماحول ہی دیکھ کر میں ڈر گئی کہ یہ کیا ہو رہا ہے، میں یہ سب پہلی دفعہ دیکھ رہی تھی۔ ناصر بھائی اور پھوپھی ننگے ایک دوسرے کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے ناصر بھائی اپنی امی کی پھدی مار رہے تھے۔ پھوپھی نیچے لیٹی ہوئی تھیں اور ناصر بھائی پھوپھی کے اوپر تھے۔ پھوپھی بار بار بول رہی تھیں "او میرے جوان پتر ماں نوں چود، لوڑا پورا وچ پا"۔ مجھے بس یہ بات ہی سمجھ آئی، وہ دونوں ماں بیٹے ایک دوسرے کو گالیاں بھی دے رہے تھے۔ ناصر بھائی گالیاں سن کر اور زور زور سے اپنا لوڑا اپنی امی کی پھدی میں ڈال کر چود رہے تھے۔ بھائی میں تو پھر نیچے آگئی یہ سوچتے ہوئے مجھے نیند نہیں آئی کہ ناصر بھائی اپنی امی کی پھدی مارتے ہیں۔
میں۔ ثانی بات یہ ہے کہ یہ بھی محبت ہے کہ جیسے بھائی بہن میں زیادہ محبت ہو تو وہ پھر چودائی کرتے ہیں اسی طرح ماں بیٹے میں زیادہ پیار ہو تو وہ بھی چودائی کرتے ہیں یہ تو پیار کی بات ہے اور ایسا پیار ہونا چاہیے۔
ثانی۔ تو بھائی اس کا مطلب کہ یہ کوئی غلط کام نہیں ہے؟ مطلب بہن سے زیادہ پیار ہو تو اس کی پھدی مار لو اور ماں سے زیادہ پیار ہو تو ماں کی پھدی مار لو، یہ بات کچھ سمجھ نہیں آئی۔
میں۔ میری گڑیا یہ تو ہوتا ہے تم نے خود ہی بتایا کہ وہاں سب لڑکیاں اپنے بھائیوں سے مرواتی ہیں تو اس میں ایسی کیا بات ہے اس کو تو کہتے ہیں گھر کا پیار۔
میں سوچنے لگا کہ اب اس کو کیا پتا کہ میں نے ماں اور بہن کو بھی چود دیا ہے اور اب اس کا نمبر ہے، یہ بھی یہ سب باتیں سن کر آئی ہے تو مجھے اس پر زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔
ثانی۔ کیا ہوا کیا سوچ رہے ہیں؟
میں۔ کچھ نہیں تم نے تو یہ سب بتا کر مجھے حیران کر دیا، اچھا یہ بتاؤ میری بہن مجھ سے کتنا پیار کرتی ہے؟
ثانی۔ بھائی میں تو بہت پیار کرتی ہوں۔
میں۔ اور بھائی آپ سے کتنا پیار کرتے ہیں؟
ثانی۔ بھائی آپ کتنا کرتے ہیں؟
میں۔ میری گڑیا بہت زیادہ کرتا ہوں اچھا یہ بتاؤ کہ اس کے بعد دیکھا پھوپھی کو کبھی ناصر سے چدواتے ہوئے؟
ثانی۔ بھائی میں نے دوبارہ تو نہیں دیکھا لیکن کئی دفعہ ناصر بھائی کو اوپر جاتے ہوئے دیکھا تھا جب سب لوگ سو جاتے تو ناصر بھائی اوپر چلے جاتے پھوپھی کی پھدی مارنے۔
میں۔ اوف یار ناصر بھائی کے تو مزے ہیں روز اپنی امی کی پھدی مارتے ہیں۔ یہ پڑھ کر تو میرا لوڑا کھڑا ہو گیا ہے۔
ثانی۔ بھائی کیا کھڑا ہو گیا ہے؟ اوف بھائی آپ بھی کیسے ہیں بہن کو بتا رہے ہیں کہ لوڑا کھڑا ہو گیا ہے۔
میں۔ میری بہن نے تو میرا لوڑا دیکھا تو ہے جب میں ہاتھ میں پکڑ کر سہلا رہا تھا۔
ثانی۔ جی بھائی میں تو دیکھتے ہی چلی گئی اور آپ کو یاد ہے جب میں آپ کی الماری سے کیمرہ نکال رہی تھی تو آپ میرے پیچھے اپنا لوڑا ٹچ کر کے کھڑے رہے تھے، امی اچانک آگئی تھیں اور آج بھی جب آپ کو کھانا کھانے بلانے آپ کے روم میں آئی تو آپ کا لوڑا پورا کھڑا تھا۔
میں۔ بہن ہے اتنی پیاری جس کو دیکھ کر لوڑا کھڑا ہو جاتا ہے۔
ثانی۔ مجھے لگتا ہے آپ کو پھدی مارنے والا پیار ہو گیا ہے۔ بھائی ایک منٹ میں پیشاب کر کے آجاؤں۔
میں۔ ایک منٹ ذرا پھدی پر ہاتھ لگا کر بتاؤ کہ پھدی گیلی تو نہیں ہوئی؟
ثانی۔ جی نہیں میں نہیں بتا رہی بس پٹی آرہی ہے پٹی کر کے آتی ہوں۔
تھوڑی دیر کے بعد ثانی کا میسج آیا:
ثانی۔ جی بھائی کر لی پٹی اب بتائیں۔
میں۔ جی کیا بتاؤں؟
ثانی۔ بھائی آپ کا کیا دل کرتا ہے؟
میں۔ کس بارے میں پوچھ رہی ہو؟
ثانی۔ بھائی بہن کے پیار کے بارے میں۔
میں۔ میری گڑیا میں تو اپنی بہن سے پیار کرتا ہوں۔
ثانی۔ بھائی اس پیار کی بات کر رہی ہوں کیا آپ کا دل کرتا ہے؟
میں۔ اگر میری گڑیا وہ والا پیار کرنا چاہے تو مجھے تو خوشی ہوگی کہ میری بہن بھی میری طرح پیار کرنے والی ہے۔
ثانی۔ اور تو بھائی آپ تو پہلے سے ہی تیار ہیں تبھی اس دن میری بنڈ کے ساتھ لوڑا لگا کر کھڑے تھے۔
اب ثانی بھی میسج میں کھل کر بات کر ہی رہی تھی تو میں بھی اور کھلے میسج کرنے لگا۔
میں۔ جی تمہاری بنڈ بہت نرم تھی اس دن بہت مزہ آیا تم میرے لوڑے کو پکڑو گی؟
ثانی۔ اوف بھائی مجھے نہیں پتا مجھے شرم آئے گی۔
میں۔ میسج کرتے ہوئے لوڑے بنڈ کی بات کرتے شرم نہیں آرہی جب لوڑا پکڑو گی تو شرم آرہی ہے؟
ثانی۔ بھائی میسج پر تو آپ کے سامنے نہیں ہوں ناں۔
میں۔ اچھا جی تو اب یہ شرم کیسے ختم ہوگی؟
ثانی۔ بھائی اس کا میں کیا بتاؤں۔ بھائی آپ کو امی کیسی لگتی ہیں؟
میں۔ بہت اچھی لگتی ہیں کیوں تم کیوں پوچھ رہی ہو؟
ثانی۔ بھائی ایسے ہی پوچھا میرا مطلب تھا کہ میری بنڈ کے پیچھے تو آپ نے لوڑا لگایا تھا، اس دن جب ہم کراچی سے ٹرین میں جا رہے تھے تو آپ امی کی بنڈ کے ساتھ بھی اپنا لوڑا ٹچ کر کے کھڑے تھے امی نے مڑ کر غصے سے آپ کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا تھا میں سب دیکھ رہی تھی۔
میں۔ اچھا مجھے یاد نہیں کہ ایسا کچھ ہوا تھا۔
ثانی۔ بھائی زیادہ بھولے نہیں بنیں آپ جان بوجھ کر امی کی بنڈ پر لوڑا لگا رہے تھے۔
میں۔ یار اب ایسی گرم باتیں کر رہی ہو اب لوڑا کھڑا ہو گیا ہے۔
ثانی۔ بھائی اپنے لوڑے کو اس دن کی طرح سہلا لیں۔
میں۔ ثانی تم دو گی؟
ثانی۔ کیا؟
میں۔ جو دینا چاہو۔
ثانی۔ میرے بھائی کو اپنی گڑیا سے کیا لینا ہے؟
میں۔ پھدی دو گی؟
ثانی۔ بھائی ابھی تو میں بہت چھوٹی ہوں آپ کا اتنا بڑا کیسے لوں گی میری پھدی تو بہت چھوٹی سی ہے۔
میں۔ اچھا تو لوڑا چوسو گی؟
ثانی۔ اس کے بارے میں تو سوچنا پڑے گا۔
میں۔ اچھا سوچ کر بتا دینا۔
گھڑی میں ٹائم دیکھا تو 4 بج رہے تھے۔
میں۔ ثانی 4 بج گئے ہیں اب سو جاؤ مجھے بھی کل سے شاپ پر جانا ہے۔
ثانی۔ اوکے بھائی گڈ نائٹ۔
میں۔ ثانی صبح مجھے اٹھا دینا۔
ثانی۔ ٹھیک ہے بھائی۔
میں نے ٹراؤزر اتارا اور ننگا سو گیا تاکہ صبح ثانی جگانے آئے تو مجھے پورا ننگا دیکھ لے۔ میں نے لائٹ آف کی اور چادر اوڑھ کر سو گیا۔ صبح مجھے ثانی کی آواز آئی "بھائی گیارہ بج گئے ہیں امی نے ناشتہ بنا لیا ہے اٹھ جائیں"۔ میں نے آنکھیں کھولیں تو سامنے ثانی کھڑی تھی۔ میں ثانی کے سامنے ننگا تھا ثانی مجھے دیکھتے ہوئے بولی "بھائی ننگے ہی سو رہے ہیں شرم نہیں آتی"۔ میں نے لن کو سہلاتے ہوئے کہا "میں تو ننگا ہی سوتا ہوں"۔ ثانی کی نظر میرے لن پر تھی بولی "بھائی آپ کا لوڑا تو بہت بڑا ہے"۔ میں نے کہا "ثانی اس کو پکڑو"۔ ثانی شرماتے ہوئے بولی "بھائی مجھے شرم آرہی ہے"۔ میں نے ثانی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے پاس بٹھا کر اس کا ہاتھ اپنے لن پر رکھتے ہوئے کہا "جان بھائی کے لن کو چھو کر تو دیکھو"۔ ثانی نے ہاتھ میں لن پکڑا ہوا تھا اور آنکھیں بند تھیں۔ میں نے کہا "ثانی اس کو سہلا تو دو"۔ ثانی نے لن کو سہلاتے ہوئے کہا "بھائی یہ تو بہت گرم ہو رہا ہے"۔ میں نے ثانی کے چھوٹے چھوٹے ممے دباتے ہوئے کہا "اس کی گرمی تو پھدی نکالتی ہے"۔ ثانی مجھے دیکھتے ہوئے بولی "اچھا جی تو امی کی پھدی میں ڈال دیں میری پھدی اتنا بڑا لوڑا نہیں لے سکتی، جب پھوپھی کا بیٹا اپنی ماں کی پھدی مار سکتا ہے تو آپ بھی مار لیں"۔ یہ کہتے ہوئے ثانی نیچے بھاگ گئی۔
میں بیڈ سے اٹھ کر واش روم گیا نہا کر نیچے آیا تو ثانی اور نازی نظر نہیں آئیں۔ امی کچن میں ناشتہ بنا رہی تھیں میں پیچھے سے جا کر امی کے ساتھ لپٹتے ہوئے کہا "جان رات کو چودنے کا دل کر رہا تھا اتنے دنوں بعد آئی ہو"۔ امی مجھے پیچھے کرتے ہوئے بولیں "کامران گھر میں نازی اور ثانی بھی ہیں دور ہٹو"۔ میں اسی طرح امی کی گانڈ سے لن ٹچ کر کے کھڑا رہا اور بولا "بیگم ناراض ہو؟" اچانک مجھے لگا کہ کچن کے دروازے پر کوئی ہے، امی تو پراٹھے پکانے میں مگن تھیں ان کو نہیں پتا چلا لیکن مجھے پتا چل گیا تھا کہ ثانی ہم دونوں کو دیکھ رہی ہے۔ میں نے ثانی کی طرف دیکھا تو وہ مسکراتے ہوئے وہاں سے ہٹ گئی۔ میں دوبارہ امی کی گانڈ سے لن رگڑنے لگا امی بولیں "چلو باہر"۔ امی نے ثانی کو آواز دی تو میں امی سے الگ ہو گیا اور کچن سے باہر آگیا۔ ثانی بھی امی کی آواز سن کر کچن میں آگئی اور ناشتہ ٹیبل پر رکھنے لگی۔ میں نے ثانی سے پوچھا کہ نازی نہیں اٹھی؟ تو ثانی بولی "بھائی اس کو تو رات سے بہت تیز بخار ہے اور اس کے جسم میں بھی بہت درد ہے صبح اس لیے اس کو نہیں اٹھایا"۔ امی بھی کچن سے باہر آگئیں اور مجھے دیکھتے ہوئے بولیں "ہاں صبح ثانی نے بتایا کہ رات بھر نازی کو بخار رہا ابھی نازی کو ڈاکٹر کو دکھا کر لاتی ہوں"۔
ثانی اور امی میرے سامنے بیٹھی تھیں امی کے کھلے گلے سے امی کے مموں کو دیکھ رہا تھا جس کو ثانی بھی نوٹ کر رہی تھی۔ میں نے ناشتہ کیا اور تیار ہو کر شاپ کے لیے نکل گیا۔ امی نے مجھے کہا کہ تم اوپر چلو میں آتی ہوں۔ میں اوپر اپنے روم میں آگیا اور سوچنے لگا کہ اچانک امی نے کیوں بلایا ہے؟ تھوڑی دیر کے بعد امی بھی اوپر آگئیں۔ امی کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔ میں نے پوچھا "خیریت ہے اس ٹائم کیوں بلایا ہے؟" امی مجھے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولیں "نازیہ کے ساتھ کیا کیا ہے؟" میں بولا "کیا بات ہوئی؟" امی بولیں "تم کو شرم نہیں آئی میری معصوم بچی کا کیا حال کر دیا؟ ماں کو چود کر سکون نہیں ملا تھا جو بہن کو چود کر اس کی بھی یہ حالت کر دی کہ اس سے صبح سے چلا بھی نہیں جا رہا۔ تم نے یہ نہیں سوچا کہ کنواری بہن ہے اس کی شادی کیسے ہوگی؟" امی غصے میں بولتی جا رہی تھیں۔ میں نے کہا "میں نے نازیہ کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی"۔
The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 28) appeared first on Urdu Stories.