“اب اٹھو!” میں نے کہا، “جان پہلے بتاؤ، چدائی کا مزہ آیا؟” امی نے میرے گالوں پر کس کرتے ہوئے کہا، “جی جانی، بہت مزہ آیا۔” میں نے امی کو کس کیا اور امی کے اوپر سے اٹھ گیا۔ امی کی چوت سے میری منی باہر نکل رہی تھی۔ امی نے چوت پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، “کامی، لو یو۔” امی اٹھ کر واش روم میں چلی گئیں۔
میں ننگا ہی بیڈ پر لیٹا ہوا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ لائف کی پہلی چدائی کی تو وہ بھی ماں کے ساتھ۔ فرینڈز، یہ سب کچھ اچانک ہوتا چلا گیا اور پتہ ہی نہیں چلا کہ ماں نے اپنے بیٹے سے چدائی کروا لی۔ لگتا ہے کہ ماں بھی لن کے لیے تڑپ رہی تھی۔ انہی سوچوں میں گم لیٹا ہوا تھا کہ امی ننگی ہی باتھ روم سے باہر آگئیں۔ امی کو اب پوری طرح ننگا دیکھ رہا تھا۔ کیا کمال کا جسم تھا؛ 42 کے ممے، تھوڑی باہر کو نکلی ہوئی گانڈ اور تھوڑا سا باہر کو نکلا ہوا پیٹ اور اس کے نیچے چوت۔ گورا بدن جو نہانے کی وجہ سے چمک رہا تھا۔
امی کے ننگے جسم کو دیکھ کر لن نے بھی ہوشیاری پکڑ لی تھی۔ امی لن کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں، “کامی، یہ تو پھر کھڑا ہے!” میں بولا، “جان، تم ہو ہی اتنی سیکسی۔” امی بولیں، “بس بس، زیادہ مسکا نہیں، اب اٹھو نہا لو۔ بارش بھی رک گئی ہے۔ میں پکوڑے بنا لوں، نازی اور ثانی بھی آنے والی ہوں گی۔” میں اٹھ کر امی سے لپٹ گیا اور گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا، “جان، ایک اور راؤنڈ ہو جائے۔” امی نے میرے لن سے چوت کو رگڑتے ہوئے کہا، “نہیں کامی، اب نہیں۔ یہ سب کیسے ہو گیا اور نہیں ہونا چاہیے تھا۔” میں نے امی کے ہونٹوں پر کس کرتے ہوئے کہا، “جان، یہ نہ سوچو، بس یہ پیار تھا اور جب پیار ہو جائے تو پھر کچھ نہیں سوچنا چاہیے۔ اب تم میری بیگم ہو اور تم کو چودنا میرا فرض ہے۔”
امی بولیں، “کامی، آج تو یہ ہو گیا، اور گھر میں تمہاری دو بہنیں بھی ہیں، اگر کسی کو پتہ چل گیا تو ہم لوگ کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔” میں بولا، “جان، کچھ نہیں ہو گا اور کسی کو پتہ نہیں چلے گا، گھر کا پیار گھر میں رہے گا۔” امی بولیں، “کامی، پلیز بس یہ خیال رکھنا اب جو ہو گیا ہے وہ اور کسی کو پتہ نہ چلے۔” میں بولا، “جان، میں کس کو بتاؤں گا؟” امی بولیں، “اچھا اب مجھے چھوڑو اور تم بھی فریش ہو جاؤ۔” میں بولا، “اچھا، اب کب دو گی؟” امی بولیں، “کیا؟” میں بولا، “چوت۔” امی نے مجھ سے الگ ہوتے ہوئے کہا، “چلو نکلو میرے روم سے، ابھی دل نہیں بھرا؟” میں بولا، “جان، تم اتنی سیکسی ہو، دل کرتا ہے چودتا رہوں۔” امی غصے سے بولیں، “کامی، آج کے لیے اتنا ہی، اب تم جاؤ۔”
میں بولا، “اچھا، ایک شرط پر۔” امی بولیں، “وہ کیا؟” میں بولا، “بریزر اپنے ہاتھ سے پہناؤں گا۔” امی بولیں، “اچھا، الماری سے میری بلیک بریزر نکال کر پہنا دو۔” میں نے الماری کھولی اور امی کی بلیک بریزر نکال کر امی کے پاس آ گیا۔ امی میری طرف پیٹھ کر کے کھڑی ہو گئیں۔ میں نے پیچھے سے لن گانڈ کے ساتھ ٹچ کیا تو امی کے منہ سے سسکی نکلی۔ میں نے لن کو گانڈ میں دبا دیا۔ امی نے بھی اپنے چوتڑ میرے لن کے ساتھ جوڑ دیے۔ اسی کنڈیشن میں میں نے امی کو بریزر پہنا دی۔ امی نے فوراً میری طرف منہ کیا اور اپنی بریزر کو مموں پر ٹھیک کرتے ہوئے، میرے لن کو دباتے ہوئے بولیں، “کامی، اس کو سمجھاؤ اور اپنے روم میں جا کر فریش ہو جاؤ۔”
امی نے شلوار پہن لی تھی، میں بھی اپنے روم میں آ گیا اور نہانے کے لیے واش روم میں گھس گیا۔ نہا کر باہر نکلا، ٹراؤزر اور بنیان میں نیچے آیا تو نازی اور ثانی لاؤنج میں ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔ لائٹ آ گئی تھی۔ امی کچن میں تھیں۔ ثانی اور نازی نے مجھے دیکھا تو سلام کیا، میں نے جواب دیا۔ ثانی بولی، “بھائی، آج آپ گئے نہیں؟” میں بولا، “ثانی، ایک تو بارش بہت تیز ہو رہی تھی اور دوسرے آج امی کو کام تھا تو امی نے روک لیا۔” امی نے کچن سے آواز دی، “ثانی، یہ پکوڑے لے جاؤ۔”
میں نازی کے برابر میں جا کر بیٹھ گیا اور نازی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے آہستہ سے اس کے کان میں کہا، “جان، کیسی ہو؟” نازی نے پیچھے مڑ کر کچن کی طرف دیکھا اور بولی، “بھائی، کیا کر رہے ہیں؟ ثانی آ جائے گی۔” میں بولا، “جان، کچھ نہیں ہوتا۔” نازی بولی، “بھائی کنٹرول کریں، امی بھی گھر پر ہیں۔” میں بولا، “جان، آج تو موسم رومانس کا ہے۔” نازی بولی، “بھائی، ابھی تو کچھ نہیں ہو سکتا۔” اتنے میں ثانی پکوڑے لے کر آ گئی۔ ثانی بولی، “بھائی، آج موسم بہت اچھا ہے، ہمیں کہیں گھمانے لے جائیں۔” میں بولا، “بولو کہاں چلنا ہے؟” ثانی بولی، “سمندر پر چلتے ہیں۔” میں بولا، “چلو پھر تیار ہو جاؤ۔”
امی کچن سے نکلتے ہوئے بولیں، “کہاں جانے کا پروگرام ہے؟” ثانی بولی، “امی، موسم اچھا ہے تو بھائی کے ساتھ سمندر پر جانے کا کہہ رہی ہوں۔” امی بولیں، “کوئی نہیں جانا، کل ہم لوگوں کو رحیم یار خان جانا ہے، شادی میں جانے کی تیاری کرو۔” ثانی بولی، “امی، تیاری ہو جائے گی۔” امی بولیں، “نہیں، آج نہیں، آج بہت کام ہے اور تم ایسا کرو بھائی کے ساتھ جاؤ اور ٹیلر سے اپنے اور میرے کپڑے لے آؤ۔” ثانی بولی، “میں نہیں جا رہی ٹیلر کے پاس، آپ چلی جائیں۔” امی بولیں، “کامی، تم بائیک نکالو، میں عبایا پہن کر آتی ہوں اور ثانی اور نازی، تم لوگ جب تک گھر کی صفائی کرو۔”
امی بولیں، “کامی، تم بھی چینج کر کے آؤ۔” میں اوپر گیا، ٹراؤزر کے اوپر ٹی شرٹ پہن کر نیچے آ گیا۔ امی نے مجھے دیکھا تو بولیں،
میں نے بولا: “امی! بارش کا موسم ہے، یہ ٹراؤزر اور ٹی شرٹ ٹھیک رہے گی؟” امی بولیں: “اچھا، بائیک نکالو میں آ رہی ہوں۔”
میں نے بائیک باہر نکالی، تب تک بارش رک گئی تھی۔ امی میرے ساتھ بائیک پر بیٹھ گئیں اور بولیں: “کامی! پہلے ٹیلر کے پاس چلو، پھر مارکیٹ چلنا ہے، کچھ سامان لینا ہے۔”
میں نے بولا: “جو میرے آقا!” امی نے پیچھے سے سر پر چپت لگاتے ہوئے بولا: “زیادہ شوخی نہیں!”
میں نے بائیک کو بریک لگائی اور امی اپنے سینے سمیت مجھ سے ٹکرا گئیں۔ امی نے عبایا تو پہنا ہوا تھا لیکن مجھے محسوس ہوا کہ امی نے برا نہیں پہنی۔ امی بولیں: “یہ کیا بدتمیزی ہے؟” میں بولا: “بریک ہی تو لگائی ہے۔” امی بولیں: “میں سب سمجھتی ہوں کیوں لگائی ہے۔” میں نے پوچھا: “کیا سمجھیں؟” امی نے اپنے سینے کو میری کمر سے دباتے ہوئے بولا: “اس لیے۔” میں بولا: “اور یہ برا کس خوشی میں اتار کر آئی ہیں؟” امی بولیں: “بس ایسے ہی۔” میں نے کہا: “یہ کیوں نہیں کہتیں کہ مجھے گرم کرنے کے لیے نہیں پہنی؟” امی بولیں: “اچھا! تو تم ایسے گرم ہو جاتے ہو؟” میں بولا: “جان! ذرا لنڈ پر ہاتھ ٹچ کرو تو پتہ چلے۔” امی سینے کو میری کمر پر دباتے ہوئے بولیں: “پاگل ہو گئے ہو؟ ہم روڈ پر ہیں، شرافت سے بائیک چلاؤ۔”
اسی طرح امی کے جسم کا مزا لیتے ہوئے ہم لوگ ٹیلر کی دکان پر پہنچ گئے۔ امی نے کپڑے لیے، اس کے بعد ہم لوگ ایک شاپنگ سینٹر چلے گئے۔ امی نے ایک انڈر گارمنٹس شاپ کے باہر مجھے روکا کیونکہ اندر صرف لیڈیز ہی جا سکتی تھیں۔ امی بولیں: “تم رکو، میں آتی ہوں۔”
امی کا عبایا بہت فٹ تھا۔ عبایے میں سے بھی امی کی گانڈ چلتے ہوئے دل پر بجلی گرا رہی تھی۔ امی اندر چلی گئیں، کافی دیر کے بعد امی باہر نکلیں تو ان کے ہاتھ میں کافی پیکٹ تھے۔ میں بولا: “امی! کیا پورے سال کی برا لے لی ہیں؟” امی بولیں: “نہ! میری تو بس دو ہیں، باقی نازی اور ثانی کی ہیں۔” میں نے پوچھا: “نازی اور ثانی کا کیا سائز ہے؟” امی بولیں: “جب اوپر کپڑے اتارتے ہوئے برا ہاتھ میں پکڑ کر کھڑے تھے، اس وقت نہیں پتہ چلا؟” میں بولا: “موقع ہی کہاں ملا، آپ جو آ گئی تھیں۔” امی بولیں: “اچھا زیادہ باتیں نہ کرو۔”
امی ایک شاپ میں گھس گئیں، یہ ریڈی میڈ کپڑوں کی شاپ تھی۔ امی میرے آگے آگے تھیں، شاپ کافی بڑی تھی۔
The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 5) appeared first on Urdu Stories.