اور ایک کارنر پر انڈر گارمنٹس کا بھی پورشن تھا۔ وہاں ڈمی پر ایک بہت ہی سیکسی نائٹی نظر آئی۔ میں بولا، “امی آپ پر وہ نائٹی بہت اچھی لگے گی۔” امی نے نائٹی کی طرف دیکھا اور بولیں، “اس کو تو پہننا اور نہ پہننا برابر ہے۔” میں بولا، “امی یہ نائٹی لے لیں۔” امی بولیں، “نہیں۔” امی کہنے لگیں، “چلو یہاں کوئی خاص ڈریس نہیں ہے۔” اس کے بعد امی میرے آگے گانڈ مٹکاتی ہوئی دوسری شاپ میں گھس گئیں۔ وہ لوگ کھانا کھا رہے تھے تو سیلزمین امی کو دیکھ کر بولا، “لیڈیز سوٹ اوپر ہیں آپ اوپر چلی جائیں۔” ہم لوگ اوپر چلے گئے۔ امی ہینگر میں ٹنگے ہوئے سوٹ دیکھ رہی تھیں اور میں امی کے پیچھے تھا۔ جہاں موقع ملتا ان کی گانڈ کے ساتھ لگا دیتا۔ اوپر کوئی نہیں تھا، سیلزمین سب نیچے کھانا کھا رہے تھے۔
امی میرے آگے کھڑی ڈریس کو دیکھ رہی تھیں اور میں نے پیچھے سے لنڈ کو گانڈ کے ساتھ لگا کر کھڑا تھا۔ امی بولیں، “کامی شرم کرو ہم مارکیٹ میں ہیں۔” میں بولا، “کچھ نہیں ہوتا آپ ڈریس پسند کریں۔” اور اسی طرح پھر امی کو ایک ڈریس پسند آگیا جو دیکھنے میں بہت سیکسی لگ رہا تھا۔ میں بولا، “جان اس ڈریس میں تو قیامت لگو گی۔” امی بولیں، “اس ڈریس میں ایسی کیا بات ہے؟” میں بولا، “جب پہنو گی تو بتا دوں گا۔” امی نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور بولی، “ایک بھی دن میں بہت زیادہ فری ہو گئے ہو۔” میں بولا، “جان ابھی تو تم کو صحیح سے پیار نہیں کیا ہے۔” امی بولیں، “اچھا۔”
یہ کوئی ٹائم نہیں تھا اس طرح کی باتوں کا۔ امی نے ڈریس لیا اور ہم لوگ نیچے آئے۔ سیلزمین نے ڈریس پیک کیا اور کہا کہ اگر فٹنگ کا پرابلم ہو تو آپ تبدیل کروا لیجیے گا۔ ہم لوگ شاپ سے باہر آئے۔ امی بولیں، “چلو اب گھر۔” ہم لوگ گھر کی طرف چل پڑے۔ امی کے ہاتھ مجھے میری کمر کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔ امی نے شاپر میرے آگے کی طرف رکھے ہوئے تھے اور نیچے والا ہاتھ میرے لنڈ کے اوپر رکھا۔ بائیک چلانے کا مزا آ رہا تھا کہ گھر کے قریب جب پہنچے تو بہت تیز بارش شروع ہو گئی اور گھر پہنچتے پہنچتے ہم دونوں بارش میں بھیگ چکے تھے۔ امی کا عبایا ان کے جسم سے چپک گیا تھا۔ ہم لوگ گھر پہنچے۔ امی نے سامان ٹیبل پر رکھا اور چینج کرنے اپنے روم میں چلی گئیں۔ میں نے ثانی کو کہا، “ثانی تولیہ لانا۔”
میرا شرٹ اور اوزر گیلا ہو گیا تھا۔ ثانی تولیہ لے کر آئی تو میں بولا کہ میں نے اپنی شرٹ اتاری۔ ثانی میرے سامنے کھڑی تھی۔ شرٹ اتارتے ہوئے ثانی کی نظر میرے لنڈ پر پڑی جو ابھی بھی کھڑا تھا اور ٹراؤزر گیلا ہونے کی وجہ سے صاف پتہ چل رہا تھا۔ میں نے تولیہ لیا اور اپنے بالوں کو خشک کرنے لگا۔ ثانی میرے سامنے کھڑی تھی۔ مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ ثانی کی نظر کہاں ہے۔ میں اسی طرح کھڑے ہو کر اپنے بال خشک کرتا رہا اور ثانی میرے ہلتے ہوئے لنڈ کو دیکھتی رہی۔ بال خشک کرنے کے بعد تولیہ ثانی کو دیا اور بنیان بھی اتار دی۔ اب میرے جسم پر صرف ٹراؤزر تھا۔ ثانی کو بنیان اور تولیہ دیا۔ ثانی تولیہ اور بنیان لے کر چلی گئی۔ جب ہی امی کمرے سے نکلیں اور بولیں، “یہ کیا تم نے چینج نہیں کیا؟” میں بولا، “نہیں میں اوپر چھت پر نہانے جا رہا ہوں۔ آج تو کراچی کی بارش کا مزا لے لیں۔” امی بولیں، “بیمار ہو جاؤ گے۔” میں بولا، “کچھ نہیں ہوتا۔” مجھے اوپر جاتا دیکھ کر ثانی بولی، “بھائی میں بھی آرہی ہوں۔” ثانی نے نازی کو بھی کہا کہ چلو اوپر بارش میں نہاتے ہیں۔ امی روکتی رہیں لیکن میری دونوں بہنیں میرے ساتھ اوپر چھت پر بارش انجوائے کرنے آ گئیں۔
میں تو ٹراؤزر میں ہی تھا۔ ثانی نے شرٹ اور ٹراؤزر پہنا ہوا تھا۔ نازی شلوار قمیض میں تھی۔ ہم تینوں اوپر آ گئے۔ بارش بہت تیز ہو رہی تھی۔ نازی اور ثانی کے کپڑے ان کے جسم سے چپک گئے تھے۔ نازی اور ثانی کا جسم صاف نظر آ رہا تھا۔ نازی کا پنک بریزیر اور ثانی کا اسکن کلر کا بریزیر دیکھ کر موسم کا مزا آ گیا تھا۔ ہماری چھت کی دیواریں کافی اونچی تھیں اس لیے کسی طرف سے بھی ہم لوگوں کو کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا۔ اتنے میں نیچے سے امی نے نازی کو آواز دی کسی کام کے لیے۔ نازی نیچے چلی گئی۔ اوپر میں اور ثانی رہ گئے تھے۔ ثانی بولی، “بھائی مجھے پکڑیں۔” اور میرے آگے آگے بھاگنے لگی۔ میں اس کے پیچھے اس کو پکڑنے کے لیے بھاگا۔ وہ میرے آگے آگے بھاگ رہی تھی کہ اچانک سٹاپ ہونے لگی تو میں نے آگے بڑھ کر اس کو پکڑ لیا اور اس کو گرنے نہیں دیا۔ میں نے پیچھے سے اس کو پکڑنے کی کوشش کی تو میرا بیلنس بگڑ گیا اور میں اس کو پکڑتے ہوئے زمین پر گرا۔ لیکن وہ میرے اوپر اس طرح تھی کہ میں نیچے تھا اور وہ بیک سے سیدھی میرے اوپر تھی۔ اس کی گانڈ میرے لنڈ کے اوپر اور میرے دونوں ہاتھ اس کے پیٹ پر تھے۔ وہ ایک دم سوری کہتی ہوئی میرے اوپر سے اٹھنے لگی اور اٹھتے اٹھتے اس کا ہاتھ میرے لنڈ سے بچ ہو گیا۔ وہ اٹھ گئی اور کھڑی ہو گئی۔ میں بولا، “مجھے تو اٹھاؤ۔” اس نے اپنا ہاتھ آگے کیا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھ گیا۔ میرا لنڈ اب تو ٹراؤزر گیلا ہونے سے واضح ہو رہا تھا اور کھڑا ہوا بھی تھا۔ ثانی بولی، “بھائی اب پکڑیں۔” وہ تھوڑا سا آگے بڑھی۔ میں نے آگے بڑھ کر پیچھے سے اس کو پکڑ کر اپنے ساتھ لگا لیا۔ اب میں پیچھے سے ثانی کے ساتھ میچ تھا اور لنڈ ثانی کی گانڈ پر تھا۔ یہ کچھ دیر ہی رہا۔ وہ فوراً مجھ سے الگ ہو گئی اور اسی وقت امی کی آواز آئی کہ نیچے آ جاؤ کھانا لگ گیا ہے۔ ثانی بولی، “چلیں بھائی امی بلا رہی ہیں۔” میں بولا، “تم چلو میں آ رہا ہوں۔” ثانی نے ایک نظر میرے لنڈ کی طرف دیکھا اور نیچے چلی گئی۔ اب میں لنڈ بیٹھنے کا انتظار کرنے لگا کہ لنڈ بیٹھ جائے پھر نیچے جاؤں۔ جب لنڈ بیٹھ گیا تو پھر نیچے گیا۔ امی نے مجھے دیکھا تو بولیں، “کامی جلدی سے چینج کر کے آؤ۔” میں اپنے روم میں آیا۔ دوسرا شرٹ اور ٹراؤزر اور بنیان پہن کر نیچے آیا تو ثانی بھی چینج کر کے آ گئی تھی۔ ہم نے کھانا کھایا۔ امی بولیں، “ثانی اب تم کل کی تیاری کر لو کل جانا ہے۔” نازی بولی، “امی خالہ کب آئیں گی؟” امی بولیں، “کل آ جائیں گی۔” نازی بولی، “امی خالہ کو آپ نے تکلیف دی۔” امی بولیں، “نازی بیٹا تم کو مشکل نہ ہو اس لیے خالہ کو آنے کا کہا ہے۔” نازی چپ ہو گئی۔ ہم لوگوں نے کھانا کھایا اور میں اپنے روم میں آ گیا اور آج کے دن کے بارے میں سوچنے لگا کہ آج یہ کیا ہو رہا ہے۔ آج کا دن تو گولڈن دن تھا۔ آج امی کی چودائی کی اور اب بہنیں بھی چدنے والی ہیں اور اگر امی کو پتہ چلا تو امی کا ری ایکشن کیا ہو گا۔ یہ سوچتے سوچتے میں سو گیا۔
شام کو سات بجے آنکھ کھلی۔ میں اٹھا فریش ہو کر نیچے آیا تو ابو گھر آ گئے تھے۔ سب لوگ چائے پی رہے تھے۔ نازی بولی، “بھائی چائے لے کر آؤں؟” میں بولا، “ہاں لے آؤ۔” اور لاونج میں بیٹھ گیا۔ ابو کل کا پروگرام بنانے لگے۔ امی اور ثانی نے کل کی تیاری کر لی تھی۔ ابو بولے، “کامی تم ہم لوگوں کو اسٹیشن چھوڑ آنا۔” میں بولا، “جی ابو۔” ہم لوگ باتیں کر رہے تھے کہ بیل بجی۔ ابو بولے، “دیکھو کامی کون آیا ہے۔” میں گیٹ کھولنے گیا تو دیکھا خالہ اپنے دیور کے ساتھ آئی تھیں۔ خالہ کو دیکھ کر سلام کیا اور ان کو اندر آنے کا کہا۔ خالہ مجھے دیکھ کر بولیں، “اور بھی بھانجے خالہ کو بھی کبھی یاد کر لیا کرو۔”
The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 6) appeared first on Urdu Stories.