br>
ثانی۔۔۔۔۔ آپ بھی تو میرے پیچھے ایسے کھڑے تھے میں۔۔۔۔۔ یار میں تو تم کو کیمرہ ڈھونڈ کر دے رہا تھا اچھا یہ بتاؤ کیسا لگ رہا تھا میں جب تمہارے پیچھے کھڑا تھا ثانی۔۔۔۔۔ بھائی ڈر لگ رہا تھا اور کچھ عجیب سا لگ رہا تھا اور یہ سوچ رہی تھی کہ آپ کو کیا ہو گیا ہے میں۔۔۔۔۔ یار ڈرنے کی کیا بات ہے اور میں تو پیچھے بھی کھڑا تھا کچھ کیا تو نہیں ثانی۔۔۔۔۔ مطلب میں۔۔۔۔۔ مطلب یہ کہ بہن کے پیچھے کھڑا تھا بس کچھ زیادہ ٹچ ہو گیا تھا ثانی۔۔۔۔۔ بہت ہی زیادہ ٹچ تھے اس لیے مجھے ڈر لگ رہا تھا میں۔۔۔۔۔ اب اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے میں اور تم کو اچھا نہیں لگ رہا تھا ثانی۔۔۔۔۔ پتا نہیں بس ڈر لگ رہا تھا اور آپ رات کو روم میں ایسے ہی کرتے ہیں جس طرح اس دن کر رہے تھے میں۔۔۔۔۔ کیا کر رہا تھا ثانی۔۔۔۔۔ آپ نے جو ہاف ٹراؤزر نیچے کر کے جو کر رہے تھے میں۔۔۔۔۔ ثانی بس موبائل پر ایک انگلش مووی کا کلپ آیا تھا تو اس لیے ثانی۔۔۔۔۔ انگلش مووی کا کلپ دیکھ کر آپ یہ کرتے ہیں میں۔۔۔۔۔ تم دیکھو گی کلپ تو ایسے بھی کرو گی ثانی۔۔۔۔۔ نہیں جناب مجھے نہیں دیکھنا ایسا کلپ اور ہاں یاد آیا ایک بات اور پوچھنی تھی میں۔۔۔۔۔ ہاں پوچھو ثانی۔۔۔۔۔ آج آپ کے روم کی صفائی کر رہی تھی تو امی کی بریزر آپ کے بیڈ کے پاس سے ملی اور جب آپ اور نازی گھر میں اکیلے تھے تو نازی کی بریزر بھی لاؤنج میں پڑی تھی یہ کیا ہے
ثانی کا یہ میسج پڑھتے ہی میں نے سوچا اب اس کو کیا بتاؤں کہ صبح امی کی چودائی کی ہے امی جاتے ہوئے اپنا بریزر میرے روم میں چھوڑ گئیں اب اس بات کا کیا جواب دوں امی اور نازیہ کی بریزر نے تو کام خراب کر دیا اب اس کا ثانی کو کیا جواب دوں اسی دوران ثانی کا میسج آگیا
ثانی۔۔۔۔۔ بھائی کیا ہوا چپ کیوں ہو گئے میں۔۔۔۔۔ ہو سکتا ہے میرے کپڑوں کے ساتھ آگئی ہو کیونکہ امی میرے دھلے ہوئے کپڑے میرے روم میں رکھ کر گئیں تھیں کیا بریزر تم نے امی کو دے دی ثانی۔۔۔۔۔ نہیں نہیں میں نے وہ آپ کی الماری میں رکھ دی میں۔۔۔۔۔ چلو اچھا کیا ثانی۔۔۔۔۔ تو کیا آپ امی کی بریزر ان کو دے دیں گے میں۔۔۔۔۔ امی کی الماری میں رکھ دوں گا ثانی۔۔۔۔۔ ہاں یہ ٹھیک رہے گا بھائی آپ روم میں ایسے نہ رہا کریں اچانک کوئی آجائے تو پھر آپ کو اس حالت میں دیکھ لے گا میں۔۔۔۔۔ تو روم کا دروازہ بجا کر آنا چاہیے تھا نہ اگر میں روم میں ننگا ہوتا تو ثانی۔۔۔۔۔ اف بھائی آپ کتنے بے شرم ہیں روم میں ننگے سوتے ہیں میں۔۔۔۔۔ کیوں اپنے روم میں جیسے مرضی رہوں ثانی۔۔۔۔۔ یہ کیا بات ہوئی میں۔۔۔۔۔ بولا تم کو کیسا لگا ثانی۔۔۔۔۔ کیا کیسا لگا میں۔۔۔۔۔ مجھے ہاف ننگا دیکھ کر ثانی۔۔۔۔۔ شرم آرہی تھی کہ آپ پتا نہیں یہ کیا کر رہے ہیں میں۔۔۔۔۔ چلو کبھی بتا دوں گا کہ کیا کر رہا تھا ثانی۔۔۔۔۔ کب
اوہ اچھا تو ثانی بھی آہستہ آہستہ سب جاننا چاہتی ہے یہ تو اچھی بات ہے یہ سوچتے ہوئے میں نے اس کو ریپلائی کیا
میں۔۔۔۔۔ جب تم واپس آ جاؤ گی ثانی۔۔۔۔۔ نہیں نہیں جب آپ کا موڈ ہو بتا دیجیے گا اور میسج پر ہی بتا دیجیے گا سامنے تو مجھے شرم آئے گی میں۔۔۔۔۔ اوکے جی ثانی۔۔۔۔۔ امی اور خالہ آگئی ہیں اوکے بائے میں۔۔۔۔۔ اوکے
اب میں یہ سوچ رہا تھا کہ ثانی بھی مزہ دینے پر راضی ہو جائے گی اسی دوران کسٹمر آگئے اور میں ان میں بزی ہو گیا گھڑی کی طرف دیکھا تو چھ بج رہے تھے میں نے اسلم صاحب جو کہ میری شاپ کے قابل اعتماد ملازم ہیں ان کو بتایا کہ میں جا رہا ہوں آپ شاپ بند کر دیجیے گا اور گھر کی طرف چل پڑا گھر پہنچ کر بیل دی تو ثانی گیٹ کھولنے آئی ثانی نے گیٹ کھولا تو اس کو دیکھ کر میں نے کہا اوہ کیا بات ہے سویٹی ثانی نے بلیک جینز اور اوپر پنک کرتی پہنی ہوئی تھی کرتی سینے سے ٹائٹ تھی ثانی کے ممے کچھ زیادہ ہی ابھرے ہوئے لگ رہے تھے مموں کا سائز کا بھی اندازہ ہو رہا تھا مجھے ایسے دیکھتے ہوئے بولی
ثانی۔۔۔۔۔ بھائی کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہے ہیں میں۔۔۔۔۔ بہت پیاری لگ رہی ہو دل کر رہا ہے گود میں اٹھا لوں اپنی گڑیا کو ثانی۔۔۔۔۔ جناب اب بڑی ہو گئی ہوں گود میں اٹھانے والی نہیں ہوں میں۔۔۔۔۔ میں تو اٹھا سکتا ہوں ثانی۔۔۔۔۔ اچھا اٹھا لیجیے گا ابھی اندر آئیں امی ابو آپ کا انتظار کر رہے ہیں
میں نے بائیک اسٹینڈ پر کھڑی کی اور اندر آگیا سب کو سلام کیا ابو بولے بیٹا جلدی سے فریش ہو جاؤ پھر ہمیں چھوڑ آؤ میں بولا جی بس ابھی آیا میں روم میں آیا اور فریش ہو کر نیچے آگیا امی بولیں ثانی بھائی کے ساتھ مل کر گاڑی میں سامان رکھو میں نے امی کا ہینڈ کیری اٹھایا یہ ہی ہینڈ کیری تھا جس کی وجہ سے امی مجھ سے کلوز ہوئی تھیں میں اور ثانی مل کر سامان رکھنے لگے اس دوران میں ثانی کے مموں کو ٹچ کرتا رہا اور بیک سے بھی جب موقع ملتا لن کو گانڈ سے ٹچ کر دیتا ثانی تو آج بہت ہی اچھی لگ رہی تھی ثانی کے ممے بہت نرم فیل ہو رہے تھے ثانی نے کوئی ری ایکشن نہیں دیا اس کا مطلب ثانی بھی مزہ لے رہی تھی ہم دونوں نے مل کر سب سامان رکھ دیا امی اور ثانی نے عبایا پہن کر تیار ہو گئیں ثانی عبایا میں تو اور بھی پیاری لگ رہی تھی ابو بولے چلو بھئی دیر ہو رہی ہے امی خالہ اور نازی سے ملیں اور مجھے کہا کامی خالہ اور نازی کا خیال رکھنا اور شاپ سے جلدی آنے کی کوشش کرنا میں بولا امی فکر نہ کریں میں دونوں کا خیال رکھوں گا اور آپ کے جانے کے بعد تو خالہ کے ساتھ ڈیٹ پر لے جاؤں گا امی غصہ سے دیکھتے ہوئے انسان بنو چلو باہر ابو گاڑی میں بیٹھ گئے تھے نازی اور خالہ گیٹ تک آئیں میں سب کو لے کر اسٹیشن پہنچ گیا ابو نے اے سی سلیپر بک کروایا ہوا تھا سب سامان کیبن میں رکھا ابو باہر کھڑے تھے میں امی اور ثانی ساتھ تھے میں امی کے قریب ہوا اور کان میں کہا جان مس یو امی نے اشارہ کیا کہ ثانی ہے ثانی بھی عبایا اتار کر ریلیکس ہو گئی تھی امی نے بھی عبایا اتار رہی تھیں اور عبایا اتارتے ہوئے امی کے مموں کا دیدار کیا اتنے میں ابو آگئے اور بولے کامی تم چلو اب ٹرین چلنے والی ہے میں امی ابو اور ثانی سے مل کر اسٹیشن سے باہر آگیا اور پارکنگ سے گاڑی نکال کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا گھر پہنچ کر گیٹ پر ہارن دیا تو خالہ گیٹ کھولنے آئیں اور کہا بھانجے آگئے میں بولا جی خالہ خالہ نے بلیک شرٹ اور وائٹ ٹراؤزر میں اور ہونٹوں پر لال لپ اسٹک اور پونی اسٹائل کے ساتھ میرے سامنے کھڑی تھیں خالہ اس طرح مجھے دیکھتے ہوئے بولیں
خالہ۔۔۔۔۔ بھانجے کیا ہوا میں۔۔۔۔۔ خالہ لکنگ اسمارٹ آج تو آپ کے ساتھ ڈیٹ مارنے کا دل کر رہا ہے خالہ۔۔۔۔۔ بھانجے کنٹرول اندر چلو کھانا کھا لو
میں اندر آگیا نازی کچن میں روٹی پکا رہی تھی مجھے دیکھ کر نازی بولی
نازی۔۔۔۔۔ بھائی کھانا لگا دوں میں۔۔۔۔۔ ہاں لگا دو
پھر خالہ اور نازی نے مل کر کھانا لگایا ہم نے کھانا کھایا کھانے کے بعد میں خالہ اور نازی سے بولا چلیں آئس کریم کھانے چلتے ہیں
نازی۔۔۔۔۔ بھائی آپ خالہ کو لے جائیں میرے تو ٹیسٹ اسٹارٹ ہیں میں تو اسٹڈی کروں گی میں۔۔۔۔۔ خالہ چلیں خالہ۔۔۔۔۔ تم لے آؤ نازی اکیلی ہو گی نازی۔۔۔۔۔ نہیں
The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 9) appeared first on Urdu Stories.