ہوس کے اس پار ۔۔۔ – Urdu Stories


ہیلو فرینڈز، میں شفاقت ہوں فیصل آباد سے۔ یہ میری زندگی کی حقیقی کہانی ہے جو آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ میرے گھر میں صرف ہم چھ افراد ہی رہتے ہیں جن میں میری دادی، ابو، امی، بڑی بہن، میں اور میری چھوٹی بہن۔ میرا تعلق راجپوت فیملی سے اور میرے ابو کی جڑانوالہ میں کپڑے کی دکان ہے۔ میں مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا ہوں۔ میری عمر 21 سال ہے۔ میں دیکھنے میں نارمل خوبصورت اور شکل صورت سے اور باڈی سے فٹ نظر آتا ہوں۔ میں بی کام پارٹ فرسٹ کا سٹوڈنٹ ہوں اور میری بہن بھی میرے ساتھ ہی پڑھتی ہے۔ اس کی عمر 23 سال ہے۔ اس نے سمپل ایف اے ہی کیا ہوا تھا اور آگے نہ پڑھ سکی کیونکہ ہمارے قریب کوئی گرلز کالج نہیں تھا اور دو سال بعد میں نے بھی جڑانوالہ کالج سے آئی کام کے امتحان دے کر فارغ ہو گیا تھا۔ میری اپنی چھوٹی بہن سے زیادہ بنتی نہیں تھی اور میرے سارے کام میری بڑی بہن ہی کرتی تھی جس کا نام ماریہ ہے جو  بہت ہی  خوبصورت ہے۔ وہ بہت اچھی ہے میرے ساتھ اور میرا پورا خیال رکھتی ہے۔ اپنی کہانی بتا رہا ہوں تاکہ آپ کو پتہ چل سکے کہ سیکس کا مزہ کیا ہوتا ہے اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں میں نے خوشی خوشی اپنی بہن سے سیکس کیا اور بعد میں آج تک پچھتا رہا ہوں ۔ تو دوستو آپ کو قسم ہے کہ میری کہانی کو پورا پڑھیں گے اور اپنا فیڈبیک بھی دیں گے ..کہانی کچھ اس طرح سے شروع ہوتی ہے۔۔

یہ میری اپنی سگی بڑی بہن کے ساتھ سیکس کی حقیقی اور مکمل سٹوری ہے۔ اس لیے تھوڑی لمبی بھی ہے کیونکہ ایک بہن کا اپنے بھائی کے ساتھ سیکس اس نے کبھی نہیں سوچا ہوتا اور اگر خیال آ بھی جائے تو گھبراہٹ اور ڈر سے اس خیال کو دماغ سے نکال دیتی ہے کہ اس کا بھائی کیا سوچے گا تو اس کام کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ تو لڑکی کا ذہن تبدیل کرنا ہوتا ہے جو کہ اتنا آسان کام نہیں ہوتا۔ انسان کا ذہن کب بدل جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا کیونکہ انسانی دماغ ایک ایسی چیز ہے کہ یہ کسی کے سمجھانے یا بدلنے سے بھی نہیں بدلتا اور کبھی کبھی اپنے آپ ہی بدل جاتا ہے۔ تو بات ہے صرف فوکس کرنے کی۔ جب بھی کوئی کسی چیز پر فوکس کرتا ہے سوچتا ہے تو اس کا ذہن آہستہ آہستہ اس کام کو کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے چاہے وہ کتنا غلط ہی کیوں نہ ہو۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہوتا کہ بھائی نے اپنی بہن کو ٹچ کیا اور یا گلے لگا لیا تو بہن فوراً تیار ہو گئی  ۔یہ کہانیوں میں تو ہوسکتا ہے مگر حقیقت میں نہیں ۔

سو بات 2012 کی ہے۔ میرا رزلٹ آ گیا اور میرا پروگرام بنا کہ آگے بی کام کروں تو ابو نے فیصلہ کیا کہ اب میں فیصل آباد کے کسی اچھے کالج میں پڑھوں تو میں فیصل آباد کالج آف سائنس میں ایڈمیشن کے لیے آنا جانا شروع کر دیا تو کنویئنس کے لیے بہت مسئلہ ہوا سی این جی کی وجہ سے تو میں نے فیصلہ کیا کہ میرے چاچو نے جو مکان لیا ہے تیزاب مل کے قریب تو میں وہاں رہ لیا کروں گا۔ تو ابو سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ پھر اپنی بہن کا بھی وہاں ایڈمیشن کروا دو اور دونوں ایک ساتھ رہ لیا کرو گے اور ایک دوسرے کا خیال بھی رکھا کرو گے جس سے ہمیں کوئی ٹینشن نہیں ہو گی نہ تمہاری اور نہ ہی تیری بہن کی کیونکہ بیٹا زمانہ بہت خراب ہے۔ اسی لیے تو وہ آگے پڑھ نہیں سکی۔ تو میں خوشی خوشی مان گیا اور جب شام کو ماریہ سے پوچھا تو وہ پہلے حیران ہو گئی اور بعد میں وہ بھی راضی ہو گئی اور مان گئی۔ تو میں نے اگلے دن اس کا بھی ایڈمیشن اپنے ساتھ ہی کروا دیا اور جب کلاسیں شروع ہوئیں تو ضرورت کا سامان لے کر ہم وہاں چلے گئے۔ وہ مکان کالج سے 6، 7 منٹ کی پیدل دوری پر تھا اور اس کے دو کمرے تھے جس میں ایک میں انکل کے گھر کا کچھ خراب سامان تھا اور ایک خالی تھا تو ہم نے وہاں زمین پر ہی لٹنا تھا کیونکہ وہاں ایک ہی چارپائی تھی تو میں نے کارپیٹ ارینج کیا اور دو الگ الگ میٹریس فوم کے گدے بچھا دیے اور وہاں رہنا شروع کر دیا اور کھانا ہوٹل سے لے آتے اور پڑھتے رہتے رات تک اور پھر سو جاتے۔

چند دن ایسے ہی چلتے رہے۔ ہماری کلاس سیکنڈ ٹائم تھی جس کی وجہ سے ہم رات کو پڑھتے اور دن کو این ٹائم پر اٹھے اور ماریہ مجھ سے پہلے اٹھ جاتی تھی پھر نہا کر کھانا کھا کر کالج چلے جاتے تھے۔ ایک دن جب میری آنکھ کھلی تو میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ میری بہن نے کمیز اتارا ہوا تھا اور صرف شلوار ہی پہنی ہوئی تھی اور کپڑے چینج کر رہی تھی کیونکہ ہمارے پاس ایک ہی روم تھا اس لیے وہاں ہی سب کچھ کرنا تھا تو میں سویا تھا جس کی وجہ سے وہ بے فکر ہو کر وہاں ہی چینج کرنے لگی تو میں اسےغور سے دیکھنے لگا۔ اس کے بوبز موٹے موٹے تھے جو کہ ویسے اتنے بڑے نہیں لگتے تھے۔ یہ دیکھتے ہی میرا لن کھڑا ہونے لگا لیکن میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں کہ نہیں نہیں یہ میری سگی بہن ہے۔ لیکن اس دن سے میرے من میں میری بہن کے لیے برائی آ گئی اور میرا دل ایک لمحے کہتا کہ تیری سگی بہن ہے اور اگلے ہی لمحے کہتا کہ اتنی خوبصورت لڑکی تیری بغل میں رہے اور تو اس کے ساتھ سیکس نہ کرے لعنت ہے تجھ پر بھی اور پھر میرا دل چاہتا کہ اب میں اسے ننگا دیکھوں اور اس کے ساتھ سیکس کروں اور میں نے اس کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا اور خیالوں میں اس سے سیکس کرتا اور حقیقی میں سیکس کرنے کے لیے پلاننگ کرنے لگا۔

یہ سردیوں کا موسم تھا تو میں نے آہستہ آہستہ اس سے فری ہونا شروع کر دیا اور اسے بتایا کہ ہم اب بڑے ہو گئے ہیں تو چھوٹی چھوٹی باتیں نہیں سوچنی چاہیے کہ مجھ سے شرارتی رہنا ڈرنا یا مجھ سے پردہ کرنا وغیرہ کیونکہ ہم اب ہائیر ایجوکیشن کے لیے آئے ہیں تو میچور ہو کر رہو۔ دنیا فیشن ایبل ہے تو تم بھی اپنے آپ کو تھوڑا چینج کرو۔ ہمیں ایک دوسرے کے دوست بن کر رہنا چاہیے اور اس طرح خاموش اور شرمانا نہیں چاہیے۔ تو اس نے شرما کر اوکے کہہ دیا لیکن مجھ سے کوئی اتنی فری نہیں ہوئی جتنا میں نے سوچا تھا اور بغیر مجھ سے باتیں کیے پڑھنے لگ گئی تو میں بھی پڑھنے لگ گیا۔ پھر ہم نے کھانا کھایا تو میں باہر جا کر دو آئس کریم لے آیا تو وہ حیران ہو گئی تو میں نے اسے بتایا کہ ہم بہن بھائی تو ہیں ہی لیکن یہاں رہنے کے لیےدوستوں کی طرح رہنا ہوگا اور ہر بات آپس میں شیئر کرنی ہو گی تو وہ کھل کر ہنس پڑی اور بعد میں میں بھی ہنس پڑا۔ وہ میری اس اچانک چینج سے حیران تھی کیونکہ میں نے پہلے اسے کبھی ایسا نہیں کہا تھا اور نہ ہی زیادہ فری ہو کر بولا کرتا تھا بس کام کی ہی بات کیا کرتا تھا۔

ہم نے آئس کریم کھائی اور میں نے بہت فنی باتیں کی اپنی اور دوستوں کی جو کہ میں نے پہلے کبھی نہیں کی تھی اور خوب ہنسے۔ بعد میں ہم اپنے اپنے بستر میں جا کر سو گئے کیونکہ ہم الگ الگ سوتے تھے۔ اگلے دن جب وہ اٹھی اور نہا کر آئی تو پہلے مجھے دیکھا تو میں سو رہا تھا تو اس نے پھر اپنے کپڑے چینج کرنے لگے اور میں دیکھتا رہا کیونکہ اصل میں میں تو اسی وقت کا انتظار کر رہا تھا اور سونے کا ڈرامہ کر رہا تھا۔ میرا لنڈ کھڑا ہونا شروع ہو گیا تھا اور مجھے بڑا مزہ آ رہا تھا۔ وہ کپڑے چینج کر چکی تھی تب میں اٹھا، نہا کر کھانا کھایا اور کالج چلے گئے۔ اس کا بھائی سے ذہن بدل کر دوست تک لانے اور فری ہونے میں 4 یا 6 دن لگ گئے تو پھر میں نے ایک شام مارکیٹ سے دو ٹراؤزر اور دو ٹی شرٹس لے کر آیا اور ایک اسے دیا اور ایک اپنے لیے رات کو سونے کے لیے تو وہ ذرا سا ڈر گئی اور پہننے کے لیے نہ کر دی تو میں نے اسے پھر سے فرینڈشپ والا لیکچر دیا کہ وہ اپنے ذہن سے ڈر نکال دے کہ میں اس کا بھائی ہوں کیا کہوں گا وغیرہ اور کنوینس کیا اور تھوڑی دیر بعد وہ مان گئی۔

رات کو میں نے پہلی بار اس کے سامنے ڈریس چینج کیا اور وہ چپ چاپ اپنا پڑھتی رہی۔ اس نے میری طرف چور آنکھ سے بھی نہیں دیکھا بلکہ ڈر سی گئی۔ مجھے تو پتہ تھا کہ مشرقی لڑکیاں اتنی بے حیاء نہیں ہوتیں تو میں محسوس ہو گیا کہ یہ اب فری نہیں ہو گی اور نہ ہی ٹراؤزر شرٹ پہنے گی۔ میں کھانا لینے باہر چلا گیا تو جب واپس آیا اور دیکھا تو حیران رہ گیا کہ اس نے وہ ٹراؤزر اور ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی تو بہت ظالم لگ رہی تھی تو میرا لن فل تن کر کھڑا ہو گیا تو وہ مسکرا رہی تھی تو ہم دونوں ہنس پڑے۔ میں بہت خوش تھا اور وہ خوش لگ رہی تھی۔ اسی طرح دن گزرتے گئے اب وہ مجھ سے فری ہونے لگ گئی تھی تو ایک دن میں اپنے دوست کا لیپ ٹاپ لایا اور ہم دونوں نے ڈرونی فلم دیکھی جو کہ میرا پلان تھا اور سونے لگے تو میں نے کہا کہ باقی مجھے ڈر لگ رہا ہے تو اس نے کہا کہ میرے ساتھ ہی سو جاؤ کیونکہ اب وہ بالکل فری ہو گئی تھی مجھ سے تو میں اس کے ساتھ سو گیا اس کے رضائی میں۔

میں اس کے بدن کی خوشبو کو محسوس کر رہا تھا اور دل اسے ٹچ کرنے کو کر رہا تھا پر ڈر بھی لگ رہا تھا کہ اگر برا مان گئی تو یہ جو قریب سے دیکھتا ہوں اتنا فری ہوں اس سے بھی جاتا رہوں گا تو میں کچھ دیر سیکس کے بارے میں سوچتا رہا پتہ ہی نہیں چلا کہ کب سو گیا۔ جب اٹھا تو باقی نہانے گئی تھی۔ اس کے آنے بعد میں نے اسے ڈریس چینج کرتے دیکھ کر مزہ لیا اور بعد میں اٹھ کر نہایا پھر ہم نے کھانا کھایا اور کالج چلے گئے۔ میں بہت خوش تھا اور آج رات بھی میں نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ ہی سوؤں گا کیونکہ مجھے آج پھر ڈر لگ رہا ہے تو وہ مسکرائی اور کہا کہ اگر ڈرتے ہو تو اس طرح کی موویز کیوں دیکھتے ہو تو میں بولا کہ آئندہ نہیں دیکھوں گا اور میں ساتھ سو گیا۔ ہمارا دونوں کا منہ ایک ہی طرف تھا۔ پھر تقریباً آدھے گھنٹے بعد ماریہ نے منہ دوسری طرف کر لیا اور جب مجھے یقین ہو گیا کہ اب وہ سو گئی ہے تو میں نے اپنی ٹانگ کو اپنی بہن کے اوپر رکھ دیا۔ کچھ دیر ایسے ہی رہا اور بعد میں میں نے اپنا ہاتھ بھی ماریہ کے بازو پر رکھ دیا۔ مجھے بہت مزہ آ رہا تھا اور میں ڈر بھی رہا تھا کہ اگر اسے پتہ لگ گیا تو مر جاؤں گا اور مجھ پر شیطان سوار تھا ہٹنے ہی نہیں دے رہا تھا۔ تبھی ماریہ کی طرف سے بھی کوئی ریسپانس نہیں آ رہا تھا تو میں نے ہمت کر کے اپنا لن اس کی گاند کے ساتھ لگا دیا جو بہت ہارڈ ہو گیا تھا۔ مجھے بہت مزہ آ رہا تھا۔ پھر میں نے اپنے لن کو اس کی گاند کے درمیان رکھا تو اتنا مزہ آیا کہ میں بتا نہیں سکتا۔ میں نے ہلکے سے رگڑنے شروع کر دیے تو میں 2، 3 منٹ تک ایسا ہی کرتا رہا اور مزہ لیتا رہا۔ تبھی ماریہ کو پتہ چل گیا تو وہ جاگ گئی۔ میں ڈر کے مارے وہیں رک گیا۔ میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور میں سونے کا بہانہ کرنے لگا لیکن میرا لن جو ماریہ کے گاند میں ہی پھنسا ہوا تھا۔ تبھی ماریہ نے میری طرف دیکھا تو میں سونے کی طرح ڈرامہ کرنے لگا اور جب میرا لن اپنی گاند میں محسوس کیا تو فوراً غصے سے اسے اپنے الٹے ہاتھ سے ہٹایا۔ میرا ہاتھ بھی ہٹا دیا اور میری ٹانگ بھی پکڑ کر ہٹا دی۔ میں ڈر گیا اور وہ سیدھا منہ کر کے اور مجھ سے سرو ہو کر سو گئی اور مجھے بھی پتہ نہیں چلا کہ کب نیند آ گئی اور میں بھی سو گیا۔

صبح جب میں اٹھا تو اس کا موڈ کافی خراب تھا۔ وہ میرے ساتھ سیدھے منہ نہیں بولی تو میں سمجھ گیا کہ کیا بات ہے پر میں نے ظاہر نہیں ہونے دیا اور یہ شو کروایا کہ مجھے کچھ نہیں پتہ میں تو نیند میں تھا تو ہم نے کھانا کھایا اور کالج چلے گئے۔ گھر آ کر پڑھائی کی اور کھانا کھایا۔ اسی دوران میں نے اس سے کافی باتیں بھی کیں لیکن اس نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ اسے پتہ چل گیا تھا کہ میں نے جان بوجھ کر اس کے ساتھ ایسی گندی حرکت کی ہے تو میں بھی سمجھ گیا تو رات کو میں نے اس کے ساتھ سونے کا نام ہی نہیں لیا اپنے بستر میں ہی سو گیا اور اگلے دن بھی یہی رہا اور شام کو ہفتے کی وجہ سے ہم تیار ہو کر گھر جانے کے لیے سٹاپ پر آ گئے۔ میں نے اس سے باتیں کرنا شروع کر دیں تو اس نے ہاں ہاں میں جواب دیا تو میں نے پوچھا کہ وہ اس طرح کیوں کر رہی ہے تو اس نے کہا کہ تیری اس رات والی حرکت کی وجہ سے تو میں نے کہا کہ مجھے کچھ یاد نہیں ہے کہ میں نے کیا کیا اس رات تو وہ شرمندہ ہو کر چپ ہو گئی تو میں نے کہا کہ میں معافی مانگتا چاہتا ہوں پر مجھے بتاؤ تو سہی کہ کیا غلطی ہوئی ہے تو اس نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا اور رونا سا منہ بنائے رکھا۔ اتنے میں بس آ گئی۔ ہم بس میں بیٹھ کر گھر آ گئے۔

ہفتے کی شام اور اتوار کا دن ہماری آپس میں کوئی بات نہیں ہوئی اور گھر والوں سے بھی کوئی خاص بات نہیں کی تو اس بات نے میرا ارادہ پوری طرح سے بدل دیا تھا۔ میں نے اتوار کی رات کھانے کے بعد ماریہ کو کچن میں جا کر اسے معافی مانگی اور کہا کہ میں بہک گیا تھا اور جان بوجھ کر ایسا کیا تھا تاکہ میں تمہارے ساتھ سیکس کر سکوں کیونکہ میں نے تمہیں ننگا دیکھ لیا تھا۔ میں رو رہا تھا تو وہ بڑی شرمندہ ہوئی اور بولی کہ ہم دونوں بہن بھائی ہیں تمہیں شرم نہیں آئی اور کہا کہ آئندہ ایسا مت کرنا۔ ہم دونوں اچھے دوست ہیں پھر اسی طرح رہیں گے تو میں اب سچے دل سے مان گیا اور اس نے کہا کہ اب میں سب بھول جاؤ اور وہ مسکرائی اور میں بھی ہنس دیا۔ سب لوگ باتیں کرنے لگے۔ اب وہ نارمل ہو گئی تھی تو مجھے اچھا لگ رہا تھا۔ پھر ہم سب سو گئے۔ صبح فرسٹ ٹائم اٹھ کر ہم دونوں تیار ہو گئے اور سٹاپ پر آ گئے اور بس کا انتظار کرنے لگے۔ سٹاپ پر بہت رش تھا۔ 5 منٹ کے بعد بس آ گئی۔ ہم جلدی سے سوار ہو گئے۔ میں نے اسے بس میں پہلے چڑھایا اور بعد میں اس کے پیچھے میں بھی سوار ہو گیا۔ بس میں رش کی وجہ سے سیٹ نہیں ملی۔ ہم دونوں بہن بھائی ایک ساتھ ہی کھڑے ہوئے تھے۔ اس کی بیک میری طرف تھی کیونکہ وہ بس میں پہلے سوار ہوئی تھی۔ میں تھوڑے فاصلے پر تھا لیکن جب ایک دھکا لگا تو میں اپنی بہن سے پوری طرح چپک گیا اور میرا پیٹ ماریہ کی کمر کے ساتھ اور اس کے ہپ میرے لن کے ساتھ فل جڑی ہوئی تھی۔ میری گرم سانسيں اس کے بالوں کو چھو رہی تھیں۔ مجھے دیوانہ بنا رہی تھیں اور اس کے بالوں سے بہت اچھی خوشبو آ رہی تھی۔ سب لوگ پھنسے ہوئے تھے۔ ماریہ نے میری طرف غصے سے دیکھا جیسے میں جان بوجھ کر ایسا کر رہا تھا تو میں باہر کو دیکھنے لگ گیا کیونکہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا تو پھر اس نے آگے منہ کر لیا۔ میرے ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں تھی تو میں نے بھی منہ آگے کر لیا۔ اتنے میں بس چل پڑی۔

بس چلتی رہی اور ہمیں آہستہ آہستہ جھٹکے آنے لگے اور ہمارے جسم ایک دوسرے سے رگڑنے لگے۔ ہم دونوں کے جسم گرم تھے تو تھوڑی دیر بعد مجھے لگا کہ میرا لن کھڑا ہونے لگا ہے تو چند سیکنڈ میں ہی وہ جسے فٹ ہی جائے گا اور گرم بھی ہو گیا اور میری سلور کے اوپر سے ہی ماریہ کی ہپ کے سینٹر میں گس گیا تو میں حیران رہ گیا اور اسے روکنے کی کوشش کی پر جے نہیں روکا اور میرا رنگ لال ہو گیا کہ یہ تو وہی سین ہو گیا۔ بس کے چلنے سے ابھی جو آہستہ آہستہ ہم ہل رہے تھے تو میرا لن بار بار ماریہ کی گاند کو ٹچ کر رہا تھا اور اس کی نرم ملائم  گانڈ کے ماس کی نرمی  بھی محسوس ہونے لگی تو ماریہ نے پھر میری طرف دیکھا اور آگے ہونے کی کوشش کی لیکن آگے نہ ہو سکی تو میں نے خود پر کنٹرول کرنا چاہا پر ناکام رہا۔ میرا لنڈ ابھی بھی اسی طرح اس کی گاند میں گسا جا رہا تھا۔ اس نے بھی سلور پہنی ہوئی تھی جس کی وجہ سے میں اس کے جسم کو بہت اچھی طرح اس محسوس کر رہا تھا کہ جیسے بغیر کپڑوں کے ہو۔ اگر جینز ہوتی تو شاید ایسا مزہ نہ آتا۔ خیر اب اس نے اپنے ہاتھ سے میرا لن پکڑا اور اسے اپنی گاند سے ہٹا اور غصے سے میری طرف منہ کر لیا۔ میں ڈر گیا اور باہر کی طرف دیکھنے لگا۔ اتنے میں پیچھے سے ایک اور دھکا لگا تو میری چھاتی اس کے بوبز سے جا ملی اور اب ہم اچھی طرح پریس ہو گئے تھے اور میرا لن دوبارہ ٹائٹ ہو گیا۔ میرا لن اب اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان جا کر اس کی فڈی کو ٹچ کرنے لگا۔ میں پھر ڈر گیا کہ ابھی بس میں ہی نہ کچھ کہ دے تو اس نے اسی وقت میرا لن پکڑا اور اسی غصے سے ہٹانے لگی لیکن ہٹا نہ پائی۔ شاید اسے اچھا لگنے لگا ہو تو اس نے ہٹانے کی بجائے 3،4 سیکنڈ پکڑے رکھا اور بعد میں شور دیا۔ اب میں نے محسوس کیا کہ وہ بھی ریلیکس ہو گئی ہے اور اب اس نے مجھے کچھ نہیں کہا۔ شاید اب اس کا بھی ذہن بدل گیا ہو اور اسے مزہ آنے لگا تھا۔ اس کی ہر چیز میرے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔ آخر وہ بھی انسان تھی اور جوان بھی۔ میں تو اتنی دیر جذبات کو کابو میں نہ رکھ سکی۔

میں سمجھ گیا کہ اب اس کا بھی دل کر رہا ہے تو میں بھی لگا لگا اور وہ ادھر ادھر لوگوں کی طرف دیکھتی رہی لیکن اس کے بعد میری طرف نہیں دیکھا اور نہ ہی مجھے کچھ کہا تو ہم اسی طرح کوئی 10 منٹ تک کھڑے رہے پھر جا کر بس مکوآنہ سٹاپ پر رکی اور رش کم ہو گیا اور ہمیں سیٹ مل گئی۔ لیکن اب اس نے میری طرف نہیں دیکھ پا رہی تھی شرم سے تو میں بھی شرمندہ تھا۔ اس طرح ہمارا سٹاپ آ گیا۔ ہم اترے اور گھر آ گئے تو میں نے گھر آ کر سامان رکھا اور باہر چلا گیا کہ اس کے لیے کچھ لاؤں آئس کریم وغیرہ تو میں جب آئس کریم لے کر واپس آیا تو اس نے اپنا ڈریس چینج کر لیا تھا ٹی شرٹ اور ٹراؤزر جس میں وہ کیا مست لگ رہی تھی۔ جب میں نے اسے دیکھا تو وہ ہنس پڑی اور میرا لن پھر سے کھڑا ہونے کے لیے جھٹکے مارنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے فل کھڑا ہو گیا اور اب وہ میرے لن کو دیکھ رہی تھی اور ہنس بھی رہی تھی تو میں سمجھ گیا اور میں نے اسے ایک آئس کریم دے کھانے کو اور خود بھی کھانے لگ گیا۔ اسی دوران میں نے حوصلہ کیا اور ڈرتے ڈرتے اس کے بوبز کو ٹچ کیا تو اس نے کہا بھائی مت کرو ایسا اور شرما گئی تو میں نے پوچھا کیوں تو کہنے لگی کہ ہم بھائی بہن ہیں یہ اچھا نہیں ہے تو میں نے کہا کہ بس میں تو خود مجھے نیچے سے پکڑ رہی تھی اور اب مجھے ٹچ نہیں کرنے دے رہی تو وہ پھر ہنس پڑی تو میں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے اپنی آئس کریم ایک طرف رکھتے ہوئے اسے وہیں بستر پر لٹا لیا کہ کہیں بعد میں اس کا ذہن بدل گیا تو مصیبت ہو جائے گی اور میں نے اس کے منہ میں منہ ڈال کر کس کرنے لگا۔ ہم دونوں کو اچھا لگ رہا تھا۔ پہلے تو وہ شرماتی رہی پر 2، 3 منٹ کے بعد فل ساتھ دینے لگ گئی۔ اب ہم دونوں لٹے ہوئے تھے اور میرے ہاتھ اس کے ہاتھوں میں تھے۔ میں اس کے اوپر لیٹا ہوا تھا اور لگاتار کس کر رہے تھے ہم……۔

میں کوئی 7،8 منٹ بعد اٹھا اور اپنے پورے کپڑے اتار دیے اور فل ننگا ہو گیا تو وہ شرما رہی تھی اور میرا موٹا تازہ لن دیکھ کر گھبرا گئی اور ڈر کے مارے پیچھے ہو گئی اور کہا کہ میں نہیں پکڑوں گی میں مر جاؤں گی تو میں نے زبردستی اس کے ہاتھوں میں تھما دیا جو بہت گرم محسوس ہو رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں آنے کے بعد تو وہ نخرے کرنے لگی تو میں ہنس پڑا تو اس نے بھی ہنس دیا اور پکڑ کر ہلانے لگی اور میں نے اس کے ممے پکڑ کر دبانے لگا۔ اب ہم دونوں کو بہت مزہ آنے لگا تو کوئی 3، 4 منٹ بعد میں نے اس کو ہٹا دیا اور اس کی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر اتارنے لگا تو اس نے منع کر دیا کہ نہیں بس اتنا ہی کافی ہے اس سے زیادہ ہوگا تو غلط ہو گا تو میں نے کہا کہ میڈم یہاں تک بھی غلط ہی تھا اب نخرے مت کرو اور چپ چاپ اپنے کپڑے اتارو تو اس نے کہا خود ہی اتار لو مجھے شرم آتی ہے تو میں ہنس دیا اور وہ بھی اپنا منہ اپنے ہاتھوں سے ڈھک کر ہنسنے لگی تو میں نے اپنا کام جاری رکھا اور اس کے سارے کپڑے اتار دیے جو بھی اس نے پہنے تھے برا اور انڈرویئر بھی۔ اب ہم دونوں بالکل ننگے تھے۔ میں نے اس کے ہاتھ ہٹا دیے اور اس کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور اپنا لن اس کی پھدی پر رگڑنے لگا۔ وہ ڈر رہی تھی اور منع کر رہی تھی۔ میں جانتا تھا کہ سب ڈرامے کر رہی ہے۔ اگر کسی لڑکی نے کسی لڑکے کو منع کرنا ہوتا ہے تو لڑکے کی کیا مجال ہے کہ لڑکی کے قریب بھی آ جائے۔ بہرحال وہ اوپر سے ہی کہہ رہی تھی اندر سے پوری طرح تیار تھی کہ کب میں اس کے اندر ڈال دوں تو میں نے اپنا لن اس کی پھدی پر رگڑا تو وہ بہت تنگ تھی۔ میرا لن اندر نہیں جا رہا تھا تو میں نے سوچا کہ تیل لاتا ہوں تو میں وہیں سے اٹھا تو وہ فوراً ہی بولی کہ کیا ہوا کہاں جا رہے ہو تو میں نے کہا کہ آپ کی آسانی کے لیے ذرا ہوں۔ وہ شاید سمجھ نہیں سکی اور حیران ہو گئی تو میں نے جب تیل والی بوتل پکڑی تو وہ خوش ہو گئی۔ تبھی مجھے اندازہ ہو گیا کہ عورتیں کتنی مکار ہوتی ہیں۔ اپنا دل کرتا ہوتا ہے پر پھر بھی منع کرتی ہیں تاکہ کل کو یہ کہہ سکیں کہ میں نے تو تجھے اس وقت منع بھی کیا تھا پر تم نے نہیں مانے۔ بہرحال میں نے تھوڑا سا تیل نکالا اور اس کی پھدی اور اپنے لن پر لگایا اور ٹوپے پر بھی لگا لیا تو جب میں نے اپنا لن اس کی پھدی پر رکھا تو ماریہ نے کہا بھائی آہستہ کرنا مجھے ڈر لگ رہا ہے اور میں نے پہلے کبھی ایسا نہیں کیا تو میں نے ہاں میں سر ہلا دیا اور اپنے کام میں لگ گیا اور اب نے اپنا لن اس کی پھدی پر رکھ کر تھوڑا سا وزن ڈالا تو وہ آگے سرک گئی تو میں نے اسے تسلی دی تو دوبارہ لن رکھا اور زور سے جھٹکا مارا جس سے میرا آدھا لن اور اس کے اندر چلا گیا اور اس کی سیل توڑ دی اور وہ رونے لگ گئی۔ میں بھی ڈر گیا کیونکہ اسے بہت درد ہو رہا تھا اور ساتھ میں کافی خون بھی نکل رہا اور میں نے اپنا لن باہر نکال لیا تو میں نے اسے چپ کروایا کے لیے تسلی دی اور خون صاف کیا تو اس ٹائم میں ڈر گیا کہ میں نے اپنی سگی بہن سے کیا کر دیا ہے۔ میں بھی رونے لگا اور اپنا ارادہ بدل دیا تو تھوڑی دیر بعد جب درد رک گیا تو ماریہ نے کہا کہ بھائی اب جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے اب مت شرماؤ اب نہ کیا یا 1000 دفعہ کیا ایک ہی برابر ہے اب میری سیل ٹوٹ گئی ہے بدنام تو ہو ہی جاؤں گے اب اپنا اور تیرا دل کیوں تڑپاؤں تو میں نے اسے کہا کہ یہ اچھا نہیں ہے تو وہ غصے میں آ گئی تو کہا کہ جب میں کہہ رہی تھی کہ نہیں کرو تب رکنا تھا اب مجھے برباد کر کے رکنے کو کہہ رہے ہو تو میں نے پھر سے ارادہ بدل دیا کہ جب لڑکی راضی ہے تو مجھے کیا اعتراض تو میں اٹھا اور تیل لے کر اس کی پھدی پر لگایا اور اپنے لن پر بھی اور اس کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور ایک ہاتھ سے اپنا لن اس کی پھدی پر رکھ اور آہستہ آہستہ اندر کرنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے میرا پورا لن اس کی پھدی میں چلا گیا اور ماریہ کے منہ سے ہلکی سے درد اور مزے والی آوازیں بھی نکل رہی تھیں۔ آہ آہ آہ۔ تو میں نے اپنا لن آہستہ سے باہر نکالا اور پھر اندر کر دیا تو اسی طرح کرتے کرتے میں نے اسے تیز تیز جھٹکے مارنے لگا۔ ابھی ہم دونوں کے منہ سے لذت والی آوازیں نکل رہی تھیں۔ آہ آہ آہ ما مر گئی تیز اور تیز بھااائیی گگگیی۔ اسی دوران میں نے اس کے منہ کی طرف دیکھا تو اس آنکھیں بند تھیں اور رنگ سرخ ہو گیا تھا۔ ہم دونوں کو سردی میں بھی پسینہ آ رہا تھا۔ میں اسے چود بھی رہا تھا اور ساتھ میں شرمندہ بھی ہو رہا تھا کہ میں اپنی سگی بہن ساتھ زنا کر رہا ہوں پر میں کیا کرتا۔ اب بہت دیر ہو گئی تھی اور میں پھنس گیا تھا کہ اب میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا کہ اب وہ ایک عورت بن چکی تھی۔ اس کے لڑکی اور پاکباز ہونے کی دلیل کو میں نے توڑ دیا تھا۔ اب وہ واقعی ہی بدنام ہو گئی تھی۔ بہرحال میں مسلسل جھکے مارتا رہا اور وہ نیچے کراہ رہی تھی آآآآآآآآآآآآآہ آآآآآآآآآآآآآآہ  اور کبھی اوووووووووووئی ہااااائے امی جی اووووووووووووووئی ۔۔مر گئی مر جاؤں گی بھائی تیززززززز اور تیززززززز اور مست ہی رہی تھی۔ میں انہی خیالوں میں گم تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ میں چھوٹنے والا ہوں تو میں نے دیکھے مارنا تیز کر دیے یہ سوچا کہ جب منی نکلنے والی ہو گئی تو باہر نکال لوں گا لیکن اب میرا جسم اکڑ گیا اور میں مسلسل دھکے مارتا رہا اور جب روکا تب میری ساری منی ماریہ کے اندر گر چکی تھی۔ اسی دوران وہ بھی 2 دفعہ چھوٹ چکی تھی۔ مجھے افسوس ہوا ایک کہ منی اندر گر گئی ہے اور دوسرا کی اپنی ہی سگی بہن……۔

میں اپنا لن نکالے بغیر ہی اس کے اوپر لیٹ گیا کیونکہ میں تھک گیا تھا اور اس نے مجھے جپھی ڈال لی اور مجھے کس کرنے لگ اور میں بھی لیکن اس کام کے لیے میں اندر سے بدل گیا تھا کہ آئندہ اپنی بہن کے ساتھ سیکس نہیں کروں گا اور اب ماریہ کا جیسے ذہن بن گیا ہو کہ اب وہ ہمیشہ یہی کام کیا کرے گی اور اس کی چودوانے کے لیے دیوانگی اتنی تھی کہ جیسے اسے کسی نے جنت دے دی ہو۔ اسی دوران میرا لنڈ پھر سے کھڑا ہونے لگا تھا اس کی پھدی میں ہی تو جیسے ہی ماریہ کو محسوس ہوا تو وہ اب نیچے سے ہلنے لگی جیسے کہہ رہی ہو کہ پھر سے شروع ہو جاؤ۔ تبھی میں اٹھا اور پھر سے اسے چودنا شروع کر دیا۔ وہ ابھی بھی آنکھیں بند کر کے مست تھی اور آوازیں نکل رہی آہ آہ آہ اور مزے لے رہی تھی تو میں نے بھی غصے سے اسے چودنا شروع کیا اور تقریباً 15 منٹ بعد میں پھر اس کی چوت میں ہی چھوٹ گیا اور میں نے اپنا لن باہر نکال لیا اور کپڑے سے صاف کیا اور اس کی چوت کو بھی صاف کر رہا تھا کہ اتنے میں ماریہ اٹھی اور مجھے گلے سے لگ لیا اور میرا ماتھا چوم کر کہا کہ میرے بھائی آج تو نے مجھے جیسے جنت دے دی ہو۔ ہم دونوں نے اپنے اپنے کپڑے پہنے اور میں نہانے چلا گیا اور جب نہا کر واپس آیا تو وہ بھی نہانے چلی گئی تو میں اپنے بستر پر لیٹ گیا تھا اور سوچنے لگا کہ مجھ سے آج کیا ہو گیا ہے۔ یہ بات تو میں نے اپنی 20 سالہ زندگی میں بھی نہیں سوچی تھی جو میں نے 20 دن میں سوچ کر پوری کر دی جس بات کے بارے میں میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا وہ بات آج میں نے پوری کر دی تھی۔

میں یہی سوچ رہا تھا کہ ماریہ نہا کر آ گئی اور میرے اوپر لیٹ گئی اور کہنے لگی کہ یہ کام تم نے پہلے کیوں نہیں شروع کیا تھا اتنی لیٹ کیوں شروع کیا پتہ ہے مجھے سیکس کی کتنی تمنا تھی پر اپنے ہی بھائی کے ساتھ میں نے سوچا ہی نہیں تھا تو میں کہنے ہی والا تھا کہ ماریہ ہم دونوں سے جذبات میں آ کر غلطی ہو گئی ہے اب ہم پھر سے یہ غلط کام نہیں کریں گے تو اس نے پہلے ہی کہہ دیا کہ اب ہم ہر روز سیکس کے مزے لوٹا کریں گے یہاں تو ہمیں کوئی روکنے والا بھی نہیں ہے جب دل کیا پڑھائی کی اور جب دل چاہا خوب مزہ کیا تو میں حیران رہ گیا۔ تھوڑی دیر بعد میں اٹھا اور بازار سے کھانا لے کر آیا اور ہم دونوں نے کھانا کھایا اور ماریہ نے مجھے اپنے پرس سے 100 روپے کا نوٹ دیا اور کہا کہ بھائی یہ لو اور دودھ پی آؤ ورنہ کمزور ہو جاؤ گے اور ہنس پڑی لیکن میں شرمندہ ہی رہا۔ اب ہم پڑھ رہے تھے وہ بہت خوش تھی اور بار بار میری طرف دیکھ کر ہنس رہی تھی اور میں چپ تھا۔ کافی دیر بعد ماریہ بولی اور کہا کہ ‘‘بھائی آج میرے ساتھ ہی سو جانا’’۔ اب میں اسے منع نہیں کر سکتا تھا کیونکہ کہتے ہیں کہ عورت کا جب دل توڑا جاتا ہے تو وہ ناگین بن جاتی ہے اور اس بندے کو ڈسنا شروع کر دیتی ہے۔ مجھے پتہ تھا کہ اگر میں نے اسے منع کر دیا تو یہ باز نہیں آئے گی کیونکہ جب کسی لڑکی کو ایک دفعہ چودائی کا چسکہ پڑ جائے تو وہ پھر باز نہیں رہتی تو وہ کالج میں کسی اور لڑکے سے چدوائی کروائے گی اور ہو سکتا ہے وہ اپنے دوستوں سے بھی چدوا دے اور بعد میں اسے بدنام بھی کر دے کلاس میں تب میں نے ارادہ کر لیا کہ اب وہ جو چاہے گی وہی کروں گا اور اس کے ساتھ ہنسنے لگا۔

اب اسی طرح ہمارا جب بھی دل کرتا ہم آپس میں شروع ہو جاتے تھے۔ ایک دن میں کم از کم 4 دفعہ یا 6، 7 دفعہ ضرور سیکس کرتے تو اب ماریہ کی یہ پوزیشن ہو گئی تھی کہ جب وہ گھر آتی تو اپنے کپڑے چینج نہیں کرتی تھی بلکہ سرے سے ہی اتار دیتی تھی اور بالکل ہی ننگی پھرتی تھی تو میں نے اک دن اسے کہا کہ ماریہ شرم کیا کرو اپنے بھائی کے سامنے ایسے ننگی کیوں رہتی ہو اپنے کپڑے پہنا کرو تو وہ بولی کہ جب بھائی بے شرم ہو تو بہن کو کون سی شرم اور ہنس پڑی تو میں چپ ہو گیا۔ اسی طرح وقت گزرتا گیا اور ہمیں تقریباً 6 مہینے ہو گئے تھے کہ ہم روزانہ سیکس کرتے جس سے میں کافی کمزور اور ماریہ کا جسم پھول گیا۔ ہم ہر ویک اینڈ پر گھر جاتے تھے تو امی ابو کو شک ہو گیا تو دونوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم ہر وقت ماریہ کے ساتھ ہی رہتے ہونا تو میں نے کہا کہ ہاں تبھی انہیں کچھ اطمینان ہوا تو سنڈے نائٹ کھانے کے بعد ماریہ نے مجھے دودھ پلانے آئی تو میں دودھ پینے لگ گیا تو ماریہ نے میرا لن پکڑ لیا اور مسلنے لگا۔ میں نے اسے بتایا کہ گھر والوں کو شک ہے تو وہ بولی کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔ کل سے کچھ نہیں کیا مجھے کچھ ہو رہا ہے دل کر رہا ہے تو میں بھی مان گیا کیونکہ عادت تو ہم دونوں کو ہی ہو گئی تھی سیکس کی تو اب ہم دونوں ننگے سیکس کر رہے تھے جب اوپر سے میری امی آ گئی۔ اس نے ہمیں جب ننگے سیکس کرتے ہوئے دیکھا تو وہ اپنا سر پیٹنے لگی اور رونے بھی۔ ہماری تو جیسے جان ہی نکل گئی ہو۔ ہم نے جلدی سے کپڑے پہنے اور ماں کو چپ کروانے لگے پر ماں پر تو جیسے پہاڑ گر گیا تھا۔ وہ چپ ہی نہیں ہو رہی تھی اور رو رہی تھی۔ تبھی سب گھر والے آ گئے۔ ابو بھی آ گئے۔ میری امی نے جب ابو کو بتا دیا تو ابو نے مجھے اور ماریہ کو خوب مارا اور خود بھی رو رہے تھے۔ ہماری بڑی بے عزتی ہوئی۔ گھر والوں نے کسی کو بتایا تو نہیں پر ہم گھر میں ہی کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہے تھے اور ہمیں پڑھنے سے بھی ہٹا دیا۔

ایک دن ماریہ کی طبیعت خراب ہو گئی تو میں گھر پر نہیں تھا تو امی ڈاکٹر کے پاس لے گئی تو ڈاکٹر نے امی کو بتایا کہ یہ پیٹ سے ہے تو گھر والوں نے فوراً ابارشن کروا دیا اور بچہ ضائع کروا دیا۔ ماں نے ماریہ کی شادی کا فیصلہ کیا تو ابو بولے کہ اس جانور کی بھی ساتھ ہی کر دو ورنہ یہ ہماری چھوٹی بیٹی کو بھی چود دے گا۔ 2 مہینے کے اندر اندر ہی ہماری شادی ہو گئی۔ مجھے تو کچھ خاص فرق نہیں پڑا کیونکہ میں نے تو ایک حکیم سے رابطہ کر لیا تھا مگر  ماریہ کی چوری پکڑی گئی کہ یہ پہلے سے ہی چدواتی آ رہی ہے۔ اب ماریہ اپنے سسرال میں نہیں رہتی کیونکہ وہاں اس کی عزت نہیں تھی اور نہ ہی اُے کوئی بلاتا تھا نہیں ہی اس کا خاوند تو وہ شادی کے 10 دن بعد ہی آ گئی تھی اور کوئی اسے لینے نہیں آیا تو اب میں اپنی بیوی کے ساتھ سیکس کرتا تھا اور مجبوراً ماریہ کی پیاس بھی بجھاتا تھا جس سے میں کافی کمزور ہو گیا تھا۔ اب میں نے میڈیسن یوز کرنی شروع کر دی تھی کہ جب گولی کھاتا تھا تبھی سیکس کرتا تھا کیونکہ ماریہ دن میں 3 یا 4 بار چدواتی تھی اور میری بیوی رات کو دو تین بار۔ میں تنگ آ گیا ہوں اب سیکس سے۔ میں اسے چھوڑنا چاہتا ہوں پر ماریہ کی سیکس کی عادت بہت پکی ہو چکی ہے تو اب میں بھاگتا ہوں اس کام سے۔

اب ایک دن میں نے اپنے ہمسائے اقبال کو اپنی بیٹھک سے نکلتے دیکھا تو میں جلدی سے گھر گیا تو ماریہ  بیٹھک  سے نکلی تو جب میں نے پوچھا تو غصے سے بولی تمہارے لن میں تواب طاقت نہیں رہی میری آگ بجھانے کی ۔۔ میں نے اپنی پیاس تو بجھانی ہی ہے ۔۔مجھے  میری آگ بجھانے والا موٹا تگڑا لن چاہیے ۔۔چاہے و ہ کسی کا بھی ہو۔۔یہ سن کر  تو میں چپ   ہی ہو گیا۔ میں آج بھی اپنے آپ ہی کو مجرم ٹھہراتا ہوں کہ میں نے اس کی زندگی برباد کر دی ہے۔ تو دوستو مجھ سے سبق حاصل کرو اور اپنی کلیوں جیسی بہنوں کی زندگی کو تباہ ہونے سے بچا لو نہیں تو انجام اور زندہ مثال آپ کے سامنے ہے۔





Source link

Leave a Comment