
میرا نام سنی ہے اور ہم گھر میں چار لوگ ہیں یعنی ابو امی میں اور میرے بڑے بھائی۔ ابو کی عمر پچاس سال ہے جبکہ امی پینتالیس سال کی ہیں اور بڑے بھائی چوبیس سال کے جبکہ میں بیس سال کا ہوں۔ ہم لوگ لاہور میں رہتے ہیں۔ ابا سرکاری ڈرائیور ہیں اس لیے افسران کے ساتھ دورے پر رہتے ہیں۔ بڑے بھائی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتے ہیں اور ان کی شادی ہو چکی ہے وہ اپنی بیوی کے ساتھ لاہور کے دوسرے حصے میں سیٹل ہو گئے ہیں۔ میں ادھر ہی ایک کوریئر آفس میں پارٹ ٹائم کام کرتا ہوں اور گھر میں اب صرف میں اور امی رہتے ہیں۔ ابو ہفتے میں ایک بار گھر آتے ہیں۔
اس کہانی کی ہیروئن میری امی ہیں جن کا نام نزہت ہے۔ ان کا فگر بہت کمال ہے اور سینہ درمیانہ ہے لیکن چوتڑوں کے بارے میں پوچھو مت کیونکہ بہت چوڑے اور ابھرے ہوئے چوتڑ ہیں امی کے۔ سائیڈ سے دیکھو تو ان کی گانڈ بالکل ڈی کی شکل کی لگتی ہے۔ اور چلتے ہوئے دھمک دھمک کرکے دیکھنے والوں کی جان نکال لیتی ہے امی زیادہ تر شلوار قمیض پہنتی ہیں اور گھر میں نائٹی پہنتی ہیں۔
ایک دن ہماری کالونی میں فری میڈیکل چیک اپ چل رہا تھا اور کالونی کے بہت سارے لوگ اپنے چیک اپ کے لیے گئے تھے جہاں میری امی بھی گئی تھیں۔ وہاں مردوں کو مرد ڈاکٹر اور عورتوں کو لیڈی ڈاکٹر چیک کر رہی تھیں۔ وہاں صرف چیک اپ کر کے مزید علاج کے لیے ہسپتال آنے کو کہا گیا تھا اور میری امی کو بھی ہسپتال آنے کا مشورہ دیا گیا۔ یہ بات امی نے ابو کو بتائی لیکن ابو ڈیوٹی پر جا رہے تھے چار دن کے لیے اس لیے ابا نے پڑوسیوں کے ساتھ جانے کو بولا امی کو۔ امی نے ایسے ہی کیا لیکن ہسپتال میں ڈاکٹر نہیں تھے پھر ایک نرس نے ڈاکٹر کے پرائیوٹ کلینک کا پتہ بتا دیا اور امی واپس آ گئیں۔ ابو کو امی نے فون پر سب بتا دیا تو ابا نے اسی کلینک جانے کو کہا۔
اگلے دن میں اور امی اس کلینک پر پہنچے جو نرس نے بتایا تھا۔ باہر کوئی مریض نہیں تھا اس لیے ہم دونوں ڈاکٹر کے کمرے میں گئے۔ وہاں لیڈی ڈاکٹر کی جگہ ایک جوان ڈاکٹر بیٹھا ہوا تھا۔ امی نے ڈاکٹر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ جی محترمہ آپ صحیح پتے پر آئی ہیں وہ لیڈی ڈاکٹر میری بیوی ہیں اور وہ کسی ضروری میٹنگ کے لیے شہر سے باہر گئی ہیں جنہیں آنے میں ایک ہفتہ لگے گا۔ ڈاکٹر نے پوچھا کہ بات ضروری ہے کیا تو امی نے جواب دیا کہ جی ڈاکٹر لیکن ڈاکٹر صاحبہ سے ملنا تھا۔ ڈاکٹر بولا کہ بتایا نا میں نے کہ وہ ایک ہفتے میں آئیں گی اور میں بھی ڈاکٹر ہوں اور خواتین کے مسائل کا ماہر ہوں اس لیے آپ بتا دیں تو میں آپ کا علاج کر سکتا ہوں۔
امی اداس ہو گئیں اور ڈاکٹر سے کہا کہ جی ڈاکٹر مجھے کچھ مسائل تھے جو میں نے میڈم کو بتائے تھے اور انہوں نے ہسپتال بلایا تھا مگر ہسپتال میں وہ نہیں ملیں تو نرس نے یہاں بھیج دیا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ ٹھیک ہے پہلے بیٹھیے اور بتائیے کیا مسئلہ ہے آپ کو۔ امی نے کہا کہ ڈاکٹر وہ۔۔ اور پھر خاموش ہو کر سر نیچے کر کے بیٹھ گئیں۔ ڈاکٹر بہت ورزشی جسم کا مالک تھا۔اس نے دوبارہ پوچھا کہ آپ نہیں بتائیں گی تو میں کیسے سمجھوں گا اس لیے بتائیں کیا مسئلہ ہے؟ امی مجھے دیکھنے لگیں تو ڈاکٹر سمجھ گیا اور اس نے امی سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ امی نے بتایا کہ میرا بیٹا ہے۔ ڈاکٹر بولا کہ اچھا اچھا۔۔ سنو بیٹا تھوڑی دیر تم باہر بیٹھو میں بعد میں تمہیں اندر بلاتا ہوں۔
میں باہر آ کر بیٹھ گیا اور میرے دماغ میں کچھ چل رہا تھا کہ مجھے باہر کیوں بھیج دیا اور ایسا کیا ہو گیا ہے امی کو؟ میں دروازے کے پاس ہی بیٹھ کر اندر کی باتیں سننے لگا۔ ڈاکٹر نے پوچھا کہ کب سے ہو رہا ہے تو امی نے بتایا کہ تین مہینے سے۔ ڈاکٹر نے پوچھا کہ اجابت کے وقت جلن اور خون آتا ہے تو امی نے کہا کہ جی دونوں ہوتے ہیں۔ اس دن امی نے ہلکے سبز رنگ کی شلوار قمیض پہنی تھی۔ ڈاکٹر نے پوچھا کہ کبھی اس کا علاج کروایا تو امی نے بتایا کہ جی ڈاکٹر لیکن ابھی تک فرق نہیں پڑا۔ ڈاکٹر نے پوچھا کہ کہاں دکھایا تھا اور کس ڈاکٹر کو تو امی نے بتایا کہ ایک نجی ہسپتال میں ڈاکٹر شائستہ کو دکھایا تھا۔ ڈاکٹر نے پوچھا کہ ڈاکٹر شائستہ نے کیا کیا تھا تو امی بولیں کہ کچھ نہیں بس ٹیکہ لگا کر کریم دی تھی لگانے کو۔ ڈاکٹر نے پوچھا کہ ٹیکہ کہاں لگایا تھا اور کتنے تو امی نے اپنے کولہے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بتایا کہ یہاں لگائے تھے دو ٹیکے۔ ڈاکٹر نے پوچھا کہ پھر بھی آپ کو آرام نہیں آیا تو امی نے کہا کہ جی ڈاکٹر۔ ڈاکٹر بولا کہ چلیں بستر پر الٹی لیٹ جائیں میں چیک کرتا ہوں۔
میں سوچ رہا تھا کہ امی لیڈی ڈاکٹر کے آنے کا انتظار کریں گی اور مرد ڈاکٹر کو نہیں دکھائیں گی لیکن میری سوچ الٹ ہو گئی۔ امی بستر پر الٹی لیٹ گئیں اور ڈاکٹر نے پردہ گرا دیا جس کی آواز میں نے سن لی۔ ڈاکٹر نے کہا کہ چلیں قمیض اوپر اور شلوار نیچے کردیں۔ مجھے اندر کا منظر دیکھنے کا بہت شوق ہو رہا تھا اس لیے میں ایک کرسی پر چڑھ کر اوپر والے روشندان سے دیکھنے لگا۔ کیا منظر تھا کہ امی نے قمیض اپنی کمر تک اور شلوار گھٹنوں تک اتاری ہوئی تھی اور وہ الٹی لیٹی ہوئی تھیں۔ سرخ انڈروئیر نے ان کے بڑے کولہوں کو ڈھانپ رکھا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ یہ انڈروئیر اتار دیں ورنہ میں کیسے چیک کروں گا۔ امی نے کولہے اوپر اٹھا کر زیر جامہ نیچے کر دیا اور ڈاکٹر نے ہاتھ ڈال کر اسے پوری طرح نکال دیا اور پردے سے باہر آ کر میز پر رکھ دیا۔ کرسی پر چڑھنے کی وجہ سے مجھے اندر سب صاف دکھائی دے رہا تھا۔
اندر امی کی مستانی گانڈ بالکل ننگی ہوچکی تھی،میرے ساتھ ڈاکٹر بھی امی کی اتنی سیکسی گوری چٹی موٹی گانڈ دیکھ کر پاگل ہوگیاتھا اور میں امی کو پہلی بار ایسی نظر سے دیکھ رہا تھا۔ کیا سیکسی گانڈ تھی امی کی کہ میرا لن کھڑا ہونے لگ گیاتھا۔ ڈاکٹر نے پردے کے اندر آ کر دستانے پہنے اور آہستہ سے امی کے دونوں کولہے پھیلا کر اس کی تنگ موری میں کریم لگائی تاکہ انگلی ڈالنا آسان ہو سکے۔ پھر ڈاکٹر نے ایک انگلی آہستہ سے اندر ڈال دی تو امی کے منہ سے آہ نکلی۔ ڈاکٹر نے انگلی کو اندر تک ڈال دیا اور پھر آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگا۔
امی کو بھی مزہ آ رہا تھا اور وہ آنکھیں بند کر کے لطف لے رہی تھیں۔ ڈاکٹر نے اچانک دستانے اتارے اور امی کی گانڈ کو بری طرح چومنے لگا، اور اس کے سوراخ کے بالکل قریب اپنا چہرہ لے گیا۔ میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر نے اپنی زبان نکالی اور امی کی گانڈ کا سوراخ چاٹنا شروع کر دیا۔ امی ایک دم تڑپ اٹھیں اور ان کے منہ سے ایک لمبی “آہ ہ ہ ہ” نکلی۔ ڈاکٹر بڑی بے رحمی سے ان کے گورے کولہوں کے بیچ اپنی زبان گھما رہا تھا اور امی سسکیاں لے رہی تھیں۔ کچھ دیر چاٹنے کے بعد ڈاکٹر نے اپنی پینٹ کھولی اور اپنا لمبا اور موٹا لن باہر نکال لیا۔ اس نے امی کو بازو سے پکڑ کر سیدھا کیا اور ان کے سامنے اپنا لن کر دیا۔ امی پہلے تو ہچکچائیں لیکن ڈاکٹر نے ان کا سر پکڑ کر لن کی طرف جھکایا تو امی نے ڈاکٹر کا لن اپنے منہ میں لے لیا اور اسے چوسنے لگیں۔ ڈاکٹر مزے سے اپنی آنکھیں بند کر کے امی کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا جبکہ امی پوری لگن سے اس کا لن چوس رہی تھیں۔
پھر ڈاکٹر نے امی کو دوبارہ الٹا لٹایا اور ان کے دونوں کولہوں کو ہاتھوں سے دباتے ہوئے کہا کہ اب ٹیکہ لگا دیتا ہوں۔ امی آہ سسسس کر رہی تھیں۔ ڈاکٹر نے کہا کہ سب ڈاکٹروں نے ٹیکے لگائے ہیں لیکن میرا مسئلہ حل نہیں ہوا تو ڈاکٹر بولا کہ کیا انہوں نے چوتڑوں کو پھیلا کر اس طرح چیک کیا تھا؟ امی نے کہا کہ نہیں تو ڈاکٹر بولا کہ اسی لیے فرق نہیں پڑا تھا اور اب دو ٹیکے لگوا لیں پھر بعد میں مرہم بھی دیتا ہوں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ امی نے کہا کہ ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحب۔ ڈاکٹر نے امی کے دونوں چوتڑوں پر ٹیکے لگائے اور روئی سے اسے سہلانے لگا۔ اور دوبارہ امی کی گانڈ چومتے ہوئے بولا آپ کے گانڈ بہت ہی مست ہے دل چاہتا ہے اسے چومتا ہی رہوں ، امی بری طرح شرمانے لگ گئیں ، پھر امی بستر سے اٹھ گئیں اور اپنے کپڑے ٹھیک کر لیے۔ امی نے شرماتے ہوئے پوچھا کہ ڈاکٹر میرا انڈروئیر؟ ڈاکٹر بولا کہ جی یہیں ہے لے لیں اور یہ کہہ کر ڈاکٹر اسے سونگھنے لگا جسے دیکھ کر امی کے گال لال ہو گئے۔ امی نے کہا کہ دے دیں ڈاکٹر اور انڈروئیر ڈاکٹر کے ہاتھ سے کھینچ لیا پھر پردے کے اندر جا کر پہن کر باہر آ گئیں۔(ختم شد)