گھر کا پیار ۔۔۔(قسط 4)


اور کرسی پر چڑھ گئیں۔ اب میں نیچے کھڑا تھا اور امی کرسی پر کھڑی تھیں۔ سامان پکڑاتے ہوئے میرا ہاتھ امی کی رانوں سے ٹکرا رہا تھا اور پھر میں نے سامان پکڑاتے ہوئے اپنا ہاتھ امی کی چوت سے لگا دیا۔ میں سامان پکڑے کھڑا تھا اور ہاتھ امی کی چوت کے ساتھ ٹچ کیا ہوا تھا۔ امی الماری کے اوپر سیٹنگ کر رہی تھیں۔ پھر امی نے میرے ہاتھ سے سامان لیا تو میں ہاتھ چوت سے رگڑتے ہوئے نیچے لے گیا۔ امی کی چوت میرے منہ کے قریب تھی، دل کر رہا تھا کہ چوت کو پیار کر لوں۔ امی بولیں، “کامی! دوسری کرسی بھی لے کر آ جاؤ اور الماری کے اوپر سامان کروا دو۔” میں لاؤنج میں گیا اور دوسری کرسی لا کر اس کرسی کے ساتھ جوڑ کر اس پر کھڑا ہو گیا اور امی کے ساتھ سامان ٹھیک کروانے لگا۔ اسی دوران میں تھوڑا آگے ہوا تو میرا کھڑا لن امی کی چوت کے ساتھ لگ گیا۔ نہ تو امی کچھ بولیں اور نہ ہی میں پیچھے ہوا۔ ہم دونوں اسی طرح الماری کے اوپر سامان ٹھیک کر رہے تھے اور میرا لن چوت کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ امی بھی لن کو محسوس کر رہی تھیں اور چپ تھیں۔

کام ختم کرنے کے بعد میں کرسی سے نیچے اترا تو امی بولیں، “کامی میرا ہاتھ پکڑو میں نیچے اتروں۔” میں نے امی کا ہاتھ پکڑا، امی تھوڑی سی صحت مند ہیں۔ نیچے اترتے ہوئے امی کی کرسی ہلی تو امی لڑکھڑا کر گرنے لگیں، میں نے پکڑ کر انہیں اپنے ساتھ لگا لیا۔ امی کے ممے میرے سینے کے ساتھ دب گئے اور میرے دونوں ہاتھ امی کی گانڈ پر تھے۔ یہ سین کچھ دیر رہا اور امی شرمندہ سی ہو کر مجھ سے الگ ہو گئیں۔ یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ سمجھ نہیں آیا۔ امی کے پورے جسم کا لمس محسوس کر کے بہت مزہ آیا۔ امی نے الگ ہوتے ہوئے کہا، “کامی! یہ کرسیاں باہر رکھو، میں کچن میں کام کر لوں۔” میں نے کرسیاں لاؤنج میں رکھیں اور ٹی وی دیکھنے لگا۔

امی نے کچن سے آواز دی اور کہا، “کامی! بارش ہونے والی ہے، اوپر چھت پر جو کپڑے ٹنگے ہوئے ہیں وہ اتار کر لے آؤ۔” میں اوپر گیا۔ تار پر سے کپڑے اتارتے ہوئے کپڑوں کے ساتھ تین برا بھی ہاتھ میں آ گئیں۔ برا امی، نازی اور ثانی کی تھیں۔ تینوں برا ہاتھ میں پکڑ کر میں ان کے سائز کا اندازہ کر رہا تھا۔ برا ہاتھ میں پکڑ کر میں امی اور بہنوں کے مموں کے خیالوں میں گم تھا کہ پیچھے سے امی کی آواز آئی، “کامی!” میں ایک دم پیچھے مڑا تو میرے ہاتھوں میں برا تھیں۔ امی نے میرے ہاتھوں میں برا دیکھتے ہوئے بولا، “کامی! کپڑے لانے کا کہا تھا، تم یہ کیا کر رہے ہو؟” امی میری طرف بڑھیں، میرے ہاتھ سے برا لے کر کپڑے اتارنے لگیں اور غصے سے بولیں، “یہ کیا کر رہے تھے؟” میں بولا، “سوری امی! بس ایسے ہی۔” امی میرے آگے کھڑی ہو کر کپڑے اتارتے ہوئے بولیں، “یہ کپڑے لے کر نیچے چلو، باقی میں لے کر آتی ہوں۔” میں کپڑے لے کر نیچے آ گیا اور لاؤنج میں رکھ دیے۔

امی ابھی اوپر ہی تھیں، میں دل میں سوچ رہا تھا کہ یہ آج کیا ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے کبھی امی کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔ امی کیا سوچ رہی ہوں گی کہ ان کا بیٹا اپنی ماں کے ساتھ ہی مزے لے رہا ہے۔ میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ امی باقی کپڑے لے کر نیچے آ گئیں۔ “کامی یہ کپڑے پکڑو، بارش شروع ہو گئی ہے۔” میں جب امی سے کپڑے لینے اٹھا تو دیکھا امی پوری گیلی ہو رہی تھیں۔ امی سے کپڑے لیتے ہوئے میری نظر امی کی شرٹ میں سے کالی برا پر پڑی جو شرٹ گیلی ہونے کی وجہ سے صاف نظر آ رہی تھی۔ امی سے کپڑے لیتے ہوئے میرے ہاتھ امی کے مموں سے ٹچ ہو گئے۔ کپڑے لے کر صوفے پر رکھے، امی صوفے پر بیٹھ گئیں اور بولیں، “سارے کپڑے گیلے ہو گئے ہیں، تم فریج سے پانی نکالو، میں چینج کر کے آتی ہوں۔”

میں کچن میں گیا اور گلاس لے کر فریج سے پانی نکال کر جب لاؤنج میں آیا تو امی بھی اپنے روم سے نکلیں اور امی کو دیکھ کر تو میری سانسیں رک گئیں۔ امی نے باریک کپڑے کی شلوار قمیض پہن کر روم سے نکل رہی تھیں اور شرٹ کے نیچے برا بھی نہیں پہنی ہوئی تھی۔ امی کے مموں کی گولائی اور نیپل صاف نظر آ رہے تھے۔ امی کا پورا جسم نظر آ رہا تھا۔ امی کو دیکھ کر میری حالت یہ تھی کہ امی کے کپڑے اتار کر لن چوت میں ڈال دوں لیکن یہ کرنا آسان نہیں تھا۔ امی گھر میں دوپٹہ نہیں لیتی ہیں۔ امی لاؤنج میں بیٹھ گئیں اور پانی پینے لگیں۔ باہر بارش بہت تیز ہو رہی تھی۔ امی بولی، “کامی! شاپ پر کب تک جاؤ گے؟” میں بولا، “آج موڈ نہیں ہے، اسلم کے پاس چابی ہے وہ کھول لے گا۔” امی بولیں، “چلو یہ تو ٹھیک ہے۔” میں بولا، “امی! پکوڑے بنا لیں، پکوڑے کھانے کا دل کر رہا ہے۔” امی بولیں، “اچھا بنا دیتی ہوں۔”

اسی دوران لائٹ چلی گئی۔ امی بولیں، “لو! اب اس نے بھی اسی وقت جانا تھا۔ ذرا سی بارش ہو تو یہ لوگ لائٹ بند کر دیتے ہیں۔” یہ کہتے ہوئے امی کچن میں جانے کے لیے اٹھیں تو ان کی شرٹ، جس کا گلا کافی کھلا تھا، وہاں سے امی کے گورے اور موٹے مموں کا دیدار ہو گیا۔ امی نے کچن سے آواز دی، “کامی! یہاں تو اندھیرا ہے، تم چارجنگ لائٹ کچن میں رکھ دو۔” میں بولا، “امی! چارجنگ لائٹ کہاں رکھی ہے؟” امی بولی، “بیٹا اسٹور میں رکھی ہے۔” لاؤنج کے ساتھ ہی ایک اسٹور تھا جس میں گھر کا فالتو سامان رکھتے ہیں۔ میں موبائل کی لائٹ میں چارجنگ لائٹ ڈھونڈ رہا تھا کہ امی کی آواز آئی، “کامی! کیا ہوا لائٹ ملی؟” میں بولا، “امی کدھر رکھی ہے؟” امی بولیں، “رکو میں آتی ہوں۔” امی میرے پاس آئیں اور بولیں، “ہٹو مجھے اندر جانے دو۔” میں سائیڈ پر ہو گیا۔ امی اندر اسٹور میں چلی گئیں اور مجھے کہا کہ موبائل کی لائٹ آن کرو۔ میں امی کے پیچھے موبائل کی لائٹ آن کر کے کھڑا تھا، امی چارجنگ لائٹ ڈھونڈنے لگیں۔

اب امی میرے آگے جھکی ہوئی سامان میں سے چارجنگ لائٹ ڈھونڈ رہی تھیں۔ امی کی گانڈ میرے لن کے سامنے تھی۔ میں تھوڑا آگے ہوا اور لن کو امی کی موٹی گانڈ کے ساتھ ٹچ کر کے کھڑا ہو گیا۔ امی کی نرم گانڈ سے لن ٹچ ہوتے ہی لن کھڑا ہو گیا۔ امی کے کپڑے بھی ایسے ہی تھے کہ ان کے جھکنے سے گانڈ پوری واضح ہو گئی تھی۔ امی کو بھی فیل ہو گیا کہ میرا لن ان کی گانڈ سے ٹچ ہے۔ امی لائٹ نکال کر سیدھی ہو گئیں اور بولیں، “یہ لو مل گئی۔” میں سائیڈ پر ہوا۔ امی نے مجھے لائٹ دی اور کہا کہ آن کر کے کچن میں لے آؤ۔ میں نے لائٹ آن کی اور کچن میں لے کر گیا۔ جب لائٹ امی کے جسم پر پڑی تو ایسا لگا امی ننگی کھڑی ہیں، چارجنگ لائٹ میں امی کا جسم صاف نظر آ رہا تھا۔ امی بولیں، “کامی یہ لائٹ اوپر کیبنٹ پر رکھ دو۔” میں آگے ہوا اور پھر لن کو امی کی گانڈ سے ٹچ کر کے لائٹ رکھنے لگا لیکن رکھی نہیں جا رہی تھی۔ امی میرے آگے کھڑی تھیں، میں اور آگے ہوا اور لن پورا گانڈ کے اندر (درمیان) کیا اور لائٹ رکھنے میں کامیاب ہوا۔ اب امی کو بھی اس کھیل میں مزہ آ رہا تھا اور میرا حوصلہ بڑھ گیا تھا۔ میرا پیچھے ہٹنے کو دل نہیں کر رہا تھا۔ جب میں پیچھے ہٹا تو امی بولیں، “کامی! رکو کیبنٹ سے بیسن بھی نکال دو۔” میں نے پھر اسی طرح کیا اور اس دفعہ بیسن نکال کر میں لن کو گانڈ کے ساتھ لگا کر کھڑا رہا۔ امی بولیں، “کیا ہوا؟” میں نے ہمت کرتے ہوئے بولا، “امی ایک بات کہوں؟” امی بولیں، “ہاں بولو۔” میں نے لن کو گانڈ پر دباتے ہوئے کہا، “آپ بہت پیاری ہیں۔” امی بولیں، “خیریت ہے؟ آج ماں پہ بہت پیار آ رہا ہے۔” میں بولا، “امی آپ تو ہیں ہی پیار کے قابل۔” اب امی بھی کچھ مزہ لینا چاہتی تھیں کیونکہ وہ اپنی گانڈ کو لن پر دبا رہی تھیں۔

میں نے اپنے ہونٹ امی کی گردن پر رکھ دیے۔ امی کی سسکی نکلی اور بولیں، “کامی! یہ کیا کر رہے ہو؟ ایسا نہیں کرو، کوئی اپنی ماں کے ساتھ ایسا کرتا ہے؟” میں بولا، “امی! آپ اتنی سیکسی ہیں کہ میں کیا کروں۔” امی بولیں، “بے شرم! ماں کو سیکسی کہہ رہا ہے۔” میں نے امی کو اپنی طرف گھمایا اور امی کو اپنے ساتھ لپٹا لیا۔ امی کے ممے میرے سینے کے ساتھ دبے ہوئے تھے اور لن چوت کے ساتھ۔ امی میری باہوں میں قید تھیں۔ میں امی کی کمر سہلا رہا تھا۔ امی بولیں، “کامی! یہ غلط ہے۔” میں بولا، “امی! I love you۔” امی بولیں، “بیٹا یہ نہ کرو۔” میں بولا، “امی! اس موسم کو اور اپنے بیٹے کے پیار کو انجوائے کریں بس۔” اور میں امی کا ہاتھ پکڑ کر لاؤنج میں لے آیا۔

میں صوفے پر بیٹھ گیا اور امی کو اپنی گود میں بٹھا لیا اور اپنے دونوں ہاتھ آگے لے جا کر امی کے ممے پکڑ کر دبانے لگا۔ امی میرے کھڑے لن کو اپنی گانڈ پر دبا کر بیٹھی تھیں۔ میں امی کے بڑے اور ٹائٹ مموں کو دبا رہا تھا۔ امی بھی گانڈ کو لن پر دبا رہی تھیں۔ تھوڑی دیر اس طرح مزہ کرنے کے بعد میں نے امی کو اٹھا دیا۔ امی کے اٹھتے ہی میں نے اپنا ٹراؤزر اتار دیا۔ امی بولی، “کامی کیا پاگل ہو گئے ہو؟” میں بولا، “جی جان! اب تم کو چودنا ہے۔” امی بولیں، “یہ کون سی زبان بول رہے ہو؟” اور امی کی نظر میرے کھڑے لن پر تھی۔ میں بولا، “جان! بس اب نہ تڑپاؤ۔” امی بولیں، “اور کیا؟” میں بولا، “اس موسم کو انجوائے کرو۔” اور امی کو لپٹا کر اپنے ہونٹ امی کے ہونٹوں پر رکھ دیے اور امی کے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔ امی بھی گرم ہو گئی تھیں اور اپنی چوت میرے لن کے ساتھ رگڑ رہی تھیں۔

ہونٹ چوسنے کے بعد میں امی کی قمیض اتارنے لگا۔ امی نے منع کیا مگر اب منی دماغ پر چڑھ گئی تھی۔ امی کی قمیض اترتے ہی ان کا گورا بدن اور ٹائٹ ممے لائٹ براؤن نپل کے ساتھ میری نظروں کے سامنے تھے۔ امی کے ممے اس عمر میں بھی جوان لڑکی کی طرح تنے ہوئے تھے، نپل بھی ٹائٹ تھے۔ میں نے زبان نپل پر ٹچ کی، امی کے منہ سے سسکی نکلی، “اف کامی!” اور میں ایک نپل کو چوس رہا تھا اور دوسرے ممے کو دبا رہا تھا۔ میں اپنا ہاتھ نیچے لے گیا اور شلوار میں ہاتھ ڈال کر چوت پر رکھا تو امی کو جیسے کرنٹ لگا ہو۔ امی کی چوت گیلی ہو رہی تھی۔ میں نے امی کی شلوار بھی اتار دی، اب ماں بیٹا دونوں ننگے ہو گئے تھے۔ امی کی چوت پر تھوڑے تھوڑے بال تھے۔ آج پہلی دفعہ کسی عورت کو ننگا دیکھ رہا تھا اور وہ ننگی عورت میری ماں تھی۔ امی کی گانڈ بھی ٹائٹ تھی، انہوں نے اپنے جسم کو بہت فٹ رکھا ہوا تھا۔





Source link

Leave a Comment