br>

ہمارا ماحول بھی دوسرے گھروں کی طرح تھا، سب لوگ اپنے کاموں میں مصروف۔ امی ابو اپنی جاب پر، بہنیں اپنی پڑھائی میں اور میں اپنے بزنس میں۔ سب کچھ نارمل چل رہا تھا۔ میں گھر میں بڑا ہوں، اس کے بعد میری بہن نازنین ہے جس کو پیار سے سب نازی کہتے ہیں، پھر ثنا ہے اس کو بھی پیار سے ثانی کہتے ہیں۔ ابو تھوڑے سیریس اور سخت مزاج کے ہیں، ہم لوگوں کا ماحول فرینڈلی ہے۔ امی اور بہنوں کے ساتھ ہلکا پھلکا ہنسی مذاق چلتا رہتا ہے۔ سیکس کس طرح شروع ہوا اور پھر میری دنیا ہی بدل گئی، دونوں بہنوں کے ساتھ ساتھ امی کے ساتھ بھی سیکس لائف شروع ہو گئی۔
ہم لوگ رات کا کھانا سب ساتھ کھاتے ہیں۔ میں دکان سے گھر آیا اور فریش ہو کر سب کے ساتھ کھانا کھایا۔ کھانا کھا کر میں باہر فرینڈ کے پاس چلا گیا۔ میں روز کھانا کھانے کے بعد کچھ ٹائم کے لیے فرینڈ کے ساتھ ٹائم پاس کرتا تھا۔ رات کو واپس گھر آیا تو سب لوگ سونے کے لیے اپنے روم میں چلے گئے تھے، امی ابو اور بہنوں کا روم نیچے ہے اور میرا روم اوپر۔
جب میں گھر آیا تو ٹی وی لاؤنج میں نازیہ ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ “نازی کیا ہوا تم سوئی نہیں؟” نازی بولی، “بھائی نیند نہیں آ رہی اور صبح کالج بھی آف ہے اس لیے جاگ رہی ہوں، ثانیہ سو گئی، بور ہو رہی تھی تو ٹی وی دیکھ رہی ہوں۔” میں بھی ٹی وی لاؤنج میں نازی کے پاس بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگا۔ نازی نے ٹراؤزر اور لوز سی ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ نازی اور میں ٹی وی دیکھ رہے تھے، میں نے کہا، “نازی ایک کپ چائے بنا دو۔” نازی بولی، “اچھا بھائی بناتی ہوں۔” میں بولا، “میں جب تک چینج کر کے آتا ہوں۔” میں اوپر آیا اور ٹراؤزر اور بنیان میں نیچے آ گیا۔ نیچے آیا تو نازی کچن کے باہر کھڑی تھی۔ میں بولا، “کیا ہوا باہر کیوں کھڑی ہو؟” نازی بولی، “بھائی کچن میں چھپکلی آ گئی ہے۔” میں بولا، “یار تم بھی بہت ڈرپوک ہو، چلو دکھاؤ کہاں ہے۔” میں نازی کے ساتھ کچن میں گیا تو سامنے کیبنٹ کے پاس ایک چھپکلی تھی، اس کو وہاں سے بھگا دیا۔ “لو نازی اب چلی گئی، اب تم چائے بنا لو۔” نازی بولی، “بھائی آپ یہیں رکیں میں چائے بنا لوں۔” میں بولا، “اب نہیں آئے گی۔” نازی بولی، “نہیں بھائی مجھے ڈر لگتا ہے، آپ نے چائے پینی ہے تو میرے ساتھ رہیں۔” میں بولا، “ٹھیک ہے میں کچن میں ہی ہوں تم چائے بناؤ۔”
نازی نے چائے کا پانی چولہے پر رکھا اور بولی، “بھائی کیبنٹ سے مجھے پتی اور چینی نکال کر دیں۔” نازی میرے آگے کھڑی تھی۔ میں نازی کے پیچھے کھڑا ہو کر کیبنٹ سے پتی اور چینی نکال رہا تھا۔ نازی کے پیچھے کھڑا ہو کر میں نے چائے کا جار نکال کر نازی کو دیا۔ جب جار نکال کر نازی کو دیا تو میرا لن نازی کی گانڈ سے ٹچ ہو گیا۔ نرم نرم چوتڑوں سے لن ٹچ ہوتے ہی ہوشیار ہو گیا اور لن نازی کی نرم نرم گانڈ کو اپنے ہونے کا احساس دلانے لگا۔ نازی کو جب لن فیل ہوا تو وہ ایک دم ساکت ہو گئی۔ میں نے جار نکال کر اس کو دیا تو لن اس کی گانڈ کو پوری طرح فیل کروا چکا تھا۔ نازی نے پتی کا جار لیا اور بولی، “بھائی آپ لاؤنج میں بیٹھیں میں چائے لے کر آتی ہوں۔” یہ ہم دونوں کے ساتھ فرسٹ ٹائم ہوا تھا اور مجھے بھی عجیب لگا کہ یہ اچانک کیا ہو گیا۔ میں کچھ نہیں بولا اور لاؤنج میں آ کر بیٹھ گیا۔ نازی چائے لے کر لاؤنج میں آ گئی، اس نے مجھے چائے دی اور اپنے کمرے میں جانے لگی۔ میں بولا، “نازی کیا ہوا بیٹھو۔” نازی بولی، “نہیں بھائی آپ دیکھیں مجھے نیند آ رہی ہے۔”
مجھے اب شرمندگی ہو رہی تھی کہ نازی میرے بارے میں کیا سوچے گی کہ اس کے سگے بھائی نے بہن کی گانڈ سے لن ٹچ کیا۔ اسی بات کو سوچتے ہوئے میں نے چائے ختم کی، ٹی وی آف کیا اور اپنے روم میں آ کر سو گیا۔ صبح میرے روم کا دروازہ کھلا، نازی نے مجھے آواز دی، “بھائی دس بج گئے ہیں۔” میں نے آنکھیں کھولیں تو نازی میرے روم کے باہر کھڑی مجھے آواز دے رہی تھی۔ میں نے اس کو دیکھا تو وہ رات والے کپڑوں میں تھی۔ اس کو دیکھتے ہی مجھے رات والی بات یاد آ گئی۔ اس کو دیکھتے ہوئے میں بولا، “تم کالج نہیں گئیں؟” وہ بولی، “بھائی آج میرا آف ہے۔” میں بولا، “اور ثانی؟” نازی بولی، “ثانی کالج چلی گئی۔” میں بولا، “تم چلو میں فریش ہو کر آتا ہوں۔” میں باتھ روم گیا، فریش ہو کر نیچے آیا تو نازی کچن میں تھی۔ امی ابو بینک چلے گئے تھے۔ میں کچن میں گیا تو نازی ناشتہ بنا رہی تھی۔ میں نے نازی سے پوچھا، “چھپکلی چھپکلی تو نہیں آئی؟” نازی بولی، “نہیں بھائی ابھی تو نہیں ہے۔” میں نے نازی سے کہا، “نازی گلاس دو۔” نازی نے مجھے گلاس دیا اور میں فریج سے پانی نکال کر پینے لگا اور اچانک میری نظر نازی کی گانڈ پر جا کر رک گئی۔
آج میں بہت خوش تھا۔ نازی اپنے موبائل پر کسی سے بات کر رہی تھی چیٹ پر، مجھے اپنی طرف گھورتے ہوئے دیکھ کر اس نے اپنا موبائل چھپا لیا۔ میں بولا، “نازی تم تو کہہ رہی تھی اس کا ڈسپلے کام نہیں کرتا تو یہ ٹھیک کیسے ہو گیا؟” تو نازی اپنے موبائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی، “بھائی وہ ثانی نے عمران بھائی کو دیا تھا، اس نے ہی مرمت کروا کے دیا ہے۔” میں بولا، “تم لوگ عمران کے ساتھ فری مت ہوا کریں۔” تو نازی بولی، “بھائی وہ ہمارا پڑوسی ہے بہت اچھا ہے، ایسا نہیں ہے وہ۔ آپ چھوڑیں اور یہ بتائیں آج کل بہت شرارتیں کرنے لگے ہیں آپ۔” وہ میرا دھیان ہٹاتے ہوئے بولی، تو میں بولا، “کون سی شرارت کی ہے میں نے؟” تو وہ مسکرادی اور بولی، “آپ اتنے بھی بھولے نہیں ہیں۔” میں نے اپنی بہن کو سیکس کی نظر سے دیکھا۔ نازی کی گانڈ تھوڑی باہر کو نکلی ہوئی بہت پیاری لگ رہی تھی۔ میں پانی پیتے ہوئے اپنی بہن کی گانڈ کا نظارہ کر رہا تھا۔ ٹراؤزر میں اس کی گانڈ بہت سیکسی لگ رہی تھی، دل کر رہا تھا کہ لن پھر ٹچ کر دوں لیکن ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ لن بھی گانڈ کو ہلتا دیکھ کر کھڑا ہو رہا تھا کہ نازی نے مجھے مڑ کر دیکھا اور بولی، “بھائی کیا ہوا؟” میں بولا، “کچھ نہیں۔” میں بولا، “میں تو اس لیے کھڑا ہوں کوئی کام تو نہیں ہے؟” نازی بولی، “بھائی نہیں ابھی نہیں، جب ہو گا تو میں آپ کو آواز دے دوں گی۔”
میں نے ٹی وی آن کیا اور ٹی وی دیکھنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد نازی نے آواز دی، “بھائی ادھر آئیں۔” میں کچن میں گیا تو نازی چائے نکال رہی تھی، اس کی بیک میری طرف تھی۔ نازی بولی، “بھائی یہ پراٹھے ٹیبل پر رکھیں۔” میں آگے بڑھا اور پراٹھے اٹھاتے ہوئے لن نازی کی گانڈ سے ٹچ کیا اور پراٹھے لا کر ٹیبل پر رکھے۔ تو پھر نازی نے آواز دی، “بھائی انڈے بھی لے جائیں۔” میں پھر کچن میں گیا اور انڈے کی پلیٹ اٹھاتے ہوئے لن کو پھر گانڈ سے ٹچ کیا اور اس دفعہ پھر لن کو جھٹکا لگا۔ میں انڈے کی پلیٹ لے کر کچن سے باہر آ گیا اور پھر نازی چائے لے کر باہر آ گئی۔ نازی اور میں نے ناشتہ کیا۔ نازی کچھ بول نہیں رہی تھی۔ میں بولا، “نازی کیا ہوا چپ کیوں ہو؟” نازی بولی، “نہیں بھائی کچھ نہیں۔” میں بولا، “کچھ تو ہے؟” نازی بولی، “نہیں بھائی کوئی بات نہیں۔” میں چپ ہو گیا۔ ناشتہ کرنے کے بعد نازی نے برتن اٹھائے اور کچن میں رکھنے لگی۔ میں نے بھی اس کی مدد کی اور اسی دوران لن کو ٹچ کرنے کا موقع ملا۔ اب مزہ آنے لگا تھا۔
میں کچن سے باہر آ گیا اور ٹی وی دیکھنے لگا۔ میں دکان پر دو بجے جاتا ہوں کیونکہ کراچی میں مارکیٹ ایک بجے تک کھلتی ہے، ابھی گیارہ بجے تھے۔ میں ٹی وی دیکھتے ہوئے نازی کے بارے میں بھی سوچ رہا تھا کہ نازی وہیں آ گئی۔ “نازی بھائی دوپہر کا کھانا کھا کر جائیں گے۔” میں نے اس کی طرف دیکھا تو میری نظریں اس کے مموں پر رک گئیں۔ برتن دھوتے ہوئے نازی کی شرٹ سامنے سے گیلی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے نازی کی پنک کلر کی برا نظر آ رہی تھی۔ اس سے پہلے میں نے کبھی ایسے نہیں دیکھا تھا کیونکہ امی اور دونوں بہنیں کبھی میرے سامنے دوپٹہ نہیں لیتی تھیں، جب ابو آتے تھے جب دوپٹہ لیتی تھیں۔ پہلی دفعہ نازی کے مموں کو دیکھ رہا تھا۔ گیلی شرٹ میں سے نظر آتی پنک برا میں مموں کو دیکھ کر لن سلامی دے رہا تھا۔ “بھائی کیا ہوا کیا سوچ رہے ہیں؟” وہ میرے سامنے کھڑی تھی۔ میں بولا، “ہاں کیا کہہ رہی ہو؟” نازی بولی، “بھائی میں پوچھ رہی ہوں آپ کھانا کھا کر جائیں گے؟” میں بولا، “ہاں کچھ بنا لو۔” نازی میرے سامنے بیٹھ گئی، بولی، “اچھا بتائیں کیا بناؤں؟” میں بولا، “کچھ بھی بنا لو۔” “بھائی یہ کون سی ڈش ہے؟” میں بولا، “نازی جو آسان لگے بنا لو۔” “اچھا دیکھتی ہوں فریج میں کیا رکھا ہے۔”
یہ بات کر کے نازی فریج کے پاس چلی گئی اور فریج کھول کر بولی، “بھائی آلو قیمہ بنا لیتی ہوں آپ کو پسند ہے۔” میں بولا، “ہاں بنا لو۔” نازی فریزر سے قیمہ نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی، “بھائی میری ہیلپ کریں، قیمہ فریزر میں فریز ہے۔” میں اٹھا، نازی کے پاس گیا اور بولا، “ہٹو میں نکالتا ہوں۔” نازی بولی، “بھائی آپ بس فریزر کا دروازہ پکڑیں میں نکال لوں گی۔” اب میں نازی کے پیچھے فریزر کا دروازہ پکڑ کر کھڑا تھا اور نازی قیمہ کا پیکٹ نکالنے کی کوشش کر رہی تھی جو فریزر میں برف کی وجہ سے جما ہوا تھا اور اس کی اس کوشش میں نازی کی گانڈ میرے لن سے ٹچ ہو رہی تھی۔ میرا لن ٹراؤزر سے کھڑا ہو گیا تھا جس کا مجھے بھی مزہ آ رہا تھا۔ نازی کبھی آگے ہوتی کبھی پیچھے، میں نے اپنے لن کو اس کی گانڈ پر دبا دیا اور آگے ہو کر قیمہ کا پیکٹ نکالنے میں اس کی مدد کی۔ لن بھی نازی کے نرم نرم چوتڑوں کے ساتھ لگا ہوا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ کسی نرم فوم کے اندر ہو۔
پیکٹ باہر نکالتے ہی میں پیچھے ہوا اور نازی بولی، “بھائی شکریہ، اب آپ ٹی وی دیکھیں میں کھانا بناتی ہوں۔” نازی کچن میں چلی گئی۔ میں نے نازی کو کہا کہ میں نہا کر آتا ہوں۔ اب میرا دل مٹھ مارنے کا کر رہا تھا۔ میں اپنے کمرے میں آیا اور کپڑے اتار کر باتھ روم میں گھس گیا اور پہلی دفعہ نازی کی گانڈ کے نام کی مٹھ ماری۔ ابھی میں لن کا پانی نکالنے ہی والا تھا کہ نازی کی آواز آئی، “بھائی جلدی آئیں۔” اس کی آواز سن کر میں نے جلدی سے ٹاول لپیٹا اور روم سے باہر آیا تو نازی میرے روم کے پاس کھڑی تھی۔ میں بولا، “کیا ہوا؟” نازی، “بھائی کچن میں چھپکلی پھر آ گئی ہے۔” میرا لن کھڑا تھا اور ٹاول میں سے صاف پتا چل رہا تھا۔ نازی نے مجھے دیکھا اور کچن کی طرف گئی اور بولی، “بھائی وہ دیکھیں کیبنٹ پر ہے۔” میں کچن میں گیا تو چھپکلی کیبنٹ پر تھی۔ میں نازی سے بولا، “جھاڑو لا کر دو۔” نازی نے جھاڑو لا کر دی۔ میں نے چھپکلی کو مارنے کے لیے جھاڑو ماری تو وہ آگے چلی گئی اور چھپکلی کو مارنے کے چکر میں میرا ٹاول کھل گیا اور میں نازی کے سامنے ننگا ہو گیا۔ نازی نے جب مجھے ننگا دیکھا تو شرما کر منہ دوسری طرف کر کے نازی بولی، “بھائی ٹاول!” میں نے جلدی سے ٹاول اٹھا کر باندھ لیا اور بولا، “نازی اب چھپکلی کچن سے باہر چلی گئی ہے، اب تم کام کرو۔” نازی بولی، “بھائی آپ میرے ساتھ کچن میں رہیں۔” میں بولا، “میں نے کہا نازی مجھے نہانا ہے۔” نازی بولی، “بس تھوڑی دیر، پھر آپ نہا لینا ہ۔” میں نے کہا، “اچھا جلدی کرو۔” نازی، “بھائی جلدی کیا ہے بس کر رہی ہوں، اچھا بھائی مجھے کیبنٹ سے مصالحوں کے جار نکال دیں پھر آپ نہانے چلے جائیں۔” میں نازی کے پیچھے کھڑا ہو کر کیبنٹ سے مصالحوں کے جار نکال کر دے رہا تھا اور لن کو نازی کی گانڈ سے لگا دیا۔ نازی کو بھی اس میں مزہ آ رہا تھا اور وہ بھی گانڈ کو لن کے ساتھ لگا کر کھڑی تھی۔ اب میرے دماغ پر منی چڑھ گئی تھی اور لن کو نازی کی گانڈ میں اور اندر کی طرف دبا دیا اور لن کو نازی کی گانڈ سے رگڑنے لگا اور ٹاول کھول کر لن باہر نکال کر نازی کی گانڈ پر لگا کر گھسے مارنے لگا۔ نازی بھی لن گانڈ پر محسوس کر کے مزے میں گم تھی، “اف بھائی یہ کیا کر رہے ہو ؟۔۔۔”