خالہ کو آج بہت مہینوں بعد دیکھا تھا اور خالہ نے ہلکے پینک شیڈ والی بہت خوبصورت ساڑھی پہنی ہوئی تھی جس کا بلاوز تنگ اور گلا کافی کھلا لگ رہا تھا۔ آپ کو جیسے پہلے بھی بتایا تھا کہ خالہ کی شادی کو پانچ سال ہو گئے ہیں اور میرے خالو جاب کے لیے دبئی میں ہوتے ہیں۔ خالہ کے کوئی بچہ نہیں ہے اس لیے خالہ ابھی بھی ایک دم زبردست جسم کی مالک ہیں۔ لمبا قد، بھرپور ابھرا جسم اور آج تو ساڑھی میں اور بھی سیکسی لگ رہی تھیں۔ پہلے تو کبھی خالہ کو اس نظر سے نہیں دیکھا تھا لیکن امی سے سیکس کے بعد خالہ کو دیکھنے کا انداز دوسرا تھا۔ آج خالہ کے جسم کا اندازہ ہوا کہ خالہ کتنی سیکسی ہیں۔
خالہ اندر آتے ہوئے سب کا حال احوال لیتی ہوئی اندر آ گئیں۔ امی نے دیکھا تو خالہ کو گلے لگا لیا۔ خالہ نے ابو کو سلام کیا۔ نازی اور ثانی کو پیار کیا۔ میں بولا خالہ میں بھی تو ہوں۔ اس پر خالہ آگے بڑھیں اور مجھے بھی گلے لگایا۔ خالہ جب گلے مل رہی تھیں تو میری نظر خالہ کے مموں پر تھی۔ خالہ کے ممے بلاوز میں بند دعوت نظارہ دے رہے تھے۔ خالہ مجھے پیار کر کے مجھ سے الگ ہوتی ہوئی خالہ کے ممے میرے سینے سے ٹچ ہوئے تو مزا آ گیا۔ خالہ مجھ سے الگ ہو کر امی کے پاس بیٹھ کر بولیں باجی آپ لوگ کب جائیں گے۔ امی بولیں کل جانا ہے۔ خالہ بولیں ٹھیک ہے میں دوپہر تک آ جاؤں گی۔ امی بولی ابھی کہاں جا رہی ہو۔ خالہ نے کہا کہ انہی ایک جگہ شادی میں جانا ہے۔
خالہ امی سے باتیں کرتے ہوئے ساڑھی کا پلو نیچے گر جاتا تھا جس سے خالہ کے مموں کا دیدار ہو جاتا۔ خالہ تو کبھی پلو اوپر کر لیتی اور کبھی ایسے ہی رہنے دیتیں اور میں تو خالہ کے مموں کی لائن میں گم تھا کہ خالہ نے میری طرف دیکھا اور ساڑھی کا پلو ٹھیک کرتے ہوئے بولیں بھانجے بزنس کیسا چل رہا ہے۔ میں بولا خالہ ٹھیک چل رہا ہے۔ خالہ امی سے بولیں باجی اب اس کی بھی شادی کر دیں اب یہ بھی جوان ہو گیا ہے۔ امی بولیں ابھی نہیں پہلے نازی اور ثانی کی اس کے بعد کامی کا نمبر آئے گا۔ پھر خالہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں بھانجے صبر کرو صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ میں دل میں بولا ہاں جی پھل تو ملنا شروع ہو گیا ہے۔
کچھ دیر بات کرنے کے بعد خالہ اپنے دیور کے ساتھ چلی گئیں۔ ہم لوگ لاونج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے لیکن میرا دل اور دماغ تو خالہ کے گورے گورے مموں میں گم تھا۔ دل کر رہا تھا کہ امی کی چوت مل جائے تو مزا آ جائے لیکن یہ مشکل تھا۔ ابھی تو امی کی چوت کا ملنا مشکل تھا۔ اب ایک ہی راستہ تھا کہ روم میں جا کر خالہ کے نام کی مٹھ لگائی جائے تاکہ لنڈ کو سکون ملے۔
میں نے امی کی طرف دیکھا تو امی ثانی کے ساتھ کل جانے کی تیاری میں مصروف تھیں۔ نازی کچن میں کام کر رہی تھی۔ میں لاونج سے اٹھ کر اپنے روم میں آ گیا اور روم میں آ کر میں نے اپنی بنیان اتاری اور بیڈ پر لیٹ کر لنڈ کو سہلا رہا تھا اور خالہ کے سیکسی جسم کا سوچتے ہوئے مٹھ لگانے کی تیاری میں تھا۔ لنڈ بھی خالہ کا خیال آتے ہی ٹن ٹن ہو گیا تھا۔ میں نے ٹراؤزر تھوڑا نیچے کی طرف کیا اور لنڈ ٹراؤزر سے باہر نکال کر لنڈ کو اوپر نیچے سہلا رہا تھا۔ آنکھیں بند کر کے خالہ کے خیالوں میں گم تھا کہ اچانک میرے روم کا دروازہ کھلا۔ دروازہ کھلنے کی آواز سے میں نے آنکھیں کھولیں تو دروازے پر میری چھوٹی بہن ثانی کھڑی تھی جو حیرانی کے عالم میں کھڑی مجھے مٹھ مارتے ہوئے دیکھ رہی تھی کہ اس کا بھائی کس طرح لنڈ نکال کر مٹھ مار رہا ہے۔ ثانی میرے ہاتھ میں پکڑے میرے لنڈ کو اوپر نیچے کرتے دیکھ رہی تھی۔
میری نظر جیسے ہی ثانی پر پڑی میں نے جلدی سے لنڈ ٹراؤزر میں کیا اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ثانی بولی بھائی سوری آپ کو ڈسٹرب کیا۔ میں بولا نہیں نہیں بولو کیا کام تھا۔ ثانی بولی بھائی آپ کا بیگ لینا تھا میرے بیگ کی زپ خراب ہے۔ میں بولا الماری کے اوپر رکھا ہے لے لو۔ ثانی بولی بھائی آپ اتار دیں مجھ سے نہیں اترے گا۔ میں اٹھنا نہیں چاہ رہا تھا کہ لنڈ فل پوزیشن میں تھا لیکن اٹھنا پڑا اور جب اٹھا تو ٹراؤزر تمبو بنا ہوا تھا۔ ثانی کی نظر میرے تمبو کی طرف تھی۔ ثانی بولی بھائی میں نیچے جا رہی ہوں آپ بیگ نیچے لے آئیں۔ میں بولا ثانی لے کر جاؤ۔
میں الماری کی طرف گیا اور ثانی میرے پاس کھڑی ہو گئی۔ میں دونوں ہاتھ اوپر کر کے بیگ اتارنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ثانی میرے برابر میں کھڑی تھی۔ میرے اونچا ہونے سے میرا ٹراؤزر تھوڑا نیچے ہو گیا تو ثانی بولی بھائی آرام سے آپ کا ٹراؤزر نہ اتر جائے۔ میں بولا تو کیا ہو گا اتر جانے دو۔ ثانی بولی بھائی آپ بہت بے شرم ہیں بہن کے سامنے ننگے ہوں گے۔ میں بولا تو تم نے دروازے میں کھڑے ہو کر مجھے دیکھ تو رہی تھی۔ ثانی بولی بھائی وہ تو بائی چانس دیکھ لیا مجھے تھوڑی پتہ تھا کہ آپ اس کنڈیشن میں ہوں گے۔ میں بولا اچھا یہ لو بیگ پکڑو۔
ثانی میرے قریب آئی اور وہ بالکل میرے اتنے قریب تھی وہ میرے سامنے کھڑی دونوں ہاتھ اوپر کر کے بیگ پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔ میں نے بیگ پکڑاتے ہوئے اپنا لنڈ ثانی کے پیٹ پر ٹچ کیا۔ لنڈ ٹچ ہوتے ہی ثانی کے ہاتھ سے بیگ نیچے گر گیا۔ ثانی بیگ اٹھانے جھکی جب بیگ اٹھانے کے دوران میرے لنڈ کو دیکھتی ہوئی سیدھی ہو گئی۔ ثانی بغیر دوپٹے کی تھی اس کے چھوٹے چھوٹے ممے جو ٹینس کی بال کی طرح لگ رہے تھے دل کر رہا تھا کہ پکڑ لوں لیکن کنٹرول کیا۔
ثانی بیگ لے کر جانے لگی تو میں بولا اور تو کچھ نہیں چاہیے۔ ثانی بولی ہاں بھائی اپنا ڈیجیٹل کیمرہ بھی دے دیں۔ میں بولا ثانی موبائل میں پک لے لینا۔ ثانی بولی بھائی موبائل میں پرابلم ہے آپ کیمرہ دے دیں۔ میں بولا الماری سے نکال لو۔ ثانی نے بیگ بیڈ پر رکھا اور میری الماری کو کھول کر کیمرہ نکالنے لگی۔
ثانی میرے کپڑوں کو الٹ پلٹ کر کے کیمرہ ڈھونڈ رہی تھی۔ ثانی بولی بھائی کہاں رکھا ہے کیمرہ نہیں مل رہا۔ میں اٹھ کر ثانی کے پاس گیا۔ ثانی میرے آگے کھڑی تھی میں ثانی کے پیچھے کھڑا ہوا اور کیمرہ تلاش کرنے لگا اور اسی دوران میں تھوڑا اور آگے ہوا اور لنڈ ثانی کی گانڈ سے ٹچ کر کے کیمرہ ڈھونڈنے لگا۔ اب ثانی میرے آگے کھڑی تھی اور میں پیچھے سے لنڈ ثانی کی گانڈ سے ٹچ کر کے کھڑا تھا۔ ثانی بولی بھائی جلدی نکالیں امی انتظار کر رہی ہوں گی۔ میں نے لنڈ کا دباؤ اس کی گانڈ پر دباتے ہوئے مزے لے رہا تھا اور کیمرہ ڈھونڈ رہا تھا کہ پیچھے سے امی کی آواز آئی یہ کیا ہو رہا ہے۔
امی کی آواز سنتے ہی مجھے جھٹکا لگا اور میں نے کیمرہ نکالتے ہوئے ثانی سے پیچھے ہٹ گیا۔ امی روم کے دروازے پر کھڑی تھیں۔ ثانی میرے آگے سے نکل کر جلدی سے بیگ اور کیمرہ لے کر روم سے نکل گئی۔ امی میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں یہ کیا ہو رہا تھا۔ میں بولا کچھ نہیں ثانی کو کیمرہ نہیں مل رہا تھا تو وہ نکال کر دے رہا تھا۔ امی بولیں وہ تو مجھے بھی نظر آ رہا تھا اب تم ماں کے ساتھ ساتھ بہن کے ساتھ بھی مزے لینا چاہتے ہو شرم کرو۔ میں بولا نہیں امی آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔ امی کہنے لگیں میں سب سمجھ رہی ہوں تم نے ماں کی تو لے لی ہے اب بہن کی بھی لو گے۔ کامی ثانی ابھی بہت چھوٹی ہے اس کو اس چکر میں نہیں ڈالو میں ہوں نا اس لیے بہنوں کا خیال کرو ورنہ۔ میں بولا ورنہ کیا۔ امی بولیں ٹائم آنے پر بتا دوں گی اور یہ کہتے امی چلی گئیں۔
اب یہ الگ مشکل ہو گئی تھی امی کو بھی اس ٹائم آنا تھا سارا مزا خراب ہو گیا تھا اس لیے لائٹ آف کی اور سو گیا۔ صبح آنکھ روم کے دروازے پر دستک سے کھلی۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو امی روم میں آ گئیں اور بولیں دس بج رہے ہیں۔ میں بولا تو کیا ہوا روز تو اس ٹائم پر اٹھتا ہوں۔ امی نے میرے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی کامی دیکھو تمہاری بہنیں کنواری ہیں اور آگے ان کی شادی کرنی ہے اگر تم ان کو بھی کچھ کر دو گے تو ان کی شادی کیسے ہو گی۔ میں بولا امی کوئی اور بات کریں مجھے اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنی اور یہ کہتے ہوئے میں واش روم کی طرف جانے لگا تو امی نے میرا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا لیا اور بولیں کامی یہ غلط ہے۔
میں نے بھی پتہ نہیں تمہارے ساتھ کیسے سیکس کر لیا اس ٹائم میں بھی اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکی اور وہ سب کچھ ہو گیا جو میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ میں چپ بیٹھا تھا۔ امی میرے ساتھ میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بیٹھی تھیں۔ کامی دیکھو تم ہم دونوں کے درمیان جو کچھ ہوا اس کے لیے تم ہی نہیں میں بھی ذمہ دار ہوں۔ میں بولا امی میں نے آپ کے ساتھ کوئی زبردستی تو نہیں کی جو کچھ ہوا وہ آپ کی مرضی سے ہوا۔ امی بولی ہاں یہ تو بات ٹھیک ہے تو پھر آپ ایسا کیوں سوچتی ہیں کہ میں نازی اور ثانی سے زبردستی کروں گا۔ اگر نازی اور ثانی کی مرضی ہو گی تو کروں گا نہیں تو نازی اور ثانی کی رضا مندی نہیں ہو گی تو ان کو ہاتھ بھی نہیں لگاؤں گا۔ امی بولیں بیٹا پھر ان کی شادی کیسے ہو گی۔ میں بولا جان یہ ہمارے گھر کا پیار ہے اور اگر نازی اور ثانی بھی اس پیار کو انجوائے کرنا چاہیں تو آپ کو کیا پرابلم ہے۔ امی کچھ سوچتے ہوئے اور جب تمہاری شادی ہو گی تو پھر کیا ہو گا۔ میں بولا جب شادی ہو گی جب دیکھیں گے اور ابھی تو میرا کوئی ارادہ نہیں ہے اور جب نازی اور ثانی کو بھی گھر میں ایک بھائی کا پیار مل جائے گا تو وہ باہر کسی کی طرف نہیں دیکھیں گی۔ امی اچھا لیکن بہت احتیاط سے تمہارے ابو کو نہ پتہ چلے۔
The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 7) appeared first on Urdu Stories.