گھریلو عشق۔۔۔(قسط 16)

br>

جب گھڑی پر نظر کی تو صبح کے 5 بج رہے تھے۔ نازی آنکھیں بند کیے لیٹی تھی میں نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا: میں۔۔۔۔۔ نازی بھائی کا پیار کیسا لگا؟ نازی نے آنکھیں کھولیں اور میرے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے مجھ سے لپٹ گئی اور بولی۔۔۔۔۔ یہ ایک شوہر کا پیار تھا۔ میں۔۔۔۔۔ اور بھائی کا؟ نازی۔۔۔۔۔ بھائی کا بہن کے ساتھ پیار۔ میں۔۔۔۔۔ جان یہ گھر کا پیار ہے جو ہم دونوں بھائی بہن کو اتنا قریب لے آیا ہے۔ نازی مجھے پیار کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ تو اب یہ گھر کا پیار کہیں باہر نہ ہو۔ میں۔۔۔۔۔ کیا مطلب؟ نازی۔۔۔۔۔ جب آپ کو گھر میں پیار مل گیا ہے تو اب باہر کسی سے پیار نہیں کرنا۔ اور آج ایک وعدہ کریں کہ خالہ کے ساتھ بھی کچھ نہیں کرنا۔ جو حالت اس وقت میری ہے یہ حالت اس دن خالہ کی تھی۔ اب آپ کی بیوی میں ہوں۔ نازی نے لن کو پکڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اس پر اب میرا حق ہے کسی اور کا نہیں۔ میں۔۔۔۔۔ خالہ کا تم کو کیسے پتا چلا؟ نازی۔۔۔۔۔ کامی میں اب اتنی بھولی بھی نہیں ہوں مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ آپ نے خالہ کو بھی چودا ہے۔ میں نے نازی کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اوکے جان اب تم ہی میری سب کچھ ہو۔

نازی نے مجھے پیار کیا اور بیڈ سے اٹھنے لگی تو اس کے منہ سے آہ نکلی۔ میں۔۔۔۔۔ کیا ہوا؟ نازی۔۔۔۔۔ کامی اٹھا نہیں جا رہا نیچے درد ہو رہا ہے۔ میں نے ہاتھ پکڑ کر نازی کو اٹھایا اور جب ہماری نظر بیڈ پر گئی تو بیڈ شیٹ پر خون کے نشان دیکھ کر نازی نے اپنی چوت پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ کامی بہن کو لڑکی سے عورت بنا دیا چوت کی سیل توڑ دی۔ میں۔۔۔۔۔ سہاگ رات میں بیوی کی سیل ہی ٹوٹتی ہے۔ نازی نے میرے کندھے کا سہارا لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اچھا جی اب بیوی کو واش روم تک لے کر چلو میری تو چلنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔

میں نازی کو پکڑ کر واش روم لے کر گیا اسے کموڈ پر بٹھا دیا۔ نازی۔۔۔۔۔ کامی چوت میں بہت جلن ہو رہی ہے۔ جب اس نے اپنی چوت کو دیکھا تو بولی۔۔۔۔۔ کامی دیکھو چوت سوج گئی ہے۔ میں۔۔۔۔۔ جان ٹھیک ہو جائے گی۔ نازی۔۔۔۔۔ کامی اب تو بہت درد ہو رہا ہے پیشاب کرنے میں مشکل ہو رہی ہے۔ میں نے نازی کی چوت کو تھوڑا سہلایا اور بولا۔۔۔۔۔ اب پیشاب کرو۔ نازی نے پیشاب کے لیے زور لگایا اور نازی کی چوت سے ایک لمبی سی دھار نکلی۔ پیشاب کرتے ہوئے نازی نے ایک آہ بھری۔ نازی کافی دیر تک پیشاب کرتی رہی میں اپنی بہن کی چوت سے نکلتے پیشاب کو دیکھ رہا تھا۔ جب نازی پیشاب کر چکی تو پانی سے نازی کی چوت کو صاف کیا اور نازی کو واش روم سے لا کر بیڈ پر لٹا دیا۔ نازی۔۔۔۔۔ کامی تم نے تو پتا نہیں کس بات کا بدلہ لیا ہے اب فیل ہو رہا ہے کہ چودائی کا درد کیا ہوتا ہے۔ میں۔۔۔۔۔ جان بس اب آگے درد نہیں ہو گا۔ صبح نیم گرم پانی میں ڈیٹول ڈال کر چوت کو دھو لو گی تو یہ جلن ختم ہو جائے گی۔ نازی۔۔۔۔۔ کامی اب سو جائیں بہت نیند آرہی ہے لائٹ آف کر دیں۔ میں نے لائٹ آف کی اور ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لپٹ کر سو گئے۔

صبح واش روم جانے کے لیے آنکھ کھلی تو اس وقت 10 بج رہے تھے۔ میں بیڈ سے اٹھ کر پیشاب کرنے واش روم چلا گیا واپس آیا تو نازی ننگی بیڈ پر سو رہی تھی۔ اس ٹائم نازی سوتے ہوئے بہت پیاری لگ رہی تھی۔ میں نازی کے برابر لیٹ کر نازی کے سلکی بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔ رات کی چودائی نے نازی کو اور زیادہ پرکشش بنا دیا تھا۔ وہ بے خبر سو رہی تھی میں نے نازی کے ہونٹوں پر کس کی تو نازی کی آنکھ کھل گئی اور مجھے اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے بولی: نازی۔۔۔۔۔ بھائی سونے دیں رات کی چودائی کے بعد تو بہت اچھی نیند آئی تھی۔ میں۔۔۔۔۔ جان دس بج گئے ہیں۔ نازی نے کروٹ دوسری طرف کی۔۔۔۔۔ کامی ابھی اٹھنے کا موڈ نہیں ہے۔

نازی کی گانڈ میری طرف تھی میں نے پیچھے سے لن نازی کی گانڈ سے ٹچ کیا اور پیچھے سے نازی کے ساتھ لپٹ گیا اور اپنا ایک ہاتھ آگے کر کے نازی کے مموں کو دبانے لگا۔ نازی۔۔۔۔۔ کیا ہے سونے دیں! میں نے نازی کی گردن پر کس کی اور بولا۔۔۔۔۔ جان رات کو مزہ آیا؟ نازی نے گانڈ لن پر دباتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ جی کامی سہاگ رات کا مزہ آگیا۔ میں نے ممے دباتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ جان ایک اور دفعہ ہو جائے؟ نازی۔۔۔۔۔ کیا ہو جائے؟ میں۔۔۔۔۔ جان لن دیکھو تیار ہے چودنے کے لیے۔

میں نے نازی کو سیدھا کیا اور نازی کے اوپر چڑھ گیا اور لن نازی کی چوت سے رگڑنے لگا۔ نازی ننگی میرے نیچے تھی۔ نازی نے مجھے پیار کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ سہاگ رات تو منا لی میری منہ دکھائی کہاں ہے؟ میں۔۔۔۔۔ بیگم آج تم دلہن کی طرح تیار ہونا آج رات کو منہ دکھائی بھی دے دوں گا۔ نازی مجھے پیار کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ جانی مذاق کر رہی تھی۔ میں۔۔۔۔۔ نازی آج سے ہم میاں بیوی بن گئے ہیں تو جان کو منہ دکھائی بھی دوں گا۔

میں اور نازی ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے ایک دوسرے کو پیار کر رہے تھے۔ نیچے سے لن نازی کی چوت کو پیار کر رہا تھا۔ میں۔۔۔۔۔ جان پھر کیا موڈ ہے؟ نازی۔۔۔۔۔ جانی اب تو میں آپ کی ہوں میرے شوہر جو حکم دیں کنیز حاضر ہے۔ میں۔۔۔۔۔ جان تم کنیز نہیں میری شہزادی ہو۔ اندر لوں گی؟ نازی۔۔۔۔۔ کیا اندر دینا ہے؟ میں۔۔۔۔۔ جان لن! نازی۔۔۔۔۔ بھائی رات کو جو آپ نے چودائی کی تھی ابھی تک چوت میں درد ہے۔ جان میں اچھا سا نہا لوں اور آپ حلوہ پوری لے کر آئیں اپنی دلہن کے لیے۔ ناشتہ کر کے پھر جو کرنا ہے کر لیں۔

میں نے کہا ٹھیک ہے جان۔ میں نازی کے اوپر سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ نازی نے لن کو دیکھا اور لن کو پکڑ کر منہ میں لے لیا اور چوستے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ رات اس لن نے کنواری چوت کا مزہ لے لیا ہے اور نازی کو لڑکی سے عورت بنا دیا بس اب اس شاندار لن پر میرا حق ہے۔ نازی نے لن منہ سے نکالتے ہوئے کہا۔ نازی پھر نہانے چلی گئی میں بھی اوپر آکر نہایا اور چینج کر کے نیچے آیا تو نازی ٹاول لیے بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے نازی کو کس کی اور کہا کہ جان آج ہم دونوں کپڑے نہیں پہننے لگے، دونوں آج ننگے رہیں گے۔ نازی۔۔۔۔۔ جی جناب جو آپ کہیں بس آپ حلوہ پوری لے کر آئیں میں چائے بناتی ہوں۔

میں نے بائیک نکالی اور حلوہ پوری لینے چلا گیا۔ حلوہ پوری لے کر گھر آیا تو نازی ٹاول میں ہی تھی اور اب ہلکا ہلکا سا میک اپ بھی کیا تھا۔ نازی نے حلوہ پوری لے کر کہا آپ ٹیبل پر بیٹھیں میں ناشتہ لگاتی ہوں۔ نازی کچن میں تھی کہ ڈور بیل بجی۔ نازی کچن سے نکلتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ بھائی لگتا ہے خالہ آگئی ہیں میں چینج کر کے آتی ہوں آپ گیٹ کھولنے جائیں۔ نازی جلدی سے اپنے روم میں چلی گئی۔ میں گیٹ کھولنے گیا تو سامنے خالہ کھڑی تھیں۔ میں نے گیٹ کھولا خالہ اندر آگئیں۔ میں گیٹ بند کر کے اندر آیا تو نازی نے بھی ڈریس چینج کر لیا تھا۔ خالہ نازی کو دیکھتے ہوئے بولی: خالہ۔۔۔۔۔ نازی ناشتہ کروا دو بہت بھوک لگی ہے، میں پیشاب کر کے آتی ہوں۔ خالہ واش روم چلی گئیں۔ نازی نے ناشتہ لگا دیا۔ خالہ واش روم سے باہر آئیں تو بولیں: خالہ۔۔۔۔۔ واؤ حلوہ پوری کا ناشتہ!

خالہ اور نازی آمنے سامنے بیٹھے تھے میں نازی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ہم سب ناشتہ کرنے لگے۔ خالہ سے ان کے سسر کی طبیعت کا پوچھا خالہ نے بتایا اب بہتر ہے۔ خالہ نے ناشتہ کرتے کرتے نازی اور میری طرف دیکھا اور نازی کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے بولیں: خالہ۔۔۔۔۔ نازیہ آج تو بہت چینج لگ رہی ہو بہت پیاری اور فریش۔ نازی۔۔۔۔۔ خالہ ٹیسٹ ختم ہو گئے ہیں نہ تو اس لیے فریش لگ رہی ہوں گی۔ خالہ۔۔۔۔۔ لیکن تمہارا چہرہ بہت گلو کر رہا ہے کل تو ایسا نہیں تھا اور بھانجے تم بھی بہت فریش لگ رہے ہو۔ میں۔۔۔۔۔ خالہ رات کو نیند اچھی آئی تھی تو اس لیے آپ کو فریش لگ رہے ہیں۔ خالہ۔۔۔۔۔ اچھا بھانجے!

خالہ نے ناشتہ کیا۔۔۔۔۔ نازیہ میں چینج کر کے آتی ہوں بہت نیند آرہی ہے ہاسپٹل میں ساری رات جاگتی رہی ہوں۔ خالہ امی کے کمرے میں چینج کرنے چلی گئیں۔ میں نے نازیہ کے ممے دبائے تو نازیہ ایک دم پریشان نظر آئی۔ میں نے پوچھا: میں۔۔۔۔۔ جان خیریت؟ نازی۔۔۔۔۔ بھائی خالہ امی کے کمرے میں گئی ہیں اور میں نے بیڈ شیٹ چینج نہیں کی! میں نے یہ سنا تو میری حالت بھی خراب ہو گئی۔ اب تو خالہ کو پتا چل جائے گا کہ رات یہاں سہاگ رات منائی گئی ہے۔ ہم دونوں اس پریشانی میں تھے کہ خالہ روم سے اسی نائٹی پہن کر باہر آئی تھیں اور نائٹی کے نیچے کچھ نہیں پہنا تھا۔ نائٹی میں سے خالہ کے ممے اور گانڈ کا پتا چل رہا تھا۔ خالہ نارمل تھیں اور لگتا تھا کہ بیڈ شیٹ پر ان کی نظر نہیں پڑی تھی۔ ہم دونوں مطمئن ہو گئے۔ خالہ نازیہ کے روم میں سونے چلی گئیں۔

میں۔۔۔۔۔ جان بیڈ شیٹ جلدی سے چینج کر دو۔ نازیہ امی کے روم میں بیڈ شیٹ چینج کرنے چلی گئی۔ میں بھی اوپر روم میں آکر تیار ہونے لگا۔ میں تیار ہو کر نیچے آیا نازیہ ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ میں نے نازیہ سے پوچھا: میں۔۔۔۔۔ جان امی کا روم ٹھیک کر دیا؟ نازی۔۔۔۔۔ جی بھائی کر دیا! میں۔۔۔۔۔ میں اب شاپ پر جا رہا ہوں آج رات کا کھانا باہر کھائیں گے تم اچھا سا تیار ہونا۔ نازی۔۔۔۔۔ بھائی آج نہ جائیں کل تو آپ کی شادی ہوئی ہے۔ میں نے نازیہ کو لپٹاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ جان میرا دل بھی نہیں کر رہا لیکن جلدی آجاؤں گا۔

نازیہ کو ساتھ لپٹا کر اس کے ممے اور گانڈ دبا رہا تھا۔ نازیہ نے لن پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ یہ تو تیار ہے! میں۔۔۔۔۔ جس کی بیوی اتنی سیکسی ہو تو یہ تو تیار ہو گا ہی۔ جان اس سے پہلے جانا مشکل ہو جائے میں چلتا ہوں۔ نازیہ سے الگ ہوا۔۔۔۔۔ مس یو جان۔ نازیہ۔۔۔۔۔ مس یو ٹو کامی۔ نازیہ ایک بیوی کی طرح اپنے شوہر کو گیٹ تک چھوڑنے آئی۔ میں نے نازی کو کس کی اور شاپ کی طرف روانہ ہو گیا۔

شاپ پر پہنچا تو موبائل پر ثانی کی کال تھی۔ میں نے کال کٹ کی اور ثانی کو کال ملا دی۔ ثانی۔۔۔۔۔ بھائی السلام علیکم۔ میں۔۔۔۔۔ وعلیکم السلام میری گڑیا۔ ثانی۔۔۔۔۔ بھائی کیسے ہیں گھر میں سب خیریت ہے؟ میں۔۔۔۔۔ جی میری گڑیا سب خیریت ہے تم سناؤ کیا کر رہی ہو؟

The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 16) appeared first on Urdu Stories.

Leave a Comment