گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 3)

اس نے کہا کہ “کل گھر آ جانا، پورا مزہ کریں گے”۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ہاں کی اور شلوار اوپر کر کے آ گیا۔

گھر آ کر وہی روٹین جو گاؤں میں ہوتی تھی، کزنوں کے ساتھ کھیلتا رہا۔ شام ہوئی تو سب نے کہا: “اتنے عرصے بعد اکٹھے ہوئے ہیں، پرانی یادیں تازہ کرتے ہیں، رات کے وقت کھیلتے ہیں، سب مل کر مزہ کریں گے”۔ دوستو! ہم کزن اور کزن لڑکیاں مل کر کوئی 15 لوگ ہو جاتے تھے، تو ہمیں کسی کو بلانے کی یا ساتھ شامل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ خوب ہلا گلا کرتے، ہنسی مذاق ہوتا اور گاؤں کی سب کھیلیں کھیلی جاتیں۔ ایک کھیل ہم بہت کھیلتے تھے جو زیادہ تر دن کے وقت کھیلا کرتے تھے، جس کو ہمارے ہاں “چاردانے” یا “چیرے” کہا جاتا ہے۔ بہت مزے کا کھیل تھا، دو دو کی ٹیم بنا کر آمنے سامنے کھیلتے، جیسے آج کل لڈو ہے اسی طرح کا کھیل ہوتا تھا۔ اب بھی شاید گاؤں میں کچھ لوگ یہ کھیل کھیلتے ہیں۔

بات ہو رہی تھی اس شام کی، جس دن میں ناکام چدائی کر کے نامراد لوٹا تھا۔ الجھا بھی بہت تھا کہ مجھے اتنا مزہ کیوں نہیں آیا اور یہ “فارغ ہونا” کیا ہوتا ہے۔ میں کیوں اس معاملے میں ابھی تک اپنی اننگز شروع کر رہا تھا؟ اور شاید کر چکا تھا، اس لیے بالکل کچا کھلاڑی تھا۔ جیسے پنڈوں میں کہتے ہیں: “آ ہالے کچا اے، ایدے توں کھسماں دا لن ہونا اے، ایویں ای گھسے مار مار کے ویہلا ہو جانا اے، ایہنے بابا جی ہوراں دا وی کج ای ہال سی”۔

ایک کہاوت ہے پنجابی کی: “ایہنوں کی پتہ وتاؤں دی بنڈ کتھے” (اس کو کیا پتہ بینگن کی گانڈ کدھر ہے)۔ کچھ ایسے مذاق کا نشانہ بننے سے ڈر رہا تھا کہ اگر کسی دوست یا کزن کو پتہ چل گیا تو وہ مجھے گانڈو سمجھیں گے، کیونکہ میرے تقریباً سب کزن اور دوست جو میری عمر کے تھے، سب کسی نہ کسی کی لے چکے تھے۔ میں ڈر کے مارے کسی سے نہیں پوچھ رہا تھا یہ سب باتیں کہ وہ کیا سوچیں گے کہ یہ بھی نہیں جانتا۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ مجھے نہیں پتہ تھا اس سب کا۔

اسی طرح سوچتا رہا، میں بھول گیا کہ سب کزن کھیلنے کا پلان بنا رہے ہیں۔ مجھے تب ہوش آیا جب میرا ایک کزن جو میرا جگری بھی تھا، فیض عرف فجا، اس نے سب سے چھپ کر میری بنڈ میں انگلی چڑھا دی۔ میری تو گانڈ میں مرچیں لگ گئیں، ایسا لگا جیسے کسی نے نمک مرچ والا ڈنڈا ڈال دیا ہو۔ میرے منہ سے یکدم گالی نکلی: “تیری بہن دا پھدا ماراں، کھڑ جا!” وہ ہنستا ہوا بھاگ گیا۔ جب سب نے میری طرف دیکھا اور پوچھا کیا ہوا، تو میں کھسیا گیا اور بات کو ٹال گیا۔ فجا بولا: “ہن دس کی ہویا؟ تو گال کیوں کڈی؟” میں نے کہا: “کج نہیں ہویا، بس ایویں ای گال نکل گئی”۔ بڑی مشکل سے جان چھڑوائی لیکن میں نے بھی سوچ لیا: “بدلا تاں پت میں ضرور لینا، تیری بنڈ وچ لن ٹھوکنا پیا”۔

پھر سب نے کھیلنا شروع کیا اور مجھے موقع ملا، میں نے بھی فجے کی بنڈ میں پورا چپا چڑھایا تو اس کی چیخ نکل گئی اور اتنی اونچی تھی کہ ایک بار تو میں بھی ڈر گیا۔ اصل میں بدلے کے چکر میں میں نے ہاتھ کچھ زیادہ ہی سخت ڈال دیا تھا۔ اس کے بعد کچھ خاص نہ ہوا، ہم سب اپنے ٹھکانے پر جا کر سو گئے۔

صبح ہوئی، ناشتہ وغیرہ کر کے میں چھنو کی گلی پہنچ گیا اور گانا گنگناتا ہوا گزرنے لگا: “چھنو کی آنکھ میں اک نشہ ہے ۔۔۔” وہ باہر آئی، مجھے اشارہ کیا کہ ابھی نہیں، کچھ دیر بعد آنا۔ میں آگے نکل کر دکان پر گیا اور کچھ ٹافیاں وغیرہ لیں اور کھانے لگا۔ تھوڑی دیر گزری کہ چھنو کی ماں اور چھوٹی بہن ریڑھی پر بیٹھ کر بھینسوں کا چارہ لینے کے لیے میرے پاس سے گزریں۔ جیسے ہی وہ گزریں، میں تیزی سے چھنو کے گھر کی طرف گیا، چھنو مجھے چھت پر نظر آئی۔ اس نے مجھے آنکھ سے آنے کا اشارہ کیا۔ میں اس کے گھر میں بے فکر ہو کر داخل ہوا۔ اس نے مجھے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا اور خود دروازہ بند کرنے لگ گئی۔ میں اندر کمرے میں جا کر ادھر ادھر دیکھنے لگ گیا۔

کچھ دیر میں چھنو بھی آ گئی اور آتے ہی اس نے مجھے پیچھے سے جپھی ڈال لی۔ اپنے ممے میری کمر میں کس دیے، یہ میرے لیے اک نیا احساس تھا۔ میں مزے سے سرشار ہو گیا، مجھے اور تو کچھ نہ سوجھا، میں نے اپنا ایک ہاتھ پیچھے کر کے اس کا ایک مما پکڑ لیا۔ 32 سائز کا مما پورا سخت میرے ہاتھ میں سما گیا۔ میں نے دبا دیا، اس کے منہ سے “سییی” کی آواز نکلی۔ میں نے زور سے دبایا تو اس نے مجھے چھوڑا اور میرا ہاتھ جھٹکے سے ممے سے ہٹا دیا۔ مجھے ایسے لگا جیسے لنگر بٹ رہا ہو، سب لے جائیں اور آخر میں جس کی باری آئے اس کو جواب ملے: “پت ہن مک گیا اے”۔ جو شرمندگی اس وقت محسوس ہوتی، اس سے کہیں زیادہ مجھے محسوس ہوئی کہ سالی نے مزہ بھی نہیں لینے دیا اور ہاتھ پیچھے دھکیل دیا۔

وہ گھوم کر میرے سامنے آئی اور مجھے اپنی باہوں میں بھر لیا۔ وہ گاؤں کی دودھ مکھن کی پلی سخت جان، میں ڈالڈا گھی کھانے والا دبلہ پتلا۔ اس کی سخت باہوں میں جکڑا گیا کیونکہ اس نے جپھی اتنی گھٹ کے پائی کہ میرا سانس بند ہونے لگ گیا۔ میں تھوڑا کسمسایا تو وہ تھوڑا پیچھے ہوئی اور اپنے بھرے بھرے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیے۔ اتنا پیچھے ہوئی کہ بس گردن پیچھے کی اور گرفت ڈھیلی کی، جس سے ہمارے ہونٹ ایک دوسرے میں پیوست ہو سکیں۔ اس کے سخت ممے میرے کمزور سے سینے میں دبے ہوئے تھے، اس کا پیٹ میرے پیٹ سے لگا ہوا تھا۔ نیچے میرے لن نے بھی اپنے کان کھڑے کر لیے اور اس کے چڈوں میں گھس گیا کیونکہ ہمارا قد تقریباً برابر تھا، 5 فٹ کے قریب۔ اس نے اندھا دھند میرے ہونٹ چوسنے شروع کر دیے تھے۔ میں اس کام سے نابلد، اس کا ساتھ دینے کی کوشش کرنے لگا۔ کئی دفعہ اس کے ہونٹوں پر کاٹ لیا، پتہ نہیں اس کو مزے میں احساس نہیں ہوا یا وہ انجان بنی رہی۔

چومتے چومتے میرا ہاتھ پھر اس کے مموں پر پہنچ گیا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں نے کوئی کپڑے میں لپٹا سیب پکڑ لیا ہو۔ آہہہہ ہہہ ہ ہ ہا! اب مجھے بھی کچھ اچھا لگنے لگ گیا تھا۔ اس نے اپنی پھدی میرے لن پر رگڑنا شروع کر دی، ساتھ ساتھ اس کے ہاتھ حرکت میں آئے۔ اس نے میری قمیض اتار دی، بنیان میں نے پہنی نہیں تھی۔ اس کے ہاتھ میرے جسم پر ایسے رینگنے لگ گئے جیسے نرم ریت پر پانی کی لہریں بہتی ہیں۔ میرے لیے ایک ان چھوا احساس تھا۔ میرا لن فل مستی میں آ گیا، میں نے بھی ہلنا شروع کر دیا۔ اس کی پھدی میں گھوڑے کو دولتی دی اور چلانے لگ گیا لیکن وہ ابھی کسی اور موڈ میں تھی۔ ابھی تک ہم نے منہ سے ایک بھی لفظ نہیں بولا تھا، بس لگے ہوئے تھے۔ اس نے اپنی زبان نکالی اور میری گردن پر پھیرنی شروع کر دی۔ میری حالت بن پانی کی مچھلی جیسی ہو گئی، میرا جسم تڑپنے لگ گیا لیکن وہ اپنی زبان کا جادو چلاتی رہی۔

کوئی دو منٹ بعد اس کو مجھ پر ترس آ گیا۔ اس نے اپنی زبان ہٹائی اور پھر میرے ہونٹوں پر حملہ کر دیا کسی بھوکی شیرنی کی طرح، اور ساتھ ہی اس نے میری شلوار میں ہاتھ ڈالا اور نیچے کر دی، کیونکہ میں ابھی لاسٹک والی شلوار پہنتا تھا اس لیے اس کو کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ جب میری شلوار نیچے ہو گئی تو اس نے میرا لوڑا پکڑ کر مسلنا شروع کر دیا، میری حالت پہلے سے بھی پتلی ہو گئی۔ جب اس نے میری حالت دیکھی تو پیچھے ہوئی اور چارپائی کی طرف گئی اور جاتے ہی اپنی شلوار اتار کر پھینک دی۔ مجھے کہا: “آجا”۔ میرے جانے تک وہ لیٹ چکی تھی۔ اس نے اپنی قمیض اوپر کی اور ٹانگیں کھول کر لیٹ گئی۔ میں اوپر گیا، اس نے میرا لن اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی پھدی پر رکھا اور مجھے بولی: “دھکا مار”۔ میں نے دھکا مارا، میرا لن ایک ہی جھٹکے میں اندر گھس گیا اور ساتھ ہی اس کی آواز آئی: “مار دتا ای ظالما! اے کی کیتا ای؟” میں حیران پریشان ہو گیا کہ پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے۔



Source link

Leave a Comment