گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 2)

بھا نے پورے زور سے اس کی پھدی میں گھسہ مارا، یہ آواز شاید اندر ویہڑے تک گئی تھی اسی لیے ایک آواز آئی: “کمینیا ہولی بھونک، کوئی آ جائے گا”۔ میں تو پریشان ہو گیا کہ لو جی بھا پکڑا گیا، لیکن جب مجھے سمجھ آئی تو احساس ہوا کہ یہ آواز گھر کے اندر سے نہیں بلکہ بیٹھک کے باہر سے آئی تھی۔ ادھر بھا نے اپنی مشین فل سپیڈ سے چلا دی اور نجاں کی آوازوں میں بھی سرور کا اضافہ ہو گیا، بے ربط آوازیں آنے لگیں۔ مجھے بہت عجیب لگا کہ بھا دن میں عاصمہ کو پیار کر رہا تھا اور اب نجاں کو۔ دوستو! اس وقت یہ نہیں پتہ تھا کہ اس کو چودنا کہتے ہیں، اسی لیے بس ایسا سوچ رہا تھا۔ خیر، میں چپ کر کے آ گیا اور یہ سوچتے ہوئے کہ کیا تھا یہ سب، سو گیا۔

صبح اٹھا تو پتہ چلا کہ ہم شہر شفٹ ہو رہے ہیں کیونکہ شہر میں گھر خرید لیا تھا۔ دوستو! جیسا کہ بتایا تھا کہ میرے ابو کے تین بھائی تھے، تو ایک شہر شفٹ ہو رہا تھا، باقی سب بچے اس کے پاس پڑھنے کے لیے شہر رہنے والے تھے۔ خیر، سب کچھ تیار شیار کر کے شہر لے گئے۔ دوسرے دن ہمیں وہاں کے مشہور سکول میں داخل کروا دیا گیا اور ہم پینڈو بچوں کا وہاں کے ممی ڈیڈی بچوں نے خوب مذاق اڑایا۔ میں تو پہلے دن ہی چالو ہو گیا، دوسرا میرا دل بھی نہیں لگ رہا تھا۔ خیر، کچھ دن ایسے گزرے، مجھے ہر وقت گاؤں کی یاد آتی۔ جمعرات والے دن آدھی چھٹی ہوتی اور جمعہ کی پوری۔ ہم جمعرات کو گاؤں آ جاتے اور اگلے دن شام کو شہر چلے جاتے۔ اسی طرح 4 سال گزر گئے اور میں 8 ویں کلاس میں ہو گیا۔ کوئی خاص واقعہ نہ ہوا، بس گاؤں سے شہر اور سکول، پھر گاؤں۔

جب میں 8 ویں کلاس میں تھا تو میرے ابا نے شہر کی مشہور کالونی میں گھر کرائے پر لے لیا اور ہم سب بہن بھائی امی ابو کے ساتھ اس گھر میں شفٹ ہو گئے۔ اس کالونی میں سارے شہر کی کریم رہتی تھی اور کافی امیر لوگ رہتے تھے۔ ہم پینڈو وہاں آ کر بہت خوش ہوئے، کچھ دنوں میں ہی میں وہاں کے بچوں میں رچ بس گیا۔ کچھ اپنے گھر کی وجہ سے اور کچھ بھائیوں کے دوستوں کی وجہ سے میرے بھی کافی دوست بن گئے اور ویسے بھی اب میں اتنا بچہ بھی نہیں رہا تھا، اس لیے خوب کھیلتے اور مزے کرتے۔ مجھے اکثر کوئی نہ کوئی لڑکا اپنے گھر لے جاتا اور ہم مل کر بلیو پرنٹ (فلم) دیکھتے تو میری للی، جو اب کافی بڑی ہو گئی تھی، کھڑی ہو جاتی لیکن سمجھ نہ آتی کہ کیا کروں، بس بیزاری ہوتی رہتی۔

ایک دن دو لڑکے کھڑے باتیں کر رہے تھے کہ “مٹھ ماری، بڑا مزہ آیا”۔ مجھے سمجھ نہ آئی کہ یہ مٹھ مارنا کیا ہوتا ہے۔ میرے اندر وہی پینڈوؤں والا احساسِ کمتری تھا، میں جھجکتا تھا اور کسی سے پوچھتا بھی نہیں تھا۔ ایک لڑکا جو میرا کافی کلوز فرینڈ بن گیا تھا، اس کے ساتھ مل کر میں نیٹ کیفے گیا۔ سچی بات تو یہ تھی کہ میں نے کبھی کمپیوٹر دیکھا بھی نہیں تھا۔ بہت حیران ہوا، وہ سالا اس کو چلا رہا تھا۔ اس نے کچھ بٹن دبائے اور ایک فلم لگا دی۔ میں مزے سے دیکھ رہا تھا کہ اچانک میں نے ساتھ بیٹھے دوست کی طرف دیکھا تو اس نے پینٹ میں سے لن باہر نکالا ہوا تھا اور اس کو زور سے مسل رہا تھا۔ 6 انچ تو ہو گا، اس وقت میرا اس سے بڑا تھا۔ میں بہت حیران ہو کر اس کو دیکھتا رہا کہ سالا کر کیا رہا ہے۔ یکدم اس کے لن میں سے منی نکلی اور نیچے گرنے لگی۔ اس نے آنکھیں بند کر کے مزہ لیا اور لن شلوار میں کر لیا۔ میری طرف دیکھ کر بولا: “تو نے مٹھ نہیں ماری؟” اس وقت مجھے پتہ چلا کہ اس کو مٹھ مارنا کہتے ہیں۔ خیر، اس کے بعد کئی دفعہ کوشش کی لیکن میرے لن میں سے پانی نہ نکلا، بلکہ لن درد کرنے لگ جاتا اور اس پر زخم ہو جاتے۔

اسی دوران چیچہ وطنی میں میرے کزن کی شادی آ گئی اور ہم سب وہاں گئے۔ وہاں ایک لڑکی مجھے بہت غور سے دیکھتی، مجھے بھی سمجھ نہ آتی کہ کیوں دیکھتی ہے۔ میرے ایک کزن نے مجھے کہا: “یہ تم سے پیار کرتی ہے، خط لکھو”۔ میں ڈرتا رہا۔ بس شادی کے مصروف دن تھے؛ دن میں کھیلتے، رات میں عورتوں اور لڑکیوں کے گانے سنتے اور ان کا ڈانس دیکھتے۔ گرمی کے دن تھے، دوپہر میں سب سو جاتے، ہم بچوں کو نیند کہاں آتی تھی، کبھی ادھر تو کبھی ادھر جاتے۔ یہ جس کزن کی شادی تھی وہ میری خالہ کا بیٹا تھا، ان کے شوہر فوت ہو چکے تھے اور وہ میرے ماموں لوگوں کے پاس رہتی تھی۔ میرے ماموں لوگ تین بھائی تھے، بات لمبی ہو جائے گی اگر ان کا تعارف کروایا تو۔ جیسے جیسے ذکر آئے گا، تعارف ہوتا جائے گا۔

منجھلے ماموں کی بیٹی، جس کا نام مائرہ تھا، ہمارے ساتھ کھیلتی تھی۔ ہم لوگ وہی لکن میٹی کھیلتے، رات کو بھی اور گھر میں چھپتے۔ میں اور مائرہ ایسے ہی جلدی میں ایک ہی چارپائی کے نیچے چھپ گئے۔ مائرہ میرے آگے تھی اور میں اس کے پیچھے، میری نظر جب اس کی بنڈ پر پڑی تو بس پھر کیا تھا، لن تن گیا۔ ہم چونکہ چارپائی کے نیچے تھے اور اپنے گھٹنوں کے بل پر تھے، ایک طرح سے ڈوگی سٹائل میں تھے، تو اس کی گانڈ باہر کو نکلی میرے منہ کے بالکل سامنے تھی۔ بھرے بھرے چوتڑ، الگ الگ پھاڑیاں نظر آ رہی تھیں۔ میں تھوڑا آگے ہوا اور اپنا ایک ہاتھ اس کی بنڈ کی ایک پھاڑی پر رکھ دیا۔ مجھے ایسا لگا جیسے مخمل کو چھو لیا ہو، اتنی نرم جیسے ماسٹر کا مولٹی فوم! میرا ہاتھ کیا لگا اس کی پھاڑی پر، میں تو جیسے ہوش میں ہی نہیں رہا۔ مجھے ایسا لگا جیسے دودھ کے اوپر تیرتی ملائی کو پکڑ لیا ہو۔ مجھے اور تو کچھ نہ سوجھا، دونوں ہاتھوں سے اس دلکش و نمکین گانڈ پر مساج شروع کر دیا۔ مائرہ کو شاید اچھا لگ رہا تھا، اس لیے اس نے کوئی ری ایکشن نہ دیا۔ میں ایسے ہاتھ پھیر رہا تھا جیسے ذرہ بھی سختی کی تو اس خوبصورت گانڈ کی بے حرمتی ہو جائے گی، اس دلکش کوہان کی شان میں گستاخی ہو جائے گی۔ اتنے آرام اور پیار سے ہاتھ پھیر رہا تھا کہ کہیں یہ سختی کرنے سے ٹوٹ نہ جائے۔

ہاتھ پھیرتے ہوئے میں آگے ہوا اور تھوڑا اٹھ کر اس کی لچکدار کمر پر ہاتھ رکھ کر اوپر ہو گیا اور اپنا لن، جو اس وقت ایسا سخت ہو چکا تھا کہ اگر اس کو دیوار میں بھی مارتا تو دیوار میں مورا (سوراخ) کر دیتا، فل تنا ہوا تھا، اس کی گانڈ کی دراڑ میں پھنسا دیا۔ اس کی دراڑ میں جیسے ہی لن گھسا، ایسے لگا جیسے پھولوں کی ٹوکری میں لن لگا ہو، اتنی نزاکت تھی اس کی گانڈ میں۔ لن تو مست ہو گیا، میں بھی مزے میں چور یہ بھول گیا کہ چارپائی کے نیچے ہیں اور کھیل رہے ہیں۔ میں نے ہلکا سا گھسا مارا تو مائرہ نیچے گر گئی اور میرا لن اس خوبصورت گانڈ کی ندی میں گھس کر لیٹ گیا۔ میں تو مزے کی گہرائیوں میں اتر چکا تھا، مجھے تو ایسے لگ رہا تھا جیسے ریشم کے بستر پر آ گیا ہوں۔ لن جیسے کسی شہد کی نہر میں ڈبکی لگا رہا ہو، ایسا مزہ جیسے زندگی کا مقصد حاصل ہو گیا ہو۔

اسی وقت شور ہوا تو مائرہ جلدی سے میرے نیچے سے نکل کر باہر بھاگ گئی اور میں اپنے کھڑے لن سمیت پیٹ کے بل نیچے گر گیا۔ یہ تو شکر ہے کہ صحن کچا تھا، نہیں تو میرے لن کی ماں بہن ہو جانی تھی۔ اسی طرح کھیلتے رہے، گانے سنتے رہے۔ ڈانس کے روز کی طرح آخر میں سمی ڈالی سب عورتوں اور لڑکیوں نے مل کر، اس کے بعد سو گئے۔

دوسرے دن دوپہر کی بات ہے کہ سب سو رہے تھے، مجھے گرمی لگی تو میں نہانے کے لیے واشروم میں گھس گیا۔ ابھی میں نے اپنے جسم کو بمشکل گیلا کیا تھا کہ دروازے کو دھکا لگا۔ دروازہ لکڑی کی پھٹیوں سے بنا تھا جن کے درمیان میں تھوڑی جگہ رہ جاتی ہے، میں نے اس سے دیکھا تو مائرہ کھڑی تھی۔ میں نے دروازہ کھولا، وہ اندر آ گئی، میں الف ننگا تھا۔ اس نے بھی کپڑے اتار دیے، میری نا تجربہ کاری اوپر سے وہ بچی کنواری۔ وہ گوڈی ہوئی (جھکی)، میں نے پیچھے سے ڈالنے کی کوشش کی پر نہ گیا، کافی زور لگایا۔ جب نہ گیا تو میں نے اسے سیدھا لٹایا، اس کی ٹانگیں اٹھائیں اور اس کے اوپر لیٹ گیا اور گھسا مارنے ہی لگا تھا۔۔۔

جیسے ہی زور سے گھسا مارنے لگا، میری نظر مائرہ کے چہرے پر پڑی، وہ میری طرف دیکھ رہی تھی۔ مجھے اس پر بہت پیار آیا، میں گھسا مارنا بھول کر اس کی جھیل سی بلی آنکھوں میں کھو گیا۔ اس کی کشادہ پیشانی جس پر پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے، ستواں ناک، گلابی رسیلے ہونٹ اس طرح جیسے کھلتا گلاب، اوپر سے لرزتے ہوئے کپکپاتے ہوئے مجھے دعوتِ طعام دے رہے تھے کہ آؤ ہمیں چوم لو، ہمارا رس چوس کر ہمیں شاد کر دو۔ اس کے گلابی گال جیسے پکا انار ہوں، اگر تھوڑا سا اور گرم ہوئے تو پھٹ جائیں گے۔ میں سب کچھ بھول کر اس حسن کی مورتی میں کھو سا گیا اور بے اختیار صدیوں کے پیاسے کی طرح اس کے منہ پر ٹوٹ پڑا۔ دیوانہ وار چومنے لگ گیا، مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ دلکش و حسیں چہرہ میری ضیافت کے لیے ہی خدا نے بنایا ہے۔ میری یہ حالت تھی جیسے کئی دن کا بھوکا ہوں اور کھانے کو لذیذ ڈش مل گئی ہو۔ میں نے چوم چوم کر اس کا منہ اپنے لعاب سے بھر دیا، اس کے گالوں پر جا بجا میرا تھوک لگ چکا تھا، میں پھر بھی چاٹتا جا رہا تھا۔

اچانک مائرہ نے میرے چہرے کو پکڑ کر پیچھے دھکیلا، میری حالت بن پانی کی مچھلی جیسی ہو گئی، میں مچلا، لیکن اس نے اپنی ٹانگیں میری کمر کے گرد کس لیں اور بولی: “بلو! کی کردا پیا واں؟ چھیتی کر کوئی آ جاؤ گا”۔ مجھے تب ہوش آیا۔ میں نے ایک بار پھر کوشش کی، گھسا مارا، لیکن کنواری پھدی اور میرے جیسا نا تجربہ کار کھلاڑی غلط شاٹ لگا بیٹھا، لن پھسل کر اوپر نکل گیا۔ پھر کوشش کی، پھر ناکام۔ ایک بار پھر نشانہ لگا کر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر، اپنی گانڈ کس کر پوری طاقت لگا کر گھسا مارا تو مائرہ نے زور کی چیخ ماری اور میرے نیچے سے نکل گئی۔ اسی وقت باہر سے کسی کے چلنے کی آواز آئی، میری تو بنڈ بندوق ہو گئی، میں نے سوچا کہ بھئی بلو! آج تو مر گیا تو۔ مائرہ نے پھرتی دکھائی، واش روم کے دو دروازے تھے؛ ایک صحن کی طرف اور دوسرا پیچھے کی طرف تھا، اس طرف بیٹھک کی جگہ چھوڑی ہوئی تھی لیکن ابھی بنی نہیں تھی۔ وہ اس دروازے سے نکل گئی اور مجھے اشارہ کیا کہ بند کر لو۔ میں نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور پانی کا مگ اپنے اوپر ڈالنا شروع کر دیا تاکہ باہر والے کو کچھ سمجھ نہ آئے۔ میں جلدی جلدی نہا کر باہر نکلا اور ڈرتے ڈرتے اندر کمرے میں گیا تو سب نارمل تھا۔ گرمیوں کے دن تھے، اندر پنکھوں کے شور میں شاید کسی کو پتہ نہیں چلا۔ میں نے شکر ادا کیا اور سو گیا۔ شام تک سویا رہا، پھر شام کو اپنے ماموں کے بیٹے اور دوسرے کزنوں کے ساتھ گراؤنڈ گیا، کرکٹ کھیلی۔ واپس آئے، کھانا کھایا، پھر رات کو لکن میٹی کھیلنے لگے۔

میں نے کوشش کی کہ مائرہ کے ساتھ کوئی سین بن جائے لیکن اس نے مجھے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا: “پراں دفع ہو چوہا جیا نہ ہووے تاں”۔ مجھے بھی غصہ آ گیا پر میں کر کچھ نہیں سکتا تھا۔ اس کی پھدی تھی، وہ دے یا نہ دے۔ میں نے پھر کوشش کی، مجھے وہ اکیلی نظر آئی تو میں اس کے پاس پہنچ گیا اور بولا: “مائرہ! کی ہویا؟ انج کیوں کردی پئی ایں؟” اس نے کہا: “تینوں نہیں پتہ تو دن نوں کی کیتا سی؟ پتہ وی اے میرے کنی پیڑ ہوئی؟” میں نے کہا: “اینی تاں ہندی اے، پھر مزہ وی تاں آوندا اے”۔ اس نے کہا: “جا دفع ہو، مینوں ایہو جیا مزہ نہیں چاہیدا”۔ میں نے پھر کوشش کی، اس کے قریب ہوا، اس کو پیچھے سے جپھی ڈالی تو اس نے خود کو چھڑوایا اور بولی: “جانا اے کہ نہیں؟ شور مچا دیاں گی”۔ سائیں ہوراں نے بشیر (بچ نکلنے) ہونے میں ہی بہتری سمجھی اور تتر ہو گئے۔ پھر کافی دن رہے وہاں لیکن مائرہ تو ایسی بدظن ہوئی کہ اپنی پوچھ ہی نہیں پکڑاتی تھی۔ خیر، شادی ختم ہوئی، ہم واپس آئے اور کچھ دن رہنے کے لیے گاؤں چلے گئے کیونکہ گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی تھیں۔

ہمیں گاؤں گئے دوسرا دن تھا کہ میں دن کے ٹائم ایسے ہی، جب سب سو گئے تو باہر نکل گیا۔ گلی سے گزر رہا تھا کہ مجھے چھنو نظر آئی۔ اس نے مجھے دیکھ کر آنکھ ماری اور اشارے سے کہا اس طرف چلو۔ اس کا اشارہ جس طرف تھا، اس طرف چند گھر چھوڑ کر گندم کی فصل بوئی ہوئی تھی۔ میں ادھر چلا گیا اور ایک درخت کے سائے میں کھڑا ہو گیا۔ چند منٹوں بعد مجھے دوسری طرف سے چھنو کھیت میں چلتی نظر آئی۔ میں حیران ہوا کہ یہ تو اس طرف تھی، ادھر کیسے آ گئی؟ پھر مجھے یاد آیا کہ اس کے چاچے کے گھر کا ایک دروازہ اس طرف کھلتا ہے۔ خیر، وہ کھیت کے درمیان میں ایک چھوٹی سی بیری تھی، اس کے نیچے آ کر رک گئی۔ میں وہیں کھڑا اس کی طرف دیکھ رہا تھا، اس نے اشارہ کیا: “آ وی جا ہن”۔ میں تیزی سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کھیت میں گھس گیا اور بیٹھ گیا۔ میں اس کے پاس گیا، اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر نیچے بٹھایا۔ میں بیٹھتے ہوئے گر گیا تو وہ میرے اوپر اس طرح آئی کہ اس کا سینہ میرے سینے کے اوپر تھا اور باقی کا جسم نیچے۔ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی: “ہن تے شہری ہو گیا ایں، سانوں تاں بھل ای گیا ایں”۔ میں نے کہا: “نہیں، ایہہ جیہی کوئی گل نہیں”۔ اس نے کہا: “ہور کی اے، اینے دن ہو گئے مینوں ملن نہیں آیا”۔ دوستو! میں لاجواب تھا، کچھ اس کی بات سے اور کچھ اس کے سینے کے لگنے سے۔ اس کا سینہ، جس پر کبھی چھوٹے چھوٹے فروٹر ہوا کرتے تھے، آج مجھے وہ مسمی لگ رہے تھے۔ مجھے اپنے سینے پر واضح محسوس ہو رہے تھے۔ مجھے پتہ نہیں کیا ہوا کہ میں نے انہیں ایک سائیڈ سے پکڑ لیا۔ جیسے ہی میرا ہاتھ لگا، اس کی ہلکی سی سیی (سسکی) نکل گئی اور وہ اور زور سے میرے اوپر ہو گئی۔ میرے اوپر جھک کر اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں کے قریب کیے اور چوم لیے اور بولی: “بلو! تینوں پتہ میں تینوں کناں پیار کردی آں؟” میں کہیں اور پہنچا ہوا تھا، میں نے اس کی گردن پر ہاتھ رکھا اور اس کے ہونٹ چوم لیے۔ اس نے جلدی سے میری شلوار نیچے کی اور اپنی بھی، اور لیٹ گئی۔ مجھے اپنے اوپر آنے کو کہا۔ میں بھی کسی ترسے ہوئے کتے کی طرح دم ہلاتا تیزی سے اس کے اوپر آ گیا۔ اس نے میری کمر کے گرد ٹانگیں کس لیں اور بولی: “پا دے بلو آج آودا لل میری پھدی اچ”۔ میں اس کی بات سن کر حیران رہ گیا۔ میں نے پوچھا: “اے پھدی کی ہندی اے؟” تو اس نے میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی پہ لگایا اور بولی: “ایہنوں پھدی آہدے نیں، جا اوے تینوں پھدی دا وی نہیں پتا”۔ میں جلدی سے بولا: “ایڈی گل نہیں، مینوں پتہ سی، میں اوویں تیرا امتحان لین لئی پچھیا سی”۔ اس نے کہا: “جلدی کر، کوئی آ جاؤ گا”۔ میں نے کہا: “اچھا”۔ میں نے گھسا مارا، وہ اچھلی اور بولی: “اے کی آ؟” میں نے حیران ہوتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تو وہ بولی: “تو کسے دی لئی نہیں حالے؟” میں کوئی جواب نہ دے سکا، شرمندہ ہو گیا۔ تو اس نے ٹانگیں کھولیں اور میں پیچھے ہوا تو اس نے اپنی پیشاب کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر کہا: “ایتھے واڑ ایہنوں”۔ میں نے پھر کوشش کی، پھر وہی ہوا۔ تو اس نے میرا لل پکڑا اور اپنی شرمگاہ میں رکھا اور مجھے کہا: “آرام نال واڑ دے اندر”۔ میں نے زور لگایا تو تھوڑا سا گھس گیا۔ پھر زور لگایا تو آگے نہ ہوا۔ سائیں ہوری پھر جوش میں آ گئے؛ ایک پھدی ملنے کا جوش، دوسرا انج وی زور لان دا۔ تھوڑا سا پیچھے ہوا اور ایک زور دار گھسا مارنے لگا تھا کہ یاد آیا کہ مائرہ نے چیخ مار دی تھی۔ آگے کو ہوا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور نیچے سے اپنی بنڈ کی مدد سے زور دار جھٹکا دیا، اور میرے لل نے پہلی دفعہ ایک اندھیری سرنگ کی سیر شروع کر دی۔ جیسے ہی اندر ہوا، مجھے ایسے لگا جیسے میرا لن کسی آگ کی بھٹی میں گھس گیا ہو، لیکن مزہ بھی بہت آ رہا تھا۔ میرا ہاتھ ابھی چھنو کے منہ پر تھا، اس نے میرا ہاتھ ہٹایا اور بولی: “آرام نال آکھیا سی تینوں، ہولی نہیں کر سکدا سی؟ میری جاں کڈ دتی ایں”۔ اسی طرح اوپر لیٹا رہا تو اس نے کہا: “ہن کی اے؟” میں حیران ہوا کہ اب یہ بھی لگتا ہے بھاگ جائے گی۔ میں نے سوالیہ انداز سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہن گھسے مار زور زور دی”۔ میں نے نیچے سے اپنی گانڈ ہلانا شروع کر دی۔ جتنا زور لگا سکتا تھا لگا دیا، تو اس نے مجھے روکا اور بولی: “بندیاں طرح کر”۔ میں ناسمجھی کے انداز میں اس کی طرف دیکھنے لگا اور سوچا سالی پتہ نہیں کی چاہندی اے۔ پھر خود ہی آرام سے گانڈ کو آگے پیچھے کرنے لگ گیا۔ اس نے مجھے کس کے اپنے اوپر لٹا لیا اور میرے ہونٹ چوسنے لگ گئی۔ دوستو! میں تو مزے کی بلندیوں پر پہنچ گیا اور میری سپیڈ بھی تیز ہو گئی۔ میں لگاتار گھسے مار رہا تھا۔ کوئی 5 منٹ ہوئے ہوں گے کہ اس نے بولنا شروع کیا: “بلو! پاڑ دے میری، زور نال، ہہہہااااااااہہاہاہاآآآیہہہہہہہہہہہ ہوررررررررررر زووووووورررررررع نالللللللل مارررر”۔ مجھے اور جوش آتا۔ اسی طرح کرتے اس کا جسم اکڑ گیا، اس نے ٹانگیں زور سے میری کمر پر کس لیں اور میرے ہونٹوں کو کاٹنے لگ گئی۔ میرا سانس بند ہونے لگ گیا، لیکن اس کو ہوش کہاں تھا۔ یکدم اس کے جسم نے جھٹکا کھایا اور مجھے یوں لگا جیسے میرا لن کسی نے کس کے پکڑ لیا ہے۔ میں نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا کیونکہ اس نے اپنی ٹانگوں میں مجھے جکڑ رکھا تھا۔ اسی دوران مجھے اپنے لل پر گرم گرم کچھ گرنے کا لطیف احساس ہوا اور میں مزے کی وادیوں میں کھو گیا۔۔۔۔۔

کافی دیر بعد اس نے مجھے چھوڑا اور بولی: “ہو گیا ایں فارغ؟” میں سیکس کے معاملے میں چٹا ان پڑھ، اس کی طرف دیکھنے لگ گیا تو اس نے کہا: “چل کر”۔ میں پھر ہلنے لگ گیا۔ وہ بولی: “بلو! میں تینوں بہت پیار کرنی آں، ویکھ آج میں تینوں دتی وی اے، نہیں سچ دیندی پئی آں، تو وی مینوں پیار کرنا اے ناں؟” پیار کا سن کر مجھے جوش چڑھ گیا اور میں نے اپنی سپیڈ بڑھا دی اور تیز تیز لن گھسانے لگ گیا۔ اس کی بھی آواز آنے لگی: “آہ آہ آہ ہہہہہہہہہہ آاااااہہہہ ہہہہممممممممہہہہااآاااااااااا مزہ آ رہیا اے بلو میری جانننننننننن بببببببلللکککوووو ہو زور نال آآاااااااآہہہہہ ہہہہہہآاااااااا ببببللبببللللوووووووو”۔ اس کی آواز کافی اونچی ہو گئی تھی اور میری سپیڈ بھی۔ کوئی 6 سے 7 منٹ ہوئے ہوں گے کہ اس نے پھر سے مجھے جکڑ لیا، اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا اور اس کی بے ربط آوازیں آنے لگیں: “بلو! تو میری جان، آج پاڑ دے میری، مینوں ماں بنا دے، آہہہہہ ااااہہہہہ بلللللللوووووو میں کککککددددوووووںںںں ددددددددییییییی تینوں دین نوں ترررررررررر سسسسسسسسسدددی سی”۔ اسی کے ساتھ اس نے ہلکی سی چیخ ماری اور میری کمر میں اپنے ناخن گاڑھ دیے۔ اس کی رانی نے میرے بھولو کو اپنے قابو میں کر لیا، مجھے رکنا پڑا۔ جیسے ہی میں رکا، اس نے اکھڑی ہوئی سانس میں کہا: “مممییییںںں گئیئئیییی”۔ اور جھٹکے سے میرے لن پر فوارہ پڑا جیسے کسی نے گرم پانی ڈال دیا ہو۔

کچھ دیر جھٹکے کھانے کے بعد وہ رک گئی تو اس کا جسم پسینے سے مکمل بھیگ چکا تھا۔۔۔۔۔۔

اس نے اپنی سانس بحال کی اور مجھے اپنے اوپر سے ہٹایا۔ میں پیچھے ہوا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ جیسے ہی اس کی نظر میری ٹانگوں کے بیچ گئی تو بولی: “ہالے وی نہیں ہویا فارغ؟” میں نہ سمجھا، میں نے کہا: “نہیں۔” وہ حیران ہوئی اور میں تو پہلے ہی کچھ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔ اس نے کہا: “ہن کوئی آ نہ جائے، تو جا، میں وی جانی آں”۔ میں نے کہا: “تھوڑا ہور پیار کریے؟” اس نے کہا: “بلو! سمجھ ناں، تو کل 10 وجے گھر آ جائیں، رج کے کراں گے، ٹھیک اے ناں؟” میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ہاں کہا اور شلوار اوپر کی اور آ گیا۔۔۔۔۔۔





Source link

Leave a Comment