گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 1)

میرا تعلق ساہیوال کے ایک گاؤں سے ہے۔ میرے والد گورنمنٹ ملازم تھے۔ ہم 3 بھائی اور ایک بہن ہیں۔ یہ کہانی 90 کی دہائی سے شروع ہوتی ہے، اس وقت تک ہمارے گاؤں میں بجلی بھی نہیں آئی تھی۔ میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا اور ایک شرارتی قسم کا بچہ تھا۔ خیر، بات کہیں اور نکل جائے گی، کہانی کی طرف آتے ہیں۔ ہمارا گھر گاؤں کے معزز گھرانوں میں شامل ہوتا تھا۔ میرے دادا کا کافی دبدبہ تھا۔

جب میری عمر 10 سال تھی تو مجھے کچھ سیکس واقعات دیکھنے کو ملے جن سے میرے اندر سیکس کی خواہش پیدا ہونا شروع ہو گئی۔ معذرت، میں اپنا تعارف کروانا بھول گیا، تو دوستو میرا نام بلو ہے، میرے بڑے بھائی کا نام بوٹا اور اس سے چھوٹے کا نام ہاشم اور بہن کا نام رجو ہے۔ نام بدلے گئے ہیں۔

خیر، جب میری عمر 8 سال تھی اور میں تیسری کلاس میں پڑھتا تھا تو ہم سب کزن اور آس پڑوس کے لڑکے اور لڑکیاں خوب کھیلا کرتے تھے۔ ہمارا گھر گاؤں کے ایک کونے میں تھا۔ گھر کے ساتھ 2 ایکڑ کماد ہوا کرتا تھا۔ جو لوگ کماد کی فصل کے بارے میں جانتے ہیں ان کو پتہ ہو گا یہ پورے سال کی فصل ہوتی ہے۔ تو ہم لکن میٹی کھیلتے ہوئے اکثر کماد میں چھپ جایا کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک دن میں اور ہمارے پڑوسیوں کی کڑی ناہید، جو کہ ہماری رشتہ دار بھی تھی، ہم میں کافی دوستی تھی۔ ہم اکثر ایک ساتھ چھپا کرتے تھے۔ ہم اس دن بھی چھپنے کے لیے کماد میں داخل ہوئے اور آگے چلتے گئے۔ ابھی ہم تھوڑا ہی آگے گئے تھے کہ ہمیں عجیب سی آوازیں آنے لگیں۔ ہم ڈرتے ڈرتے آگے بڑھے لیکن ناہید تو ڈر کی وجہ سے کانپ رہی تھی، اس نے سرگوشی میں کہا کہ “بلو، مینوں بہت ڈر لگدا پیا ای، ایتھے باہرلا (سور) ہونا اے، آپاں چلیے”۔ میں نے اس کو چپ رہنے کا کہا اور ہاتھ کھینچ کے آگے لے کر جانے لگا۔ وہ ڈرتے ہوئے آگے بڑھی۔ کچھ آوازیں واضح آنے لگیں تو ہم نے غور کیا تو ایسا لگا جیسے کوئی رو رہا ہے۔ ہم ٹھٹک کے رک گئے، کچھ دیر آواز کی سمت کا تعین کرنے کے بعد پھر دبے پاؤں آگے بڑھنے لگے۔ تو آوازیں کچھ واضح ہونے لگیں جیسے کوئی سسک رہا ہے “آہ آہ آہ آہ اوئی ہولی کر” وغیرہ۔ ہم نے ہمت کی اور تھوڑا سا آگے کھسک کے دیکھا تو ہماری کمیوں کی ایک جوان اور سیکسی جسم کی مالک لڑکی عاصمہ فل ننگی لیٹی ہوئی ہے اور اس کے 38 سائز کے غبارے جو دودھ سے زیادہ سفید، ایسے جیسے ان میں کسی نے ہوا بھر کے باندھ دیا ہو اور اوپر اڑنے کی کوشش میں دائیں بائیں ہل رہے تھے اور چٹے سفید مموں کے اوپر ان کا گارڈ بڑی شانِ بے نیازی سے گلابی وردی پہنے بیٹھا تھا۔ اور ایک مرد جس کی ہماری طرف کمر تھی، اس نے عاصمہ کی ٹانگیں اٹھائی ہوئی تھیں اور ان کے بیچ میں زور زور سے گھسے مار رہا تھا۔ ننگے ممے دیکھ کے اور گھسوں میں سپیڈ کی وجہ سے ہمیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ سب کیا چل رہا ہے۔ میں ناہید کے پیچھے کھڑا تھا اور جھک کے دیکھنے کی کوشش میں میرا اگلا حصہ ناہید کی بنڈ سے لگا ہوا تھا۔ ہم اتنے محو تھے یہ سب کارروائی دیکھنے میں کہ یہ بھول گئے کہ ہمیں اگر انہوں نے دیکھ لیا تو کیا ہو گا۔ اچانک عاصمہ کی آوازیں تیز ہو گئیں، وہ عجیب و غریب آوازیں نکالنے لگ گئی: “ااااااآاااآہہہہااااکککککاااا ہو زور دی ہورررررررر زووووووورررعع دی پاڑ دے میرا اندر، ہاں میییییںںںں گئی”۔ اور یکدم اچھلی تو اس کے 38 سائز کے مسمیوں نے بھی قلابازیاں کھانی شروع کر دیں۔ کچھ دیر جھٹکے کھانے کے بعد وہ رک گئی تو اس آدمی نے اس کو گھمایا جس سے اس کا رخ بدل گیا، اب عاصمہ کتیا کی طرح گوڈے مودھے مار کر جھک گئی۔ پیچھے سے اس آدمی نے جیسے ہی لن ہاتھ میں پکڑ کے ڈالنے کے لیے آگے کیا تو ہم دونوں کی نظر میں لن آیا۔ اتنا بڑا! ناہید کے منہ سے ہائے نکل گئی۔ اگر میں اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ کے اس کا منہ بند نہ کرتا تو شاید اس کی آواز ان تک پہنچ جاتی۔ میرا منہ بھی حیرت سے کھل گیا۔ لیکن جب اس نے ایک جھٹکے سے اندر ڈالا تو افففففففففف نہ پوچھو کیا مزہ آیا۔ یہ سب دیکھ کر میری چھوٹی سی للی بھی کھڑی ہو گئی اور ناہید کی گانڈ کی دراڑ میں گھس گئی۔ ادھر وہ گھسے مارنا سٹارٹ ہوا، ادھر مجھے پتہ نہیں کیا ہوا۔ جیسے اس نے عاصمہ کی گانڈ کو پکڑ رکھا تھا، ویسے میں نے بھی ناہید کی گانڈ کو سائیڈوں سے پکڑ کے گھسے مارنے شروع کر دیے۔ وہاں عاصمہ کی آہیں آنا شروع ہو گئیں، جب ایک لمبا موٹا کالا ناگ پیچھے سے پھدی میں گھستا تھا تو عاصمہ کی “اوئی مااااااممممااںںں” کی آواز آتی لیکن وہ ظالم مرد لگاتار گھسے پہ گھسا مار رہا تھا۔ ادھر میں بھی لگا ہوا تھا، انجانے میں ناہید نے بھی گانڈ میرے ساتھ مزید چپکا لی تھی۔ یکدم اس آدمی نے عاصمہ کو اس کی گانڈ سے پکڑ کے گھمایا اور جیسے ہی وہ خود نیچے لیٹنے کے لیے عاصمہ کی جگہ آیا تو ہم دونوں کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیونکہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ میرا بڑا بھائی تھا جو عاصمہ کی پھدی کا بھرتا بنا رہا تھا۔ میرے تو ٹٹے شاٹ ہو گئے۔ میں جلدی سے ناہید کا بازو کھینچتے ہوئے اس کو واپس لے آیا اور باہر نکل آئے جہاں ہمیں ڈھونڈنے والے بچے تھک ہار کر بیٹھے تھے۔ جیسے ہی ہم باہر نکلے تو سب حیران ہوئے اور پوچھنے لگے کہ ہم کیا کرتے رہے۔ میں جلدی سے بولا: “تم لوگوں سے ڈھونڈا نہیں گیا تو اب یہ کیسی باتیں کرتے ہو”۔ ایک لڑکی تھی چھنو، تھی تو وہ بھی ہماری رشتہ دار لیکن اس عمر میں بھی بہت بڑی توپ تھی۔ وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتی رہی۔ میں پریشان ہوا اور اس سے پوچھا: “انج اکھاں پاڑ پاڑ کے کی ویکھی جانی ایں، میرے منہ تے کی لگا اے”۔ وہ بولی: “میں سب سمجھنی آں تسی کی کردے رے او”۔ میری تو شلوار گیلی ہونے والی ہو گئی کہ سالی نے کدھرے بھا بوٹے نوں تاں نئیں ویکھ لیا، بڑی کتی چیز اے۔ میں وی کچا نہیں سی بولیا: “نی مطلب تیرا، کی کردے رہے آں اسی؟ اپنا منہ سنبھال کے بول”۔ وہ کم نہیں سی: “تو اپنا بوتھا ویکھیا ای چوہا جیا”۔ “آ نی ناہید آپاں چلیے، آپاں نہیں ایناں نال کھیڈنا، اے تاں ہیگے ای بتمیز نیں، گل کرن دی تمیز نہیں ایناں نوں”۔ لیکن ناہید بولی: “نہیں میں نے ابھی کھیلنا ہے، تو جا”۔ آگے سے چھنو نے جواب دیا: “مینوں پتہ تو کی کھیلنا اے”۔ میں نے جواب دیا: “چل بھج جا ایتھوں باندریے جئیے، بھج جا”۔ ناہید بھی شیر ہو گئی، وہ بھی بولنے لگ گئی: “جا جا کر اپنا کم کر”۔

اسی طرح لڑتے جھگڑتے شام ہو گئی اور ہم اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔۔۔

لیکن شام کو جب بھا بوٹا گھر آیا تو میں اس کی طرف غور سے دیکھنے لگا۔

بھا نے مجھے دیکھ کر کہا: “کی ویکھی جانا ایں”۔ میں نے شرمندہ ہو کر کہا: “کچھ نہیں”۔ اس کے بعد کھانا کھایا اور پھر ہم کھیلنے کے لیے ویڑھے میں اکٹھے ہو گئے۔ ہمارا ویڑھا بہت بڑا تھا۔ اصل میں میرے دادا لوگ تین بھائی تھے، تینوں کے گھروں کے درمیان کوئی دیوار نہیں تھی، مطلب کہ ایک ہی صحن تھا، کوئی ایک ایکڑ میں تینوں بھائیوں کے گھر تھے۔ ناہید بھی آ گئی، ہم پھر کھیلنے لگ گئے۔ جب چھپنے کی باری آئی تو میں نے ناہید کو اشارہ کیا، وہ میرے پاس آ کر بولی: “ہن کی گل اے”۔ میں نے کہا: “آپاں دونویں اکٹھے چھپاں گے”۔ وہ بولی: “پراں مر، مینوں سب پتا اے، تو کیوں میرے نال چھپن دی گل کرنا پیا ایں”۔ میں نے کہا: “کی مطلب؟”۔ “تو وی آودے بھرا طراں کریں گا میرے نال جیویں او عاصمی باجی نوں۔۔۔۔” یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا اور جانے لگی۔ میں نے اسے کھینچا اور ایک طرف چل پڑا کیونکہ سب چھپ گئے تھے صرف ہم دو ہی رہ گئے تھے۔ جلدی جلدی ہم گھر کی بیک سائیڈ پر گئے جہاں بھینسوں کا باڑہ تھا اور اس سے پہلے چھوٹی دیوار جس کے ساتھ گندم رکھنے کے لیے بڑولے یعنی دیسی گودام بنے ہوئے تھے۔ ہم وہاں پہنچے تو ناہید نے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور بولی: “دور جا کر چھپ، میرے نیڑے نہ آئیں”۔ میں شرمندہ سا ہو گیا۔ اصل میں میرا ارادہ اس کی نرم ملائم گانڈ کے ساتھ کھیلنے کا تھا۔ دن میں جب میں نے اس کی گانڈ میں اپنی للی رگڑی تھی تو بہت مزہ آیا تھا۔ اب بھی یہی ارادہ تھا لیکن اس سالی کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ دور دور ہو گئی۔ میں پھر بھی اس کے قریب ہوا، اسی وقت جس بچے پر باری تھی اس کی آواز قریب سے آئی تو ناہید جلدی سے میرے پاس ہی آ گئی اور میرے آگے کھڑی ہو کر جھک کر سامنے دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ چونکہ گاؤں میں بجلی نہیں ہوتی تھی، چاند کی روشنی ہوتی تھی یا دیوا یا لالٹین سے روشنی کرتے تھے۔ چاند کی روشنی میں، میں نے اس کی بنڈ کے ابھار کو دیکھا تو میری للی ایک بار پھر کھڑی ہو گئی اور میں نے اس کی گانڈ کی پھاڑیوں کو پکڑ لیا۔ افففففففففف کیا مزہ آیا! اتنی نرم بنڈ کہ میرا دل کیا اس بنڈ کو چوم لوں، لیکن میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ ناہید کی گانڈ کو چوم لوں، اچانک اس نے گھوم کے میری طرف دیکھا اور بولی: “پچھاں ہو کے کھڑ”۔ میں شرمندہ ہو گیا۔ میں بھی کہاں اپنے ارادے سے باز آنے والا تھا، چاہے چھوٹی عمر تھی پر دل تو تھا نہ۔ ایک سین نے میرے اندر ہلچل مچا رکھی تھی۔ میرا بھی بھا کی طرح زور زور سے گھسے مارنے کا دل کر رہا تھا۔ اور تو کچھ ہو نہیں سکتا تھا کیونکہ ناہید کو شک ہو گیا تھا یا کوئی اور بات تھی جو اس نے مجھے لتاڑ دیا۔ اچانک میرے اندر کے شیطان نے مجھے اکسایا “بلو پت کجھ کر، یہ بہت اچھا موقع ہے”۔ میں نے آہستہ آواز میں ناہید کو بلایا جو جھک کر آگے دیکھ رہی تھی کہ اپنی باری دینے والا میرا کزن بالو ادھر تو نہیں آ رہا۔ دوستو، بالو میرے چاچے کا بیٹا ہے، عمر میں مجھ سے کوئی 2 سال بڑا لیکن جسامت میں 4 گنا تھا۔

ناہید نے میری بات کا جواب نہ دیا، ایسا شو کرایا جیسے اس نے سنا ہی نہ ہو۔ میں نے ایک بار پھر آہستہ سے پکارا: “نہیدی گل سن”۔ اس نے پھر جواب نہ دیا تو میں نے آگے بڑھ کر اس کی پتلی کمر کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ کیا بتاؤں کیسا احساس تھا، ایسا لگا جیسے میں نے کسی روئی کو چھو لیا ہو، اتنی نرم و ملائم کمر کہ لگا جیسے پانی میں ہاتھ ڈال لیا، نیم گرم پانی جس میں شیمپو کی ملاوٹ ہو۔ میرے ہاتھ پھسل رہے تھے۔ دل کیا کہ یہ وقت یہاں ہی رک جائے۔ یہ بس کچھ لمحات کے لیے تھا۔ اس چڑیل نے غصے سے میری طرف دیکھ کر کہا: “کی اے تینوں؟ بندہ بن کے کھڑ جا”۔ میں نے بھی فوری جواب دیا: “میں کی کیتا؟ تینوں کنیاں آوازاں دتیاں تو سنیا ای نہیں”۔ تو اس نے کہا: “بول کی گل اے”۔ میں نے اپنا منہ اس کے کان کے پاس کیا اور سرگوشی میں بولا: “آپاں وہ اوہ کھیڈ کھیڈیے”۔ تو اس نے جواب دیا: “کونسی؟”۔ میں نے جلدی سے کہا: “وہی جو بھا اور عاصمہ کھیل رہے تھے”۔ اس نے غصے سے مجھے دیکھا اور مجھے دھکا دے کر چلی گئی۔ جیسے ہی وہ باہر گئی، بالو نے اس کو ہاتھ لگایا اور ناہید کی باری آ گئی۔ سب باہر نکل آئے، اسی وقت میری دشمن چھنو بھی مٹکتی ہوئی آ پہنچی، اس نے بھی کھیل میں حصہ لینا ہے۔ بولی: “اب مان گئے ناہید کو”۔ ہم نے کہا کہ “جاؤ اس دروازے کو ہاتھ لگا کر آؤ”۔ دوستو بتاتا چلوں کہ ہمارے دادا لوگ 3 بھائی تھے، گھر الگ الگ تھے، درمیان میں کوئی دیوار نہیں تھی، لیکن دروازے الگ الگ تھے یعنی کہ اگر ایک طرف سے میں داخل ہوں تو دوسری طرف ایک ایکڑ پر تیسرا دروازہ تھا۔ ہمارا گھر پہلے، اس کے بعد میرے دادا کے دوسرے دونوں بھائیوں کا گھر تھا۔ ہم نے ناہید کو تیسرے دروازے کو ہاتھ لگانے کو کہا۔ ہم سب چھپنے کے لیے بھاگ کھڑے ہوئے۔ سب نے اپنی مرضی کی جگہ پسند کی۔ میں اپنے گھر کی بیک سائیڈ پر گیا جدھر بھینسوں کا بڑا سا کمرہ تھا جو کہ گرمیوں میں رات کو خالی ہوتا تھا، دن میں بھینسیں باندھی جاتی تھیں۔ میں اس میں گھس گیا کیونکہ وہاں اندھیرا تھا، کوئی نہیں آتا تھا اس طرف۔ ابھی مجھے چھپے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ مجھے کسی کی سانسوں کی آواز اپنے بہت قریب سے سنائی دی۔ میری تو بنڈ بند ہو گئی، ڈر کے مارے میں بالکل سہم گیا۔ اندھیرے کی وجہ سے دکھائی تو کچھ نہیں دے رہا تھا۔ کچھ دیر بعد جب آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو میں نے آواز کی سمت ڈرتے ڈرتے دیکھا تو مجھے چھنو دکھائی دی۔ وہ بھی میری طرف دیکھ رہی تھی، پھر آہستہ سے چلتی ہوئی میرے قریب آئی اور بولی: “دن نوں اوہدے نال کماد اچ کی کرن گیا سی؟”۔ میں نے کہا: “کچھ نہیں، سب کھیل رہے تھے، ہم سب بھی چھپ گئے تھے”۔ اس نے عجیب حرکت کی، آگے بڑھ کر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی ٹانگوں کے بیچ لگایا۔ مجھے عجیب سا لگا پر مزہ بھی بہت آیا۔ جلدی سے ہاتھ ہٹایا اور اس سے کہا: “آ کی کردی پئی ایں؟”۔ وہ بولی: “میں تینوں پیار کردی آں، آ جا آپاں پیار کریے”۔ اس عمر میں پیار کا مجھے کچھ پتہ نہیں تھا کہ پیار کیا ہوتا ہے۔ میں نے پوچھا: “کیسے کرتے ہیں پیار؟”۔ وہ بولی: “جا اوے کھوتیا، تینوں آ وی نئیں پتا”۔ میں نے اپنی منڈی ہلائی “نہیں۔” اس نے آگے بڑھ کر میری گال چوم لی اور بولی: “ایسے”۔ میں نے بھی ہمت کر کے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی گال پہ چمی لے لی اور کہا: “بس؟”۔ وہ بولی: “بس کی؟ انج نہیں”۔ اس نے مجھے اپنے ساتھ لگایا اور کس کے جپھی ڈال لی۔ میں اس معاملے میں جاہل تھا، چپ کر کے کھڑا رہا تو اس نے میرے ہاتھ پکڑ کر اپنی کمر پر لگا لیے۔ جیسے ہی میرے ہاتھ اس کی کمر پر گئے مجھے ناہید کی کمر یاد آ گئی۔ جب کمر یاد آئی تو اس کی پولی پولی بنڈ بھی یاد آئی، اس کی بنڈ کی دراڑ بھی جس میں میری للی پھنس گئی تھی اور میں نے گھسے بھی لگائے تھے۔ جب بھا عاصمہ کو کماد میں اندھا دھند چود رہا تھا۔ یہ سوچ آتے ہی میری للی میں ہلچل ہوئی اور للی کھڑی ہو گئی اور چھنو کی ٹانگوں میں گھس گئی۔ لیکن مجھے کوئی تجربہ نہیں تھا، میں نے ایک بار پھر سے اس کے گال چومے۔ اس نے بھی۔ میں نے اپنے ہاتھ آہستہ سے نیچے سرکائے اور اس کی بنڈ کے ابھار جہاں سے شروع ہوتے تھے، جس کو پنجابی میں چھوٹی ڈھوئی کہتے ہیں، وہاں تک لے آیا اور ایک بار پھر اس کی چمی لی۔ اس نے بھی چمیاں لینی شروع کر دیں، اسی دوران میرے ہاتھ اس کی گانڈ تک پہنچ گئے۔ جیسے ہی میرے ہاتھ اس کی گانڈ تک پہنچے، اس کی گانڈ میں ارتعاش پیدا ہوا کیونکہ دونوں ہاتھ نیچے لا رہا تھا جن کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسی ہوئی تھیں، اس وجہ سے اس کی گانڈ کی دراڑ میں میرے انگوٹھے لگے۔ کیا مست گانڈ تھی یاروں، جیسے کھیر ملائی ہوتی ہے، اف گرم گرم اور نرم نرم دودھ کی ملائی جو جم جاتی ہے جس کو کھانے میں بہت مزہ آتا ہے۔ میں بھی اسی مزے میں کھو گیا اور مجھے پتہ ہی نہ چلا کب میں نے اس کو گھمایا اور پیچھے سے اس کو جپھی ڈال لی۔ وہ بھی چپ کر کے کھڑی رہی۔ میں کچھ دیر رکا رہا تو اس نے گانڈ سے میری للی کو گھسا لگایا تو میں بھی شروع ہو گیا، لہر گھسے پہ گھسا، دہی گھسا۔ مزے میں کھو گیا اور جب میں نے اپنے ہاتھ آگے لے جا کر اس کے سینے پہ لگائے تو میرے ہاتھ میں دو چھوٹی چھوٹی گیندیں آئیں۔ میں جلدی سے بولا: “آ گینداں کس کی ہیں؟”۔ وہ بولی: “بدھوں، آ گینداں نیں؟ ایناں نوں ممے اکھدے نے”۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آئی، پھر بھی کہا: “اچھا”۔ اور اپنا کام جاری رکھا گھسے لگاتا ہوا، وہ بولی: “جلدی کر”۔ میں بولا: “کری تاں جاناں، پر تینوں آ کیویں پتا کہ پیار انج کری دا اے؟”۔ لیکن وہ تو کہیں اور پہنچی ہوئی تھی، اس کی سسکاریاں نکلنے لگ گئیں۔ مجھے یکدم عاصمہ یاد آ گئی، وہ بھی ایسے ہی آہیں بھر رہی تھی۔ چھنو نے اپنے ہاتھ پیچھے کر کے میری گردن میں ڈال کر مجھے زور سے اپنی طرف کھینچا، میرا منہ اس کی گردن پر جا لگا لیکن میں رکا نہیں، لگا رہا۔ اسے شاید مزہ آ رہا تھا، مزہ تو مجھے بھی آ رہا تھا لیکن کیونکہ اس کی عمر ہم سے زیادہ تھی، کوئی 13 14 سال کی ہو گی، ہم تو ابھی بچے تھے اس لیے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ بس یہ اندازہ ہوا، وہ بھی عاصمہ کو چدتے دیکھ کر، کہ یہ تب ہوتا ہے جب زور زور سے گھسے لگائے جائیں۔ میں نے اپنی سپیڈ تیز کر دی، اس کی سسکاریاں بھی بڑھ گئیں۔ یکدم وہ اکڑ گئی اور اپنی بنڈ زور سے میری للی کے ساتھ لگا لی۔ میرے چوتڑوں پر ہاتھ رکھ کر مجھے اپنی طرف دھکیلا اور کس لیا۔ مجھے چونکہ پتہ نہیں تھا کہ یہ سب کیا ہے اس لیے پریشان ہوا۔ اوپر سے سالی نے اتنی زور سے میرے چوتڑ پکڑے ہوئے تھے کہ اس کے ناخن چبھ رہے تھے، لیکن میری للی اس کی گانڈ کی دراڑ میں تھی جس کا مجھے مزہ آ رہا تھا۔ اسی دوران اس نے مجھے چھوڑا اور گھوم کر مجھے اپنی باہوں میں بھر لیا اور اندھا دھند میرا منہ چومنے لگ گئی اور ایک منٹ بعد باہر سب بچوں کا شور ہوا، ججی پکڑا گیا جو کہ میری پھپھو کا بیٹا ہے۔ اس کے بعد کوئی خاص سین نہ ہوا، سب کھیل کر اور کچھ اپنی ماؤں کی گالیاں سن کر اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ میں بھی اپنی چارپائی پر لیٹ گیا اور سونے لگا لیکن مجھے کہاں نیند آنے والی تھی۔ پاسے بدلتا رہا اور آج کے واقعات کے بارے میں سوچتا رہا۔ کافی ٹائم گزر گیا، شاید آدھی رات سے اوپر ٹائم ہو گا۔ مجھے پیشاب کی حاجت ہوئی تو میں پیشاب کرنے کی نیت سے اٹھا اور واشروم کی طرف چل پڑا جو کہ تینوں گھروں میں مشترکہ تھا اور ایک کونے میں تھا۔ اس میں نہانے والا، جس کو غسل خانہ کہتے تھے الگ اور لیٹرین الگ تھی۔ اس کے قریب ہی نلکہ لگا تھا۔ میں نے لیٹرین جانے کی زحمت نہیں کی، نلکے سے تھوڑا آگے ہو کر جہاں نالی بنی تھی جس سے پانی باہر جاتا تھا گھر کے سامنے بہنے والے کھالے میں، میں پیشاب ہی کر رہا تھا کہ میرے کانوں میں آوازیں آئیں: “ہولی کر، آہ آہ آہ آہ آہ اوئیییئیجججج اوئی امااااااااااا آہہہہاہاکااکاہاکااکااکک کچھ خیال کر، ہولیں کر”۔ میں نے آواز کی سمت کا اندازہ لگایا اور بلی کی چال چلتے ہوئے بڑھنے لگا۔ نلکے کے پاس میرے درمیانے دادا یعنی کہ دادا کے بھائی نے بیٹھک بنائی ہوئی تھی، اس طرف سے آوازیں آ رہی تھیں۔ وہاں عام طور پر رات کے وقت کوئی نہیں ہوتا تھا، سب گھر میں سوتے تھے اپنے اپنے ویہڑے میں۔ میں ہولی ہولی چلتا ہوا آگے بڑھا اور چھپ کر بیٹھک کے ساتھ ہی گیراج تھا جہاں ٹریکٹر کھڑا ہوتا تھا۔ بیٹھک اور گیراج کے درمیان ایک چھوٹا سا روشندان تھا جس میں رات کے وقت دیوا یا لالٹین رکھتے تھے، اس وقت وہاں کچھ نہیں تھا۔ میں وہاں گیا اور اندر کا سین دیکھنے کی کوشش کی جس میں کامیاب بھی ہوا۔

میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرا بھا بوٹا پھر سے کسی کو چود رہا تھا۔ اس بار اس کی ایک ٹانگ اوپر تھی اور بھا اس کی پھدی میں لن کا پمپ ایکشن چلا رہا تھا۔ عجیب ماحول تھا، دونوں الف ننگے تھے۔ بھا کی سپیڈ تیز تھی۔ بھا گھسے مارنے کے ساتھ ساتھ آگے کو جھکتا اور مموں کو چومتا۔ اس لڑکی کی آوازیں کبھی کم کبھی تیز آ رہی تھیں: “اااووووووہہہہہہہہہہ ہہییییاااااہہہہہہااااا اوئی ماںںںںں آرام ناک نہیں ہندا تیرے توں”۔ جیسے ہی میں نے یہ آواز سنی تو میں حیران رہ گیا کہ یہ تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نجاں لوہاری ہے جو کہ گاؤں کی دوسری نکر پر رہتی تھی اور اکثر ہم اس کے گھر جاتے تھے کبھی کچھ بنوانے کبھی کچھ۔ میری للی فل سخت ہو چکی تھی۔ بھا نے اس کی دونوں ٹانگوں کو اس کے مموں کے ساتھ لگا لیا جس سے اس کی گانڈ مجھے نظر آئی۔ ایک لمحے کے لیے یہ گانڈ دیکھ کر میرا ہاتھ للی پر چلا گیا اور میں نے للی مسلنی شروع کر دی۔ ادھر بھا نے اپنا گھوڑا نجاں کی پھدی میں دوڑانا شروع کر دیا۔ بھا کی آواز بھی آتی: “چپ کر سالیے، کوئی آ گیا تاں اوہنے وی تیری مارنی اے”۔ پر اس کی آوازوں میں کوئی کمی نہیں آ رہی تھی، وہ مسلسل سسک رہی تھی: “آااااآااااااآمممممییییجئئی اہ اہاہاہاہ آہہہآہہہآہہہہہ”۔ بھا نے ایک دم اس کو گھمایا اور گھوڑی بنا لیا۔ اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی، پیچھے سے اپنا لن اس کی پھدی میں گھسا دیا۔ اس کی ایک دم آواز نکلی: “ہائے میں مر گئی، مار دتا ای اوئے ظالماں، آاااااہہہہہہککککککککہی کھوانا ایں ایس نوں”۔ بھا بولا: “پھدیاں کھواناں۔” میں نے ابھی تک نجاں کی صرف آواز سنی تھی، اس کو دیکھا نہیں تھا۔ کوئی تین منٹ بھا اس کو ایسے چدتا رہا، پھر بھا نے اس کی گردن پر ہاتھ رکھا اور پیچھے کھینچا۔ اب سین یہ تھا کہ گانڈ اس کی بھا کے ساتھ لگی اور ممے اس کے اوپر کو اٹھے ہوئے تھے۔ دونوں کے منہ میری مخالف سمت تھے۔ بھا نے ایک ہاتھ اس کی گردن میں اور دوسرا ہاتھ اس کے مموں پر رکھ دیا۔ اسی دوران نجاں کی آواز میں شدت آ گئی: “پھاڑ، پھاڑ دے میری سارا اندر، دے اندر زور نال، یو زور نال کر آہہہہہہہںہہہہہہتتتتتت مزہ آ رہیا اے ااااااااآہہہہہااااہتہہہہہہہہہہہہ کر کر کر ککککککررررررررررررر زور نال کر”۔ اس کے ساتھ ہی شاید وہ فارغ ہو گئی تھی، مجھے فارغ ہونے کا بعد میں پتہ چلا تھا کہ اس کو فارغ ہونا کہتے ہیں۔ کچھ دیر بھا رکا رہا، پھر اس کو سیدھا کرنے لگا تو اس نے بھا کو گرایا اور اوپر آ گئی۔ جب وہ اوپر آئی تو میری سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی، جب اس کے مموں پر میری نظر پڑی۔ دوستوں، میں تو عاصمہ کے ممے دیکھ کر حیران ہو گیا تھا لیکن یہ دیکھنے کے بعد تو میری آنکھیں باہر کو آنے لگیں۔ میرا دل کیا ان سے دودھ پی لوں ابھی۔

40 سائز کے ممے شانِ بے نیازی سے اس کے سینے میں اپنی سپنی چوکی پر براجمان تھے۔ میں تو نجاں کے ممے دیکھنے میں مگن تھا کہ نیچے سے بھا نے ایک زوردار جھٹکا مارا تو اس کی ان فوم جیسی پہاڑیوں میں جیسے طوفان آ گیا، وہ دائیں بائیں ایسے بھاگنے لگیں جیسے کسی ہرن کو اگر رسی سے باندھ دیا جائے تو وہ اچھلتا ہے۔ میری تو یہ سین دیکھ کر سانس اٹک گئی۔ ادھر بھا کو روک کر نجاں خود آرام آرام سے اوپر نیچے ہونے لگ گئی، ساتھ ساتھ اپنے ممے بھی مسلنے لگی تو بھا نے اس کو اپنے اوپر گرا لیا اور اس کے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ یہ میرے لیے اک نئی چیز تھی۔ میں ان کی چودائی دیکھنے میں مست اپنی للی کو مسل رہا تھا۔ ادھر بھا۔۔۔

نجاں کی پھدی میں نیچے سے ٹھوکنا شروع کر چکا تھا۔ کمرے میں پچک پچک کی آواز گونج رہی تھی۔ 5 منٹ بعد بھا اٹھا اور نجاں کو اٹھا کر کھڑا کیا اور دیوار کے ساتھ اس کی کمر لگا دی، ساتھ اس کی ایک ٹانگ اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لی۔ “ماررررررررر ڈالا ای وے آآاااااااآآآاااااااااائئئئئیییییی” یکدم نجاں کی آواز آئی۔ میں تو اس کی پھدی کے درشن کرنے میں ڈوبا تھا، مجھے تب پتہ چلا جب بھا نے ایک ہی جھٹکے سے پورا 8 انچ لمبا 3 انچ موٹا لوڑا اس کی رس بھری رسیلی، اب چودائی سے بھری، پھولی ہوئی پھدی میں گھسا دیا۔ اس کی چیخ اتنی اونچی تھی کہ شاید اندر ویڑے تک بھی گئی تھی، اس لیے ایک آواز آئی۔۔۔۔۔۔۔



Source link

Leave a Comment