گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 5)

ادھر آوازیں قریب آتی جا رہی تھیں دوسری طرف میری بنڈ نے بھی کانپنا شروع کر دیا تھا۔پسینے سے میری بری حاکت ہو چکی تھی مجھے اپنی سانس سے چھی ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں باہر سنائی نہ دے جائے ۔صورتحال ہی کچھ ایسی تھی کہ اگر میں وہاں پکڑا جاتا تو خاندان میں جھگڑا شروع ہو جاتا اور چھنو کا باپ تو تھا بھی ایک نمبر کا حرامی ہر ایک کے ساتھ اس نت پنگا لیا ہوا تھا یہ سوچ کر تو میری حالت اور ہتلی ہوتی جا رہی تھی ۔

میں جتنی دعائیں مانگ سکتا تھا مانگ رہا تھا آوازیں قریب آ گئیں لیکن کمرے میں

کوئی نہ آیا چھنو کا کوئی اتا پتہ نہ تھا باہر آنے والی آوازوں میں چھنو کی امی اور بہن کی آوزیں شامل تھیں چھنو کی امی نے پانی مانگا کچھ دیر کی خاموشی کے بعد پھر آواز آئی پٹھے لا لے ہن تو میں ڈوھی سدھی کر لواں میرے لئیے ایک ایک منٹ قیامت بن کر گزر رہا تھا میں تو آنے والے وقت کو یاد کر کے پچھتا رہا تھا کہ اب میرے ساتھ یہ کیا کرے گی اتنی دیر میں باہر پھر آوزیں آئیں خاکہ تینوں امی بلاندی پئی اے پہلے وی میں آئی سی دو واری تو نیں ملی کوئی بڑا ضروری کم اے تو میرے نال چل ۔

یہ آوز میرے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھی جس کی بھی آواز تھی مجھے امید کی کرن دکھائی دینے لگی پھر چھنو کی امی بولی خیر تاں اے انا کی ضروری کم اے ۔ چل پتر میں فیر آ کے آرام کر لاں گی نی چھنو تسی دونویں رل کے پثھے لاہ لو میں کنیز دی امی دی گل سن کے آئی ۔

کنیز میرے لیے نیا نام تھا تھی ہمارے گاوں کی لیکن کیوں کہ میں کافی سالوں سے شہر چلا گیا تھا اپنی فیملی کے ساتھ تو اس لیے زیادہ لوگوں کو جانتا نیں تھا ادھر جوتے پہننے اور کسی کے دور جاتے قدموں کی آواز آئی تو اسی وقت کسی کے اندر آنے کے قدموں کی آواز کے ساتھ دو آوازیں آئیں میں امی نوں دساں گی تو جہیڑا کم پھڑیا ہویا اے یہ آواز چھنو کی چھوٹی بہن کی تھی کیوں کہ اس کہانی میں اس کا کوئی اتنا کردار نہیں ہے اس لیے اس کے تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔چھنو نے بھی جواب دیا جا دس دینا جس کو دسنا ہے۔

اور وہ اندر میرے پاس آ کر بولی آ جا باہر میں کانپتا ہانپتا ڈرتا سہما سا باہر نکلا چھنو نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگایا اور بولی ادھورا کم پورا کر لیں امی اب چھیتی نہیں آتی ۔

میری تو ڈر سے بند نے بھی پانی بہانا شروع کر دیا تھا تو لن صاحب تو سمجھو مردہ ہو چکے تھے دوسرا ڈر کے مارے میری حالت بہت خراب تھی اور میں یہ بھی جان گیا تھا کہ چھنو کی بہن ابھی گھر ہے اور اس نے دھمکی دی ہے کہ وہ امی کو بتا دے گی۔ اس کیے میں نے چھنو کو پیچھت دھکیلا اور بولا مجھے جانے دو ابھی پھیر کر لیں گے ۔ اس نے پھر مجھے پکڑا اور میرے لبوں پر اپنے لب رکھ دیے میرے اوں آں کرنے کی اس نے کوئی پرواہ نہ کی اپنی تسلی کی ایک لمبی کس کرکے اور مجھے کہا آ جاو میں باہر نکلا تو اس کی چھوٹی بہن باہر مین گیٹ کے پاس کھڑی تھی اس نے مجھے غور کر دیکھا میر ی ہوا پھر ٹائیٹ ہو گئی۔

اس ہاتھ سے اشارہ کر کے مجھے روکا ایک منٹ اور پھر باہر گلی میں جھانکا پھر آہستہ آواز میں بولی جلدی نکل جا تے فیر نہ دسیں ایتھے ایہنے تینوں مروا دینا ای یہ گندی رن ہے۔

میں سمجھی نہ سمجھی نہ سمجھی کی حالت میں نکل گیا اور جا کر اپنی بیٹھک میں بیٹھ گیا۔

دوپہر تک بس یہ ہی سوچتا رہا کہ ابھی کوئی میری شکایت کے کر آئے گا اور مجھے گھر سے خوب چھتر پڑیں گے۔

اسی طرح دوپہر ڈھلی تو باقی کزن بھی آ گئی کیوں کہ دوپہر میں اکثر ہم بیٹھک میں کھیلتے تھے اور کئی دفعہ بھونڈ (بھنورے)مارنے کا مقابلہ ہوا کرتا تھا ۔جو لوگ گاؤں میں رہتے رہے ہیں وہ جانتے ہوں کہ بھونڈ بھی اپنا چھتا بناتے ہیں اکثر بچے اپنی جوتیوں کی مدد سے ان کو گراتے ہیں اور اور خوب شور بھی مچاتے ہیں بعض دفعہ بھونڈ بھی اپنا گھر تباہ ہونے کا بدلہ لیتے ہیں ۔اور کاٹ لیتے ہیں جس سے کافی پینڈوں لوگوں کے گالوں پر کاٹنے کا نشان ملتا ہے۔ ایسا نشان کچھ لوگوں کے چہرے کو خوبصورت بھی بنا دیتا تھا ۔

ہم میں سے بھی میرے سمیت 3 کزنوں کو بھنڈ کاٹ چکے تھے اور کافی بڑا نشاں تھا ۔

جب سب آ گئے تو میں نے فیض عرف فجے کو سائیڈ پر لے جا کر پوچھا کوئی شکایت تو نہیں آئی میری گھر اس نے مشکوک نظروں سے مجھے دیکھا کیسی شکایت کیا کر دیا ہے تو نے مجھے سچ سچ بتا پھر میں سندک لے کر آتا ہوں ۔

میرے پاس کوئی اور آپشن نہیں تھا میں نے الف سے لے کر ے تک سب بات من وعن اس کو بتا دی تو وہ بولا اس پر بعد میں بات کرتے ہیں پہلے میں دیکھ کر آتا ہوں کوئی مسئلہ تو نہیں بنا ۔

وہ گیا جب تک وہ واپس نہ میری جان سولی پر لٹکی رہی وہ آیا اور بولا کوئی بات بھی نہیں ہوئی ماما تو ایویں ای پریشان ہو رہا ہے ۔اب مجھے پوری تفصیل بتا کہ یہ سب ہوا کیسے تو اس کے چکر میں کیسے آ گیا ۔

میں نے کہا بس یا ر میری قسمت ماڑی تھی جو اس کی باتوں میں آگیا چلو شکر ہے بچ گیا۔

اسنے کہا وہ بہت چالو ہے اس کے کئی لڑکوں سے چکر ہیں بچ کے رہیں اس سے یہ نہ ہو کہ پھر تیرا بھی کوئی مسئلہ بن جائے میں نے توبہ کی کہ اب اس کے ہاس نہیں جانا۔

اس بعد کوئی خاص نہ ہوا دو دن میں گھر سے باہر ہی نہ نکلا گھر سے بیٹھک تک ہی محدودہوگیا سب مل کر کھیلتے اور شام کو سو جاتا۔

تیسرے دن دوپہر کا ٹائم تھا فجا میرے پاس آیا اور بولا اجا بیر کھان چلئیے میرا بھی دو دن میں ڈر ختم ہو گیا تھا میں بھی اس کے ساتھ چل پڑا گرمیوں کے دن تھے اور دوپہر کا وقت ہر کوئی دوپہر میں آرام کرتا تھا۔ ہم دونوں ہی چپ کر کے باہر نکلے اور گاوں سے کوئی دو ایکڑ دور چھنو لوگوں کی زمیں میں ایک بیری تھی جس کے بیر بہت میٹھے تھے ادھر چل پڑے ہم باتیں کرتے جب قریب پہنچنے لگے تو فجا بولا میری گل سن مینوں ناہید نے کہیا سی بلو نوں لے آئیں تے میں تینوں تا لے کر آیا ہوں۔ ہن اوتھے ناہید تے اوہدے نال شازیہ ہونی اے تو ناہید نوں کم پائیں تے میں شازیہ نوں پہلے تو میں ڈر گیا پیچھے جانے لگا تو وہ بولا ڈر نہ یار ادھر کوئی نہیں آتا آپاں مزے کراں گے تو وی مزے کریں ناہید تینوں ہیار کر دی اے مینوں شازی نی دسیا اے اس باتوں سے مجھے حوصلہ ہوا لیکن میں اس کی پرانی باتیں بھولا نہیں تھا

خیر ہم جب وہاں پہنچے تو وہ دونوں پہلے ہی وہاں موجود تھیں۔ شازی اٹھ کر ایک سائیڈ پر تھوڑا دور جا کر ایک اور درخت کے نیچے بیٹھ گئی دوستو وہاں گندم کی فصل تھی جو اتنی اونچی نہیں ہوتی ابھی مکئی کا اتنا رجحان نہیں تھا ۔ خیر وہ جگہ بیٹھ گئیے جس سے ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے میں بھی چپ کر کے ایک سائیڈ پر بیٹھ گیا تو ناہید نے پہل کی اور بولی ہن شہری ہو گیا سانوں کتھے یاد کردا ہویں گا تینوں تا بس چھنو ای یاد رہی جہیڑا آندا ای اوہدے پچھے لگ گیا۔ میں حیراں ہوا اس کو کس نے بتا دیا ۔ لیکن ہم بھی جھوٹ بولنے میں ماہر ہو چکے تھے میں بولا ایویں ای تینوں بھلا بھل سکدا آں میں تجھے تو کب سے میں پیار کرنا چاہتا ہوں تو ہی مانی تھی وہ بولی اب تو چھنو سے پیارکرنا ۔ میں بھی جلدی سے بولا کی بولی جانی ایں ۔ تو وہ بولی مینوں چھنو دی بہن نے دسیا اے تو چھنو نوں پیار کرنا اے میں نے کہا کون اوہ رابی توبہ توبہ کنی جھوٹی اے میں تاں اوہنا دے کھر گیا تھا امی نے بھیجیا سی بس اوہنے مینوں چھنوں کول کھڑے ویکھ لیا تے تینوں نمک مرچ لگا کربتا دیا ۔

ناہید میں صرف تینو ں پیار کرتا ہوں وہ بولی سچی میں نے اس کی طرف منہ کر کے کہا تیری قسم وہ شوخی سی بولی کتنا میں نے اتنی دور سے کیسے بتاوں ادھر آ میرے پاس وہ تھوڑی اٹھی اور کوڈی ہو کر میری طرف آنے لگی تو دوستوں ایک لمحے کے لیے اس کی گانڈ کا ابھار نظر آیا تو مجھے اس کی بنڈ کی نرمی یا آگئی ساتھ کی اس کی گانڈ میں اپنی للی ڈالنے کی کوشش بھی اور اس کا غصہ بھی لیکن میں نے سوچا آج اس کی گانڈ ہی ماروں گا دوستو کیونکہ شہر کے کئی دوستوں کے ساتھ مل بلیو فلموں میں گانڈ مارتے بھی دیکھا تھا اس لیے میرا دل بھی کیا اس بھی مست گانڈ دیکھ کر ۔ وہ میرے پاس کر میرے کندھے اے کندھا ملا کر بیٹھ گئی ۔ مجھے ایسا لگا جیسے روئی نے میرے کندھے کو چھوا ہو میرے کندھے پر نرم گرم مخملی کندھا لگنے کی دیر تھی میرا لن جو پہلے ہی اوازار تھا کھڑا ہو گیا میں نے ایک ہاتھ اس کی کمر سے گزار کر دوسرا کنھا تھام لیا اس کے جسم ہلکی سی ہلچل ہوئی اور وہ میرے ساتھ مزید چپک گئی۔ اور اپنا سر میرے کندھے پر رکھ کر بولی بلو مینوں چھڈ تا نیں دیں گا میں تینوں بہت پیار کروں گی۔

میں نے کہا تمہیں یقین نیں بولی خود نالوں وی زیادہ یقین ہے تیرے پر لیکن مینوں ڈت لگتا ہے۔ کہ تو چھوڑ نہ دیویں مینوں میں نے اس کا چہرہ اپنی طرف گھمایا تو میں بس دیکھتا ہی رہ اتنے سالوں بعد دیکھا مجھے تو یہ وہ ناہید لگ ہی نیں رہی تھی گورا سفید رنگ تیکھے نین نقش پھول کی پنکھڑیوں جیسے گلابی ہونٹ جیسے ابھی ان سے عرق گلاب ?? نکل رہا ہوں میں دم بخود اس کے حسن میں کھویا اس کی خوبصورتی کو اپنی آنکھوں کے کیمرے میں قید کرنے میں لگا ہوا تھا اور میرے ہاتھوں نے گستاخی کرنی شروع کر دی ۔

اس کے بھرے بھرے لاجواب خوبصورتی کے مالک میری دھڑکن رکنے کا سبب بنتے اس کے سیب جیسے گال چھوئے پھر ہاتھ

پھسلتے ہوئے اس کے شبنمی رسیلے ہونٹوں پر آ گئیے اور ان پر پھرتے ہوئے اپنی قسمت پر رشک کرتے ہوئے میرے ہونٹوں کا مزاق اڑایا مجھ سے مزید برداشت نہ ہوا بے اختیا ر اس کی ٹھوڑی کو پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا تو اس نے اپنی نشیلی آنکھوں کے پردے کی جھالروں کو اٹھایا اور ایک ادائے قاتلانہ مجھ پر ڈالی اور پھر اپنی آنکھوں کے سلکی پردوں کو گرا کر مجھے دعوت طعام دی کہ آو اور ان کو چوم کر امر ہو جاؤ میں نے بھے کانپتے ہو ئے اپنے لبوں کو مزید ترسانے سے بچانے کے لیے اس کی بند گہری آنکھوں کی چادر کو چومنے کے لیے آگے بڑھا دیا اور کی آنکھوں چلمن کھل گئے تو میں نے بے بسیانہ نگاہ ان پر ڈالی تو اس کے گالوں پر شرمیلا پن جھلکا اور سرخی پھیلا گیا میرے ہونٹ بھی اپنی منزل پر پہنچ گئے ۔

دیونہ وار اس کی بند آنکھوں کو چومنے لگا مجھ ہر ایک جنون سوار ہو گیا اس کے حسن نے مجھے ہوش سے بیگانہ کر دیا۔ آنکھوں کو چومنے کے بعد میرا سفر نیچے کی جانب شروع ہوا۔اس کے دائیں گال کو چوما تو وہ تھر تھرا گئی اور میرے ڈاتھ مزید چپک گئی کیوں کہ وہ اور میں ایک ساتھ بیٹھے تھے اس لیے اس کا چہرہ میں نے اپنی طرف کیا ہوا تھا۔ اور اس نے اپنا اوپر کا جسم میرے ساتھ لگایا ہوا تھا جب کہ اسکی گانڈ میرے دوئیں پٹ کے ساتھ لگ رہی تھی اس کی گانڈ کی نرمی بھی میرے دماغ پر سوار ہو رہی تھی ۔

اس کے گالوں کو خوب چومنے کے بعد میں نے اس کے شربتی رسیلے ہونٹوں پر حملہ کر دیا اس کے ہونٹ جیسے ہے میرے ہونٹوں میں آئے مجھے ایک احساس جاوداں ہوا کہ اب اگر موت بھی جائے تو کوئی دکھ شہد ?? سے میٹھے گلاب ?? سے رسیلے مخمل سے زیادہ نرم دل نے بے اختیار کہا۔

شہد سے میٹھے لب تیرے

گلاب سے رسیلے لب تیرے

چوس لوں ان کا رس سارا

میرے خیالوں چھائے لب تیرے

پنکھڑیوں سے حسین لب تیرے

پی لوں ان کا نشہ سارا

شہد سے میٹھے لب تیرے

گلاب سے رسیلے لب تیرے

بس پھر کیا تھا میں نے اس کے ہونٹوں کا رس پینا شروع کر دیا اور اس کو کھیچ کر اپنی گود میں لٹا لیا وہ ہلکی پہلکی گڑیا کی طرح میری گود لیٹ گئی اس کی گانڈ کے علاوہ اوپر کا سارہ دھڑ میری گود میں تھا میرے ہاتھوں نے بھی ہونٹوں کے ساتھ گستاخیاں کرنے کی ٹھان لی میرا دایاں ہاتھ اس کے بائیں کندھے کو چھوتا ہوا نیچے جانے لگ گیا گیا اور بایاں ہاتھ اس کے سر کے نیچے تھا۔ ہونٹوں کو چومنے کی رفتار شدید تھی اتنی شدید تھی کہ اس کی سسکاریاں نکلنے لگ گئیں۔۔۔

میں نے دیوانہ وار اس کے ہونٹوں پرکاٹنا بھی شروع کر دیا تھا نہ ناہید کو ہوش نہ تھی کہ کیا ہو رہا یے نہ مجھے بس بے پر پر کی کٹی پتنگ کی طرح ایک دوسرے کے ہونٹوں کو چومنے کی دھن سوار تھی بات صرف چومنے تک محدود رہتی تو اور بات تھی ہم تو ایک دوسرے کے لبوں کو کھانے کی دھن میں لگے تھے ایسا دیوانہ پن تھا کہ یہ بھی ہوش نہ رہا کہ ہمارے ہونٹ زخمی ہو چکے ہیں اور ایک دوسرے کے ہونٹ کا خون پی رہے ہیں ۔

جب شہد ?? بھرے ہونٹوں کا ذائقہ بدمزہ ہوا تو میں نے ہونٹ پیچھے ہٹائے تو ناہید نے ایک ادائے کافرانہ سے اپنی سمندر سی نیلی گہری آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا جیسے کہہ رہی ہوا

ابھی تو جام باقی ہے

ابھی تو پیاس بجھانے دو

ابھی اس دل میں ارمان باقی ہیں

ابھی تو نشہ ہو جانے دو

ابھی تو رات باقی ہے

ابھی ان لمحات میں کھو جانےدو

ابھی تو آغاز سرور ہے

ابھی ہونٹوں سے جام پینے دو

اس کی آنکھوں کے نشیلے پن میں کھو کر میں میں اس پر پھر سے جھک گیا اور اپنے دائیں ہاتھ کو آزادانہ اس اپنی مستی کرنے کا اجازت نامہ دے دیا۔

اور ہاتھ اس کے بازو سے رینگتا ہوا اس کے ہاتھ پر آیا اس نے اپنا بایاں ہاتھ اٹھایا اور میرے بائیں گال پر رکھ کر پھیرا میرے پورے وجود میں سرور کی اک لہر دوڑ گئی جیسے پہلے جام سے انسان سرور سے جھٹکا لگتا ہے ویسا جھٹکا لگا اور میرا ہاتھ تیزی سے حرکت میں آیا اس کے پیٹ پر رینگتا گیا ۔

ایک طرف اس کا کومل ہاتھ میرے گال پر دوسری طرف میرا ہاتھ اس کے روئی جیسے نازک پیٹ پر میری حالت بن شراب کے نشئی جیسی ہو گئی میں بے اختیا رمچل کر رہ گیا اور پھر اس کی گردن ہونٹ پیشانی گال ٹھوڑی آنکھیں غرض جو جہاں جہاں ہونٹ پہنچ پاتے چومتا چاٹتا گیا۔





Source link

Leave a Comment