میرا لن چھنو کی پھدی میں اپنے گرم پانی سے چھڑکاو کر رہا تھا۔
چھنو کی پھدی میرے سخت اکڑے ہوئے لن کو اپنی نرم نرم شریانوں سے جکڑے نہلا رہی تھی
ہم مزے میں ڈوبے ایک دوسرے کے اعضائے تناسل کی گرمی سے اپنے جسموں کی آگ بجھاتےجا رہے تھے۔
ابھی گرمی کا زور ٹوٹا ہی تھا کہ باہر سے کسی نےے زور سے دروازہ کھٹکایا۔
چھنو نےجلدی سے اپنی پھدی کو اگے کھینچا اور میرا ہتھیار پھشش کی آواز سے باہر آیا ساتھ ہی اس کی چوت سے پانی کے چھینٹے باہر گرے۔
اور وہ سیدھی ہو کر اپنی شلوار پہنتے ہوئے مجھے بولی جلدی سے چھپ جاو۔
میں حواس باختہ ہو گیا اور سوچنے لگا سالا یہ لن مجھے مروا کر ہی دم لے گا اس کی گرمی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔
چھنو نے دروازے پرجا کر پھر مجھے اشارہ کیا کہ چھپ جاو
میں ایک سائیڈ پر پڑی چارپائی کے نیچے جا کر لیٹ گیا اور چھنو غصے سے بولی کون اے
باہر سے کوئی بولا لیکن آواز مجھ تک نہ پہنچ پائی۔
چھنو نے کہا تو چل میں آوندی پئی آں پھر باہر سے شاید کسی نے کچھ کہا لیکن چھنو نےکہا تینوں سندا نیں میں آندی پئی آں۔
باہر جو کوئی بھی تھا وہ چلا گیا۔ تو چھنو کے قدموں کی آواز آئی میں جلدی سے باہر نکلا تاکہ اس کے سامنے بہادر بن سکوں اور سکون سے چارپائی پر بیٹھ گیا وہ آئی اور مجھے دیکھ کر حیران ہوتے ہوئے واہ بھئی واہ کمال اے
تینوں اج ڈر نیں لگیا۔اوس دن تاں مرن والا ہو گیا سی اج کیویں ۔
میں بولا میں کسے توں نیں ڈردا میرا کی وگاڑ لے گا ۔
وہ بولی اچھا جی انا بہادر ہو گیا اے منڈو لگدا اے شہر دا پانی دلیر کردا اے
میں نے کہا بہادر تو میں پہلے ہی تھا بس تب بچہ تھا۔
تو وہ انکھیں مٹکاتے ہوئے بولی واہ ہن جوان ہوگیا ایں ۔ بلے بھئی بلے۔
میں نے بھی ترکی با ترکی جواب دیا تینوں کی لگدا اے۔۔۔۔؟؟؟
اس نے میرے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا بلوووواا
میں نے اس کی نقل اتارتے ہوئے کہا ہاں چھنوووو
سچی بات بتاوں
میں نے کہا بولو
سچ میں ناں مینوں لگدا ااےےے
میں نے پوچھا کیییاااا
بولی بتا دوں
میں نے کہا ہاں بتا دو
اس نے کہا تو وو ناااں
میں نے نروٹھے پن سے کہا کیا اب بول بھی دو
تو اس نے کہا تم ڈر گئے تھے۔ اور ہاتھ چھوڑ کر پیچھے کو بھاگی ساتھ ہی زور سے ہنسی۔
میں بھی اٹھ کر اس مے پیچھے بھاگا اور اس کو پیچھے سے دبوچ لیا ۔
افففف میں نے جب اس کو پیچھے سے اپنے ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھ کر تھا ما اور اس کی گانڈ سے میرا اگلا حصہ لگا ۔
اس کے پیٹ پر میرے ہاتھ پھسلنے لگ گئے۔
اس کا پیٹ اتنا نرم وملائم تھا کہ ہاتھ ٹک ہی نہیں رہے ۔
اور اس کی گانڈ کی نرمی اس کی سوفٹنیس ایسی کہ جیسے مخمل کا کمبل میرا لن جو ابھی کچھ دیر پہلے کی اپنی اکڑ کھو چکا تھا
اس کی گانڈ کی پھاڑیوں میں مچلنے لگا۔
لن اس موٹی گوشت سے بھری ہوئی پہاڑیوں کی سنسان تنگ وادی میں گھسنے کی کوشش کرنے لگا۔
چھنو نے بھی اپنی دلکش نظارہ پیش کرتی گانڈ کو میرے بے وقت بے موقع مچلتے لن کو اپنی گانڈ کی دراڈ میں کس لیا۔
میرے ہاتھ جو اس کے پیٹ سے نیچے کی طرف پھسل رہے تھے ان میں سے دائیں کی سمت بدلی اور اوپر بے ترتیب انداز سے ہلتے اچھلتے مموں کی طرف محو سفر کر دیا۔
جب کہ بایاں ہاتھ نیچے اس کی ٹانگوں میں چھپی آگ کی انگیٹھی کی طرف رینگتا ہوا گیا۔
اس سے پہلے کہ اوپر والا اور نیچے والا اپنی منزل مقصود تک پہنچ پاتے۔
چھنو تیزی سے مجھ سے الگ ہوئی اور بولی میرے سوہنے تو انج کر او باہر والا کھیت ہے نہ جہاں بیر کھانے جاتے تھے وہاں میں دوپہر نوں آوں گی۔
میں نے اس کی بات کو دماغ پر زور دے کر کچھ سمجھی اور نہ سمجھی کا اظہار سر ہلا کر دیا ۔
تو وہ جلدی سے نکل گئی اور مجھے کہ گئی 5منٹ بعد چپ کر کے نکل جائیں دروازہ کھلا ای رہنے دینا۔
میں نے کہا اچھا پر بات تو سنو ایک بار پھر کرتے ہیں ہیں ۔
اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ جس مطلب تھا جا اوئے تیرا کوئی حال نئیں۔
اور نکل گئی میں اس کے اشارے کا مطلب اور ااس کی کھیت والی بات کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرنے لگا ۔
لیکن کچھ سمجھ نہ آیا کیونکہ اس کی بات ادھوری تھی۔
میں وہاں سے نکلا اور کھوہ والی طرف گیا۔جدھر رستے میں شازی لوگوں کی بیری تھی اور جہاں میں نے ایک شازی کی اور فجے نے کومل کی پھدی بجائی تھی۔
میں گیا بھی اسی لیے تھا کہ فجے کو کومل کے ذریعے شازی تک پیغام پہنچانے کا کہا تھا ۔
اب اس لیے جا رہا تھا کہ وہ پہنچ گئی ہو گی۔
لیکن وہاں جا کر پتہ چلا کہ ادھر شازی کا ابا اور بھائی کام کر رہے ہیں تو میں ان سے سلام دعا کر کے واپس چل پڑا اور سوچا چل بھئی بلو اج تاں چھنو دی پھدی قسمت اچ سی۔
ہن تو ویلا ایں میں یہ ہی سوچتا واپسی کے سفر پر گامزن تھا کہ یک دم مجھے ایک کھیت سے کسی نے آواز دی ۔
دوستو جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ ہمارے گاوں
میں کماد کی فصل بہت زیادہ بوئی جاتی تھی جو کہ تقریباً پورے سال کی ہوتی ہے۔
اس وقت کھیت سے مجھے آواز آئی وہ بھی کماد ہی تھا۔
مجھے اپنا لگا کیونکہ میں رک کر دائیں بائیں دیکھا کوئی نظر نہ آیا لیکن جب چلا تو پھر آواز آئی ۔
اس بار آواز میں نے واضح سنی اور آواز کی سمت کا بھی اندازہ ہوگیا۔ میں نے اس سمت دیکھا تو ایک ہاتھ مخملی سا چٹا سفید مخروطی انگلیاں کالی چوڑیاں کلائیوں میں پہنے مجھے اشارہ کر رہا تھا ۔
میں اتنا حسیں ہاتھ دیکھ کر ہی بے اختیار اس کی بلانے والے کی خوبصورتی کا قائل ہو گیا تھا اس لیے اس کی طرف میرے قدم میری اجازت کا انتظار کیے بغیر بڑھ گئے جیسے ہی میں ان ہاتھوں می حدود گرفت میں آیا ان نازک ہاتھوں کی مخروطی انگلیاں کھلیں اور پورا ہاتھ سامنے آیا اس سے پہلے کہ کچھ سمجھتا میرا بازو اس کی گرفت میں آیا میں بے وزن ہوتا کسی غلام کی طرح اس کے پیچھے چلتا گیا۔
میں اس کے پیچھے صرف ہاتھوں کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر جانا صرف اس وجہ سے نہیں تھا کہ وہ ہاتھ خوبصورت تھے ۔
بلکہ ان ہاتھوں کی نازکی ان کی لمبی باریک انگلیوں کی بناوٹ کلائیوں میں پہنی کھنکتی کالی چوڑیاں پھر ان انگلیوں کا اشارے سے اپنی طرف بلانا مجھے سب سمجھا گیا ۔
یہ وہی میرے دل پر اپنی جادوئی حسن کی چھاپ چھوڑنے والی مستانی چال چلنے والی ملکہ حسن وجمال نازک بدن چمکتی آنکھیں رکھنے والی پری چہرہ جس نے مجھے پہلی دفعہ پردہ بکارت توڑنے کی لذت سے آشنا کروایا تھا۔
ہاں جی دوستو صحیح سمجھے میرا دل جس کےلیے پہلی بار دھڑکا تھا جس کے ساتھ میں نے بھا کو عاصمہ کی چودائی کرتے دیکھا تھا جس کی گانڈ کے ساتھ کئی سال پہلے اپنی للی رگڑ کر مزہ کیا تھا وہی تھی۔
ہاں جی ناہید ہی تھی جس کو میں دیکھنے کے آج صبح اس کے گھر کے سامنے سے کئی بار گزرا تھا کہ اس کا حسیں مکھڑا دیکھ سکوں ۔
وہ مجھے اپنے ہاتھ کے لمس سے ہی بے بس کر کے کھینچتے ہوئے کے جا رہی تھی اور کسی بندھے ہوئے اس کے غلام کی طرح اس کے پیچھے کھنچا چلا جا رہا تھا۔
پتہ نہیں کتنا وقت اس کے پیچھے بندھے ہوئے معمول کی طرح چلتے گزر گیا میرے منہ پر کماد کے پتے لگتے رہے لیکن میں تو اس کے لمس میں ڈوبا چلتا جا رہا تھا۔
کہ یکدم جیسے سب کچھ رک گیا وقت تھم گیا میں تو اس احساس کیں کھویا تھا ابھی کہ مجھ پر ایک وار کر گئی ۔
ہاں جی اس نے رک کر اپنی شدت جذبات کا اظہار مجھے اپنی کومل سی باہوں کے حصار میں لے کر کیا ۔ آہ آہہہہ اس گلبدن کے گلدان سے مہکتے سینے پر لگے ممے میرے سینے پر لگے اور میرے چہرے پر گرم سانسوں کا طوفان چلنے لگا۔
میں تو اپنے ہواس کھو ے والا تھا میری سانس اکھڑنے لگی اس سے پہلے کہ میری سانس اکھڑتی اس حسینہ نے اپنی دہکتے گلاب کی پنکھڑیاں میرے ہونٹوں پر رکھ کر میری سانسوں کو بحال کیا ۔
ایک شیریں سا احساس میرے پورے وجود سرایت کر گیا میرے ہونٹ اپنی قسمت پر رشک کرتے بے اختیار کھل گئیے اور ان شہد سے میٹھے لبوں کو تھام کیا ۔
پھر کیا تھا نہ تھمنے والا سلسلہ لب وبام کی گھسم پیل کا شروع ہو گیا نہ وقت گزرنے کا احساس نہ جگہ کا پتہ نہ گرمی کا احساس تھا ۔
احساس تھا تو بس ایک دوسرے کے ہونٹوں سے رس کشید کرنے کا تھا ۔
جب اپنے دل کی بھڑاس اور لبوں کی پیاس اچھے سے بھجا لی تو اس نے ہونٹ الگ کیے ۔
میں تڑپا اور کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح ملتجیانہ اندز سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے شکوہ کناں آنکھوں سے میری طرف دیکھا اپنے حسیں لب کھولے ۔
کہاں تھے تم تو ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ نہ کوئی اتا نہ پتا نہ یہ فکر کہ کوئی تمہارے لیے کتنا تڑپ رہا ہے ۔
میں تو ااس کی بات پر ہی اپنا دل ہار بیٹھا اس بات نے مجھے لا جواب کر دیا پر جواب تو دینا تھا ۔
سو الفاظ ڈھونڈے اور پہلی دفعہ کچھ کچھ بولنے کی ہمت کی میری جان میں کل شام کو آیا ہوں تب سے تمہاری اک جھلک کے کیے تڑپ رہا ہوں کتنے چکر لگائے اس حسین مکھڑے کے دیدار کے لیے لیکن تم نے اس بیقرار دل کی تڑپ کو ارزاں سمجھا اور اپنی دیدار نصیب نہ کروایا کہاں کہاں نہ ڈھونڈا ۔شہر میں بھی میری حالت مجنوں کی سی ہوتی ہے۔ ہر طرف تمہں ڈھونڈتا پھرتا ہوں پر کیا کروں رسم دنیا بھی نبھانی ہے۔ پھر مجھے اجازت نہیں ملتی گاوں آنے کی پڑھائی کی وجہ سے اب جیسے ہی اجازت ملی دوڑا چلا آیا ۔
پھر تو ناہید موم کی طرح پگل گئی اس سے پہلے کہ کچھ اور بولتا وہ پھر سے میرے ہونٹوں پر حملہ آور ہو چکی تھی اب اس کے انداز میں پہلے سے زیادہ دیوانگی تھی۔
میرا بھی گھوڑا اپنی دم ہلا کر تیار ہو چکا تھا لیکن ابھی اس کی آرام گاہ تک پہنچنے سے پہلے کے مراحل باقی تھے۔
میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کی گردن پر دوسرا اس کی پشت پر پھیرتے ہوئے نیچے سرکایا اور گانڈ پر جا رکھا ۔
ہاتھ گاند پر رکھا ہی تھا کہ ناہید تڑپ کر اچھلی اور مزید میرے جسم میں سمانے کی کوشش میں میرا لن اپنی ٹانگوں میں بھینچ لیا ۔
جیسے ہی لن ٹانگوں میں گیا اس کی پھولی ہوئی پھدی کو جو چار پردوں میں چھپی تھی سلامی پیش کی اس کی سسکاری میری منہ میں نکلی۔
اب میری بھی برداشت جواب دے گئی کیونکہ ہمیں تقریبآ 20 منٹ کسنگ کرتے ہو گئیے تھے۔
میں ایک ہاتھ سے اس کی قمیض اوپر کرنے کی کوشش کی تو اس نے نرٹھے پن سے سر ہلا کر روک دیا اور خود پیچھے ہو کر کھڑی ہوئی اور مجھے اشارہ سے نیچے بیٹھنے کا کہا۔
میں پاوں کے بل نیچے بیٹھا میرا منہ اس کی پھدی کے عین سامنے تھا اففففففف میں ایک لمبی سانس کھینچی اس کی ٹانگوں کے بیچ چھپے خزانے سے مدہوش کن مہک کے بھبھکے نکل کر اس کی اندرونی کہانی بیان کر رہے تھے۔
اب تو مجھ پر سچ میں جنون کہ حالت سوار ہو گئی میں اس کی شلوار کو پکڑا اور ایک دم نیچے کھینچا تو شلوار اس کے پاؤں میں آ گری ۔
شلوار کیا اتری ایک عالم شہوت پیدا ہوگیا میں نے اس کی قمیض کو ہاتھ سے اس کی چوت سے اوپر کیا اس کی پر شباب چوت کو دیکھا جو پھڑپھڑا کر اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے رو رہی تھی ۔
میں نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر ہونٹ اس کی رس بھری پر رکھ دیے وہ مچلی اس نے اپنی ٹانگیں دبائیں اور میرے سر پر ہاتھ رکھ کر مجھے پیچھے دھیکیلا.. ۔
اور میرے زیریں جامہ کو اتار کر مجھے ننگا کر دیا میرا لن جو کہ اکڑا ہوا تھا ایک دم سپرنگ می طرح اچھل کر ناف کی طرف جھکا۔
اس نے میرے لن کو اپنے نازک ہاتھ میں پکڑا اور اس لمبائی اور موٹائی کو دیکھنے لگی ۔
اچھی طرح پیمائش لینے کے بعد اس نے اپنی شلوار جو ٹانگوں میں تھی اتار کر پھینکی اور میرے اوپر آگئی۔
اس کا اوپر آنا اور اپنے دودھ کے پیالوں کو میرے سینے پر لگایا۔
میرا صبر متزلزل ہو گیا میں نے اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر لن کو پکڑ کر اس کی پانی سے لبالب بھری پھدی کے دہانے پر رکھا۔جیسے کی لن نے پھدی کے لبوں کا چھوا اس نے مزے کی سسکاری بھری اور میرے منہ کو چومنے لگ گئی ۔
اس کی دیوانگی کو دیکھ کر میرا جوش بھی بڑھتا گیا اور لن پر زور ڈالا تو ٹوپی پھسل کر گیلی پھدی میں گھس گئی۔
جیسے ہی لن کی ٹوپی گھسی اس کے دانتوں نے میرے لبوں کو کاٹ لیا ۔
میں چھی مزے میں ڈوبا درد کو پی گیا اور اپنی گانڈ کو اٹھا کر نیچے سے زور لگایا اور لن آدھے سے زیادہ اندر کر دیا ۔
اس نے میرے لبوں کو چھوڑا اور اپنے ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر اپنی گردن کو اوپر اٹھا لیا اب اس کا فل جوبن سے اکڑا سینہ اور سینے میں چھپے دو ٹائم بم اتھل پتھل مچاتے ہوئے میرے منہ کے قریب آ گئے ۔
سینے کے اتار چڑھاو کو دیکھ کر میرے لن میں اور جوش بھر گیا ۔
میں نے لن باہر نکالا اور اور گامڈ کی مدد سے گھسا مارا لن اندر اتر گیا۔
لن کی چوٹ کچھ زیادہ کی تھی وہ اچھل کر ایک سائیڈ پر گر گئی اور اپنا ایک ہاتھ پھدی پر رکھ کر آنکھیں بند کر کے دانت بھینچ لیے ۔
میں سیدھا ہوا اس کا ہاتھ پکڑا لن کو پھر سے اس کی پھدی پر لگانے سے پہلے اس کی ٹانگیں اٹھائیں اور اس کے اوپر لیٹ گیا ۔
اب لن اس کی پھدی کو چھو رہا تھا میں اپنی زبان نکالی اور اس کی گردن اور کان کی لو کو چاٹنے لگ گیا۔
اس کی سسکاریاں شروع ہو گئیں ۔ اب میں نے لن پر زور بڑھایا اور ایک ہی جھٹکے میں سارا اتار دیا ۔
اس نے میری کمر کے گرد اپنی ٹانگیں لپیٹ لیں اور اپنے ہاتھ میری گانڈ پر رکھ کر دبا کیں جو اس بات کا اشارہ تھا کہ رک جاو۔
میں رک گیا اور اس کے ہونٹ چوسنے شروع کیا ساتھ ساتھ اپنی زبان اس کے ہونٹ پر پھیرتا اور اپنے ہاتھ اس کے گداز سینے پر رکھ کر کپڑوں میں مچلتے اس کے مموں کو مسلنے لگ گیا۔
میرا وار کار گر ثابت ہوا اس نے کچھ ہی دیر میں اپنی گانڈ نیچے سے ہلا کر مجھے ہلا شیری دی۔
میں نے آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کیا اور ساتھ ساتھ سپیڈ بڑھاتا گیا ۔
کوئی پانچ منٹ بعد اس کی سانس پھولنے لگ گئی۔ اس کی اواز میں خماری آنے لگی۔ اس کا جسم اکڑا اور اس نے میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹ میں جام کر لیا۔
نیچے سے گانڈ اٹھائی اور لن کو اس کی پھدی نی اپنے قابو میں کر لیا ساتھ ہی اس کا جسم کانپا اور میرے لن کر اس کی چوت نے برسات کی گرم پانی کی برسات میں بھی برداشت نہ کر پایا اور اس کے ساتھ ہی اس کی پھدی کو اپنے پانی سے بھرنے لگا۔۔۔۔