سردیوں کی پہلی ہلکی پھوار بوندا باندی ہو رہی تھی۔ اگرچہ گرم کپڑے پہن رکھے تھے، لیکن موٹر سائیکل چلاتے ہوئے کافی ٹھنڈ بھی لگ رہی تھی۔ دراصل موٹر سائیکل لیے ہوئے اتنا زیادہ عرصہ بھی نہیں گزرا تھا، اس لیے موسم کی پرواہ کیے بغیر ہی ایک سے دوسری گلی میں مٹر گشت کر رہا تھا کہ اچانک سامنے سے ثمینہ پھوپھو آتے ہوئے نظر آئیں۔ جس گلی کے اندر میں موٹر سائیکل چلا رہا تھا، اسی گلی کی نکڑ پر ان کا بیوٹی پارلر تھا اور شاید موسم کی وجہ سے وہ پارلر بند کر کے ہمارے گھر کی طرف کیے ہوئے تھیں، کیونکہ ان کا گھر تو دوسری طرف پڑتا تھا اور دو کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ میرے قریب پہنچ کر انھوں نے مجھے آواز دی: فادی رک… مجھے گھر چھوڑ کر آؤ۔
لیکن پھوپھو آپ تو ہمارے گھر کی طرف جا رہی تھیں؟ میں نے استفسار کیا۔
ہاں، میں نے سوچا بارش تیز نہ ہو جائے، تمھیں کہتی ہوں گھر چھوڑ آؤ۔ آج تمھارے پھوپھا گھر نہیں ہیں، اس لیے انھیں فون نہیں کیا، ورنہ وہ خود لے جاتے۔
اچھا چلیں بیٹھیں پھر، میں چھوڑ آتا ہوں۔
ہم لوگ جیسے ہی گلی سے باہر کھلی سڑک پر نکلے، وہاں ایک دم ٹھنڈ زیادہ محسوس ہوئی۔ گلی کے اندر ہوا کا دباؤ کم تھا۔ کچھ ہی دیر میں مجھ پر کپکپی سی طاری ہونے لگی اور میں نے موٹر سائیکل کی رفتار بھی بہت آہستہ کر دی۔
کیا ہوا فادی؟ انھوں نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
پھوپھو ٹھنڈ بہت زیادہ لگ رہی ہے۔
اچھا میں تمھارے ساتھ جڑ کر بیٹھتی ہوں، شاید ٹھنڈ کم لگے۔ یہ کہہ کر وہ میری کمر کے ساتھ چپک گئیں، بازو میرے گرد حائل کیا تاکہ میرا زیادہ سے زیادہ وجود ڈھک سکے۔
ان کے اس طرح چپک کر بیٹھنے سے سردی کی شدت تو کافی حد تک کم ہو گئی، البتہ میری شلوار کے اندر ایک اور ہی ہل چل مچ گئی۔ پھوپھو کوئی بات کر رہی تھیں، اس دوران ان کے منہ سے خارج ہونے والی گرم ہوا جب میرے کان سے ٹکراتی تو میرا لون لون کھڑا ہو جاتا۔
نئی نئی جوانی تھی، میں کیا کر سکتا تھا۔ راستے میں ایک مقام پر گڑھا آیا جس پر مجھے اچانک بریک لگانا پڑی۔ پھوپھو نے سنبھلنے کے لیے جلدی سے میرے پیٹ پر رکھے ہاتھ کی مٹھی بند کی تاکہ وہ میرے کپڑوں کو پکڑ کر سنبھل سکیں، لیکن میرا جوش مارتا ہوا ہتھیار ان کے ہاتھ میں آ گیا۔
جیسے ہی پھوپھو کو احساس ہوا یہ تو کچھ اور ہی ہو گیا ہے، انھوں نے فوراً چھوڑ دیا اور ہاتھ پیٹ سے تھوڑا اوپر سینے کی طرف لے آئیں۔
میں نے انجان بننے کی کوشش کی اور پوچھ بیٹھا: پھوپھو کیا ہوا؟
کتے، بے غیرت، گھر پہنچ تجھے بتاتی ہوں میں۔ انھوں نے کافی سخت لہجے میں کہا تھا اور میں اندر ہی اندر ڈر بھی گیا۔
ہزار قسم کے خدشے سر اٹھانے لگے۔ کہیں پھوپھو امی کو نہ بتا دیں یا پھوپھا کو ہی بتا دیا تو بھی بہت مشکل بن جائے گی میرے لیے۔ ڈر جب خوف میں تبدیل ہوا تو میں نے ایک جگہ بریک لگا دی۔
پھوپھو آپ یہاں سے چلی جائیں، میں واپس جاتا ہوں۔ میری شکل روہانسی ہو رہی تھی۔ انھوں نے مجھے کان سے پکڑ کر خوب مروڑا اور کہنے لگیں: یہیں اتار لوں گی جوتی اور ٹوئی لال کر کے بھیجوں گی واپس۔ غیرت نام کی چیز ہی نہیں ہے۔
میں چاپ چاپ پھر آگے کو چل دیا۔ کچھ ہی دور جا کر پھوپھو نے جان بوجھ کر ہاتھ نیچے لگایا، لیکن وہ بیچارا اب بلکل اپنے آپ میں گھس چکا تھا۔
انھوں نے ہاتھ پھر اوپر سینے کی طرف کر لیا اور ہنستے ہوئے کہنے لگیں: اب اسے کہو ناں ذرا اٹھے میرے سامنے۔
پھوپھو پلیززززززز… میں نے روتی سی آواز میں پھوپھو سے منت کی۔
کتے شکر کر میں تیرا لحاظ کر رہی ہوں، ورنہ بیچ سڑک ننگا کر کے دو لگاتی اور تیری ٹوئی لال کرتی تو لگ سمجھ جاتی تجھے۔
اسی اثنا میں ہم پھوپھو کے گھر پہنچ گئے۔ اس سے پہلے کہ مجھے موقع ملتا پھوپھو نے اترتے ہی سب سے پہلے میرے موٹر سائیکل سے چابی نکالی اور اپنا گیٹ کھولنے لگیں۔ میں بائیک سے اتر کر پیدل ہی واپس بھاگنے کے لیے پر تول رہا تھا جب انھوں نے میرا بازو پکڑ لیا، پھر خود بائیک کے پیچھے کھڑی ہو گئیں۔
اندر لے کر چلو اس پیو کو۔ وہ دھمکاتے ہوئے بولیں۔ اب میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا، میں نے خاموشی سے بائیک اندر کھڑی کی اور خود قریب ہی کھڑا ہو گیا۔
انھوں نے مجھے بازو سے پکڑا اور اندر بیڈ روم میں لے آئیں۔ الماری سے ٹاول میری طرف اچھالتے ہوئے کہنے لگیں: واش روم میں جا کر کپڑے اتار آؤ۔ میں نے خاموشی سے حکم کی تعمیل کی اور جب واش روم سے باہر آیا تو پھوپھو بھی ٹاول میں تھیں۔ مجھے کمبل میں لیٹنے کا کہہ کر خود اپنے کپڑے اتار کر واش روم چلی گئیں۔ میرے اور اپنے کپڑے ڈرائر میں خشک کیے اور واپس نکل کر کچھ خشک میوہ جات لیے میرے ساتھ ہی کمبل میں آ گئیں۔
کھاؤ۔ ان کے لہجے میں شدید روکھا پن تھا جو مجھے بہت زیادہ ناگوار گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے کبھی پھوپھو نے میرے ساتھ ایسا رویہ نہیں اپنایا تھا۔
میں خاموشی سے ڈرائی فروٹ کھانے لگا اور پھوپھو موبائل پر فیس بک کھول کر اوپر نیچے کرنے لگیں۔ اسی دوران فون کال آئی، میں دیکھ سکتا تھا وہ نمبر جانو کے نام سے محفوظ کیا گیا تھا۔
پھوپھو نے کان سے لگا کر پہلے سنا۔
پھر بڑبڑاتے ہوئے کہا: او… رہنے دیں اب میں فادی کے ساتھ گھر پہنچ چکی ہوں۔ یہ الفاظ سنتے ہی میرے پورے جسم میں بجلی کوند گئی۔ مجھے لگا میں نے پھوپھو کی بہت بڑی چوری پکڑ لی ہے۔ جیسے ہی فون بند ہوا میں نے کہا: بتائیں کس کی کال تھی۔ انھوں نے میری طرف دیکھ کر مسکرایا پھر موبائل میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا: خود بات کر کے پوچھ لو۔
میرا جوش ایک دم ماند پڑ گیا کیونکہ وہ پھوپھا کا نمبر تھا۔ مجھے لگا تھا شاید میں پھوپھو کو بلیک میل کر کے اپنی گلو خلاصی کر پاؤں گا، لیکن یہاں بھی مجھے ناکامی ہوئی۔
اگر پھوپھو نے کچھ بھی کسی کو بتا دیا اور یہ بات ابو تک پہنچ گئی میری خیر نہیں۔
مجھے یاد آنے لگا کہ ایک دن ابو نے میرے کمرے میں امی کا بریزیئر دیکھ لیا تھا تو کیسے ابو نے اپنا غصہ نکالا تھا۔ اگر امی بیچ بچاؤ نہ کراتیں تو میری ایک ناں ایک ہڈی ضرور ٹوٹتی۔ اس دن تو ویسے بھی اس لیے بچ گیا کیونکہ امی نے میری طرفداری کر دی کہ میں نے کپڑے سکھانے کے بعد یہاں رکھے تھے، اٹھاتے ہوئے گر گیا ہو گا۔ لیکن یہ جو کچھ آج ہوا تھا اس میں شک والی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔ یہی سوچ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے، مجھے موت سامنے نظر آ رہی تھی۔
پھوپھو نے موبائل لینے کی غرض سے میری طرف دیکھا، میری آنکھوں میں آنسو جاری تھے۔
فادی…
فادی…
انھوں نے دو مرتبہ پیار سے مجھے پکارا لیکن میں روئے جا رہا تھا۔
فادی… تیسری مرتبہ انھوں نے ذرا ترش لہجہ اختیار کیا۔ میں پھوپھو کی طرف متوجہ ہوا تو انھوں نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ کیا ہوا بچے؟ رو کیوں رہے ہو؟
پھوپھو پلیزززز ابو کو کچھ نہیں بتانا۔ میں نے پھوپھو کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اپنے سر سے ہٹایا اور اس پر ماتھا ٹیکنے ہوئے گلوگیر آواز میں گریہ کیا۔
کون سی بات؟ انھوں نے ایسے حیرانگی سے پوچھا جیسے وہ تو بلکل انجان تھیں۔
یہی جو کچھ راستے میں ہوا۔ میں نے وضاحت کی۔
کیوں؟ ایسا کیا ہوا تھا راستے میں؟ انھوں نے ابھی تک اپنے آپ پر حیرانگی طاری کر رکھی تھی۔
پھوپھو… میں نے انھیں پر امید نظروں سے دیکھتے ہوئے پکارا۔
جی میرا بچہ وہ ٹھیک ہے لیکن یہ بتاؤ راستے میں ایسا کیا ہو گیا تھا جو تمھارے پاپا کو نہیں بتانا۔
میں شرما سا گیا۔
بتاتے ہو یا… انھوں نے یا لمبا سا کر کے سوالیہ چھوڑ دیا۔
وہ…
وہ… میں ہکلاتے ہوئے بس اتنا ہی بول سکا۔
لگتا ہے تمھارے ساتھ کچھ کرنا ہی پڑے گا، ایسے نہیں مانو گے۔
وہ کمبل پیچھے ہٹا کر اٹھنے لگیں۔ مجھے اندازہ نہیں ان کا کیا مقصد تھا لیکن میں نے انھیں پکڑ لیا: بتاتا ہوں بتاتا ہوں۔
وہ پھر سے کمبل اوڑھنے لگیں۔
ہاں بتاؤ تفصیل سے۔
میں نے جھجکتے ہوئے ساری روداد دہرا دی جو کچھ راستے میں ہوا تھا۔ انھوں نے ہاتھ بڑھا کر ٹاول کے اوپر پھیرا اور ایک شیطانی ہنسی کے ساتھ کہنے لگیں: اب کیوں نہیں اٹھ رہا؟
اب کہو اسے اٹھے۔ میں شرما گیا۔
پھوپھو کے چہرے پر پہلی شیطانی مسکراہٹ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ پھوپھو تو میرے جذبات سے کھیل رہی تھیں۔ اچھا اٹھاؤ اسے۔ پھوپھو نے پھر سے کہا۔
اچھا فادی اب کی بار پھوپھو نے مجھے پکارا تو ان کے لہجے میں انتہا کی مٹھاس تھی۔
جی پھوپھو…!
یہ بتاؤ ابو سے اتنا زیادہ کیوں ڈرتے ہو؟ تم سچ بتاؤ میں وعدہ کرتی ہوں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔
میں نے امی کے بریزیئر والی ساری روداد سنا دی۔ جسے سن کر پھوپھو کی وہی شیطانی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔
اب کی بار جب پھوپھو نے ہاتھ پھیرا تو میرا کافی حد تک بڑا ہو چکا تھا۔
یممممم بل سے باہر نکل رہا ہے، اسے اور بڑا کرو۔ ابھی پورے طور پر کھڑا نہیں ہوا۔
ایسے نہیں کھڑا ہوتا کوئی لڑکی ہو وہ ہاتھ لگائے اسے پیار کرے تب اکڑتا ہے، ایسے کیسے اکڑے گا۔ اب میں کافی حد تک بے خوف ہو چکا تھا۔
تو میں تمھیں لڑکی نہیں نظر آتی؟ پھوپھو نے ہوس بھری نگاہ مجھ پر ڈالتے ہوئے کہا۔
ہاں آپ ہو تو لڑکی لیکن پھوپھو ہو نا۔
اچھا آج یہی سمجھو تمھارے پاس پھوپھو نہیں کوئی لڑکی ہے۔
نہیں نہیں لڑکی نہیں پھوپھو ہے۔ اب کی بار میں نے بھی بہت ہوس بھرا جواب دیا تھا۔
بہت حرامی ہو تم فادی۔ انھوں نے میرے کان سے کھینچ کر میری گردن پر بوسہ دیا۔ ہاتھ نیچے لایا اور ساتھ ٹاول کی بیلٹ کھول دی۔ اب مجھ پر وہ خوف طاری نہیں تھا جو چند لمحے قبل مجھے رلا رہا تھا۔ پہلی بار میرے ہاتھ نے حرکت کی، میں نے پھوپھو کا ٹاول نیچے کھینچا، ان کا سینہ ننگا کر کے وہاں پیار کرنے لگا۔ پہلو بدل کر ان کی طرف مڑا تو ٹاول کھلا ہونے کی وجہ سے میرا جسم ٹاول سے الگ ہو گیا۔
پھوپھو کے سینے پر پیار دیتے ہوئے ان کے ٹاول کی بیلٹ بھی کھول دی۔ ان کے ننگے پستان میری آنکھوں کو خیرہ کر رہے تھے۔ میں نے ڈوڈیوں پر ہلکی چکیاں کاٹنا شروع کر دی۔
پھوپھو پر مستی طاری ہو رہی تھی۔ اسی مستی میں وہ ہلکی ہلکی سسکاریاں بھی بھر رہی تھیں۔
اگرچہ میں پھوپھو کے ٹاول کی بیلٹ کھول چکا تھا لیکن چھاتی سے نیچے ان کے جسم کی حرارت محسوس نہیں کر سکا تھا۔ چھاتی سے دوبارہ گردن پر پہنچ کر ایک لمبی سانس اندر کھینچی اور گرم وہاں کی صورت پھوپھو کی گردن اور کان میں پھونک دی۔
پھوپھو نے آنکھیں موند لیں، میرے سر پر ہاتھ رکھا، اپنی انگلیوں میں میرے بال بھر کر بہت دیرے سے مجھے پکارا۔
فادی…!
جی پھوپھو جان…!
آہ تم… جان نہیں کہہ سکتے؟ انھوں نے میری گردن کو موڑ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھتے ہوئے کہا۔
نہیں پھوپھو… بلکل بھی نہیں آپ پھوپھو ہو میری۔ میں نے اپنی زبان ان کے ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے کہا۔
اچھا فادی… یہ بتاؤ امی کی پینٹی کے ساتھ کیا کرتے تھے؟
سونگھتا تھا! میں نے اپنی ناک پھوپھو کی ناک سے جوڑتے ہوئے ایک لمبی سانس ناک کے ذریعے اندر کھینچتے ہوئے جواب دیا۔
کتے… انھوں نے ہلکی چپت میرے گال پر لگاتے ہوئے کہا۔
آپ کا پھوپھو… میں نے ان کا ہاتھ اپنے گال سے ہٹا کر ان کی انگلیاں چاپتے ہوئے کہا۔
انھوں نے ہاتھ مجھ سے چھڑایا اور نیچے لے گئیں اور ہاتھ جب واپس لایا تو ان کی انگلیوں پر گیلا پن تھا۔ میں نے دوبارہ سے ان کا ہاتھ پکڑا، انگلیوں کو سونگھ کر ایک لمبا سانس بھرا جسے مجھے کوئی نشہ مل گیا ہو۔ میری آنکھیں بند تھیں۔ پھوپھو نے انگلیاں میرے منہ میں ڈالتے ہوئے پوچھا۔
کس کو یاد کر رہے ہو فادی…
امی کو… میں نے ان کی انگلیوں کو چاٹتے چاٹتے جواب دیا۔
آہ میرا بیٹا… انھوں نے مجھے اپنی چھاتی کے ساتھ بھیچ لیا۔ کچھ دیر تک ہم دونوں پھوپھو بھتیجا آنکھیں موندے ایک دوسرے کو محسوس کرتے رہے۔ جب پھوپھو کی گرفت مجھ پر ڈھیلی ہوئی تو میں نے ان کے سینے پر زبان پھیرتے ہوئے نیچے کی طرف جانا شروع کر دیا۔
اب میں پھوپھو کے انگ انگ کو محسوس کر سکتا تھا۔ ناف کے نیچے پہنچ کر میں نے اپنے ہاتھ ان کی کمر پر رکھے۔
ناف سے نیچے ان کے معمولی بال اگر رہے تھے، شاید تین دن پہلے ہی انھوں نے صاف کیے تھے۔ میں نے اپنی گال ان بالوں کے سرکنڈوں پر رگڑ کر اس چبھن کو محسوس کر رہا تھا۔
اب میرے ہاتھ ان کے کولہوں کے عین اوپر تھے اور زبان اپنے میخانے کے گرد محو طواف تھی جبکہ میرا ساقی تڑپ میں تھا۔ شاید مجھ سے بھی زیادہ تڑپ میرے ساقی میں تھی۔
پھوپھو نے ایک دو بار میرے سر پر دباؤ ڈال کر مجھے درمیان میں کرنے کی کوشش کی لیکن میں ابھی تک اطرف سے چاٹ رہا تھا۔
پھوپھا نہیں چاٹتے کیا؟
نہیں فادی انھیں یہ سب پسند نہیں۔ پھوپھو نے لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں کہا۔ میں سمجھ سکتا تھا کہ یہاں معاملہ الٹ ہے۔ میخوار پیاسا ہے ہی یہاں تو ساقی پلانے کو ترسا بیٹھا ہے۔
میں نے انگلیاں ان کے کولہوں پر کھبو کر اپنی زبان زیر ناف ان کے دانے پر رکھ دی اور بجائے اسے پھیرنے کے زبان سے دباؤ ڈالنا شروع کیا۔ کافی دباؤ ڈالنے کے بعد تھوڑا سا نیچے جاتے ہوئے زبان اندر ڈال دی۔
یہ میرا نشہ تھا اور میں خوب کر رہا تھا۔ اوپر سے نیچے دائیں سے بائیں جب زبان پھیرتا تو پھوپھو پر ایک کپکپی سی طاری ہو جاتی۔ کچھ ہی دیر میں پھوپھو اپنی انتہاؤں کو پہنچنے لگیں۔
ان کی سانس بہت تیز چل رہی تھی اور کافی اونچی آواز میں سسکاریاں بھر رہی تھیں۔
اس سے پہلے کہ پھوپھو کی ہمت جواب دے جاتی انھوں نے مجھے بالوں سے پکڑ مجھے اوپر کی طرف کھینچا۔ ان کی گرفت بہت ڈھیلی تھی جیسے ان میں طاقت ہی نہ رہی ہو۔
میں نے ان کی مشکل حل کر دی اور اپنا جسم ان کے جسم سے رگڑتے ہوئے اوپر کی طرف ہو لیا۔
پھوپھو کا قد مجھ سے قدرے لمبا تھا۔ میں نے اپنے پاؤں ان کے پاؤں کے اوپر رکھے اور ہونٹ ہونٹوں پر۔
فادی اندر ڈالو… ان کی آواز میں بلا کی لڑکھڑاہٹ تھی۔ ایک ہاتھ ان کے کندھے پر رکھا دوسرا نیچے لے جا کر پھوپھو کی پنکھڑیوں پر آراستہ کیا اور اندر دھکیل دیا اور اپنا ہاتھ پھوپھو کے دوسرے کندھے پر رکھ دیا۔
پھوپھو نے اپنے پاؤں کی مدد سے مجھے اوپر کی طرف اچھالا جس سے ایک جھٹکا لگا۔ میں نے پھوپھو کے کانڈھوں کو بہت مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا جبکہ کہنیاں پھوپھو کے پستان پر دباؤ بڑھا رہی تھیں۔ وہ کافی بڑے تھے اور ان کی ڈوڈیاں تنی ہوئی تھیں۔
میں پھوپھو کی چھاتی پر وزن بڑھا کر اپنی کمر اوپر کی طرف اٹھاتا جس سے میری ٹوپی تو اندر رہ جاتی باقی سارا باہر نکل آتا۔ پھوپھو جب اپنے پاؤں کی مدد سے مجھے اوپر کی طرف دھکیلتیں تو میں اپنی کمر بھی ایک جھٹکے کے ساتھ نیچے کرتا جس سے پورے کا پورا پھوپھو کے اندر چلا جاتا۔ پھوپھو ایک آہ بھر کر اسے اپنے اندر قبول کرتیں۔ ہم دونوں ہی نشے میں چور ہو رہے تھے اور رفتار بھی بڑھا رہے تھے۔
پھوپھو کے کندھوں پر میری گرفت مزید سخت ہو گئی اور میرا پورا جسم نچوڑ کر جیسے میری کوہنیوں میں آ گیا ہو۔
ہم دونوں کے جسم تپش خارج کر رہے تھے اور پھر اچانک اس آخری زوردار جھٹکے کے بعد… میں پھوپھو کے اندر ہی نچوڑ گیا۔ میرے ساتھ ہی پھوپھو بھی نچوڑ گئیں۔ ہمارے گاڑھے سیال مادے مکس ہو رہے تھے اور ہم دونوں ہی نڈھال ہو کر اپنے جسموں کو بلکل ڈھیلا چھوڑتے ہوئے گہرے گہرے سانس لینے لگے۔ مجھے بہت سکون مل رہا تھا، میں وہیں پھوپھو کے سینے کے اوپر ڈھیر ہو گیا۔
ہم دونوں کمبل کے اندر نڈھال پڑے تھے۔ سانس ابھی تک تیز تھی، جسموں سے پسینہ چھلک رہ رہا تھا اور سردی کا نام و نشان تک نہیں رہا تھا۔ پھوپھو کی چھاتی پر میرا سر رکھا ہوا تھا، ان کی دل کی دھڑکن میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ وہ ہلکی ہلکی میرے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھیں۔
کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر پھوپھو نے آہستہ سے میرا نام لیا، “فادی…”
“جی پھوپھو جان…” میں نے سر اٹھائے بغیر، ان کی چھاتی پر منہ رگڑتے ہوئے جواب دیا۔
“اب تو مانو گے کہ میں تیری پھوپھو نہیں، تیری گل فرینڈ ہوں؟” انھوں نے شیطانی انداز میں پوچھا۔
میں ہنس پڑا۔ “اب تو ماننا پڑے گا… لیکن پھر بھی آپ پھوپھو ہی ہو۔ یہ مزہ تو صرف پھوپھو ہی دے سکتی ہے۔”
وہ بھی ہنس دیں، پھر اچانک میری کمر پر زور سے چٹاک ماری۔ “حرامی… ابھی تو ایک بار ہوا ہے، ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ اٹھ!”
میں چونکا۔ “ابھی؟”
“ہاں ابھی۔” وہ کمبل ہٹا کر اٹھیں۔ ان کا ننگا جسم سردی میں بھی گرم لگ رہا تھا۔ چھاتیاں ابھی تک تنے ہوئے، نپل سرخ۔ وہ الماری کی طرف گئیں، دراز کھولا اور ایک چھوٹی سی بوتل نکالی۔ ویلنٹائن کی چھوٹی بوتل تھی۔
“یہ کیا پھوپھو؟” میں حیران ہوا۔
“چپ۔ پیو گے تو مزہ دگنا ہو جائے گا۔” انھوں نے دو گلاسوں میں تھوڑا سا ڈالا، ایک مجھے دیا۔ ہم نے ایک ایک گھونٹ لیا۔ شراب کی گرمی جسم میں پھیل گئی۔
پھوپھو نے گلاس رکھا اور میری طرف مڑیں۔ ان کی آنکھوں میں اب پہلے سے زیادہ بھوک تھی۔ وہ آہستہ آہستہ میرے پاس آئیں، گھٹنوں کے بل بیڈ پر چڑھیں اور میرے اوپر جھک گئیں۔ ان کے بال میرے چہرے پر گر رہے تھے۔
“اب کی بار میں اوپر بیٹھوں گی۔” انھوں نے میری ٹانگوں کے درمیان گھٹنے ٹیکے، میرا ہتھیار ہاتھ میں لیا اور آہستہ آہستہ اسے رگڑنے لگیں۔ چند سیکنڈوں میں وہ پھر تن کر کھڑا ہو گیا۔
پھوپھو نے اپنی جگہ پر بیٹھیں، اپنی چھاتیوں کو دونوں ہاتھوں سے دبایا اور میری طرف جھک کر بولیں، “دیکھ… تیری پھوپھو کے ممے تیری خاطر ابھی تک کتنے تنے ہوئے ہیں۔”
میں نے ہاتھ بڑھا کر ان کے نپل دبائے۔ وہ سسکاری بھر کر اوپر اٹھ گئیں اور پھر آہستہ آہستہ نیچے بیٹھ گئیں۔ میرا پورا ہتھیار ان کے اندر غائب ہو گیا۔
“آہہہہ… فادی… تیرا تو پہلے سے بھی بڑا ہو گیا ہے۔” وہ آہ بھر کر بولیں اور کمر گھمانے لگیں۔
میں نے ان کی کمر پکڑ لی اور نیچے سے جھٹکے دینا شروع کر دیے۔ کمرے میں صرف ہماری سانسوں اور جسموں کے ٹکرانے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ پھوپھو کی سسکاریاں اب چیخوں میں بدل گئی تھیں۔
“فادی… زور سے… اور زور سے… آج تیری پھوپھو کو پھاڑ ڈال!”
میں نے ان کی کمر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور نیچے سے ایسا زوردار جھٹکا مارا کہ وہ چیخ اٹھیں۔ پھر تیز تیز جھٹکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پھوپھو اپنی چھاتیوں کو خود دبا رہی تھیں، سر پیچھے کو کیا ہوا تھا، منہ کھلا ہوا تھا۔
کچھ ہی منٹوں میں وہ دوسری بار جھڑ گئیں۔ ان کا پورا جسم کانپ اٹھا، چھاتیوں پر پسینہ چمک رہا تھا۔ وہ میرے اوپر گر پڑیں، سانس پھول رہی تھی۔
میں نے انہیں دھکیل کر نیچے لٹایا۔ اب میری باری تھی۔ میں ان کی ٹانگوں کے درمیان آیا، ان کی ٹانگیں کندھوں پر رکھیں اور ایک ہی جھٹکے میں اندر تک چلا گیا۔ پھوپھو نے چیخ ماری، لیکن خوشی کی۔
اب میں تیز تیز دھکے لگا رہا تھا۔ ہر دھکے کے ساتھ ان کی چھاتی اچھل رہی تھی۔ وہ میرے کندھوں کو نوچ رہی تھیں۔
“فادی… بس… اب نہیں… آ جا میرے اندر… سب کچھ میرے اندر ڈال دے!”
یہ سننا تھا کہ میری کمر نے آخری چند زوردار جھٹکے دیے اور میں ان کے اندر ہی پھٹ پڑا۔ گرم گرم سیال اندر بھر گیا۔ پھوپھو نے مجھے کس کر بھیچ لیا۔ ہم دونوں پسینے میں شرابور، ایک دوسرے سے چپکے پڑے رہے۔
کچھلبلی سی خاموشی چھا گئی۔ پھوپھو نے میرے کان میں سرگوشی کی، “اب سے جب بھی تنہائی ملے… تیری پھوپھو تیری گل فرینڈ بن جائے گی۔ بس ابو کو کچھ پتا نہ چلے۔”
میں نے مسکرا کر ان کے ہونٹ چوم لیے۔ “پھوپھو جان… اب تو میری زندگی کا سب سے بڑا راز آپ کے پاس ہے۔ اب آپ جو کہیں گی، وہی کروں گا۔”
وہ ہنس دیں، مجھے سینے سے لگایا اور بولیں، “اچھا تو پھر آج رات یہیں رہ جا… ابھی تو رات بہت باقی ہے۔”
باہر بارش تیز ہو گئی تھی، لیکن کمرے کے اندر گرمی اپنے عروج پر تھی۔