بہنوں کی اتھری جوانی2 – Urdu Stories


دو تین دن تو یہی معمول رہا لیکن اب مجھے اس سے بھی بوریت ہونے لگی تھی میں باجی نصرت کے جسم کا دیوانہ ہونے لگا۔ تھا مجھ سے اب باجی کا جسم دیکھے بغیر رہا نہیں جا رہا تھا میں چاہ کر بھی خود پر قابو نہیں پا رہا تھا میرا دل کر رہا تھا کہ میں باجی کا جسم مزید ننگا دیکھوں لیکن مجھے باجی سے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہیں باجی ناراض نا ہو جائے اسی کشمکش میں ایک دن میں نے باجی کو میسج کیا باجی ایک بات کروں باجی بولی جی اگر آپ برا نا مانیں تو باجی بولی نہیں مانتی بولو میں بولا باجی آپ سے ایک ریکویسٹ کرنی ہے باجی بولی کیا میں بولا باجی آپ مجھے اپنی برا دیکھا سکتی ہیں باجی بولی بھائی تم بہت ہی بدتمیز ہوتے جا رہے ہو حد میں رہو میں بولا باجی پلیز کچھ نہیں ہوتا باجی بولی بھائی بہت ہی صدی ہو ذرا بھی شرم نہیں آتی میں ہنس کر بولا باجی اب ساری شرم اتر گئی ہے باجی بولی حیا کرو کچھ اتنی بھی اتارنی اچھی نہیں میں بولا باجی کیا کروں رہا ہی نہیں جاتا اب تو آپ کی عادت سی ہو گئی ہے باجی شرما کر بولی بدتمیز کہیں کا بہن کا بھی لحاظ نہیں کرتا میں ہنس کر بولا اچھا باجی پھر دیکھا دیں ناں۔ باجی بولی اچھا میں تمہارے کمرے میں رکھ دوں گی ایک میں بولا ارے نہیں باجی آپ کو پہنے دیکھنی ہے باجی چونک کر بولی کیا بھائی تم پاگل تو نہیں یہ کیسی فرمائش ہے میں بولا باجی پلیز نصرت بولی دیکھو شانی تم حد سے بڑھتے جا رہے ہو تمہیں پتا بھی ہے تم کیا کہ رہے ہو میں آج تک اپنے شوہر کے سامنے کبھی ننگی نہیں ہوئی اور تم کیسی فرمائش کر رہے ہو تمہارا دماغ خراب ہے باجی نصرت میری بات پر غصہ کر رہی تھی میں بولا باجی آپ کو ننگا تو نہیں ہونا صرف آپ نے مجھے اپنی برا کی پٹیاں دیکھانی ہیں ساری ننگی تو نہیں کہا آپ کے قمیض میں سے صرف برا کی پٹیاں نظر آنی چاہئیں باجی بولی بھائی مجھے تمہاری سمجھ نہیں آ رہی تم چاہتے کیا ہو میں سمجھا شاید باجی کو میری بات سمجھ نہیں آئی اس لیے میں نے ایک لڑکی کی تصویر باجی نصرت کو سینڈ کر دی جس میں ایک لڑکی ایسیے قمیض میں تھی جس میں سے اس کے برا کی تنہاں نظر آرہی تھیں ساتھ ہی اس کے ساتھ اس کے قمیض کا گلا بھی کافی کھلا تھا جس سے ہلکے سے ممے اور مموں کی لکیر بھی واضح نظر آ رہی تھی تصویر دیکھ کر باجی نصرت بولی بھائی یہ بہت زیادہ ہو رہا ہے تمہیں گھر کی اور بازار عورت میں فرق نظر نہیں آ رہا میں ایسے تمہارے سامنے نہیں آ سکتی میں بولا باجی میرے سامنے بے شک نا آئیں پر مجھے ایک تصویر دے دیجیے گا باجی نصرت بولی بھائی میں نے تو تمہارا ساتھ اس لیے دیا تھا کہ تم اس گندے کام سے خود کو نکال لو گے پر بھائی تم تو مجھے بھی گندہ کر رہے ہو مجھے سمجھ نہیں آ رہی تمہارا کیا کروں میں بولا باجی میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ آپ سے نہیں ہو گا آپ میری بہن ہیں باجی مجھے اس سب کی ضرورت ہے باجی بولی بھائی تم خود پر کنٹرول کیوں نہیں کرتے بندے کا کچھ اپنے اوپر کنٹرول ہوتا ہے پر تم تو ہر روز ہہی نئی فرمائش کر دیتے ہو میں یہ نہیں ہر سکتی تمہاری روز کی خواہش مجھ سے پوری نہیں ہوتی مجھے یہ سن کر غصہہ آگیا میں بول باجی تو مجھے پھر روکا بھی آپ نے ہی تھا میں اپنی موج میں تھا آپ کو کوئی پریشانی نہیں تھی اب بھی وقت ہے آپ مجھے اجازت دے دیں۔ باجی یہ آپ سے نہیں ہو گا میں پھر کہ رہا ہوں مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں باجی نصرت کے پاس شاید اس بات کا جواب ہی نہیں تھا اس لیے باجی کا کوئی رپلائی نہیں آیا میں بہت مایوس ہو گیا تھا پچھلے چند دنوں سے باجی کے جسم کو دیکھ دیکھ کر میں پاگل ہو چکا تھا میں نے آج تک بہت سی لڑکیوں کے جسم دیکھے تھے پر جو کشش باجی نصرت کے جسم میں تھی مجھے آج تک نہیں ملی تھی میں چاہ کر بھی خود کو اس سے دور نہیں کر پا رہا تھا باجی بھی ٹھیک تھی پر میں خود پر کنٹرول نہیں کر پارہا تھا مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ اب شاید باجی نصرت کے جسم کا نظارہ نا ملے میں بڑا مایوس تھا کہ باجی سے مزید فرمائش کرکے غلط ہی کیا جتنا چل رہا تھا وہ ہی ٹھیک تھا مجھے کیا ضرورت تھی باجی سے یہ سب کہنے کی جس سے اب مجھے خود پر غصہ آنے لگا کہ میں نے ایسا کیوں کہا کچھ دیر بعد مجھے احساس ہوا کہ آخر میں میں بھی غلط ہی کیا ایک بہن بھلا یہ سب کیسے کر سکتی ہے وہ اپنے بھائی کو اپنی پرائیویٹ چیزیں کیسے دیکھا سکتی ہے یہ سوچ کر مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو میں نے باجی سے سوری کرنے کا سوچا کہ باجی اب ناراض ہو گئی ہے جو اس کا رپلائی نہیں آیا میں نے باجی نصرت کو میسج کیا باجی ایم سوری میں کچھ زیادہ ہی آپ سے کہ گیا پتا نہیں مجھے کیا ہو گیا تھا ریلی ریلی سوری باجی میں اپنی بات پر شرمندہ ہوں باجی کا کچھ دیر بعد رپلائی آیا کوئی بات نہیں بھائی غلطی میری بھی ہے جو میں تمہیں خوا مخواہ تمہارے پرسنل کاموں میں دخل اندازی کی میں سمجھتی ہوں کہ ایک آزاد خیال لڑکے اور ایک میری جیسی گھر بیٹھی لڑکی کے جذبات میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے بھائی ایک لڑکے کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی میں جو آئے کرے میں باجی کی بات سے سمجھ گیا کہ باجی بہت زیادہ ناراض ہی میں بولا باجی ریکی ریلی سوری میرا ایسا کچھ مطلب نہیں تھا آپ تو بہت ناراض ہو گئیں باجی بولی بھائی میں ناراض نہیں ہوں ویسے کامن بات کی ہے میں بولا سچی باجی بولی مچی اور ہنس دی میں بولا باجی پھر آپ مجھے اجازت دیں گی باجی بولی کس بات کی میں بولا اپنی مرضی کرنے کی باجی کا کچھ دیر بعد ریپلائی آیا گھر کب آنا ہے میں بولا فری ہی ہوں باجی بولی ایک گھنٹے تک گھر آنا پھر تمہں بتاؤں گی کہ کیا کرنا ہے میں بولا اچھا میں سوچنے لگا کہ اب باجی کوئی نئی نصیحتوں کی کتاب کھول کے گی ایک گھنے بعد باجی کا میسج آیا گھر آؤ میں اسوقت قریب ہی پہنچ چکا تھا جلد ہی گھر پہنچ گیا سعدیہ اسوقت سکول سے آچکی تھی جبکہ امی کیچن میں تھی میں نے سعدیہ سے باجی کا پوچھا تو وہ بولی چھت پر ہے میں کچھ دیر نیچے رہا اور باجی کو میسج کیا کہ میں آگیا ہوں باجی بولی اوپر ہی آجاؤ میں اوپر چلا گیا چھت پر چھت پر ہمارے گھر کی چار دیواری کافی اونچی ہے 

جس سے آس پاس کا کوئی بندہ نہیں دیکھ سکتا کہ کیا ہو رہا ہے چھت پر ایک کمرہ بھی ہے میں جیسے ہی چھت پر گیا تو باجی کے بچے کھیل رہے تھی میں جیسے ہی باجی نصرت کو ڈھونڈتا ہوا مڑا تو سامنے کمرے کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر باجی نصرت کو کھڑا پا کر میں چونک کر وہیں رک گیا سامنے کا منظر میری جان ہی نکال گیا سامنے باجی نصرت بغیر دوپٹے کے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی تھی باجی نے ایک کسا ہو قمیض ڈال رکھا تھا جو شاید سعدیہ کا تھ جس میں سے باجی نصرت کے موٹے تنے ہوئے ممے ہوا میں کھڑے نظر آرہے تھے باجی نے اسی طرح اپنی قمیض کا گلا کافی کھول رکھا تھا جس۔ سے باجی نصرت کے مموں کی گہری لکیر نظر آرہی تھی جبکہ اوپر سے اپنی قمیض کو کندھوں سے اتار رکھا تھا جس سے باجی نصرت کے گورے کندے سارے ننگے ہو کر صاف نظر آرہی تھے جن پر باجی نصرت کی سکن کلر برا کی پٹیاں مجھے واضح نظر آرہی تھیں باجی نصرت کو اس منظر میں دیکھ کر میرے تو قدموں سے جان نکل گئی باجی اس وقت ہلکے سے میکپ اور ہونٹوں پر لال سرخی لگا کر فل ماحول بنائے کھڑی تھی اپنی سگی بہن نصرت کو سیکسی انداز میں دیکھ کر میں مچل چکا تھا باجی نے گہری کاجل بھری آنکھیں نشیلے انداز سے اٹھا کر مجھے دیکھا تو میں باجی نصرت کے ننگے کندھوں پر نظر آتی برا کی پٹیاں اور اپنی بہن کے ہلکے نظر آتے مموں کا ابھار اور مموں کی گہری لکیر کا منظر اپنی آنکھوں میں قید کر رہا تھا باجی کا دیکھنے کا انداز بہت ہی نشیلہ تھا باجی نصرت کی کاجل سے بھری آنکھوں میں عجیب سی مستی چھلک رہی تھی جیسے باجی نصرت کو خود بھی اپنا جسم مجھے دکھاتے ہوئے مزہ آرہا تھا مجھے ایک منٹ سے زیادہ ہو گیا تھا باجی کا جسم دیکھتے ہوئے مجھے ایک لمحے کےلئے خیال آیا کہ مجھے یہ منظر قید کرنا چاہیے اور یہ سوچ کر میں نے موبائل نکالا اور باجی کی طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا باجی نے میری آنکھوں میں مستی سے دیکھا اور آنکھوں کے اشارے سے مجھے اجازت دے دی میں نے کیمرہ کھول کر اپنی بہن نصرت کے سیکسی نیم ننگے جسم کی ایک دو تصویریں بنا لیں باجی نے کیمرے میں سیکسی انداز سے دیکھتے ہوئے اپنی گت اٹھا کر اپنے مموں پر رکھ کر اپنی موٹی گانڈ ایک طرف نکال کر مجھے ایک سیکسی پوز دیا جیسے باجی کوئی ماڈل ہو میں نے دو تین تصویریں بنا لیں باجی نصرت کا سیکسی جسم بہت دلکش نظارہ پیش کر رہا تھا باجی نے ایک اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر ایک تصویر کھینچوائی اور پھر ایک لمحے کے باجی گوم گئی اور اپنی بیک سائیڈ کی تصویر بھی بنوائی اس دوران باجی کا چہرہ شرم سے لال ہونے لگا باجی نصرت کو بھی لگا کہ اب کچھ زیادہ ہی ہو رہا باجی نے پاس پڑی چارپائی پر اپنی پڑی بڑی سی چادر اٹھائی اور خود کو اچھی طرح ڈھانپ لیا میرے تو چودہ طبق روشن تھے اور میں باجی کی تصویروں کو دیکھنے میں مگن تھا باجی چادر اوڑھ کر اپنے بچوں کو لے کر نیچے چلی گئی میں سمجھ گیا کہ باجی صرف مجھے اپنا جسم دکھانے آئی تھی میں باجی کے جسم میں کھو چکا تھا میرا لن تن کر فل کھڑا ہو چکا تھا مجھ سے رہا نا گیا اور میں وہیں کمرے میں جا کر باجی نصرت کے انگ انگ کو کلوز کرکے باجی نصرت کے جسم کو ننگا تصور کرے ایسی مٹھ لگائی کہ مزہ آگیا آج سے پہلے اتنا زبردست مزہ نہیں آیا جتنا باجی کے جسم اور باجی کی برا کو دیکھ کر آیا تھا باجی کے جسم کے خمار میں میں کافی دیر رہا مجھے چھت پر کافی ٹائم ہو گیا تھا باجی کا میسج آیا بھائی کیا ہوا کدھر گئے ہو میں بولا باجی میرے پاس الفاظ نہیں آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں آپ نے مجھے خوش کردیا باجی آج جتنا مزہ آیا پہلے اتنا نہیں آیا باجی بھی سمجھ گئی تھی کہ میں نے اس کے جسم کر دیکھ کر مٹھ لگائی ہے باجی بولی بدتمیز انسان چھوڑ دو یہ سب میں بولا باجی اب رہا نہیں جاتا باجی بہت شکریہ باجی بولی بھائی یہ بس آخری تھا اب تمہیں انہیں تصویروں پر گزارہ کرنا ہے اب میں تمہیں اور کچھ نہیں دکھاؤں گی تمہیں ہر اینگل سے تصویر آج دی ہے میں نے اپنی اب بس اب مجھ سے کچھ نا مانگنا میں بولا باجی میں کوشش کروں گا کہ میں اب خود پر قابو کروں آپ نے بھی بہت قربانی دی ہے اب آپ کو تنگ نہیں کروں گا باجی بولی شاباش بھائی کسی اور کام میں دل لگاؤ مجھے باجی کی بات اچھی لگی میں نے باجی کا جسم کلوز کر کے دیکھ کر ایک اور زبردست مٹھ لگائی باجی کے جسم کا تصور ہی میری جان نچوڑ لیتا تھا میں ہانپ کر تھک گیا کچھ دیر بعد میں نیچے آگیا تو باجی کپڑے تبدیل کرکے اور کپڑوں میں ملبوس تھی اور دوپٹے میں تھی میرے چہرے سے وہ بھی سمجھ گئی کہ میں ان کے جسم کو دیکھ دیکھ کر مٹھ کی بارش کرکے ا رہا ہوں وہ مجھے دیکھ کر شرماتی ہوئی مسکرا گئی میں کچھ آرام کر کے نہا کر کھانا کھایا اور اپنی روٹین میں مصروف ہو گیا رات کو دو بار پھر باجی کے جسم کا نظارہ کرکے مٹھ لگائی جس نے مجھے نڈھال کردیا اگلے دن میں اٹھا تو نارمل تھا میں نے عہد کیا کہ آج کے بعد کوشش کروں گا کہ باجی کے بارے کوئی غلط خیال میرے ذہن میں نا اترے میں یہ تہیہ کرکے اٹھا اور خود کو مصروف کرنے کا بہانہ تلاش کرنے لگا جس میں میں کامیاب بھی ہو گیا دو دن تو کچھ اچھے گزر گئے لیکن تیسرے دن سے کچھ کچھ ہل چل سی مچنے لگی لیکن میں مزید دو دن خود پر کنٹرول کر گیا کیونکہ میرا باجی سے وعدہ ہے تھا کہ میں یہ سب چھوڑ دوں گا لیکن قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا میں ایک ہفتہ تو کسی طرح نکال گیا باجی بھی مجھ سے خوش تھی اب لیکن ایک ہفتے بعد میں خود پر کنٹرول کھو چکا تھا میرے اندر کی گرمی مجھے چین نہیں لینے دے رہی تھی میں چاہ کر بھی خود پر کنٹرول نہیں رکھ پایا میرے اندر کی آگ لاوہ بن کر نکلنا چا رہی تھی۔ گرمی سے میرا دماغ سن ہو رہا تھا مجھے سیکس کی بہت زیادہ طلب ہو رہی تھی میں چاہ کر بھی قابو نا رکھ پایا میں شام کو گھر آیا اور سوچا کہ ایک آدھ مٹھ لگا کر کچھ ہلکا کر لینا چاہیے میں کھانا کھا کر بیٹھ گیا اور پھر موبائل سے باجی نصرت کے جسم کی تصویریں دیکھ کر اپنی آنکھیں ایک کر ایک جاندار مٹھ لگائی کہ میں مزے کی بلندیوں پر پہنچ کر بے سدھ ہو کر سوچنے لگا 

کہ میں کتنا ظالم ہوں جو اس شاندار مزے سے خود کو محروم رکھ رہا ہوں چلو زیادہ نہیں تو ایک آدھ بار تو ضرور باجی نصرت کے جسم کا مزہ لینا چاہیے تھا میرا خود سے عہد ایک لمحے میں دبڑ دھوس ہو چکا تھا اور میں اتنا گرم تھا کہ اسی وقت ایک اور باجی نصرت کے انم کی جاندار مٹھ لگاتا فارغ ہو کے نڈھال پڑا تھا میں مزے کی بلندیوں پر تھا اور خود کو ہلکا محسوس کرنے لگا جیسے کچھ بھار سا سینے سے اتر گیا ہو اور میں پرسکون ہو گیا میں نے سوچا کہ اتنا کرنے سے مجھے کچھ مزہ تو ملتا ہے نا جو مجھے لینا چاہیے انہیں سوچوں میں تھا کہ فون پر میسج آیا میں نے دیکھا تو باجی نصرت کا میسج تھا باجی ذرا غصے میں بول رہی تھی شانی یہ کیا بکواس ہے تم نے تو کہا تھا تم چھوڑ چکے ہو میں باجی نصرت کا میسج دیکھ کر اچھل پڑا کہ باجی نے مجھے مٹھ لگاتے دیکھ لیا ہے میں مٹھ مارنے کےلیے اتنا بے قرار تھا کہ دروازہ بند کرنا ہی یاد نہیں رہا اور باجی شاید دودھ دینے آئی تھی اور مجھے مٹھ لگاتا دیکھ چکی تھی میں بولا سوری باجی کیا کرتا ایک ہفتہ ہو گیا تھا اب رہا نہیں گیا اتنی آگ تھی کہ بس نا پوچھیے کتنا مزہ آیا باجی نصرت بولی بدتمیز انسان پھر کم از کم دروازہ تو بند کر لیتے میری جگہ کوئی اور بھی آسکتا تھا اگلے دن کی طرح میں بولا سوری باجی آئندہ خیال رکھوں گا باجی بولی کیا مطلب آہندہ بھی کرو گے میں بولا نہیں باجی جس دن زیادہ گرمی ہو برداشت نا ہو اس دن تو کرنا پڑے گا باجی بولی بھائی یہ ہاتھ سے کرنا بہت خطرناک ہے اس سے تم شادی کے قابل نہیں رہو گے میں بولا پھر باجی کیا کروں آپ نے ہی لڑکی کے پاس بھی جانے سے روکا ہوا ہے باجی بولی بھائی تم شادی کیوں نہیں کروا لیتے میں بولا باجی میں آزاد رہنا پسند کرتا ہوں یہ شادی کرکے ایک ہی لڑکی کے سا تھ رہنا انتہائی بور کام ہے باجی بولی بھائی پھر تم جو چاہتے ہو بھائی وہ بھی ٹھیک نہیں بازاری لڑکیاں تو تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گی میں بولا باجی پتا نہیں میرے اندر عجیب سی خواہش ہے مجھے بازاری لڑکیاں ہی پسند ہیں جو بے باک ہوں انہیں کوئی حیا شرم نا ہو باجی بولی انتہائی بدتمیز انسان ہو بھائی میں ہنس دیا باجی بولی بھائی جو بھی ہے یہ مٹھ چھوڑ دو بہت خطرناک ہے میں بولا باجی پھر باہر کہیں منہ تو مارنا پڑے گا ایسے تو نہیں رہا جاتا باجی بولی وہ بھی نہیں کرنا ہے اچانک میرے ذہن میں ایک شرارت سوجھی کہ کیوں نا باجی کے جسم سے اپنا لن رگڑنے کا کہ دوں جس سے میرے لن جیسے بھی انگڑائی لی جیسے وہ بھی یہی چاہتا ہو لیکن میں نے سوچا کہ باجی اس طرح ناراض ہو جائے گی اور مانے گی بھی نہیں کیونکہ باجی نے پہلے ہی منع کر رکھا تھا لیکن میرے اندر کا شیطان مجھے یہ کہنے پر مجبور کرنے لگا اور میرے ذہن میں وسوسا ڈالا کہ ناراض ہو گئی تو پھر مان بھی جائے گی میں نے ڈرتے ہوئے میسج کیا باجی میرے پاس اس کا حل ہے باجی بولی وہ کیا میں نے ایک لمحے کےلئے سوچا کہ کہیں سب غلط نا ہوجائے باجی بہت ناراض ہو گی میں سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ کیا کروں کافی لمحے گزرے تو باجی بولی بولا بھی کدھر گئے کیا ہوا میں نے باجی کی بے قراری دیکھ کر سوچا کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا میں بولا باجی اگر آپ مجھے اپنے جسم کا لمس دے دیں تو میں اس سے رگڑ کر خود کو ٹھنڈا کر لوں توں نقصان تو کوئی نہیں نا مطلب آپ مجھے صرف ایک بار جپھی ڈال کر اپنے جسم کا لمس دے دیں تو باجی میرے بات سن کر چونکی اور غصے سے بولی بھائی تمہارا دماغ خراب ہے تم نے یہ سوچا بھی کیسے تم پاگل تو نہیں ہو یہ تم کیا سوچتے رہتے ہو میں بولا باجی اس میں حرج ہی کیا ہے میں صرف آپ کے جسم کے لمس محسوس کروں گا اور کچھ بھی نہیں کروں گا میرا صرف ہتھیار ٹکرائے گا آپ سے اور کہیں بھی ہاتھ نہیں لگاؤں گا باجی بولی بھائی بکواس بند کرو اور وہی کرو جو تم کر رہے ہو تمہارے لیے وہی ٹھیک ہے مجھ سے مزید کسی چیز کی امید مت رکھنا میں بولا باجی پلیز سوچیں تو سہی آپ کو بھی بہت مزہ آئے گا باجی ذرا غصے سے بولی شانی بکواس بند کرو اور سو جاؤ تم بہت زیادہ بگڑ چکے ہو مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی میں باجی کو پلیز کا میسج کیا لیکن باجی وٹساپ بند کر چکی تھی اس لیے میرا میسج ڈیلیور نہیں ہوا میں نے انتظار کیا لیکن باجی نصرت کا کوئی رپلائی نہیں آیا مجھے لگا باجی ناراض ہو گئی ہوں گی میں باجی کے جسم کے لمس کا سوچ کر ہی مچل رہا تھا بے اختیار ایک بار پھر میں نے اپنی بہن کے جسم کو دیکھ کر مٹھ لگائی گرمی تھی کہ باجی کے جسم پر نکل نکل کر کم ہی نہیں ہو رہی تھی میں واشروم کےلیے نکلا تو۔ دروازے کے پاس ٹیبل پر پڑا مجھے دودھ نظر آیا جو باجی مجھے دینے آئی تھی اور مجھے لن نکال کر مٹھ مارتا دیکھ کر مڑ گئی تھی میرے ذہن میں فلم دوڑ گئی کہ کیسے باجی میرا ننگا لن دیکھ کر شرمائیں ہو گی ذہن تھا کہ شیطان کےوسوسوں سے بھرا پڑا تھا ہفتہ پہلے کے سارے منصوبے ناکام تھے اور میں پھر سے باجی نصرت کے جسم کی طرف لوٹ آیا تھا میں نے دودھ اٹھا کر پی گیا جو کافی دیر سے میرا منتظر تھا میں واشروم سے نکل کر باجی کے کمرے کی طرف دیکھا کہ کاش کمرے میں جانے کا موقع ملے اور میں سب کچھ تیس نہس کر دوں گا ہفتہ پہلے باجی کےلیے میرے ذہن میں اور خیالات۔ تھے جبکہ ہفتہ بعد تو سارے خیالت ہی بدل چکے تھے مجھے اب اپنی بہن کی جگہ ایک بازاری لڑکی نظر آنے لگی تھی میں واپس کمرے میں آیا اور ایک بار پھر اپنی آگ باجی کا سوچ کر بجھائی اور سو گیا تھکاوٹ اور کمزوری سے لیٹ جاگا اور نہا دھو کر ناشتے کےلئے کیچن کا رخ کیا تو مجھے باجی نصرت کیچن میں نظر آئی جو کھانا بنا رہی تھی امی اس وقت شاید گھر نہیں تھی سعدیہ سکول تھی نصرت کے بچے کھیل رہے تھے میں بھانجی کو اٹھا کر اندر کی چن میں باجی کے پاس جا کر بیٹھ گیا باجی چولہے پر بیٹھی روٹی بنا رہی تھی میں ایمن کے ساتھ کھیلتا باجی کو دیکھنے لگا باجی اپنے کام میں مگن رہی جیسے اسے میرا نہیں پتا باجی جان بوجھ کے مجھے اگنور کر رہی تھی باجی کے چہرے پر ہلکی سی شرم سے لالی صاف نظر آ رہی تھی باجی رات والی بات سے شرمندہ تھی 

 یہ دیکھ کر میری ہمت سی بندھی باجی اسوقت فل چادر میں تھی جس سے باجی نے خود کو ڈھانپ رکھا تھا میں باجی سے بات کرنے کا بہانے ڈھونڈ کر بولا باجی کی گل اے کیوں چپ چپ ایں باجی نے چونک کر مجھے دیکھے بغیر کہا کجھ وی نہیں ویکھ تے رہیا ایں کم کر رہی آں باجی کی بات میں زیادہ سختی نہیں تھی میں بولا باجی کوئی تے گل ہے باجی بولی شانی کجھ وی نہیں میں بولا باجی رات آلی گل تے ناراض تے نہیں باجی بولی نہیں میرے ناراض ہوون نال کی ہو جانا مجھے باجی کی بات پر پیار سا گیا میں ہنس دیا اور بولا باجی بہوں کجھ ہو جانا باجی نے مجھے آنکھ بھر کر دیکھا اور بولی توں کے بے حیا ہو گیا ہیں تیرے تے میری ناراضگی دا کی اثر ہونا میں بولا باجی میں کوئی تینوں فورس تے نہیں کر رہیا توں اپنی مرضی دی مالک ہیں باجی نے اپنا گلابی چہرہ۔میرہ طرف کیا اور بولی بھائی توں مینوں فورس کر وی نہوں سگدا میں بولا باجی میں کیوں فورس کرنا میں تے التجا ہی کر سگدا باجی نصرت بولی بھائی التجا کرن توں پہلے اے وی تے ویکھ تیرا میرا تعلق کی ہے میں تیری سکی بھین ہاں تے توں مینوں ایو جیاں فرمائشوں کردا پیا ایں جہڑیاں کوئی عام بازاری عورت نال وی نہیں کر سگدا کوئی میں باجی کی بات پر ہنس دیا اور بولا باجی بازار عورت نوں تے آکھن دی لوڑ ہی نہیں ہوندی اور تے تیار ہوندی بس آکھن دی دیر اے یہ بات سن کر باجی نصرت کا چہرہ لال ہو گیا اور وہ گہری آنکھیں اٹھا کر مجھے دیکھنے لگی جیسے اسے یہ بات چبھ سی گئی ہو باجی نصرت بولی بھائی وت اس دا مطلب توں مینوں وی بازاری لڑکی ہی سمجھیں ودا ایں جس نوں توں ہک واری آکھسیں تے اور تیری بات من جاسی باجی بات سن کر میرے ذہن میں شرارت آئی اور میں ہنس کر بولا اچھا باجی وت اس دا مطلب توں چاہندی ہیں کہ میں تینوں وت وت اکھاں تاں توں منسیں پر من جاسیں گئی، میری اس بات پر باجی نے چونک کر مجھے دیکھا جیسے باجی کے دل کو بات لگی ہو پر چہرے سے باجی نے ناگواری کا اظہار کیا شاید مجھے دکھانے کےلیے باجی نصرت کے چہرے سے ایک ہلکی سی مسکراہٹ اچھل رہی تھی جسے باجی نصرت دبانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی باجی بس مجھے دیکھ کر شرم سے لال ٹماٹر ہو گئی لیکن بول کچھ نا سکی اور مجھے ایک گہری نظر سے دیکھ کر منہ گھما کر کام کرنے لگی مجھے باجی نصرت کی گہری نشیلی آنکھوں میں ایک مستی سی نظر آئی جو پتا نہیں میرا وہم تھا یا سچی مچی تھی کیونکہ ایک بات تو تھی کہ باجی نصرت کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں تھی جو میری ان باتوں سے متاثر ہو جاتی باجی کے انداز سے پتا نہیں کیوں مجھے لگ رہا تھا باجی بھی چاہتی ہے پر باجی شرما رہی ہے میں نے باجی کو دیکھا اور بے اختیار میرا ہاتھ اٹھ گیا میں نے ہاتھ آگے کر باجی نصرت کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا جس سے باجی نے چونک کر مجھے دیکھا اور گھبرا سی گئی باجی کے چہرے پر ایک سوالیہ نشان ابھرا میں نے باجی کا ہاتھ اپنی طرف کھینچ کر دبایا باجی نصرت کے نرم ہاتھ کو محسوس کر کے میں مچل گیا باجی بھی سمجھ گئی جس سے باجی کے چہرے کے تاثرات بدل گئے اور باجی کا چہرہ لال سرخ ہو گیا باجی اپنا ہاتھ کھینچتی ہوئی بولی بھائی نا کر کی کروں ہیں پاگل ہو گیا ہیں باجی کا ہاتھ گھبراہٹ سے کانپنے لگا امیں نے دبا کر اپنی طرف کھینچ کر دبایا تو باجی میری طرف جھکتی چلی آئی جس سے باجی گھبراہٹ سے کانپتی ہوئی آواز میں بولی بھائی نا کر بھائی بہوں بے حیا ہو گیا ہیں باجی کا جسم کانپنے لگا اور باجی کا چہرہ ٹماٹر کی طرح سرخ ہو گیا باجی ہانپتی ہوئی آنکھیں بند کرکے کانپتی آواز میں مسلسل دھیمی آواز میں بولی بھائی کی ہوگیا ہئی ناں کر میں مر جاساؤں گئی باجی میرے کھینچنے سے میری طرف جھکتی چلی آئی میں باجی کی حالت سے بے قرار ہو گیا باجی کا سارا زور ختم ہو چکا تھا گھبراہٹ سے میں نے بے اختیار ہو کر منہ آگے کیا اور منہ کھول کر باجی کی گال چوم لی باجی کا نرم گال اپنے ہونٹوں میں محسوس کرکے میں مچل سا گیا باجی بھی اپنی گال پر میرے ہونٹ محسوس کر کے کراہ سی گئی باجی کے گلے میں تھوک کا گھونٹ پھنس گیا جس سے باجی کی آواز بند ہو گئی اور باجی تھر تھر کانپتی ہوئی چھڑوانے لگی میں ایک اور بار ہونٹ کھول کر باجی کی گال کو دبا کر چوس کر اپنی زبان نکال کر باجی کا گال پر زبان کی نوک پھیر کر باجی کی گال چاٹ لی جس سے میرے اندر سرور سے ایک مزے کی لہر میرے پورے جسم میں سرائیت کر گئی جس سے باجی سسک کر ذرا غصے سے بولی بھائی بے غیرتی دی حد ہے اور اپنا منہ پیچھے کھنچ لیا جس سے باجی کی گال میرے منہ سے نکل گئی باجی کو بھی مزہ تو آیا تھا باجی کا شرم سے لال چہرہ اور جھکی آنکھیں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں میں تو باجی نصرت کی گال کا لمس محسوس کرکے مچل سا گیا جس سے میری باجی پر گرفت ڈھیلی پڑی تو باجی نے بھی چھڑوا لیا باجی بے اختیار میرے سے الگ ہوگئی میں باجی کے گال کے خمار میں اتنا کھویا کہ مجھے باجی کے الگ ہونے کا پتا ہی نا چلا باجی پیچھے ہٹی ہی تھی کہ اتنے میں گیٹ کھلا اور امی اندر آگئی جس سے میں چونکا اور جلدی سے باجی کو چھوڑ دیا باجی کانپتی ہوئی پیچھے ہو کر اپنے سانس بحال کرتی خود کو سنبھالنے لگی تھی باجی کا سانس اتنا تیز چل رہا تھا کہ جیسے باجی دوڑ کر آئی ہو باجی نے کانپتے ہوئے پیچھے ہو کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر دبایا اور اپنا سر نیچے گھٹنوں میں دبا کر سانس کھینچ کر چھوڑا اور باجی نارمل ہونے لگی میں بھی باجی کے گال کے لمس سے کانپ رہا تھا گیٹ کی اواز سن کر میں بھی سنبھلنے لگا باجی سیدھی ہو کر اپنی گال سے تھوک جدی سے صاف کیا اور روٹی بنا کر مجھے دی باجی تو میری حرکت سے گھبرا گئی تھی امی اندر آئی تو باجی اٹھ گئی اور بولی امی چاہ پکا دے میں اندر جاؤ ہاں باجی نصرت نے اپنے انداز سے ذرا بھی شک نا ہونے دیا کہ کچھ ہوا ہے امی چائے پکانے لگی جبکہ میں باجی کے گال کے لمس میں ڈوب سا گیا باجی نصرت بھی کافی مہینوں سے شوہر سے روٹھی ہوئی تھی جس سے وہ بھی مرد سے دور تھی لیکن ایسا نہیں تھا کہ اس کا دل نا کرتا ہو بس وہ کنٹرول کرنا جانتی تھی آج میری حرکت نے اس کے اندر 

اس کے اندر چنگاری ضرور لگا دی تھی میں کھانا کھا کر کسی کام کو نکل گیا میں باجی کے بارے میں سوچنے لگا تو میرا دل ڈوب سا گیا میرے ذہن میں وہی منظر دوڑ گیا جب میں باجی کی گال کو چوما تھا مجھے لگا کہ ہو نہ ہو میں نے بہت غلط کیا ہے باجی کو یہ سب اچھا نہیں لگا ہوگا ہم جتنے بھی ایک دوسرے کے قریب تھے لیکن پھر بھی ایک بہن بھائی میں یہ سب ہونا ناممکن تھا میری اس حرکت سے باجی کو برا ضرور لگا ہوگا جس سے مجھے ندامت سی ہونے لگی کہ میں نے ایسا کیوں کیا مجھے باجی سے معافی مانگنی چاہیے یہ سوچ کر میں نے باجی کو سوری کا ڈائریکٹ میسج کر دیا کچھ دیر بعد باجی کا رپلائی آیا کیوں میں بولا میں نے کچھ زیادہ ہی غلط کر دیا آپ کے ساتھ باجی بولی بھائی مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی تم اتنے گر جاؤ گے مجھے اندازہ نہیں تھا تمہیں میرے اور اپنے رشتے کا بھی پاس نہیں رکھا تھوڑا بہت جو تھا میرا خیال تھا وہ تمہارے لیے کافی ہے لیکن تم اس دلدل میں گرنا چاہتے ہو تو گرو میں اب تمہیں کچھ نہیں کہوں گی میری طرف سے اجازت ہے بھاڑ میں جاؤ لیکن اب مجھ سے بات مت کرنا میں تمہاری کچھ نہیں لگتی باجی کی بات سن کر تو میرا دل ڈوب گیا میں باجی سے معافی مانگنے لگا باجی بولی بھائی تم نے کچھ غلط کیا ہی نہیں تو میں کیا معافی دوں تمہیں تمہیں جو چاہیے تم حاصل کرو مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں میرے تو پیروں نیچے سے زمین نکل چکی تھی کہ یہ کیا ہوگیا میں نے تو یہ سوچا بھی نہیں تھا باجی تو تھی بھی ٹھیک غلط تو میں نے بہت زیادہ کر دیا تھا جس کا خمیازہ اب یہ ہی بھگتنا تھا خیر میں نے باجی سے بڑی معافیاں مانگیں لیکن باجی اسوقت غصے میں تھی باجی نے مجھے کوئی رپلائی نا دیا میں مایوس گھر پہنچا تو باجی کا۔ رویہ میرے ساتھ وہ والا بالکل نہیں تھا جو پہلے ہوتا میں بڑا پریشان ہوا کہ کیا کروں دو دن اسی کشمکش میں گزر گئے میں اب آزاد تھا جہاں جانا چاہتا جا سکتا تھا لیکن باجی نصرت کے قریب ہو کر جس نئے مزے سے میں آشنا ہوا تھا اس کے بغیر اب میرا گزارہ نہیں تھا میں اب نئی سے نئی ترکیب سوچنے لگا کہ باجی کا اعتبار دوبارہ کیسے بحال کروں کوئی سمجھ نا آئی اس دوران کافی دن گزر گئے باجی مجھ سے بات تو کرنے لگی تھی لیکن وہ پہلے والی بات نہیں تھی شاید وہ بھی بھولنا چاہ رہی تھی میرا رویہ دیکھ کر اس کے بعد میں نے بھی باجی کو تنگ نہیں کیا اور نا کوئی فرمائش کی جب بھی باجی اکیلی ہوتی تو میں اس کی طرف جاتا ہی نہیں یا گھر سے نکل جاتا دوسری باجی بھی بڑی کشمکش میں تھی باجی کو لگے میرے ہاتھ اور اپنے گال پر میرے ہونٹوں کا بوسہ اور میری گرم زبان کا لمس بھول ہی نہیں رہا تھا باجی کافی دن سے شوہر سے الگ تھی پہلے تو وہ خود پر کنٹرول رکھے ہوئے تھی لیکن اب ہر گزرتا دن میری سلگائی ہوئی چنگاری آگ بن رہی تھی جس سے باجی بھی بے قابو سی ہو رہی تھی لیکن بہن بھائی کا یہ رشتی باجی کو بھی میرے قریب آنے سے روک رہا تھا باجی نصرت چاہ کر بھی کچھ نا کر پارہی تھی آخر کافی دن گزرنے کے بعد باجی اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ تھوڑا بہت جو چل رہا ہے اس میں تو کوئی حرج نہیں اس سے اور نہیں تو میری آگ بھی بجھ رہی ہے بہت سوچ وچار کے بعد باجی نے بھی فیصلہ کر لیا تھا رات کو میں اپنے کمرے میں بیٹھا تھا باجی کی بہت یاد آتا رہی تھی باجی کی پرانی تصویروں کو دیکھ کر خوش ہوتا رہا باجی کے جسم کا انگ انگ دیکھ کر مجھے پھر سے شیطان ورغلانے لگا میں نے بہت کوشش کی لیکن شیطان مجھ پر حاوی ہوچکا تھا میں نے باجی نصرت کا جسم دیکھ کر دبا کر مٹھ ماری جس سے میرا من کچھ ہلکا ہوا میں سوچنے لگا کہ مجھے ایک آدھ بار باجی کا جسم دیکھ کر مٹھ لگا لینی چاہیے انہی سوچوں میں گم تھا کہ فون پر میسج آیا دیکھا تو باجی کا تھا میں چونکا باجی کہ رہی تھی ابھی تک یہ کام نہیں چھوڑا تمہیں اجازت دے بھی دی تھی کہ جو مرضی کرو پھر بھی میں بولا باجی جب سے آپ نے روکا ہے میں نہیں گیا کہیں باجی بولی کیوں میں بولا باجی جب سے آپ کے قریب ہوا ہوں کسی کے پاس جانے کو دل نہیں کرتا باجی بولی بھائی بہت ہی بد تمیز ہو تم میں نے سوچا تم سدھر گئے ہو گے پر تم تو ویسے ہی ہو میں بولا باجی آپ نے ہی تو بگاڑا ہے اب میں کیسے سدھر سکتا ہوں باجی بولی بھائی تم سدھر و گے بھی نہیں باجی بولی بھائی چھوڑ دو یہ سب غلط کام میں بولا باجی کیا کروں آپ سے وعدہ کیا ہے توڑ نہیں سکتا لیکن رہ بھی نہیں سکتا اس لیے بس ایسا کرکے شیطان مار لیتا ہوں باجی بولی بھائی یہ سب سے زیادہ خطرناک ہے میں بولا باجی پھر آ سے کہا تو تھا میں بس آپ کا جسم محسوس کرکے خود کو ٹھنڈا کر لوں گا باجی بولی بھائی سو جاؤ اب دماغ نا کھاؤ باجی نے اس کے بعد کوئی رپلائی نہیں دیا میں بھی سو گیا اتوار کا دن تھا میں صبح صبح جاگا کھانا کھا کر میں بیٹھا تھا امی بولی شانی میں تے سعدیہ تیری ماسی ال جاؤ ہاں سانوں چھڈ آ میں اٹھا امی اور سعدیہ کو ماسی کے ہاں چھوڑ کر گھر کی طرف چل پڑا راستے میں کچھ دوست مل گئے تو ان کے پاس کھڑا ہو گیا باتوں میں وقت کا پتا نا چلا کافی دیر ہو گئی تو موبائل پر باجی کا میسج آیا بھائی کدھر رہ گئے ہو گھر نہیں آئے میں باجی کا میسج دیکھ کر چونکا کہ باجی کو کیا ہوا ہے میں بولا خیریت باجی باجی بولی بھائی گھر تو آؤ اور جلدی آؤ میں نے سوچا کہ پتا نہیں شاید کوئی کام ہو گا اس لیے میں گھر کی طرف چل پڑا گھر پہنچا تو سامنے باجی ٹوٹی پر کھڑی تھی باجی میری طرف گھومی تو سامنے کا منظر دیکھ کر میں چونک کر رہ گیا سامنے باجی نصرت میرے پسندیدہ لباس میں کھڑی تھی باجی نصرت نے اپنا کافی سینہ ننگا کیا ہوا تھا جس سے باجی کے مموں کی لکیر واضح نظر آ رہی تھی جبکہ باجی نے اپنے کندھے ننگے کرکے اپنی برا کی پٹیاں ننگی کرکے مجھے دیکھا رہی تھی باجی نے ایک گہری نظر مجھے دیکھا اور شرم سے لال منہ باجی کا نیچے جھک گیا باجی تھوڑی دیر تک مجھے اپنے جسم کا نظارہ کرواتی رہی میں باجی نصرت کی اس تبدیلی پر ہکا بکا تھا اور بڑے دنوں بعد باجی نصرت کو اس حالت میں دیکھ کر مچل بھی رہا تھا 

آج ایک عجیب سی تبدیلی بھی تھی کہ باجی نصرت کے ناک میں چمکتا کوکا باجی کے حسن پر کہر ڈھا رہا تھا میں تو مچل رہا تھا باجی کی آنکھیں مستی سے چھلک رہی تھیں جبکہ چہرہ شرم سے لال ہونے لگا باجی کچھ دیر ہی مجھے یہ سب دکھا سکی اور شرما کر جلدی سے اندر دوڑ گئی اور اپنا دروازہ بند کر لیا میں بھی باجی نصرت میں یہ تبدیلی دیکھ کر حیران ہو رہا تھا میں اندر گیا اور باجی نصرت کو میسج کیا باجی آج خیریت تو ہے اچانک آپ کو کیا ہوا باجی بولی بھائی تم پھل کھاؤ پیڑ کیوں گنتے ہو میں بولا باجی پھر بھی بتاؤ تو سہی کیا ہوا باجی بولی بھائی ایسے ہی رات تمہیں دیکھ کر تم پر ترس آگیا تھا میں نے سوچا کہ تم پر رحم کروں اور ہنس دی میں بھی ہنس دیا اور بولا باجی ویسے کہیں کہ آپ سے رہا نہیں گیا باجی نصرت بولی بھائی ایسی بھی کوئی بات نہیں میں بولا باجی ویسے ایک بات کہوں آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو ویسے خیر ہے آج کوکا ڈالا ہوا ہے باجی مسکرا دی اور بولی بھائی یہ مجھے نیا نیا پتا چلا ہے کہ عورت کا کوکا مرد کی کمزوری ہے ویسے کیسا لگ رہا ہے میں بولا باجی بہت ہی سیکسی باجی ہنس دی اور بولی بد تمیز بہنوں کو ایسا کہتے ہیں میں ہنس دیا میں سمجھ گیا تھا کہ باجی سے بھی رہا نہیں گیا میں بولا باجی اتنا رحم کیا ہے تو پھر ایک اور رحم بھی مجھ پر کر دیں باجی بولی کونسا میں بولا باجی اپنے پاس آنے دیں باجی بولی بھائی اتنا کافی نہیں میں بولا باجی پلیز صرف آپ کو باہوں میں بھر کر آپ کے جسم کا لمس محسوس کروں گا اور کچھ نہیں کرتا باجی کچھ نا بولی کچھ دیر تک تو باجی کا ریپلائے نہیں آیا میں مایوس ہوا باجی کا کچھ دیر بعد میسج آیا میں کی ن میں ہوں باجی کا میسج پڑھ کے میری تو خوشی سے باچھیں کھل گئیں اور میں انتظار نا کر سکا اور ایک منٹ میں کیچن میں پہنچ گیا سامنے باجی نصرت سنک پر ابھی تک ای حالت میں کھڑی تھی باجی کا منہ آگے کی طرف تھا میں باجی کو دیکھ کر پیچھے جا کھڑا ہوا اور بے قرار ہوکر ہاتھ پھیلا کر باجی کے پیٹ کے گرد لپیٹ کر باجی کو اپنی سینے سے بھینچ لیا باجی نصرت کے نرم گرم جسم کا لمس محسوس کرکے میں مزے سے مچل کر رہ گیا میرے جسم سے جسم لگتے ہی باجی کی سسکاری نکلی اور باجی مچل کر کانپ کر کرلا سی گئی میرے جسم کا لمس باجی کے اندر تک اتر کر باجی بے قرار کر گیا باجی ایک لمحے کےلیے کانپ سی گئی باجی کا سر ہوا میں اٹھ گیا اور باجی کی آنکھیں بند ہو گئیں میں باجی گانڈ۔ کو لن پر محسوس کر مچل ے لگا میرا لن فل تن کر باجی کی گانڈ میں چبھ گیا جس سے میں مچل گیا میری گرفت باجی نصرت کے جسم پر بے اختیار کس گئی میں بے اختیار آگے ہوکر باجی کے ننگے کندھوں پر ہونٹ رکھ کر دبا کر باجی نصرت کے کاندھوں کو چومتا ہوا باجی نصرت کی گرم پر اپنی زبان پھیرنے لگا باجی مزے سے مچل کر میرا ساتھ دینے لگی میرا لن باجی نصرت کی موٹی ماس سے بھری گانڈ میں چبھنے لگا میں باجی کی گردن چوستا باجی کی کان کی لو چوستا ہوا آگے منہ کر کے باجی نصرت کی گال کو ہونٹوں میں بھر کر دبا کر چوس لیا باجی نصرت کی نرم گال کو چوس کر میں مزے سے مچل گیا میری اور باجی نصرت کی اکھٹی کراہ نکل کر گونج گئی باجی نصرت میرا فل ساتھ دینے لگی تھی جیسے باجی خود بھی بے قرار تھی باجی اپنی گال میری منہ میں دبا کر چسواتی ہانتپی ہوئی آہیں بھرتی کراہ سی گئی میں باجی نصرت کے جسم سے اٹھتی گرمی سے مچل کر نڈھال ہو رہا تھا میں باجی کے منہ سے بھی مزے کی آہیں نکل کر گونج رہی تھی باجی تیز تیز سانس لیتی ہانپنے لگی تھی باجی نے اپنی گال بے قراری سے میرے ہونٹوں پر رگڑ کر مسلی جسے میں چوس کر مچل رہا تھا باجی کی گال سے نکلتا تھوک مجھے نڈھال کر رہا تھا میں رکے بغیر باجی کی گال کس کر چوستا باجی کی گال پر زبان دبا کر پھیرکر باجی نصرت کی گال کس کر چاٹ لی جس سے باجی اور میری مزے سے آہ نکل گئی میں مزے سے مچلتا کرا گیا میرا لن فل تن کر باجی کی گانڈ سے پھسلتا ہوا باجی نصرت کے چڈوں میں جا گھسا جسے باجی نصرت کے چڈے دبوچ چکے تھے باجی نصرت کے چڈوں کی گرمی میرے لن کا سانس بند کر رہی تھی جس سے میں مچل کر کراہتا ہوا باجی کی گال چوس رہا تھا باجی بھی مزے سے ہانپتی میرا ساتھ دے رہی تھی میں بے قراری سے باجی کا نرم پیٹ مسلتا ہوا بے قراری سے ہاتھ اوپر لے جا کر باجی نصرت کے نرم مموں کو اپنے ہاتھ میں دبا کر مسل دیا باجی نصرت کے تنے ہوئے نرم ممے میری جان ہی نکال گئے میں نے کراہ کر باجی نصرت کے مموں کو پوری شدت سے اپنے ہاتھوں میں مسل دیا جس سے باجی تڑپ کر کرلا کر کراہ گئی باجی کا منہ فل کھل چکا تھا اور باجی بری طرح ہانپ رہی تھی جس سے میری نظر باجی کے ناک پر پڑی تو باجی کا اچھلتا کوکا مجھے نڈھال کرنے لگا میں باجی کے اچھلتے کوکے کو دیکھ کر مچل گیا اور باجی کے کوکے کو دیکھتا بے اختیار باجی نصرت کے ممے دبا کر مسلتا ہلکے ہلکے دھکے مارتا اپنا لن باجی کے چڈوں میں مسلنے لگا باجی کے گرم چڈے میری جان کھینچتے میرے لن کو نڈھال کر رہے تھے باجی کے نرم موٹے ممے مشکل سے میرے ہاتھ میں آرہے تھے میں ممے مسلتا ہوا ہانپتی باجی کے اچھلتے کوکے کو دیکھا اور باجی کا گال چھوڑ کر باجی نصرت کے کوکے پر ہونٹ رکھ کر چوم۔لیا جس سے میرے اندر ایک مزے کی لہر اتر کر مجھے نڈھال کر گئی اور بے اختیار میں نے باجی نصرت کا کوکا ہونٹوں میں بھر کر دبا کر چوس لیا باجی کے کوکے سے نکلتی تھوک میرے اندر اتر کر مجھے نڈھال کر گئی میرے اندر سے کراہ نکل کر کوکے پر دبا گئی میرے باجی کے چڈوں میں لن کے گھسے مارنے کی سپیڈ تھوڑی تیز ہو گئی باجی بھی اب گانڈ ہلا کر میرا ساتھ دیتی اپنے چڈے میرے لن مسلنے لگی میں مزے کی بلندیوں پر باجی نصرت کے ممے دبا کر باجی نصرت کے کوکے کو کھینچ کر چوستا ہوا کھینچنے لگا جس سے باجی نصرت کی ایک مزے دار کراہ نکلی اور باجی کانپ کر آگے جھک گئی باجی کا جسم بری طرح کانپنے لگا باجی کی ہمت جواب دے رہی تھی باجی کے مموں کو مسلتے میرے ہاتھ باجی کو نڈھال کر رہے تھے باجی نے اپنا منہ پھیرا تو کوکا میرے منہ سے نکل گیا 

باجی نصرت نے منہ میری طرف کیا اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے جوڑ کر چوم لیے میں نے جلدی سے باجی کے ہونٹوں کو دبا کر چوس کر باجی کی زبان کھینچ کر چوس لی باجی کی کراہہیں نکل کر میرے منہ میں دبنے لگیں میں کراہ کر کرلا سا گیا باجی اور میں دونوں پیک پر پہنچ چکے تھے باجی کے گرم چڈے میرےلن کو مسل کر میری جان کھینچ رہے تھے باجی اپنی گانڈ ہلاتی میرا لن اپنے چڈوںمیں مسل کر میرے لن کو نڈھال کر رہی تھی میں بھی دھکے مارتا لن باجی نصرت کے چڈوں میں مسلتا نڈھال ہونے کے قریب تھا باجی نے مچل کر اپنی زبان کھنچ کی اور اپنے ہونٹ دبا کر میرے ہونٹ چوس کر میری زبان اپنے میں کھینچ کر چوستی ہوئی چتھ کر بکا سی گئی باجی کا جسم بری طرح کانپ کر تڑپا اور باجی کی ایک لمبی بکاٹ نکل کر میرے منہ دب گئی اور باجی نصرت کرلاتی پانی چھوڑتی آگے سنک پر جھکتی چلی گئی باجی کے گرم پانی نے میرا لن جلا کر رکھ دیا اور میں بھی کرلاٹیں مارتا باجی کے ممے دباتا ایک لمبی منی کی  پچکاری باجی نصرت کے چڈوں میں مارتا چھوٹتا ہوا باجی کے اوپر ڈھیر ہونے لگا باجی بھی بری طرح تڑپ کر کرلاتی ہوئی سنک پر آگے ڈھیر ہونے لگی میں باجی کے اوپر ڈھیر ہوتا چھوٹ رہا تھا میرا منہ باجی کس کر چوس رہی تھی جبکہ باجی کے موٹے ممے میرے ہاتھ میں کسے تھے باجی بری طرح ہانپتی سنک پر ڈھیر پڑی تھی میں باجی کے اوپر پڑا ہانپ رہا تھا ہم دونوں پانچ منٹ میں ایک دوسرے کو چوس چوس کر نڈھال کر چکے تھے باجی مزے سے نڈھال تھی باجی کو اتنا مزہ تو اپنے شوہر سے بھی نہیں ملا ہو گا جتنا مجھ سے ملا باجی فارغ ہو کر اپنا منہ میرے منہ سے کھینچ کر آگے اپنا منہ شرم سے اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا میں باجی کی حالت سے مسکرا گیا اور سمجھ گیا کہ باجی شرم سے اب لال ہورہی ہے میں اوپر اٹھ کر باجی کو چھوڑ دیا باجی جلدی سے اوپر ہوئی اور مجھے پیچھے دھکیل کر جلدی سے بھاگتی ہوئی کیچن سے نکل کر بھاگ کر کمرے میں چلی گئی میں باجی کو دیکھتا ہوا مسکراتا اپنے کمرے میں آکر بیڈ پر نڈھال ہو کر گر گیا جیسے میرے اندر سے ساری جان باجی نصرت کے چڈوں نے نکال لی ہو آج کا دن میرے لیے خاص ترین تھا جو میں چاہتا تھا وہ مجھے مل چکا تھا میں تو مزے کی ہواؤں میں تھا میں اتنا مست تھا کہ سوچتا سوچتا نا جانے کب میری آنکھ لگ گئی 





Source link

Leave a Comment