میں نے اپنا ٹاول اتار دیا اور نازی کے ساتھ چپک گیا اور نازی کی گردن پر پیار کرنے لگا۔ نازی بولی، “بھائی نہ کریں!” میں نے کہا، “تم بہت سیکسی ہو، Love you۔” نازی بولی، “میں آپ کی بہن ہوں۔” یہ سنتے ہی نازی میری طرف گھومی اور میرا لن نازی کی چوت کے ساتھ لگ گیا۔ میں نے اپنے ہونٹ نازی کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔ نازی کے ممے میرے سینے سے دبے ہوئے تھے اور میں نازی کے ہونٹ چوس رہا تھا۔ نازی وہیں گرم ہو گئی تھی۔ نازی نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے ہٹائے اور بولی، “بھائی یہ غلط ہے، مجھے چھوڑ دیں۔” میں بولا، “جان! کچھ غلط نہیں ہے، بس تم سیکس کا مزہ لو اور لائف کو انجوائے کرو۔” اور میں نازی کو اٹھا کر لاؤنج میں لے آیا۔
میں نازی کو اپنے ساتھ لپٹا کر پیار کرنے لگا۔ میں بولا، “جان! تم بھی شرٹ اور ٹراؤزر اتار دو۔” نازی بولی، “بھائی مجھے شرم آ رہی ہے۔” میں بولا، “دیکھو میں بھی تو تمہارے سامنے ننگا ہوں!” اور یہ کہہ کر میں اس سے الگ ہو کر کھڑا ہو گیا۔ نازی نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور بولی، “بھائی آپ بہت بے شرم ہیں۔” میں بولا، “نازی دیکھو تو!” نازی آنکھیں بند کر کے کھڑی تھی اور اس کا سانس تیز تیز چل رہا تھا جس کی وجہ سے نازی کے ممے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ نازی ابھی تک اپنے دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھے کھڑی تھی۔ میں آگے بڑھا اور لن کو چوت کے ساتھ ٹچ کر کے اس کو لپٹا لیا اور بولا، “نازی! اب شرمانا چھوڑو اور اپنے کپڑے اتار دو۔” نازی بولی، “بھائی ایسے ہی کر لیں؟” میں بولا، “نہیں جان! جب تک تم بھی پوری ننگی نہیں ہو گی۔”
نازی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑی تھی۔ میں آگے بڑھا اور نازی کی شرٹ اتار دی۔ نازی پنک بریزر میں میرے سامنے کھڑی تھی جس میں نازی کے ممے قید تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر نازی کا ہاتھ پکڑا اور لاؤنج میں نازی کی بریزر اتار کر نازی کے گورے اور ٹائٹ ممے دبانے لگا۔ نازی سسکی لیتے ہوئے بولی، “اوف! آہ! بھائی۔۔۔” اب میں نازی کا ٹراؤزر اتارنے لگا۔ نازی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ میں نے نازی کا ہاتھ ہٹا کر نازی کا ٹراؤزر نیچے کر دیا۔ نازی کی کنواری چوت، جو گیلی ہو گئی تھی، دعوتِ نظارہ دے رہی تھی۔ میں کھڑا ہوا اور نازی کی گیلی چوت کے ساتھ لن کو ٹچ کر کے نازی کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور نازی کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔
ہم دونوں سیکس کے مزے میں گم تھے۔ نازی اور میں ایک دوسرے کے ساتھ لیٹے ہوئے مزے کو انجوائے کر رہے تھے کہ اچانک بیل کی آواز نے ہم دونوں کو چونکا دیا کہ اس ٹائم کون آ گیا؟ گھڑی کی طرف دیکھا تو بارہ بج رہے تھے۔ بیل دوبارہ بجی تو ہم لوگوں کو ہوش آیا۔ میں جلدی سے اوپر اپنے روم کی طرف چلا گیا۔ نازی نے بھی جلدی سے ٹراؤزر اور شرٹ پہن لی اور گیٹ کھولنے چلی گئی۔
میں ننگا ہی روم میں آ گیا تھا۔ لن پورا جوش میں ٹن ٹن ہو رہا تھا لیکن موڈ آف ہو گیا کہ اس وقت کس نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ یہ سوچتے ہوئے میں باتھ روم میں گیا اور نازی کے نام کی مٹھ لگا کر، نہا کر فریش ہوا۔ کپڑے چینج کیے کہ اب نیچے جا کر دیکھوں کہ کون آیا تھا۔ نیچے آیا تو دیکھا ثانی لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ میں لاؤنج میں آیا تو ثانی نے سلام کیا۔ “بھائی آپ گئے نہیں؟” میں بولا، “بس ابھی جا رہا ہوں، اور تم کیسے جلدی آ گئیں؟” ثانی بولی، “بھائی آج کالج میں اسٹرائیک ہو گئی تو کلاسز آف ہو گئیں۔” میں اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے میں نے پوچھا، “نازی کہاں ہے؟” ثانی بولی، “آپی نہانے گئی ہیں۔” میں ٹی وی دیکھنے لگا کہ اچانک ثانی بولی، “اوہ!” میں نے اس کی طرف دیکھا۔ جہاں اس کی نظر تھی، میری نظر بھی اس کی نظر کے تعاقب میں گئی تو میں بھی پریشان ہو گیا۔ نیچے کارپٹ پر نازی کی پنک برا پڑی ہوئی تھی۔ میں نے ایک دم انجان بنتے ہوئے ٹی وی کی طرف توجہ کر لی جیسے میں نے کچھ دیکھا ہی نہیں۔ ثانی نے میری طرف دیکھتے ہوئے نازی کی برا اٹھا لی۔ میں ٹی وی دیکھنے میں مصروف رہا۔ ثانی نے برا اٹھائی اور روم میں چلی گئی۔ اب یہ ایک نئی مشکل کھڑی ہو گئی تھی۔ نازی جلدی میں برا اٹھانا بھول گئی تھی جو اب ثانی اٹھا کر روم میں لے گئی تھی۔ میں نے سوچا اب نازی ہی اس کو کلیئر کرے گی۔
تھوڑی دیر بعد نازی نہا کر آ گئی اور ثانی بھی چینج کر کے آ گئی۔ میری اور نازی کی نظریں ملیں لیکن مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ ثانی نے برا کے بارے میں پوچھا یا نہیں۔ نازی بولی، “بھائی کھانا لگا دوں؟” میں بولا، “ہاں لگا دو۔” ہم نے کھانا کھایا، اس دوران نازی اور ثانی نے کوئی بات نہیں کی۔ میں کھانا کھا کر گھر سے شاپ کی طرف نکل گیا اور سارے راستے یہی سوچتے ہوئے شاپ پر پہنچ گیا۔ دل اور دماغ میں یہی بات چلتی رہی۔ شاپ پر پہنچ کر کام میں مصروف ہو گیا۔ پانچ بجے تھوڑا فری ہوا تو پھر وہی بات میرے دماغ میں آ گئی۔ میں نے موبائل اٹھا کر نازی کو میسج کیا۔
میں: Hi نازی: جی بھائی؟ میں: کیا ہو رہا ہے؟ نازی: کام کر رہی ہوں۔ میں: ثانی کہاں ہے؟ نازی: ٹی وی دیکھ رہی ہے۔ میں: تم اپنی برا تو لاؤنج میں ہی بھول گئی تھی۔ نازی: بھائی! آج تو بچ گئے۔ ثانی نے برا لا کر دی اور بولی، “آپی! اپنی چیزوں کا خیال رکھا کریں، آپ کی برا لاؤنج میں پڑی تھی۔” بڑی مشکل سے بات بنائی۔ بھائی یہ آج آپ کو کیا ہو گیا تھا؟ میں: جان! ایک بھائی کو اپنی بہن سے پیار ہو گیا ہے۔ نازی: بھائی یہ کیسا پیار ہے کہ بہن کے کپڑے ہی اتار دیے؟ میں: نازی جان! اس پیار کا مزہ ہی الگ ہے۔ کیوں، تم کو اچھا نہیں لگا؟ نازی: بھائی پتا نہیں، مجھے تو سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ ایک دم سے کیا ہو گیا۔ میں: جان بس کچھ نہیں سوچو، I love you۔ نازی: بھائی یہ ‘جان’ نہ کریں، میرا موبائل کبھی کبھی ثانی بھی استعمال کر لیتی ہے۔ میں: جان! میسج ڈیلیٹ کر دینا۔ نازی: ٹھیک ہے، لیکن آپ بھی احتیاط کریں۔ اب میں کام کرنے جا رہی ہوں۔ میں: رات کو میسج پر بات کرو گی؟ نازی: نہیں بھائی، ثانی میرے ساتھ ہوتی ہے اس لیے رات کو مشکل ہے۔ میں: اچھا جان! لیکن میں تمہارے میسج کا انتظار کروں گا۔ نازی: اچھا دیکھوں گی، بائے۔
نازی سے پھر بات نہیں ہوئی۔ میں بھی شاپ پر مصروف ہو گیا۔ دس بجے شاپ بند کی اور گھر آ گیا۔ رات کا کھانا ہم سب ساتھ ہی کھاتے تھے۔ میں گھر آیا تو سب لوگ لاؤنج میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ امی ابو کو سلام کیا۔ ثانی بولی، “بھائی جلدی سے فریش ہو کر آئیں، بہت بھوک لگی ہے۔” میں بولا، “بس تم لوگ کھانا لگاؤ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔” میں اپنے روم میں آیا، شاور لیا اور چینج کر کے نیچے آ گیا۔ ٹیبل پر کھانا لگا ہوا تھا۔ میں نیچے آیا تو سب لوگ ٹیبل پر آ گئے۔ نازی اور ثانی میرے سامنے بیٹھی تھیں، میرے ساتھ امی تھیں۔ نازی کی طرف دیکھا تو نازی نارمل انداز میں کھانا کھا رہی تھی۔ کھانا کھاتے ہوئے ابو بولے، “کامی!” (گھر میں سب مجھے کامی کہتے ہیں) میں بولا، “جی ابو؟”
ابو بولے، “کامی! تمہاری پھوپھی کی بیٹی کی شادی کا کارڈ آیا ہے، اگلے ہفتے کو شادی ہے۔” میں بولا، “ابو میرا تو مشکل ہے، آپ کو تو پتا ہے شاپ بند نہیں کر سکتا، آپ لوگ چلے جائیں۔” ثانی بولی، “بھائی چلیں نا!”
The post گھریلو عشق ۔۔۔(قسط 2) appeared first on Urdu Stories.