آنٹی فارغ ہو کر پر سکون ہو گئی لیکن میں اسی سپیڈ سے لگا ہوا تھا میری سپیڈ نارمل تھی آنٹی نے جب مجھے اپنے اوپر گرایا تھا تو میرا لن ایک دم سے اس کی پھدی کے گہرائی میں اتر گیا مجھے اس نے زیادہ تیز گھسے مارنے سے قاصر کر دیا تھا لیکن جیسے ہی آنٹی کا جسم ڈھیلا ہوا اس کی گرفت مجھ پر ڈھیلی ہوئی میں نے ایک دم سے اپنی سپیڈ بڑھانا شروع کر دی میری سپیڈ جیسے جیسے تیز ہوتی جا رہی تھی آنٹی کے منہ سے درد بھری سسکاریاں نکلنے لگی تھیں۔۔
فارغ ہونے کی وجہ سے پھدی کافی زیادہ چکنی ہو گئی تھی لن آنٹی نہ نیم کنواری پھدی میں پھنس پھنس کر جا رہا تھا نیم کنواری اس لیے کہا کہ اب تو تقریباً سیل پیک ہی تھی اتنی ٹویٹ پھدی تو شاید کم ہی کسی کنواری پھدی کی ہو گی اور دوسری بات اس پھدی کو چدے ہوئے بھی کافی عرصہ ہو گیا تھا ۔۔۔
میں نے گھسے مارنے جاری رکھے درد آنٹی کی برداشت آزما رہا تھا اور میں حیران تھا کہ ابھی تک فارغ ہونے کے آثار دور دور تک نہیں لگ رہے تھے آنٹی نے اپنا ایک ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ لیا تھا مجھے روکنے کے لیے لیکن میں رکنے کی بجائے اور تیز ہو گیا تھا ۔۔۔۔
میں نے اپنے ہاتھوں سے آنٹی کی قمیض اوپر کی طرف اکٹھی کی تو آنٹی کے ممے دیکھ کر میں پاگل ہو گیا میں نے مموں کو بے دردی سےدبانا شروع کر دیا بڑے بڑے پنک سرپستان اور ان کے گرد ہلکا براؤن رنگ کا دائرہ اففف گورے چٹے غباروں کی طرح پھولے ہوئے ممے دیکھ کر ان پر لب چوسائی نہ کی جائے تو بے انصافی ہوتی۔۔۔
میں نے مموں کو دباتے ہوئے اپنا منہ ان تک پہنچایا لیکن اس سے پہلے آنٹی کی ٹانگوں کو فل کھول دیا اور اوپر لیٹا پھر اپنا منہ مموں کے درمیان کھائی نما کلیویج میں رکھ دیا وہاں سے دل کو لبھانے والی خوشبو آ رہی تھی اپنی زبان سے چاٹنے لگا آنٹی کے منہ سے درد کی سسکاریاں مزے میں بدلنے لگیں۔۔۔
دونوں ہاتھوں سے دونوں مموں کو دباتے ان کے درمیان میں زبان سے چاٹتے ہوئے بھی گھسے ماری جا رہا تھا لیکن اب گھسوں کی سپیڈ کم ہو گئی تھی میں منہ اٹھایا اور اپنی زبان ایک نپل پر رکھ کر گول گول گھمانے لگا آنٹی کا ہاتھ میرے سر پر آ گیا دوسرے کے نپل کو انگلیوں میں لے کر مسلنے لگا ۔۔۔
آنٹی تڑپنے لگ گئی میں بھی مزے میں ڈوبنے لگا جوش زیادہ بڑھ رہا تھا میں گھسے مارنے کی سپیڈ کم کر چکا تھا جس ممے کے نپل کر زبان پھیر رہا تھا اس کو منہ میں بھر لیا جتنا جا سکتا تھا لے گیا اور ہونٹوں سے دبادبا کر چوسنے لگا آنٹی کے منہ سے بے ربط آوازیں نکل رہی تھیں ۔۔۔
میں نے ابھی دو منٹ ہی ممے چوسے تھے کہ آنٹی نے میرا سر دبانا شروع کر دیا اور نیچے سے پھدی کو اٹھا اٹھا کر لن پر مارنے لگی میں اس عمل سے حد سے زیادہ جوش میں آگیا میں نے ممے کو منہ سے نکالا پیچھے ہوا مموں کو ہاتھوں کے نیچے رکھا اور لن کو زور زور سے گھسانے لگا۔۔۔۔
میرے ہر گھسے پر آنٹی کے چہرے پر درد نظر آتا لن نے آنٹی کی پھدی کے انجر پنجر ہلانا شروع کر دیا تھا ٹھپ ٹھپ کی آواز سے میرا جسم اس کے نازک جسم سے ٹکرا رہا تھا آنٹی کے گلے سے پھنسی پھسنی آواز نکل رہی تھی۔۔۔
میں ایسے ہی زور ذور سے گھسے مارنے جاری رکھے آنٹی کی آہ آہ اہ جاری رہی ایک وقت آیا کہ میں نے ممے چھوڑ کر اس کی ٹانگیں پکڑ کر اٹھا لیں آنٹی بھی جوش میں تھی میں تو پہلے ہی تھا مجھے لن پھدی میں گھسائے پندرہ منٹ ہو چکے تھے ۔۔۔
اسی سپیڈ سے گھسے مارتا رہا آنٹی کے ممے کر گھسے سے اس کی گردن تک جاتے اس کے چہرے پر درد کی لہریں دوڑ جاتیں آنکھیں بند کیے لیٹی لن کو پھدی میں برداشت کر رہی تھی۔۔۔
یکدم میں نے اتنے زور کے گھسے مارے کہ آنٹی اونچی آواز میں چیخیں مارنے لگی اس کا جسم اکڑ چکا تھا میرے لن کی رگیں بھی پھٹنے تک پہنچ چکی تھیں میرا سانس پھول چکا تھا میرے منہ سے ہمممم امممم کی آوازیں نکل رہی تھیں ۔۔۔
آنٹی کا جسم اکڑ رہا تھا میرے پورے جسم میں سرور کی لہریں دوڑ رہی تھیں کا مقام منزل لن تھا وہ سب لن کی طرف محو سفر تھیں جیسے جیسے میرا مزہ بڑھتا جا رہا تھا ویسے ویسے میری سپیڈ تیز ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
میرے گھسوں کی وجہ سے آنٹی کا سر کھسکتا ہوا بیڈ کی ٹیک کے ساتھ جا لگا تھا پھر ایک وقت آیا کہ میں اپنے ہواس کھونے لگا میں ہواوں میں اڑ رہا تھا میرا لن سن ہو رہا تھا سارے جسم کی گرمی لن میں جمع ہو گئی میں نے ایسے کی گھسے مارتے مارتے آنٹی کے اوپر لیٹنا شروع کر دیا ۔۔۔۔
دوسری طرف آنٹی نے پھدی سخت ہو گئی میں نے آخری چند گھسے ٹایٹ پھدی میں اتنے زور سے مارے کہ آنٹی کی آنکھوں سے پانی نکل آیا میں نے آخری گھسا فل زور سے مار کر لن کو پھدی کی آخری دیوار کے ساتھ جا لگایا اور اس کے اوپر گرتا گیا۔۔۔
ایک دم لن نے پھول کر سانس چھوڑا جس سے پانی کی برسات پھدی میں ہونے لگی آنٹی کا جسم ڈھیلا ہو گیا تھا میرا لن اکڑ اکڑ کر پانی چھوڑ رہا تھا جب لن سے منی نکلتی تو میرا پورا جسم کانپ جاتا ایسے ہی کوئی دو منٹ میں میں فارغ ہو گیا ۔۔۔۔
آنٹی کے اوپر کی ڈھیر ہو گیا آنٹی کے گال آنکھیں اس کی حالٹ کی عکاسی کر رہی تھیں آنٹی نے آنکھیں بند کر لیں میں اس کے اوپر سے ہٹا لن نکالنے لگا تو پھدی کر نظر پڑی پھدی کا بیڑا غرق ہو گیا پھدی اتنے زور سے بجائی تھی کہ وہ سوج گئی تھی۔۔۔
میں نے آنٹی کے چہرے پر نظر دوڑائی وہاں سکون کا راج تھا میں اٹھ کر آنٹی کے ساتھ لیٹ گیا آنٹی نے کروٹ بدلی اور میری طرف منہ کر لیا اور لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بولی تم اگر نہ ہوتے تو آج بھی میں نے اسی طرح گھٹ گھٹ کر رات گزار لینی تھی۔۔۔۔
میں مسکرا دیا آنٹی اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنی قمیض کو ٹھیک کرنے کی بجائے اتار دیا اور بیڈ سے اترنے لگی جیسے ہی کھڑی ہوئی اس کے منہ سے آآآہ کی آواز نکلی اور اس نے اپنی پھدی پر ہاتھ رکھ لیا چند سکینڈ بعد پھر سیدھی ہوئی لیکن میں تب تک موبائل نکال چکا تھا ۔۔۔
میں نے آنٹی کے کھڑے ہوتے ہوئے اس کی بیک سے تصویریں بنائیں اس کے بعد آنٹی نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور مسکرائی پھر تصویر بنا لی آنٹی چلتی ہوئی باہر گئی دو منٹ بعد واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں وہی شراب کی بوتل تھی۔۔۔
اس نے ایک طرف پڑے صوفے پر بیٹھتے ہوئے مجھے دیکھا اور کہا تصویریں بنا رہے ہو اتنی اچھی لگ رہی ہوں کیا میں نے کوئی جواب نہ دیا آنٹی نے اہنی ٹانگیں کھولیں ممے ہاتھ میں پکڑے اور اٹکتے ہوئے کہا اب بناؤ زیادہ اچھی آئے گی۔۔۔
آنٹی فل ٹلی ہو گئی تھی اس لیے وہ ایسا بول رہی تھی میں نے بھی اس کا فائدہ اٹھایا اور تصویریں بنانے لگا وہ اٹھ کر میرے پاس آئی پھر میرے سامنے بیٹھ گئی ۔۔۔
مجھے کھڑا ہونے کا کہا میں کھڑا ہوا اس نے میرا سویا مرجھایا ہوا لن ہاتھ میں پکڑ کر اوپر دیکھا میں نے پھر تصویر بنا لی۔۔۔
گلاس اس نے اپنے قریب ہی رکھا تھا اس نے گلاس اٹھایا اور پی گئی۔۔۔
کچھ دیر ایسے کی بونگیںاں مارتی رہی پھر ہوش سے بیگانہ ہو کر سو گئی میں نے اس کو ہلا جلا کر اس کے اوپر لیٹ کر ایسے جیسے پھدی میں لن گھسایا ہوا ہو تصویر بنائی بس اپنا چہرہ نہ آنے دیا ایسے کئی تصوریں بنائیں اور میں بھی وہاں ہی سو گیا۔۔۔۔
رات کا پتہ نہیں کونسا پہر تھا کہ میری آنکھ کھلی میرا لن ایک دم ٹائٹ تھا اپنی دائیں طرف دیکھا تو آنٹی میری طرف کمر کیے لیٹی تھی اس گانڈ کا نظارہ دیکھ کر میرا موڈ بن گیا لن تو ٹائٹ ہی تھا بس گھسانا تھا بس میں نے کروٹ بدلی اس کے پیچھے آیا ۔۔۔
اوپر والی ٹانگ کو کچھ آگے کی طرف کیا تھوڑا سا اس کو ایڈجسٹ کیا لن کے لیے رستہ بنایا گانڈ والی سائیڈ سے پھدی کر لن رکھا اس کی پھدی آگ کی طرح جل رہی تھی میرے لن کی ٹوپی جب پھدی کے لبوں میں گئی تو ایسا لگا جیسے کسی دہکتے تندور میں لن گھس گیا ہو۔۔۔
خود کی پوزیشن سیٹ کی لن کو پکڑ کر پھدی کے سوراخ پر رکھا اور دباؤ ڈالا ٹوپی اندر اتر گئی آنٹی کے جسم میں ہلچل سی ہوئی میں نے مزید دباؤ بڑھایا لن اندر اترنے لگا ایسے ہی لن جتنا اس پوزیشن میں کا سکتا تھا وہ اندر ہو گیا ۔۔۔
آنٹی کا جسم ایک دم اکڑ گیا اس نے سوئے ہوئے ہی کہا ہممم نہ کرو ایسے پیچھے نہ ڈالو درد ہوتا ہے جان آہ آہ نہیں کرو ناں پلیز ریحان جاگ رہا ہے وہ دیکھ کر کیا سوچے گا آآآہ جان بہت درد ہو رہی ہے میں آنٹی کی آواز سن کر رک چکا تھا لیکن آنٹی کی سیکسی آوازیں جاری تھیں ۔۔۔
پہلے تو میں سمجھا وہ جاگ گئی ہے لیکن جب اس نے ریحان کا نام لیا تو میں سمجھ گیا وہ نیند میں بڑبڑا رہی ہے اپنے شوہر نامدار سے گانڈ چدائی کو یاد کر رہی ہے میں نے لن پر دباؤ بڑھانا چھوڑ کر آہستہ آہستہ اگے پیچھے کرنا سٹارٹ کر دیا ۔۔۔
لن کچھ ہی دیر میں رواں ہو گیا لیکن پھدی کی گرمی نے جلد کی مجھے مزے کی انتہا پر پہنچا دیا پھدی خود تو جل رہی تھی میرے لن کی ٹوپی بھی جلنے لگی تھی میرے گھسے تیز ہو گئے میں نے گانڈ پر ہاتھ رکھ کر گھسے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔
میں جتنے تیز گھسے مار سکتا تھا مارنے لگا آنٹی کا ہاتھ خود بخود ہی گانڈ پر آگیا اس نے شاید نیند میں کی مزے لینے سٹارٹ کر دئیے تھے اسی لیے اس کی گانڈ پیچھے کو ہل رہی تھی۔۔۔
میں آگے کی طرف گھسا مارتا وہ پیچھے کو گانڈ دھکیلتی اسی طرح اس کی پھدی ٹائیٹ ہوئی وہ کچھ کی لمحوں میں فارغ ہو گئی میں بھی زیادہ دیر خود کو نہ روک سکا ایسے ہی فارغ ہو گیا۔۔۔
میں دو دن سے مسلسل پھدیاں وجا رہا تھا اس بار جب فارغ ہوا تو میرا سانس کافی ہھول چکا تھا لن بھی ہلکا ہلکا درد کرنے لگا تھا میں وہیں لن گھسائے آنٹی کو پیچھے سے جپھی ڈال کر سو گیا ۔۔۔
صبح جب آنکھ کھلی تو آنٹی کا ہاتھ میرے ہاتھ پر تھا اور میرا ہاتھ اس کے مموں پر تھا میں نے ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی تو آنٹی بولی اٹھ گئے ہو میں تو سمجھی آج کا دن بھی ایسے ہی گزار دو گے ۔۔۔
میں نے مسکراتے ہوئے ہاتھ ہٹایا گھڑی پر نظر ڈالی تو کافی ٹائم ہو چکا تھا میں جلدی سے اٹھا واش روم گھس گیا نہا کر نکلا تو آنٹی گیلے بال خشک کر رہی تھی اس کی آنکھوں میں رت جگے کی سرخی چمک رہی تھی اس نے شرابی نظروں سے مجھے دیکھا اور کہا تم نے میرا انجر پنجر ہلا دیا ہے۔۔۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا تم اتنے ظالم ہو میری حالت بگاڑ کر رکھ دی ہے میں مسکرانے کے علاوہ کچھ نہ کر سکا میں نے کنگھا اٹھایا اور بال بنانے لگا آنٹی نے کہا کدھر میں نے بتایا کہ کالج کا ٹائم ہو رہا ہے تو گھر جا کر ناشتہ کرکے کالج کے لیے تیار ہو کر نکلنا ہے آنٹی نے کہا لو جی اب میں ناشتہ بھی نہیں کروا سکتی جو اس طرح بغیر ناشتے کے جاؤ گے رکو آرام سے بیٹھو اور ہاں تمہیں کپڑے دیتی ہوں وہ پہن لو یہ اتار کر یہاں ہی رکھتے جاؤ۔۔۔
میں دھو کر پریس کرکے دے دوں گی اس نے مجھے ریحان کے کپڑے دئیے میں نے واضح طور پر دیکھا کہ آنٹی کو چلنے میں مشکل پیش آرہی ہے وہ ٹانگیں کھول کر چل رہی ہے اور پہلے کی طرح تیز تیز نہیں چل رہی۔۔۔۔۔
میں نے کپڑے لیے اور واش روم میں جا کر بدل لیے مجھے بڑے فٹ آئے جینز کی پینٹ اور ٹی شرٹ پہن کر میں نے خود آئینے میں دیکھا ایک دم فٹ لگ رہا تھا ویسے تو میں پینٹ شرٹ پہنتا تھا لیکن بس نارمل رینج کی ہوتی تھی برانڈڈ پہلی بار پہنی تو احساس ہوا کہ برانڈ برانڈ ہی ہوتا ہے۔۔۔۔
میں وہیں کھڑا تھا کہ آنٹی نے مجھے بلایا اور کہا موبائل چارج کر دیا ہے وہ بھی لے لو اور ہاں اس میں جو نمبر چل رہا ہے وہ نکال دو آنٹی نے ایک سم نکال کر موبائل میں ڈالی اور مجھے اس کا ممبر بھی بتایا ساتھ ہی مجھے سمجھایا کہ آج شام تک اس کی میسنگ بدل لو ۔۔۔
میں یہ سب سمجھ نہ سکا آنٹی ایسا کیوں کر رہی ہے میں سوچتا رہا آنٹی نے مجھے ناشتے کی میز پر آنے کا کہا آنٹی نے ناشتہ لگا دیا تھا ناشتہ کیا تھا انڈا جوس اور توس تھے ان سے میرے جیسے پینڈو کا پیٹ کب بھرتا تھا خیر جو بھی تھا وہ کیا اس کے بعد آنٹی نے مجھے گاڑی میں کالج چھوڑا جب کالج کے گیٹ پر اترا تو سب مجھے دیکھتے رہ گئے سالا شاہ پتہ نہیں کہاں سے ٹپک پڑا مجھے دیکھ کر عجیب عجیب اشارے کر رہا تھا ۔۔۔
آنٹی نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے مجھے بائے کیا بڑے انداز سے ہاتھ ہلایا میں نے بھی ہاتھ ہلایا وہ زن سے گاڑی بھگا لے گئی میں شاہ کے پاس گیا جاتے ہی اس کی ماں بہن ایک کر دی بہن چود دانت نکالتا رہا میں نے اس سے شاہد کا پوچھا تو پتہ چلا شاہد آج نہیں آیا۔۔۔
خیر ہم دونوں ہی کلاس میں چلے گئے وکی روٹین پنگے کا میرے بعد اکسوز می کہہ کر حاضری بولنا باقی لڑکوں کی مستیاں لیکن ایک بات میں نے نوٹ کی سب مجھ سے مرعوب ہو رہے تھے کچھ پہلے دو دن کے کارنامے اوپر سے آج کی ڈریسنگ نے بھی کمال کر دیا تھا۔۔۔
دوسرا لیکچر فری تھا میں نے سوچا لائبریری چلتے ہیں لیکن شاہ ضد کرکے کینٹین لے گیا میں نے آج کچھ بھی کھانے پینے سے انکار کر دیا اس کے باوجود میرے لیے چائے کے ساتھ مٹھائی آگئی اور ساتھ ہی ایک چٹ بھی آئی جس پر لکھا تھا آج بہت پیارے لگ رہے ہو۔۔۔
شاہ نے وہ خط نما پرچی پڑھ کر میرا مذاق اڑایا اور کہا واقعی یار تو آج ہیرو لگ رہا ہے سالے لوگ پتہ نہیں کیوں میری بنڈ کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ان کو تیری بنڈ نظر ہی نہیں آتی ۔۔۔
ہم ابھی باتیں ہی کر رہے تھے کہ فون کہ بیل بجی میں ایسے ہی بیٹھا رہا شاہ نے اپنی جیب میں ہاتھ مارا اور پھر بولا لوڑو تیرا فون بج رہا ہے پھر رک کر بولا فوووون اوہ وی تییییرا پھر بڑی نظروں سے مجھے دیکھ کر کہا بلو آ اک دن وچ کی کم پایا ای ۔۔۔
میں نے جیب سے فون نکالا تو سکرین پر عمائمہ کا نام چمک رہا تھا میں نے اٹھتے ہوئے فون ریسیو کیا کان سے لگایا اور ہیلو کہا تو دوسری طرف سے آنٹی کی آواز آئی کیا ہوا رہا ہے ڈسڑب تو نہیں کیا۔۔۔
میں نے کہا نہیں فری ہوں لیکچر خالی تھا اس لیے باہر بیٹھا ہوں خیریت تھی آنٹی نے کہا ایسے ہی سوچا فون کر لوں کہیں پہلی کال کسی اور کی نہ ہو میں ہی پہلا فون کروں تمہیں۔۔۔
ایسے ہی دو منٹ بات ہوئی میں واپس آیا تو شاہ پرچی ہاتھ میں پکڑے گہری سوچ میں تھا مجھے دیکھ کر کہنے لگا یار اگر تو اس گاڑی والی آنٹی کے چکر میں آگیا ہے تو اب کیا ہوگا یہ کہہ کر اس نے منہ لٹکا لیا اور بڑی افسردہ شکل بنا لی۔۔۔
میں نے اس کے ایک چپیڑ لگائی اور بولا سالیا کبھی تو انسانوں والی بات کر لیا کر اب نئی بکواس کر رہا ہے میں اس کو سمجھتا تھا اس لیے اس کے منہ بنانے کو سیریس نہ لیا ۔۔۔
اس نے ایسے ہی منہ لٹکائے ہوئے کہا یار بات وہ نہیں ہے جو تو سوچ رہا ہے میں تو سوچ رہا تھا اچھا خاصہ مفت میں سموسے پکوڑے مل رہے ہیں اگر تو اس آنٹی کے چکر میں پڑ گیا تو یہ سب بند ہو جانے ہیں اور آج تو یہ پرچی بھی آئی ہے اگر تو برا نہ منائے تو میں اوکے کر دوں اس کو۔۔۔۔
اس کے منہ سے ایسی بکواس سن کر میری ہنسی نکل گئی اور میں ہنستے ہوئے دوہرا ہوگیا سالا کیا چیز تھا اس کو اپنے مفت کے کھانے کی پڑی تھی اور اتنا سیریس منہ بنا لیا تھا جیسے پتہ نہیں کیا ہو گیا ہو۔۔۔۔
میں نے ایک بات نوٹ کی کہ وہاں موجود سب لڑکے مجھ سے مرعوب نظر آ رہے تھے اور مجھے سلام بلا رہے تھے اسی وقت کالج میں شور سا مچ گیا ہم بھی اٹھ کر باہر آئے تو کسی نے کالج کی بیل بجا دی۔۔۔
سب لڑکے باکر نکلنے لگے ہم بھی وہاں چلے گئے تو پتہ چلا کہ مونی گروپ کا کسی کے ساتھ جھگڑا ہو گیا ہے کسی پرائیویٹ کالج والوں کے ساتھ اور وہ سب کو لے کر جا رہے ہیں۔۔۔
مجھے بڑا عجیب لگا وہاں موجود کافی سارے لڑکے میری طرف دیکھ رہے تھے میں بھی چلتا ہوا رش کے درمیان گیا لیکن کوئی بات بنتی نظر نہ آئی تو میں قدرے اونچی جگہ پر کھڑا ہوا پھر اونچی آواز میں سب کو مخاطب کیا۔۔۔
ایک دم وہاں خاموشی چھا گئی کیونکہ میرے گلے کا سپیکر کافی اونچا تھا مجھے کالج میں آئے روز ہنگامہ آرائی اچھی نہیں لگ رہی تھی لڑکے گھر سے پڑھنے آتے تھے تو یہاں آ کر سیاسی تنظیموں کے آلا کار بن جاتے بڑا غلط ہو رہا تھا۔۔۔
جب سب لڑکے میری طرف متوجہ ہو گئے تو
میں نے با آواز بلند کہا سب بھائیو جو مجھ سے بڑے ہیں یا چھوٹے ہیں میں کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں وہ سن لیں اس کے بعد خود فیصلہ کرنا میں نے غلط کہا یا جو آپ کرنے جا رہے ہیں یا کرتے رہے ہیں وہ غلط ہے فیصلہ آپ کا ہوگا۔۔۔
دوستو ہم گھر سے یہاں پڑھنے آتے ہیں ہمارے ماں باپ بڑی امیدیں لگا کر ہمیں یہاں بھیجتے ہیں مجھے اس کالج میں آئے آج تیسرا دن ہے اور ان تین دنوں میں میں نے کالج میں پڑھائی والا ماحول بنتے نہیں دیکھا۔۔۔
میں نہیں جانتا یہاں ہمیشہ سے ایسا ہوتا آ رہا ہے یا ابھی ہو رہا ہے لیکن یہ جو کچھ بھی ہے میری نظر میں غلط ہے اگر کالج میں ہم پڑھیں گے نہیں تو ہمارا یہاں کام ہی بنتا ۔۔۔
ہم یہاں پڑھنے آتے ہیں کسی سیاسی تنظیم کے نمائندے بننے نہیں پہلے دن آیا تو میرے پاس کئی لوگ آئے ہماری تنظیم کا فارم فل کرو اور شامل ہو جاو یہ سب کیا ہے یہ تعلیمی ادارہ ہے یا سیاسی پارٹیوں کا اکھاڑا ۔۔۔
میرے بھائیو اگر آپ کا یہاں دل نہیں لگتا تو آپ جاؤ جو کرنا ہے وہ کرو لیکن جو پڑھنا چاہتے ہیں ان کو تنگ نہ کرو یہاں کئی ایسے لڑکے بھی ہوں گے جو صرف پڑھنے آتے ہیں یہاں کا ماحول دیکھ کر وہ بہت پریشان ہوں گے۔۔۔
کئی ایسے غریب بھی ہوں گے جن کے ماں باپ ان کو بڑی مشکل سے کالج بھیج دہے ہوں گے ان کی فیس جمع کروانے کے لیے کسی سے قرضہ لیا ہوگا ان کا خیال کریں ۔۔۔
ہمیں کسی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہئیے کالج کو کالج رہنے دیں سیاسی پارٹی کا دفتر ہرگز نہ بنائیں اور نہ خود کسی کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بنیں۔۔۔
اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے یہاں پڑھنا ہے اور پڑھ لکھ کر اچھا شہری بننا ہے یا ان سیاسی پارٹیوں کا کارندہ بن کر اپنے اوپر کئی قسم مقدمے کروا کر اشتہاری بننا ہے۔۔۔
میں چپ ہو چکا تھا لیکن وہاں موجود طالب علموں کو سانپ سونگھ گیا تھا پھر میرے سر کے اوپر سے تالیاں بجنا شروع ہوئیں میں نے یکدم اوپر دیکھا تو مجھے پتہ چلا میں جہاں کھڑا تھا وہ جگہ ماسٹرز ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیاں تھیں اور اوپر بالکونی میں لڑکیاں کھڑی تھیں ۔۔۔
تالیوں کی ابتدا لڑکیوں نے کی پھر کوئی دو منٹ تک تالیاں گونجتی رہیں پھر جب ایک قدرے بڑے میچور قسم کے لڑکے نے میرے برابر آ کر کھڑے ہوتے ہوئے سب کو ہاتھ کے اشارے سے روکا اور مجھے کہا ان کو کہیں اب کلاسوں میں جائیں ۔۔۔۔
میں نے ایک بار پھر سب کو مخاطب کیا اور کہا دوستو اب اگر آپ کلاسںوں میں جانا چاہتے ہیں تو کلاسوں میں جائیں اور اگر نہیں جانا چاہتے تو بھی آپ کی مرضی۔۔۔
میں ابھی بول ہی رہا تھا میری بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ اچانک ایک لڑکا بولا کوئی کلاس میں جا کر دکھائے پھر دیکھتا ہوں سب باہر جائیں گے ہمارے کالج کی عزت کا سوال ہے۔۔۔
میں نے اس کو جواب دینا مناسب نہ سمجھا بس اتنا ہی کہا جو لڑکے میرے ساتھ ہیں وہ ایک طرف ہو جائیں میں ہر مشکل میں ان کے ساتھ کھڑا ملوں گا کوئی بھی پریشانی ہوئی میں ان کا ساتھ دوں گا۔۔۔
جو جانا چاہتے ہیں وہ بھی جا سکتے ہیں کسی پر کوئی زور زبردستی نہیں ہے آپ کی زندگی ہے آپ کی سوچ ہے کو مرضی کرو میں کسی کو مجبور نہیں کر سکتا ہر کوئی اپنا فیصلہ خود کرے میں بس یہ چاہتا ہوں۔۔۔
آج کے بعد کسی کے ساتھ زور زبردستی نہیں ہو گی جو کوئی بھی کالج کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کرے گا اس کو ہم سب نے روکنا ہے تقریباً آدھے سے زیادہ لڑکے ایک طرف ہو گئے جو صرف پڑھنا چاہتے تھے۔۔۔۔
یہ بات ان کو کیسے ہضم ہو سکتی تھی وہی لڑکا آگے بڑھا دھکے دیتا بڑھے جارحانہ موڈ میں کئی لڑکوں کو دھکیلتا ہوا میرے سامنے آ گیا۔۔۔
میرے سامنے تو ایسے آیا جیسے آتے ہی مجھ پر پل دوڑے گا لیکن میرے سامنے آ کر مجھے گھورنے پر اکتفا کیا وہ مجھے گھورنے لگا پتہ نہیں مجھے کیا ہو گیا تھا میں ایسا تو کبھی بھی نہیں تھا اس طرح سے بولنے والا اس طرح سے تحمل سے کام لینے والا یہ سب کالج میں داخل ہوتے ہی شروع ہوا تھا جب کالج سے باہر نکلتا تو میں پھر سے وہی بلو ہو جاتا ہر لڑکی کو ایک پھدی کی نظر سے دیکھتا تھا۔۔۔
میرے اندر آنے والی یہ تبدیلی کی وجہ کیا تھی اس پر سوچنے کے لیے بہت وقت ہے وہ لڑکا جو میرے سامنے آ کر مجھے گھور رہا تھا ایک ہاتھ نہیں تھا مطلب لولا تھا اس کا ہاتھ چارا کاٹنے والے ٹوکے میں آیا تھا جس سے اس کے ہاتھ کی انگلیاں کٹ گئی تھیں ڈاکٹروں کی مہربانی سے وہ پورے ہاتھ سے محروم ہو گیا تھا۔۔۔
دریائی تھا ڈھیٹ ہڈ جوڑ کا تھا سخت جان تھا دماغ کا گرم تھا لیکن میرے سامنے آ کر اس کی بولتی بند ہو گئی اس نے مجھے غور سے دیکھتے ہوئے کہا اوئے میاں تو ایں میں کچھ نہ سمجھا کیوں کہ اس کو پہلی بار دیکھ رہا تھا میں نے اس کی طرف صرف دیکھتا رہا اس نے میرے قریب آ کر میرا سر دائیں بائیں کیا اور پھر کہا میاں ہاشم کیا لگتا ہے تمہارا۔۔۔۔
میں پہلے تو کچھ نہ سمجھ سکا پھر ایک دم یاد آیا وہ بھا ہاشم کا ذکر کر رہا تھا اب بھا ہاشم کو وہ کیسے جانتا تھا میرے لیے سمجھنا مشکل نہیں رہا تھا اس بندے کو دیکھ کر میں سمجھ گیا تھا اس سے پہلے جو کچھ ہوا میرے ساتھ سب میرے لیے بہت تھا۔۔۔۔
اس نے دھیرے سے میرے کان میں کہا یار ایسا نہ کرو الجھ جاؤ گے یہاں بڑے بڑے مگر مچھ ہیں جن کا پیٹ یہاں سے پلتا ہے وہ کبھی بھی تمہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے میں صرف مسکرایا اس نے کہا ہاشم کے بھائی ہو ۔؟؟۔ میں نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا پھر تم نہیں مانو گے ہاشم بھی ایسا ہی ہے جس بات پر اڑ جائے پیچھے نہیں ہٹتا دیکھو ابھی تو صرف میں ہوں یہاں جب سب لوگ آ جائیں گے پھر کس کس کو روکو گے سارے ہاشم کے دوست نہیں ہیں کئی اس کے دشمن بھی ہیں اور ایک ہمارے کالج کی روایت رہی ہے کہ ہم چاہے جتنے بھی دشمن ہوں جب بات کالج کی آجاتی ہے ہم سب ایک ہو جاتے ہیں۔۔۔
میں نے اس کو کہا کیا تم بتا سکتے ہو اس طرح پورا کالج بند کرکے وہاں جانے سے کیا ہوگا کیا اس سے کالج کی عزت بڑھ جائے گی یا کالج کا نام اونچا ہوگا اس طرح سے ایک دن پڑھنے والے بچوں کا بھی نقصان کرنا کہاں کا انصاف ہے کیا آپ جانتے ہیں ان کے ماں باپ کن امیدوں سے ان کو کالج بھیجتے ہیں۔۔۔
وہ چپ ہو گیا کیونکہ اس کو دیکھ کر ہی میں سمجھ گیا تھا وہ بھی ایک غریب گھرانے کا لڑکا ہے جو اپنے آپ کو کمی ذات سے دور کا ظاہر کرتا تھا میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا دیکھو بھائی میں نے کسی کو نہیں روکا بس یہ کہا ہے جو نہیں جانا چاہتا اس کو کوئی مجبور نہ کرے اور جو جانا چاہتا ہے اس پر کوئی پابندی نہیں اپنی مرضی سے جائے۔۔۔
اسی وقت ایک اور آواز میرے پاس سے ابھری جس نے کہا اب آپ میں سے جو اپنے لیکچر لینا چاہتا ہے وہ کلاس میں جائے اور جو ان کے ساتھ جانا چاہتا ہے وہ جائے کوئی ہنگامہ آرائی نہیں ہونی چاہئیے میں نے اپنی دائیں طرف سےابھرنے والی آواز کی سمت دیکھا تو ایک بڑی عمر کا لڑکا جو یقیناً گریجویشن کلاس کا طالب علم تھا کھڑا بول رہا تھا۔۔۔
وہ بول کر چپ ہوا لڑکوں میں ہل چل مچ گئی اس لڑکے نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا اچھی سوچ ہے اور بولنا بھی جانتے ہو لیکن اکیلے کچھ نہیں کر پاؤ گے اس پر ہم بات کریں گے میرا نام عاذب ہے اور میں بی اے فائن آرٹس کا سٹوڈنٹ ہوں پچھلے تین سال یہاں ہی گزارے ہیں آجاؤ بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔
میں شاہ اور عاذب چلتے ہوئے کینٹین کی طرف جانے لگے بہت کم لڑکے کلاسوں میں گئے تھے ان کے ساتھ جانے والوں کی تعداد زیادہ تھی عاذب نے چلتے ہوئے کہا ابھی بھی دیکھ لو اتنا بولنے کے بعد بھی وہ لوگ زیادہ ہیں جو کالج کا ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں اب ایک کام کرنا ہوگا سب سے پہلے ان کے نام نوٹ کر لو جو کلاسوں میں گئے ہیں کیونکہ وہ اب نشانے پر ہوں گے۔۔۔
میں مسکرایا اور بولا وہ بس اتنا کہہ دیں کہ ان کو بلو نے روکا تھا کوئی مائی کا لال ان لو ہاتھ نہیں لگائے گا اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور کہا کس دنیا میں رہتے کو یہاں آئے ہوئے کتنے دن ہوئے ہیں یہاں کوئی کسی کا دوست نہیں سب مایا ہے ۔۔۔۔
میں نے عاذب کی بات کاٹتے ہوئے کہا بھائی آپ کالج میں کتنے سال سے ہیں تین سال بتایا تھا نہ آپ نے ۔۔۔ اس نے ہاں میں سر ہلایا میں نے کہا پھر تو آپ پچھلے تین سال یہاں پر جو بھی رہا ہو گا سب کو جانتے ہوں گے۔۔۔
اس نے کہا ہاں سب کو جانتا ہوں میں ان میں جو سر فہرست ہیں ان کو تو بہت اچھی طرح جانتا ہوں صرف ایک بندہ ان تین سالوں میں ایسا گزرا ہے جو ان سب کا ساتھی ہونے کے باجود غلط کو غلط کی کہتا تھا اور ڈٹ جاتا تھا میں مسکرا کر اس کی طرف دیکھنے لگا اور رک گیا وہ ایک قدم آگے بڑھا پھر رک کر پیچھے دیکھنے لگا۔۔۔۔
پہلے سرسری سا دیکھا پھر بڑے غور سے دیکھنے لگا اور بولا کیا تم ہاشم کے بھائی ہو میں ہنسنے لگا اس نے مجھے گلے لگایا اور بولا وہ شیر تھا جب تک یہاں رہا کسی میں جرآت نہیں تھی کہ کسی کے ساتھ زیادتی کر سکے وہ جب تک رہا کسی تنظیم کا صدر نہ ہونے کے باوجود سب کو کنٹرول کرتا تھا۔۔۔۔
تمہیں دیکھ کر بھی مجھے ایسا ہی لگ رہا ہے لیکن تم کچھ زیادہ ہی تیز چل رہے ہو بغیر طاقت کے ایسا ممکن نہیں ہے میں نے کہا طاقت بھی مل جائے گی ویسے میں نہیں سمجھتا سچ بولنے کے لیے طاقت کی نہیں ہمت کی ضرورت ہوتی ہے لوگ ملتے جاتے ہیں قافلے بنتے جاتے ہیں۔۔۔
وہ مسکرانے لگا اور بولا کچھ نہیں اس نے میرا کندھا تھپتھپایا اور کہا آجاؤ کینٹین میں چلتے ہیں مجھے کوئی شک نہیں جو کام ہاشم ادھورا چھوڑ گیا تھا وہ تم پورا کرو گے اس کا ساتھ دینے والے لوگ نہیں تھے اس کے دوست اس کے ساتھ نہیں تھے بلکہ سیاسی پارٹی کے کارندے بن گئے تھے۔۔۔۔
میں تمہارے ساتھ ہوں اس کو مطلب یہ نہیں کہ میں ساتھ ہوں بلکہ یہاں کے بہت سے طالب علم تمہارے ساتھ ہیں ہر سال کالج میں الیکشن ہوتے ہیں کو نئی کلاسیں شروع ہونے کے ایک ماہ کے اندر اندر ہوتے ہیں جن میں کالج کا صدر چنا جاتا ہے ۔۔۔
پچھلا صدر میں تھا لیکن بس نام کا صدر تھا میں بس ڈمی تھا اس کے باوجود کالج میں کافی اہمیت تھی ابھی بھی جو کچھ لوگ مجھے جانتے ہیں وہ میری بات کو سمجھتے ہیں ۔۔۔
میں بس ہوں ہاں ہی کرتا جا رہا تھا ہم کینٹیں پہنچ گئے ہم ایک طرف میز پر بیٹھے ہمارے بیٹھتے ہی چائے اور اس کے ساتھ پیسٹری آگئی عاذب نے حیرانی سے میری طرف دیکھا میں مسکرا دیا اور کہا اگر آپ اس طرح چونکتے رہے تو پھر آپ کے لیے حیرانیاں ہی حیرانیاں ہوں گیں۔۔۔۔
اپنے آپ کو عادی بنا لیں ہر مقام پر جب آپ میرے ساتھ ہوں چونکنا بالکل نہیں وہ مسکرا دیا میں کینٹین والے کاونٹر کی طرف دیکھ رہا تھا آج اس وقت کینٹین میں کچھ لڑکیاں بھی موجود تھیں اس لیے میں چونک گیا تھا۔۔۔۔
جب ایک نقاب پوش لڑکی نے میری طرف دیکھتے ہوئے وہاں موجود لڑکے سے کچھ کہا میں غور سے دیکھنے لگا اس لڑکے نے مجھے دیکھا پھر اس سے بات کرنے لگا فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے میں بات تو نہ سن سکا لیکن مجھے نہ جانے کیوں شک ہو گیا کہ یہ وہی کے جس کے آرڈر سے ہمیں فری میں سب کچھ مل رہا ہے۔۔۔
وہ لڑکی باقی لڑکیوں کے ساتھ جانے لگی عاذب نے مجھے اس طرف دیکھتا پایا تو بولا کیا ہو گیا ہے وہاں شاہ نے کہا کچھ نہیں بھائی اس کو بس عادت ہے جہاں ایک بار نظر ٹک جائے وہیں جم جاتی ہے یہ عادت سے مجبور ہے ۔۔۔
شاہ مزید بولا بھائی ایک اور بات بلو میں کچھ اور عادتیں بھی ایسی ہیں جن کو دیکھ کر آپ پریشان نہ کو جانا۔۔۔۔
سالا شاہ کسی اور طرف بات کو لے جا رہا تھا میں نے کہا چل بس کر تو اپنی بکواس کی دوکان یہاں بھی کھول کر بیٹھ گیا شاہ بولا اتنی دیر سے چپ تھا میرے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں میں زیادہ دیر چپ نہیں رہ سکتا ۔۔۔
عاذب کھل کر ہنسا میں نے کہا یہ مروڑ پیٹ میں نہیں اٹھ نہیں اور درد ہو رہا ہے رات کسی کو خوب مزے کیے ہوں گے اس لیے اب وہ سب مال نکلنے کے تنگ کر رہا ہوگا تو گھر سے ہلکا ہو کر کیوں نہیں آتا۔۔۔۔
ہم باتیں ہی کر رہے تھے کہ چاہے ٹھنڈی ہونے کی دہائی کسی نے دی میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو شاہد اور اس کے ساتھ بلی آنکھوں والا ایک لڑکا کھڑا تھا میں اٹھ کر شاہد سے گلے ملا اور دوسرے لڑکے سے بھی گلے ملا ۔۔۔
شاہد نے اس سے تعارف کروایا کہ یہ اس کا دوست ناصر بلی ہے بلی اس کے نام کے ساتھ اس کی بلی آنکھوں کی وجہ سے لگا تھا یہ انکھیں اس کے اندر کے شیطان کو اجاگر کرتی تھیں اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
میں نے شاہد کا عاذب سے اور ناصر کا شاہ شاہ سے بھی تعارف کروایا جب شاہد میرے بارے میں ناصر کو بتانے لگا تو اس نے کہا اس کا تعارف رہنے دو میں سمجھ گیا یہ وہی ہے جس کی تعریف میں تم نے سارا رستہ میرے کان کھائے ہیں اور گاؤں میں کل کچھ لڑکوں سے بھی باتیں سنی ہیں۔۔۔
میں ہنسنے لگ گیا شاہ کی بنڈ کو سکون نہیں تھا اس نے پوچھا اور میری کوئی تعریف نہیں کی اس نے شاہد نے ترقی با ترقی جواب دیا بہت تعریف کی ہے لیکن تمہاری نہیں کی۔۔۔
میں نے لقمہ دیا اہندی نہیں اہندی ڈگی کی تعریف کیتی ہونی اے عاذب کا ہسنتے ہوئے برا حال ہو گیا وہ اتنا ہنسا کہ اس کو دیکھ کر ناصر نے کہا یار بس کر کہیں کوئی پاگل سمجھ کر مینٹل ہسپتال والوں کو ہی نہ بلا لے۔۔۔۔
شاہ نے بولنا چاہا تو شاہد نے کہا یار چپ کر کوئی کم دی گل وی کر لین دیا کر شاہ چپ ہو گیا عاذب بھی سیریس ہو گیا تو شاہد نے پوچھا آج سارے کالج کے لڑکے سٹیڈیم کی طرف کیا کرنے جا رہے ہیں۔۔۔
ہم نے وہاں جا کر پتہ کیا تو ہمیں پتہ چلا کہ تم لوگ نہیں گئے بلکہ اور لڑکوں کو بھی روک لیا ہے یہ سارا کیا سین ہے وہاں عابد باکسر اور مانی اکٹھے کھڑے تھے کوئی زیادہ ہی ماحول گرم ہے۔۔۔
شاہد کو عاذب نے ساری بات بتائی شاہد غور سے سنتا رہا ناصر بھی یہ سب سن کر بولا یار یہاں یہ سب ہی ہوتا ہے میں جانتا ہوں اس لیے تو آج آیا ہوں پہلے دو دن نہیں آیا لیکن میں نے جو سنا تھا یہاں کے بارے میں کہ جو ان کی بات نہیں مانتا اس کو مارتے ہیں وغیرہ وغیرہ کیا یہ سب سچ ہے ۔۔۔
عاذب نے ہی اس کو بتایا کہ بالکل سچ ہے اب جو دو گروپ ہیں ان میں مانی گروپ جو ہے وہ ایسا کرتا ہے عابد باکسر والا گروپ تھوڑا سلجھا ہوا ہے کیونکہ عابد ایک اچھا لڑکا ہے اس کے ساتھ سارے لڑکے اسی کالج میں پڑھنے والے ہی ہیں جب کہ مانی خود کالج کا سٹوڈنٹ نہیں ہے اور اس کے ساتھ جو لڑکے ہیں ان میں بھی کافی زیادہ کالج کے نہیں ہیں اس لیے ان کو کوئی فکر نہیں ہے۔۔۔
میں نے عاذب سے ساری تفصیل جانی کہ کون کون کالج کا سٹوڈنٹ ہے کون نہیں ہے میں سب کچھ سن کر حیران رہ گیا کہ یہاں کالج میں ایسے بھی لڑکے آتے ہیں جو مختلف جرائم میں ملوث ہیں ان کو لانے والا مانی کا گروپ ہے ان کو ایک مقامی سیاستدان کا تعاون حاصل ہے۔۔۔
شاہد اور ناصر نے کہا یار اس کے لیے تو ہمیں کالج انتظامیہ کی مدد کی ضرورت پڑے گی ہو سکتا ہے کالج انتظامیہ بھی ان کے سامنے بے بس ہو یہ جاننا بھی ضروری ہے اگر ہم کالج کے سٹوڈنٹس مل جائیں تو کوئی باہر کا لڑکا یہاں نہیں آ سکتا۔۔۔
میں سب سنتا رہا عاذب ہنستا رہا جب شاہد اور ناصر نے اپنی اپنی بات مکمل کر لی تو وہ بولا آپ لوگوں کو کیا لگتا ہے یہ سب ہو جائے گا میری بات سنیں یہاں جو پرنسپل اب ہے اس نے آتے ہی یہ سب کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوا عابد باکسر کو کی وہ سمجھانے میں ناکام رہا۔۔۔
عابد وہ واحد لڑکا ہے جو پوری ڈویژن کا چمپئین ہونے کے ساتھ ساتھ پنجاب لیول پر بھی کھیل چکا ہے اس کا نام ایسے کی باکسر نہیں ہے وہ سچ میں باکسنگ کا کھلاڑی ہے اس کو بھی یہاں کے ماحول نے بگاڑ دیا ہے۔۔۔
ہمیں باتیں کرتے ہوئے کافی وقت ہو گیا تھا ہمیں اپنے لیکچرز کا بھی خیال نہ رہا ہم اٹھے اور اپنے لیکچر میں جانے کی تیاری کرنے لگے جیسے ہی ہم کینٹین سے نکلے تو کالج میں لڑکے داخل ہونا شروع ہو گئے۔۔۔
عاذب نے مجھے بازو سے پکڑ کر ایک طرف کر لیا شاہد بھی میرے ساتھ ہی رک گیا تھا لیکن شاہ آگے آگے چلتا گیا ناصر میں اور شاہ ،عاذب کھڑے تھے سب لڑکے ہماری طرف بڑھ رہے تھے عاذب کی گرفت ان کو بڑھتا دیکھ کر میرے بازو پر سخت ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
میں بھی اتنے لڑکوں کو دیکھ کر اندر سے ڈر گیا تھا وہ جیسے جیسے قریب آ رہے تھے ان کی سپیڈ کم ہوتی جا رہی تھی وہ ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے گراؤنڈ میں جانے لگے عاذب نے سکون کا سانس لیا اور میرا بازو چھوڑ دیا ۔۔۔
ان کے پیچھے پیچھے عابد باکسر بھی تھا یہ سارا گروپ عابد باکسر کا تھا جتنے لڑکے گئے تھے یہ ان کا تیسرا حصہ تھا جو واپس آئے تھے باقی لگتا تھا غائب ہو گئے تھے عابد میرے سامنے آ کر رکا مجھ سے ہاتھ ملایا اور پھر ملتے کہتا ہوا آگے بڑھ گیا۔۔۔
ہم بھی وہاں سے آگے بڑھ گئے عاذب اپنے لیکچر میں چلا گیا ہمارا یہ لیکچر فری تھا پچھلا ہم نے مس کر دیا ہم باہر آئے تو پتہ چلا کہ عابد باکسر نے کالج میں الیکشن کی کمپین کے سلسلے میں سب مشورہ لیا ہے اور ووٹنگ کے ذریعے صدر کے لیے کس کا نام دیا جائے فیصلہ کروانے کا کہا ہے اس لیے سب کے سامنے کچھ نام رکھے جائیں گے جو بعد میں بتانے کا کہا۔۔۔
عابد باکسر جب وہاں سے فارغ ہوا تو ہم لوگ اس کے پاس گئے اور اس سے میں نے کہا یار کچھ باتیں ہیں جو کرنا چاہتا ہوں اس کے لیے کچھ وقت چاہئیے اگر ہو سکے تو مجھے تھوڑا ٹائم دو۔۔۔
عابد نے کہا تو یار ہے جب چاہو ہم بات کر لیتے ہیں اگر ابھی فری ہو تو ابھی کر لیتے ہیں وہ ہم لوگوں کو ساتھ لے کر ایک کمرے میں آگیا میرے لیے یہ بھی ایک جھٹکا تھا کیونکہ جس کمرے میں وہ لایا تھا وہ ایک دفتر تھا۔۔۔
ہم وہاں بیٹھ گئے ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد میں اصل مدے پر آیا میں نے کہا عابد یار مجھے تین دن ہوئے ہیں ان تین دنوں میں یہاں جو کچھ ہوا میں دیکھ کر بہت پریشان ہو گیا ہوں یہاں اگر ایسا ہی چلتا ہے تو یہ بند ہونا چاہئیے۔۔۔
یہ کالج ہے یار پڑھائی کی جگہ ہے یہاں لڑکے پڑھنے آتے ہیں لیکن یہاں کا جو ماحول بن چکا ہے اس میں پڑھائی کیسے ممکن ہے اور ایک بات میرے لیے حیران کن ہے کہ یہاں وہ لڑکے بھی ایسے ہی آ جاتے ہیں جو کالج کے نہیں ہیں۔۔۔
عابد میری باتیں سن رہا تھا اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اس لیے میں چپ کر گیا اس نے کہا دیکھو جہاں تک بات ہے کالج کے ماحول کی تو یہ کام کالج انتظامیہ کا ہے اگر وہ چاہے تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے سارے آوٹ سائیڈر بھی کالج سے نکل سکتے ہیں ۔۔۔
اب انتظامیہ کو کیوں یہ نہیں کر پا رہی تو وہ بھی مجھ سے ہی سن لو یہاں کے سٹوڈنٹس ہی ایسا نہیں چاہتے جب بھی کالج انتظامیہ کچھ کرنے لگتی ہے تو یہ سب بیچ میں آ جاتے ہیں ۔۔۔۔
جیسے پچھلی بار جب الیکشن ہوا تو میں الیکشن میں کھڑا ہوا میرے مقابلے میں کالج کا کوئی لڑکا نہیں تھا میں بلامقابلہ جیت گیا جب کہ دوسری طرف اوپر کہ سیاست چل رہی تھی یہاں ایک سیاسی پارٹی نے اپنا صدر مانی کو بنا دیا۔۔۔
جب ایسا ہوا تو دوسری سیاسی پارٹی نے مجھ سے رابطہ کیا کیونکہ میں الیکشن جیت گیا تھا تو صدر مجھے ہونا چاہئیے تھا میں نے ان کی بات مان لی لیکن مجھے بعد میں پتہ چلا اندر کھاتے دونوں پارٹیوں کو چلانے والے ملے ہوئے ہیں ۔۔۔
اب ایک بار پھر الیکشن ہونے والے ہیں اب ایک بار پھر کوشش کر لیتے ہیں لیکن یہ سب اس وقت ممکن ہے جب سیاستدانوں کا اثرورسوخ ختم ہو جائے ناصر نے کہا اس کا ایک حل ہےاگر ہم کالج کے لڑکوں کو اس بات پر متفق کر لیں کہ کسی آوٹ سائڈر کی بات نہ مانیں بلکہ ان کو مار بھگائیں تو میرا خیال ہے ہم کامیاب ہو جائیں گے۔۔۔
عابد نے کہا ایسا کرکے بھی دیکھ لیتے ہیں اس کے لیے پہلے کالج کے گیٹ پر سکیورٹی بڑھانی پڑے گی اور کالج کا یونیفارم بھی سب کو پہننا پڑے گا یونیفارم کا ذکر سن کر ہم چونک گئے ہم تقریباً یک آواز ہو کر کہا یونیفارم عابد مسکرایا ہاں جی یونیفارم بھی ہے کالج کا جو کوئی نہیں پہنتا۔۔۔
میں نے کہا تو ٹھیک ہے ہم آج ہی بلکہ ابھی پرنسپل صاحب سے ملتے ہیں ان سے ساری بات ڈسکس کرتے ہیں ہمارے نزدیک تم ہی کالج کے صدر ہو اس لیے ہماری قیادت بھی تمہیں ہی کرنی ہو گی وہ اٹھا اور ہم دو منٹ میں پرنسپل صاحب کے دفتر کے باہر تھے۔۔۔
وہاں موجود چپڑاسی کو عابد نے بتایا کہ ہم ان سے ملنا چاہتے ہیں جا کر بتاو کہ عابد باکسر اور اس کے کچھ ساتھی ملنا چاہتے ہیں ایک منٹ بعد ہی ہمیں اندر بلا لیا گیا پرنسپل کو آج میں پہلی بار دیکھ رہا تھا ایک پر اثر شخصیت کے مالک تھے میں ان کو دیکھ کر مرعوب ہو گیا۔۔۔
عابد نے ساری بات ان کے گوش گزار کی انہوں نے بڑے غور سے ہماری بات سنی اور کہا میں بھی تو یہ کی چاہتا ہوں ساری ڈویژن میں ہمارا کالج بدنام ہے صرف ان لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے اگر یہ سب رک جائے تو ایک اچھا ماحول بن جائے گا اور بچے یہاں سے کچھ اچھا سیکھ کر جائیں گے۔۔۔
انہوں نے ہم سے وعدہ کہا کہ وہ ہمارا بھرپور ساتھ دیں گے اس کے لیے انہوں نے ایک کمیٹی بھی بنانے کا کہا جس کے سلسلے میں ہمیں کیمسٹری کے پروفیسر پرویز صاحب سے ملوایا ان کے ذمہ سب کچھ لگا دیا اور عابد کو کہا کالج کا صدر ہونے کے ناطے یہاں کے سٹوڈنٹس کے معاملات کو سنبھالنا تمہاری ذمہ داری ہے ۔۔۔
پروفیسر صاحب نے کالج کے کچھ سئنیر سٹوڈنٹس کو اکٹھا کرکے کمیٹییاں بنائیں جن کے ذمہ الگ الگ کام لگائے ان کا سربراہ ایک ایک پروفیسر کو بنایا اس ہمارا باقی کا سارہ وقت انہیں کاموں میں گزر گیا مجھے جس کمیٹی کا حصہ بنایا گیا اس کا کام تھا لڑکوں کو سمجھانا کہ کسی غیر متعلقہ لڑکے یا آدمی کو کالج کے دفاتر کے علاوہ کہیں نہ آنے دیں جو بھی معاملہ ہو مل جل کر حل کریں ۔۔۔
عاذب ایک الگ کمیٹی کا حصہ بنا میرے ساتھ شاہد ناصر شاہ ضد کرکے شامل ہوئے کر گروپ میں پانچ لڑکے تھے لیکن ہم صرف چار تھے ہمارے ساتھ جس پانچویں لڑکے کو شامل کیا گیا وہ بی اے طالب علم اور ایک مقرر تھا تقریباً ہر گروپ میں کی ایسے لڑکے رکھے گئے تھے عابد کی ذمہ داری تھی سب کو ہدایات دینا اور کالج میں ہونے والے لڑائی جھگڑے روکنا اور ان کا سدباب کرنا۔۔۔۔
کالج کی چھٹی کا وقت ہوا تو وہاں نوٹس بورڈ اور کالج گیٹ پر نوٹس لگ چکے تھے جن میں واضح ہدایات تھیں کہ کوئی بھی لڑکا بغیر یونیفارم کے کالج نہیں آئے گا ورنہ اس کو کالج میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا اور جس کو کالج میں کوئی کام ہو وہ سیدھا ایڈمن آفس سے رابطہ کریں ان کے لیے بھی اوقاتِ کار مقرر کر دئیے گئے۔۔۔
ان میں ایک یہ بات بھی درج تھی کہ کالج کا ایک وقت ہو گا جس میں سب بچوں کو حاضر ہونا پڑے گا اس کے بعد گیٹ بند کر دیا جائے گا یہ سب دیکھ لڑکوں کے چہرے اتر گئے کچھ بہت خوش ہوئے لیکن خوش ہونے والوں کی تعداد بہت کم تھی ۔۔۔
میں کالج سے گھر آیا نہا کر فریش ہوا کھانا کھایا اور سو گیا آج سے مجھے دوبارہ ٹیوشن بھی جانا تھا اتنے دن سے نہیں گیا تھا ابا جی کئی دفعہ کہہ چکے تھے ۔۔۔
جب سو کر اٹھا تو ٹیوشن کا وقت ٹائم ہو چکا تھا جلدی سے نہایا ابا جی یونیفارم کا بتایا ان سے پیسے لیے اور چلا گیا ٹیوشن گیا تو دیکھا وہاں شاہ بھی اکیڈمی میں تھا ایک نئی اکیڈمی تھی میرا آک وہاں پہلا دن تھا ۔۔۔
جب شاہ کو دیکھا تو میں اس کے پاس چلا گیا اس نے مجھے بتایا کہ یہاں کے سربراہ پرویز صاحب ہیں کیمسٹری والے کافی ہنس مکھ اور اصولوں کے پکے آدمی تھے وہاں تقریباً سب ہی مجھے جانتے تھے کیونکہ زیادہ لڑکے ہمارے ہی کالج کے تھے۔۔۔
پروفیسر پرویز صاحب آئے ان سے ملا ان کو بتایا کہ میرے اباجی کی آپ سے بات ہوئی تھی ان کو جب نام بتایا تو وہ بڑے خوش ہوئے اباجی کے اچھے جاننے والے تھے انہوں نے مجھے کلاس میں بٹھایا اور ساتھ ہی وہاں موجود استاد کو کہا یہ ریما ہے اس کا خیال رکھنا ۔۔۔۔
میں نے حیران ہوتے ہوئے ان کی طرف دیکھا وہ ہنس رہے تھے وہ ایسے ہی لڑکوں کے نام لیتے تھے جیسے شاہ کو پٹولہ ایک اور لڑکا تھا اس کو جلم (خون چوسنے والا کیڑا) کہتے تھے۔۔۔