وہ جھک کر ہل ہل کر میرے سینے پر ہاتھ پھیر رہی تھی میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے یہ کونسا طریقہ علاج ہے اس نے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا پھر ایک چھوٹا سا ہتھوڑا ٹائپ کوئی چیز اٹھائی جس سے اس نے میرے پاؤں کی ایڑیوں کو ہلکی ہلکی چوٹ لگائی لیکن میں میں نے اس کی نظریں اپنی شلوار میں تنبو بنائے لن پر گھڑی دیکھیں ۔ ایڑیوں کے بعد وہ میری کہنیوں پر مارنے لگی میرے پلے لن پڑنا تھا میرا سارا دھیان اس کے اچھلتی چھاتیوں پر تھا ۔۔۔۔
میرا لن اور میری نظروں کا ایسا تال میل تھا کہ کہیں بھی کسی بھی جگہ شروع ہو جاتے تھے آنکھیں جسم کو سکین کرتیں اور لن ٹاور کی طرح کھڑا ہو جاتا اور سگنل موصول کرتا اس وقت بھی ایسا ہی ہو رہا تھا نظریں ڈاکٹر آنٹی کے مموں کو سکین کررہی تھیں لن تک سگنل پہنچ رہے تھے اور لن اپنا ٹاور کھڑا کیے ہوئے تھا۔۔۔
لن کے ٹاور سے شاید ڈاکٹر آنٹی بھی سگنل لے رہی تھی اسی لیے اس کے ہاتھوں میں لرزش سی محسوس ہو رہی تھی وہ ڈاکٹر تھی اس کے سامنے روز پتہ نہیں کتنے لوگ آتے ہوں گے کیسے کیسے آتے ہوں گے ہو سکتا ہے میرا وہم ہو ۔۔۔۔
کہنیاں بجانے کے بعد مجھے اٹھ کر کھڑا ہونے کا کہا میں کھڑا ہوا تو میرا لن مجھ سے پہلے سیدھا کھڑا ہو گیا میرے اور ڈاکٹر آنٹی کے درمیان تھوڑا سا ہی فاصلہ تھا ویسے بھی وہ جگہ بھی بہت تنگ سی تھی جب میں کھڑا ہوا میرا کھڑا لن سیدھا ہوا آنٹی وہاں ہی کھڑی تھی میرے سامنے جیسے ہی میں بیڈ سے اتر کر کھڑا ہوا میرا لن اس کی ٹانگوں میں جا لگا۔۔۔۔
وہ ایک اچھلی جیسے اس کو کرنٹ لگا ہوا وہ پیچھے ہوئے تو بھی میرا لن اس کو چھو رہا تھا اس نے آنکھیں پھاڑ کر شلوار میں کھڑے لن کو دیکھا پھر میرے منہ کی طرف دیکھا اس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ کسی کا لن اتنا بڑا بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔
میں نے جب نیچے دیکھا تو مجھے بھی حیرت ہوئی اتنا بڑا تو نہیں تھا تو یہ کیسے ؟؟؟ مجھے بڑی شرمندگی محسوس ہوئی کہ آنٹی کیا سوچتی ہو گی میں نے نظریں جھکا لیں۔۔۔
میں نے جلدی سے لن کو مروڑ کر شلوار کے نیفے میں دبایا وہ نیچے بیٹھی اس نے میرے گھٹنوں پر بھی اسی طرح ٹک ٹک کی ہلکا ہکلا سا درد ہوا وہ کھڑی ہوئی اور پردہ ایک طرف کرتے ہوئے باہر چلی گئی۔۔۔
میں بھی اس کے پیچھے چلتا ہوا باہر گیا اس نے جاتے ہی ریحان کو کہا تم اگر چاہو تو چلے جاؤ اس کے کچھ ٹیسٹ کروانے ہیں مجھے جو شک ہے وہ کسی حد تک صحیح ہے بعد میں پتہ نہیں یہ کب ہاتھ آئے آج اگر آگیا ہے تو سب کچھ کر لیتی ہوں اس کی آواز میں کچھ تو تھا اس کا لہجہ بھی عجیب سا تھا جیسے بھیگا بھیگا ہو۔۔۔۔
ریحان نے مجھے کہا اچھا یار میں چلتا ہوں میں نے اج ماموں لوگوں کے ہاں جانا ہے اس لیے ابھی گھر جا کر تیار شیار بھی ہونا کل واپسی پر ملاقات ہو گی اور ہاں اب یہاں سے بھاگ نہ جانا جو مما کروانا چاہیں چپ چاپ کروا لینا۔۔۔
میری زبان سے نکلا جو بھی کروائیں گی میں اس کے لیے تیار ہوں ریحان اوکے کہہ کر باہر نکل گیا میں نے جب آنٹی کی طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی اس کی نظریں میرے چہرے پر مرکوز تھیں میں ان کا مطلب سمجھ رہا تھا اب مجھے کوئی جھجھک نہیں محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
اس نے بیل بجائی ایک کومل سی نرس اندر آئی بمشکل کوئی سولہ سترہ سال کی ہو گی بڑی پیاری تھی اس کا رنگ سفید موتی جیسا تھا بڑی بڑی کالی آنکھیں گول مٹول چہرہ بس ناک بھدی سی تھی میں نے ایک منٹ میں کی اس کا سارا جسم سکین کر لیا تھا۔۔۔۔
ڈاکٹر آنٹی نے اس کو کچھ سمجھایا میرے پلے کچھ نہ پڑا اس نرس نے مجھے کہا چلیں آ جائیں آپ میں اٹھنے لگا تو آنٹی نے کہا ایک دو ٹیسٹ ہیں وہ کروا لو یہ نرس لیبارٹری والوں کو سب سمجھا دے گی اس کے بعد باہر انتظار کرنا جیسے ہی میں فری ہوئی بلا لوں گی چلے مت جانا۔۔۔
میں جی اچھا کہتا ہوا کھڑا ہوا میری نظر آنٹی کی طرف تھی میں جب کھڑا ہوا تو اس نے میرے لن والی جگہ کو دیکھا لیکن لن تو اب پھنس چکا تھا اس لیے کھڑا سامنے نہ آیا مجھے آنٹی کی آنکھوں میں مایوسی نظر آئی میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ نیفے پر ہاتھ رکھ کر لن کو نکالا آنٹی نے بڑے غور سے دیکھا ۔۔۔
ایک سیکنڈ کے لیے لن لہرایا میں نے پکڑ کر پھر اس کو وہیں پھنسا لیا میں نے ڈاکٹر آنٹی کے چہرے پر مایوسی کے سائے لہراتے دیکھے میں گھوم کر نرس کے پیچھے جانے لگا تو آنٹی نے مجھے کہا دھیان سے کوئی گڑ بڑ نہ کر دینا اور میرے نچلے حصے کی طرف دیکھتے ہوئی بولی اور سنبھال کر ذرہ بات ادھوری تو تھی لیکن میں سمجھ گیا مسکراتے ہوئے کہا اگر ہے تو سنبھالنا بھی آتا ہے۔۔۔۔
میں نرس کے پیچھے نکل گیا وہ باہر نکل کر میرا انتظار کر رہی تھی اس نے مجھے کہا میرے پیچھے پیچھے آو میں آپ کو چھوڑ آتی ہوں اور سب کچھ سمجھا آتی ہوں جو جو ٹیسٹ کرنے وہ کر دیں گے ۔۔۔
میں نے سر ہلایا اور وہ چلنے لگی اس کی عمر اور اس کے چلنے میں بڑا فرق تھا وجہ اس کی باہر کو نکلی ہوئی گانڈ تھی وہ اکہتر بہتر کرتی میرے آگے آگے چلتی گئی میں اس کے چوتڑوں کی دائیں بائیں اوپر نیچے ہوتی حرکات کو دیکھتا گیا۔۔۔
یکدم پتہ نہیں اس کو کیا ہوا کہ وہ رکی اس نے پیچھے مڑ کر مجھے غور کر دیکھا میری نظروں کا رخ دیکھا اس کے رکنے سے میں نے نظریں اوپر اٹھا کر اس کے چہرے کہ طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی صحیح کہا جاتا ہے عورت کی چھٹی حس بہت تیز ہوتی ہے اس نے پیچھے سے بھی میری نظروں کو اپنی مٹکتی بل کھاتی گانڈ پر محسوس کر لیا تھا۔۔۔
اس نے مجھے آگے بلایا میں اس کے پاس گیا تو پھر چل پڑی میں اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا یہ بھی ایک الگ ہی مزہ تھا سامنے سے جب بھی کوئی آتا تو مجھے تھوڑا سائیڈ ہونا پڑتا جس سے میرا کندھا اس کے کندھے سے چھو جاتا میری پورے جسم میں سرور کی ایک لہر دوڑ جاتی ۔۔۔
ایسی کچی عمر کی لڑکی ہو ابھرتی جوانی ہو تو اس کے جسم کا لمس کی بندے کے سوئے ہوئے لن کو توپ کی نال کی طرح سخت بنا دیتا ہے میرے ساتھ بھی وہی ہوا لن میرا نیفے میں ہھنسا دوہائیاں دینے لگا اب تو درد بھی کرنے لگا تھا۔۔۔
اس سے پہلے کہ درد اس حد تک بڑھ جاتا کہ میں نیفے سے لن نکالنے پر مجبور ہو جاتا وہ ایک کمرے کے سامنے جا کر رک گئی اور مجھے کہا یہاں جانا ہے خود دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہو گئی۔۔۔
وہاں موجود دو لڑکوں ہم دونوں کو یوں دندناتے اندر داخل ہوتے دیکھ کر ناگواری سے منہ بنایا مجھے ان کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ ہوا کہ وہ کچھ غلط کر رہے تھے خیر مجھے اس سے کیا جو بھی کر رہے تھے کرتے رہیں جب ان میں سے ایک لڑکا کھڑا ہوا تو اس کی پینٹ کے ابھار نے میرے شک کو یقین میں بدل دیا ۔۔۔
دوسرا لڑکا کمپیوٹر ماؤس کو گھما گھما کر بٹن دبا رہا تھا میں سمجھ گیا وہ کیا کر رہے تھے اس حسین چہرے والی نرس نے بھی ان کو گھور کر دیکھتے ہوئے کہا تم لوگوں کی شکایت میڈم کو لگانی پڑے گی۔۔۔۔
کمال کے ڈھیٹ انسان تھے ہنسنے لگے اور کو کھڑا تھا وہ بولا چلو جب کوئی شکایت والا کام کریں گے وہ بھی لگا دینا اس نے کمینگی کی انتہا کرتے ہوئے اس کے پورے سراپے کا جائزہ لیا۔۔۔
یہ سچ ہے کہ انسان خود جو مرضی کرتا ہے خود کو غلط نہیں کہتا لیکن جب کسی اور کو کوئی غلط حرکت کرتے دیکھتا ہے تو سمجھتا ہے اس سے بڑا کمینہ کوئی ہے ہی نہیں ابھی میں سارا رستہ اس کی گانڈ کو دیکھتا آیا تھا لیکن اس کا اس نرس کے ساتھ اس طرح فری ہونا مجھے برا لگا میں وہاں اپنے کردار کو بھول گیا تھا۔۔۔۔
لڑکے کو اس نے میری تفصیل بتائی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ میں میڈم کا رشتہ دار ہوں وہ بھی بہت قریبی اچھے سے سارے ٹیسٹ کرنے ہیں اس نے کچھ ٹیسٹوں کے نام بھی بتائے لیکن میرے پلے کیا پڑنا تھا بس ایویں ای دائیں بائیں دیکھتا رہا۔۔۔
وہ جانے کے لیے مڑی اور مجھے کہا جب یہ سیمپل لے لیں تو آپ وہاں آجانا ویٹنگ روم میں مجھے ملنا میں آپ کو میڈم کے روم میں پہنچا دوں گی یہ کہہ کر میرا جواب سنے بغیر وہ وہاں سے نکل گئی۔۔۔
ان میں سے ایک لڑکا اٹھا اس نے مجھے ساتھ والے کیبن میں آنے کا کہا وہاں مجھے سٹریچر ٹائپ کی کسی چیز پر لٹایا میں نے ہنستے ہوئے کہا لگتا ہے میرا آپریشن کرنے والے ہو دھیان سے کرنا جو بھی کرو ابھی تو کسی کا افتتاح بھی نہیں کیا۔۔۔
وہ لڑکا ہنسنے لگا اور بولا یہ تو قسمت کی بات کئی لوگ چار چار لے کر پھر رہے ہیں اور کئی ہمارے جیسے ایک کے لیے بھی ترس رہے ہیں اور ابھی ہاتھ سے ہی گزارا کر رہے ہیں۔۔۔
میں نے ٹوہ لینے کے لیے کہا واہ یار تو ایسا نہ کہہ تیری تو موجیں ہوں گی یہاں ایسی ایسی ورائٹی ہے کہ دل خوش ہو گیا یہاں آ کر ۔۔۔
اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا یہ بس دیکھ کی سکتے ہیں یہاں جو بھی ہیں سب ڈاکٹروں کے ساتھ یا اپنے سے سئنیر کمپاونڈر کے ساتھ سیٹ ہیں ہمارے جیسے صرف گندی فلمیں ہی دیکھ سکتے ہیں۔۔۔۔
میں نے پوچھا تو اس کا مطلب ہے یہاں کسی اور کی دال نہیں گلتی ۔۔۔
اس نے ناں میں سر ہلایا اور بولا نہ ۔۔۔
وہ ساتھ ساتھ اپنا کام بھی کر رہا تھا اس نے مجھے کہا جیب میں کوئی لوئے کی چیز تو نہیں ہے میں نے کہا نہیں اس نے میری جیب سے پین نکال کر پکڑ لیا اور مجھے آنکھیں بند کرنے کا کہا ۔۔۔
میں نے آنکھیں بند میں وہ کچھ کرتا رہا مجھے اپنی آنکھوں کر تیز روشنی اور تپش محسوس ہوئی لیکن میں نے آنکھیں نہ کھولیں۔۔
اس کے بعد اس نے مجھے سر گھمانے کا کہا میں الٹا ہو گیا اس نے پھر کچھ کیا چار بار اس نے میرا سر گھمایا پھر اس نے کہا کھڑے ہو جاؤ ہو گیا۔۔۔
میں وہاں سے باہر نکلا تو دوسرے لڑکے نے اہک سرنج لی اور میرے پاس آیا مجھے بازو سے کف اوپر کرنے کا کہا میں نے کیا اس نے خون کا سیمپل لیا اور مجھے کہا آدھے گھنٹے بعد مل جائیں گی ۔۔۔
میں وہاں سے باہر نکلا اور وہاں کے ماحول کو دیکھتا ہوا ایک بار پھر کاؤنٹر پر آگیا وہاں سے ویٹنگ روم کا پوچھا اور ویٹنگ روم میں چلا گیا۔۔۔
ویٹنگ روم بیٹھ کر انتظار کرنے لگا وہاں کا ماحول بھی کمال تھا صوفے لگے ہوئے تھے کافی لوگ وہاں موجود تھے ظاہر سی بات ہے ایک پرائیویٹ کلینک پر عام لوگ یا مڈل کلاس لوگ تو آ نہیں سکتے تھے ویسے بھی یہ کلینک کافی مہنگا مانا جاتا تھا اس لیے یہاں شہر کی ایلیٹ کلاس ہی آتی تھی۔۔۔۔
وہاں موجود مختلف خواتین و مرد کے اپنی اپنی دنیا میں مست تھے سب ہی اپنے عزیزوں کے ساتھ آئے تھے یا خود اپنا چیک اپ کروانے کے لیے موجود تھے سب کو اپنی اپنی دنیا میں مست تھے میں نے بھی وہاں کے ماحول میں بیٹھ کر سوگوار سا چہرہ بنا لیا کیوں کہ وہاں تقریباً سب کی پریشان نظر آ رہے تھے۔۔۔
مجھے وہاں بیٹھے بیٹھے نیند آنے لگی تھی کہ وہی پری چہرہ نرس وہاں داخل ہوئی اور دائیں بائیں دیکھنے لگی پھر مجھے دیکھ کر بولی آپ آ جائیں میں اٹھ کر اس کے پیچھے چلا اس نے مجھے کہا رپورٹ لے آئے ہیں۔۔۔
میں نے نہ میں سر ہلایا اس نے عجیب سا منہ بنایا اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑائی ۔مجھے اس کا بڑبڑانا بھی اچھا لگا جتنی خوبصورت وہ تھی اس کی تو ہر ادا ہی کمال کی تھی اس کی چال اس کا بولنے کا انداز اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے تھے۔۔۔۔
اس نے مجھے اندر ڈاکٹر آنٹی کے روم میں بھیجا اور خود رپورٹس لینے چلی گئی اس کے باہر نکلتے ہی ڈاکٹر آنٹی نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا ویسے تم کو دیکھ کر میں ایک بات تو سمجھ گئی ہوں دماغی مسئلہ تو کوئی نہیں ہے میں اپنے تجربے سے کہہ رہی ہوں ۔۔۔
تمہیں جو مسئلہ ہے وہ کچھ اور قسم کا ہے لیکن تم بتا نہیں رہے خیر ابھی رپورٹس آجاتی ہیں ساری بات کھل جائے گی پھر میں کچھ تجویز کر سکتی ہوں میں نے تم سے کافی بار پوچھا ہے لیکن تم اصل بات بتا نہیں رہے ۔۔۔
میں سر جھکائے اس کی باتیں سنتا رہا وہ بولتی رہی جب میں کچھ نہ بولا تو اس نے مجھے کہا اوپر دیکھو میں نے سر اٹھایا تو اس کی آنکھوں میں مجھے لالگی نظر آئی میں نے غور سے اس کی آنکھوں میں دیکھا لیکن بس ایک دو تین چار سیکنڈ بعد نظریں پھر سے جھکا لیں۔۔۔
وہ کچھ بولنے ہی والی تھی کہ دروازہ نوک ہوا اور نرس اندر داخل ہوئی اس نے ایک فائل ڈاکٹر آنٹی کے سامنے رکھی اس نے اچھے سے ساری رپوٹس پڑھیں پھر ایکسرے بھی چیک کیا میری طرف بھی دیکھ لیتی۔۔۔
جب اپنی تسلی کر لی تو مجھے کہا ان میں تو کچھ نہیں ہے تمہیں کوئی کمزوری ہے جس کی وجہ سے وہ سب ہوتا ہے میں نے کہا مجھے اور کمزوری نہیں ایسا کچھ نہیں ہے میں بالکل صحت مند ہوں۔۔۔
اس نے مجھے بغور دیکھا اور بولی اچھا آخری بات کب ویسی طبیعیت ہوئی تھی میں نے کہا بہت دن ہو گئے غالباً دو تین ماہ تو ہو ہی گئے ہیں اس سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔
اس نے حیرت سے کہا کیا لیکن مجھے تو ریحان نے کہہ رہا تھا کہ رات کو پھر تمہاری طبیعیت خراب ہو گئی تھی میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور کہا نہیں ایسا تو کچھ نہیں ہوا مجھے لگتا ہے ریحان نے میرا چیک اپ کروانے کے لیے ایسا کہا ہوگا۔۔۔
میں یہ تو سمجھ گیا تھا کہ ریحان کو کیسے پتہ چلا ہوگا اور میں یہ نہیں جانتا تھا کہ ریحان نے اپنی مما کو یہ سب کس طرح بتایا ہوگا میرا نام لیا ہوگا یا اپنی طرف سے ہی کوئی کہانی سنائی ہو گی۔۔۔
جو بھی تھا اس نے میرا چیک اپ کروا دیا تھا ڈاکٹر آنٹی جو تھی اس سے ایک قدم اور قریب ہونے کا موقع مل گیا تھا میں جو تذبذب کا شکار تھا کچھ نئی باتیں کھل کر سامنے آئی تھیں۔۔۔۔
اب میری سوچ بھی ڈاکٹر آنٹی کے بارے میں ایک دم ایک نقطے پر آگئی تھی میری ساری سوچیں ایک بار پھر سے نئی اور ایک شاندار پھدی کے بارے میں بھٹکنے لگیں میں اس نئی پھدی کے ذریعے کتنی پھدیاں مار سکتا تھا یہ سوچنے لگا۔۔۔۔
ڈاکٹر آنٹی نے مجھے کچھ میڈیسن دیں اور کہا جب تک یہ استعمال کرو اتنے دن پرہیز کرنا ہے اب مجھے یہ تو بتانے کی ضرورت نہیں کس سے پرہیز کرنا ہے اور دوسری بات دودھ کے ساتھ یہ میڈیسن لینی ہے۔۔۔
میں باقی تو سمجھ گیا لیکن پرہیز والی بات کا پوچھا کس سے پرہیز کرنا ہے یہ تو آپ نے بتایا ہی نہیں۔ اس نے مجھے گھور کر دیکھا اور بولی جو تم کرتے ہو اس سے پرہیز کرنا ہے اب میں سمجھ گیا تھا لیکن پھر بھی پوچھا میں تو بہت کچھ کرتا ہوں آپ بتا دیں کس سے پرہیز کرنا ہے۔۔۔
ڈاکٹر آنٹی نے کہا اسی سے جس سے رات کے اندھیرے میں ملتے ہو اور دن کی روشنی میں منہ چھپاتے ہو اب اٹھو اور جاؤ میں اور مریض بھی چیک کرنے ہیں اٹھو شاباش اور ہاں اگر کوئی مسئلہ ہو تو مجھے بتانا ۔۔۔۔
میں کھڑا ہوا تو اس میرے لن والے حصے کو دیکھا جو جوکہ بالکل نارمل تھا میں ہنسی دباتے مڑنے لگا تو اس پر نظر ڈالی اس نے مجھے ہنستے ہوئے دیکھ لیا تھا وہ بھی ہلکا سا مسکرا دی۔۔۔۔
میں وہاں سے نکلا اور وقت دیکھا تو شانزل کی چھٹی کا ٹائم کو گیا تھا میں نے وہاں سے اپنا رخ اس کے سکول کی طرف کر دیا سکول کے سامنے پہنچا تو چھٹی ہو چکی تھی۔۔۔
شانزل نے مجھے گیٹ میں دیکھ لیا وہ باہر آئی ہم چل پڑے تھوڑا دور جا کر اسنے پوچھا کیا بنا اس موبائل کا مجھے تب یاد آیا کہ موبائل میرے پاس ہے حالانکہ ریحان نے جب مجھ سے موبائل کا پوچھا تھا تب
مجھے یاد تھا کہ میں شاہد کو دکھاوں گا لیکن پھر بھول گیا اور اس نے مجھے وہاں رکنے بھی نہ دیا ورنہ شاید میں چیک کروا ہی لیتا ۔۔۔۔
میں اس کو اپنی طرف سے بتا دیا کہ مجھے اس کا پتہ چل گیا کے وہ کون ہے جس سے شمع بات کرتی ہے اور کس نے اس کو فون دیا تھا وہ بھی ہمارے ٹاؤن کا ہی ہے تم اس کو نہیں جانتی ۔۔۔
شانزل نے کہا کون ہے مجھے بتاؤ میں اس کی چھترول کرتی ہوں کیسے ساری رات اس کے ساتھ لگی رہتی ہے اس کو ذرہ بھی شرم نہیں آتی اگر کسی کو پتہ چل گیا تو کیا ہوگا آج میں امی کو اس کی شکایت لگاؤں گی۔۔۔
میں نے اس کو کہا کیا ہوگیا ہے امی کو شکایت لگاؤ گی تو وہ بھی سب بتا دے گی پھر کیا کرو گی جب تمہاری امی میرے بارے میں تم سے پوچھیں گی تم جانتی ہو شمع کو ہمارے بارے میں سب پتہ ہے۔۔۔
اگر اس نے منہ کھول دیا تو پھر ہماری خیر نہیں اس لیے بہتر یہ ہے جو وہ کر رہی ہے کرنے دو جیسا ہو رہا ہے ہونے دو اگر ہم ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں تو پھر ان کی بات کسی کو پتہ نہیں چلنی چاہئیے۔۔۔۔
اگر یہ بات تم نے کسی کو بتائی یا اب کہیں سے بھی تمہاری امی کو یا ماموں لوگوں کو پتہ چل گیا تو بس پھر سمجھو ہماری خیر نہیں ہے اس لیے جو کہہ رہا ہوں ویسا ہی کرو بس ہم اپنا منہ بند رکھیں گے۔۔۔۔
ایسے ہی باتیں کرتے ہم گھر پہنچ گئے وہ اپنے گھر چلی گئی میں اپنے گھر چلا گیا گھر جا کر کپڑے وغیرہ بدلے اور نہا کر کھانا کھایا پھر کچھ دیر لیٹ گیا لیٹتے ہی نیند آگئی ساری رات یمین کٹیتا چلتا رہا تھا اس لیے لیٹتے ہی نیند آگئی۔۔۔
عصر کے قریب کہیں آنکھ کھلی دماغ اور جسم دونوں تازہ دم ہو گئے میں نے موبائل اٹھایا اور اس سے پنگے لینے لگا پڑھ تو سکتا تھا بس پڑھتا گیا سمجھتا گیا ایسے ہی ایک فولڈ میں گھس گیا۔۔۔
جیسے کی وہ فولڈر کھولا تو میرے منہ سے نکلا اوہ تیری میں بہن نوں لون دیواں آ کی اے ۔۔۔
میں آنکھیں پھاڑے ایک بعد بعد ایک فولڈر دیکھتا گیا اور حیران ہوتا گیا یہ سب کیا ہو رہا ہے میں جو سمجھ رہا تھا معاملہ اتنا سیدھا نہیں تھا بات تو بہت آگے تک بڑھ چکی تھی ۔۔۔
میں جیسے جیسے دیکھتا گیا ویسے ہی ویسے پریشان ہوتا گیا دماغ سائیں سائیں کرنے لگ گیا اب میری سمجھ میں اور تو کچھ نہ آیا میں نے موبائل کے سارے فولڈر ایک ایک کرکے بند کیے اور سوچنے لگا اب کیا ایسا کیا جائے کہ اس سب سے چھٹکارہ مل سکے ۔۔۔
سوچتے سوچتے میرا سر دکھنے لگا معاملہ ہی ایسا تھا کہ اگر کسی کو رتی برابر بھی بھنک لگ جاتی یا کسی کے ہاتھ یہ موبائل لگ جاتا تو بہت بڑا ہنگامہ ہو جانا تھا میں تو یہ سوچ کر ہی حیران ہو رہا تھا کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔
مولوی کی آواز سن کر میں اٹھا کلاک پر ٹائم دیکھا اور نہانے گھس گیا ٹھنڈا پانی جب سر پر گرا تو دماغ کچھ نارمل ہوا میں نے اگلا لائحہ عمل ترتیب دینا شروع کیا لیکن جہاں سے بھی سرا پکڑنے کی کوشش کرتا معاملہ الجھا ہوا ملتا۔۔۔
نہا کر تازہ دم تو ہو گیا میں نے فیصلہ کیا کہ اس بارے میں شاہد سے مشورہ لوں گا ہو سکتا ہے اس کے پاس کوئی حل ہو ایک سے دو بھلے ہوتے ہیں اگر وہ کوئی حل نہ بھی بتا سکا تو دل تو ہلکا کو جائے گا۔۔۔
ایسا ہی سوچتے سوچتے میں گراؤنڈ میں چلا گیا وہاں جا کر دوستوں سے گپ شپ ہوئی دماغ کچھ ہلکا پھلکا ہوا دھیان بھٹک گیا کرکٹ کھیلی لیکن آج مزہ نہ آیا ۔۔۔
لیکن آج جب ریحان نہ آیا تو میں نے سوچا اس کا پتہ کرنا چاہئیے میں گراؤنڈ سے نکل کر ریحان کے گھر چلا گیا میڈیسن جو مجھے ڈاکٹر آنٹی نے دی تھی وہ ابھی بھی میری جیب میں تھی۔۔۔
میں ان کے دروازے پر گیا بیل بجائی تو آنٹی نے ایک منٹ بعد اندر سے پوچھا کون میں نے اپنا بتایا تو اس نے دروازہ کھول کر کہا آجاؤ میں سوچ ہی رہی تھی کہ تمہیں آج کلینک میں ہی کہہ دیتی آج ہمارے گھر آجانا ریحان نہیں ہوگا۔۔۔
میں موبائل والا مواد دیکھ کر اتنا الجھ گیا تھا یہ بھول ہی گیا کہ ریحان نے مجھے بتایا تھا وہ آج گھر نہیں ہوگا دماغ سے یہ بات نکل ہی گئی تھی۔۔۔
میں اندر داخل ہوا تو آنٹی جو ایک اوٹ میں کھڑی تھی اس پر نظر پڑی تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔
میں آنکھیں پھاڑے آنٹی کو دیکھی جا رہا تھا وہ میرے سامنے سے چلتی ہوئی اندر چلی گئی اور مجھے کہا یہاں بیٹھو میں آتی ہوں بس دو منٹ دو ۔۔۔
اصل میں گھر میں کوئی نہیں تھا تو اس لیے بس تھوڑا فری ہو کر پھر رہی تھی ویسے بھی میں نہا رہی تھی جب تم نے بیل بجائی تو سوچا دیکھ لوں کون ہے۔۔۔
آٹنی تو اندر اپنے کمرے میں گھس گئی لیکن میرا لن ٹن ہو گیا ٹراؤزر کو پھاڑ کر باہر نکلنے کے چکر میں تھا۔۔۔
آنٹی نے نیچے ایک ٹاٹیٹ سا ٹراوزر پہنا ہوا تھا اور اوپر صرف برا ہے تھا اور اوپر ایک باریک سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب میں اندر داخل ہوا تو اس نے دوپٹہ اتار کر رکھ دیا تھا جس سے آنٹی کا لشکارے مارتا جسم بلیو برا میں قید 38 سائز کے ممے بل کھاتی لچکدار کمر بلکل فلیٹ پیٹ اور پیٹ پر ایک گہری ناف گلابی سا گھڑا لگ رہی تھی ٹراوزر بہت ٹائٹ تھا اور ناف سے کافی نیچے تھا جس کی وجہ سے بہت زیادہ شہوت انگیز ماحول پیدا ہو رہا تھا۔۔۔
جب وہ گھوم کر چلی تو اس کی گانڈ کی ایک ایک پھاڑی الگ الگ نظر آ رہی تھی گانڈ کے درمیان والی لکیر واضح ہو رہی تھی ایک لمحے کے لیے تو میں نے تصور میں اس کو ننگا ہی دیکھ سمجھ لیا تھا اوپر سے آنٹی کی چال میں مستی بھری تھی۔۔۔
آنٹی تو اندر گھس چکی تھی لیکن میں للچائی ہوئی نظروں سے دروازے کو تکے جا رہا تھا کہ اب آئی کہ اب آئی اسی انتظار میں بیٹھا رہا کوئی دس منٹ بعد دروازہ کھلا آنٹی ایک ڈھیلی ڈھالی شلوار قمیض پہن کر باہر آگئی جو کافی کھلی تھی میری ساری امیدیں لوڑے لگ گئیں۔۔۔
آنٹی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی وہ ہنستی ہوئی بولی سوری میں تو بھول ہی گئی تھی تمہیں کوئی پانی وانی نہیں پوچھا کیا لو گے گرم گرم دودھ جوس یا پھر کچھ اور میں آنٹی کی بات سن کر ہنسنے لگا اور بولا کچھ بھی جو آپ پلانا چاہو ۔۔۔
آنٹی نے بڑی گہری نظروں سے مجھے دیکھا اور گیلے بالوں کو تولیے سے نکالتے ہوئے بولی میری مرضی کی چیز پیو گے ٹھیک ہے میں تیار کر کے لاتی ہوں اس نے کھڑے کھڑے بالوں کو ایک بار پھر تولیے میں لپیٹ لیا وہ بال لپیٹ رہی تھی میرا دل بیٹھ رہا تھا لن کھڑا ہو رہا تھا بال باندھتے ہوئے اس کے ممے بھی ہل رہی تھے کھلی قمیض میں کیسا سیکسی لگتا ہے میں نے آج تک نہ دیکھا تھا۔۔۔
آنٹی نے نیچے برا نہیں پہنی تھی مجھے سو فیصد یقین تھا کیونکہ جس طرح سے ممے قمیض میں بھاگ رہے تھے وہ تھوڑا سا بازو ہلاتی ممے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے ادھر ممے ٹکراتے دوسری طرف میرا منہ کھل سا گیا میں بس آنکھیں پھاڑے آنٹی کے مموں کی آپس میں مستیاں دیکھنے لگا ۔۔۔۔
آنٹی نے گلا کھنکارتے ہوئے کہا تو پھر لاؤں اپنی مرضی کا یا موڈ بدل گیا ہے میں نے ان کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا میرے موڈ کا کہا ہے مہمان ہوں جو مرضی پلا دیں چپ کرکے پی جاؤں گا ۔۔۔
وہ وہاں سے چلتی ہوئی کچن میں گئی میں نے پیچھے دیکھا لیکن جس امید سے دیکھا اس پر پانی پھر گیا کیونکہ ڈھیلے ڈھالے لباس میں گانڈ کے نشیب و فراز واضح نہیں ہوتے تھے وہ کچن میں غائب ہو گئی میں اب ذہن بنا چکا تھا جو بھی دیکھا جائے گا ویسے بھی جب سے میں نے موبائل دیکھا تھا میرا دماغ خراب ہو چکا تھا ۔۔۔
دو منٹ بعد ہی آنٹی واپس آئی اس کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس تھا اس نے مجھے دیتے ہوئے کہا تم نے میڈیسن کھائی میں نے نہ میں سر ہلایا اس نے کہا چلو پھر اب دودھ بھی ہے جتنا مرضی پی لو اس سے دل نہ بھرے تو اور بھی مل جائے گا پھر اس نے پوچھا میڈیسن پاس ہے یا گھر میں رکھ آئے ہو۔۔۔
میری ایک عادت تھی اور اب بھی ہے جب میں کپڑے بدلتا ہوں تو جیب میں جو کچھ بھی ہوتا ہے سب نکال کر نئے کپڑوں میں ڈال لیتا ہوں اسی وجہ سے جو چیز پہلے والے کپڑوں جی جیبوں میں ہوتا ہے وہ نئے میں بھی ڈال لیتا ہوں۔۔۔
اسی وجہ سے میری جیب میں اس کی دی گئی دوائی موجود تھی میں نے ہاں میں سر ہلایا اور تھوڑا پیچھے ہو کر جیب میں ہاتھ ڈالا تو آنٹی کی نظر میری گود میں بنے ابھار پر گئی اینڈروئیر پہنے ہونے کے باوجود ابھار کافی بڑا تھا ابھار تو بڑا ہونا ہی تھا لن بھی تو بہت بڑا اور موٹا تھا۔۔۔۔
میں نے میڈیسن والا پیکٹ نکالا اور اس میں سے ایک ٹیبلٹ نکالی دودھ کا گلاس لیا ٹیبلٹ منہ میں رکھی اور دودھ کے گھونٹ بھرنے لگا گولی اندر گئی دودھ کا گلاس خالی کرکے کے میز پر رکھا آنٹی نے کھڑے کھڑے ہی مجھ سے پوچھا اور پیو گے میں نے للچائی ہوئی نظروں سے آنٹی کے مموں کو ایک نظر دیکھ کر کہا اس دودھ کا ذائقہ عجیب سا ہے۔۔۔
آنٹی مسکرائی اور کہا میں نے یہ پوچھا میں نے پوچھا ہے اور دودھ پیو گے۔۔۔
میں نے کہا دودھ کا ذائقہ اگر اچھا ہو تو ضرور پیوں گا۔۔۔
آنٹی نے کہا اب ذائقہ تو تب ہی پتہ چلے گا جب چکھو گے ایسے کیسے کہہ سکتے ہو ذائقہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔
میں نے کہا لگ تو رہا ہے کہ ذائقہ اچھا ہو گا اب حقیقت کیا ہے وہ تو پی کر ہی پتہ چلے گا۔۔۔
آنٹی نے کہا تو اس کا مطلب ہے تم پینا چاہتے ہو ۔۔۔
میں نے کہا دودھ سے کون انکار کر سکتا ہے خاص طور پر اگر کسی کو خالص دودھ مل جائے تو پھر تو بندہ پیتا ہی جائے۔۔۔
میری نظر آنٹی کے مموں پر تھی آنٹی کو بھی یہ سب نظر آرہا تھا ہمارے ذو معنی جملے کافی دیر جاری رہے ۔۔۔
میں نے آنٹی سے آجازت مانگی اور کہا گھر میں امی اتظار کر رہی ہوں گی اور پریشان ہو رہی ہوں گی میں چلتا ہوں۔۔۔
آنٹی نے کہا اگر آج رات رک جاتے تو اچھا ہوتا میں گھر میں اکیلی ہوں ریحان تو اب کل آئے گا رات اکیلا رہنا مشکل تو نہیں ہے لیکن پھر بھی کوئی پاس ہو تو بندہ ایزی فیل کرتا ہے۔۔۔
میں نے کہا اگر ایسی بات تھی تو مجھے دن میں بتا دیتیں میں امی کو بتا کر آجاتا اس طرح بغیر بتائے گھر سے باہر رہنا اچھی بات نہیں ہے۔۔۔
آنٹی نے کہا میں تو سمجھی تمہیں ریحان کہہ گیا ہوگا اسی لیے تم آئے ہو میں تو خوش ہو گئی تھی کہ رات اچھی گزرے گی اکیلا پن محسوس نہیں ہو گا۔۔۔
میں بولا ریحان مجھے بتایا تو تھا کہ وہ جا رہا ہے لیکن ایسی کوئی بات نہیں کی تھی کہ آپ گھر پر اکیلی ہوں گی میں تو سمجھا وہ لڑکی جو آپ کے گھر رہتی ہے وہ ہو گی۔۔۔
آنٹی نے کہا وہ لڑکی میری بھانجی ہے وہ تو کل ہی چلی گئی تھی اس کا بھائی لینے آیا تھا بڑی پیاری بچی ہے اس نے اتنے دن ہمارا سارا گھر سنبھالا ہوا تھا۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں آنٹی نے کہا ایسا کرتی ہوں تمہارے گھر فون کر دیتی ہوں کہ آج ریحان گھر پر اکیلا ہے آپ کو ہمارے گھر بھیج دیں ویسے بھی تمہاری امی اچھی خاتون ہیں وہ سب سمجھتی ہیں۔۔۔
میں نے کہا ریحان تو گھر ہے ہی نہیں تو آپ اس کا کیوں نام لیں گی۔۔۔
آنٹی مسکرائی اور بولی تم بڑے بھولے ہو ابھی دنیا داری کو نہیں سمجھتے تو مجھے بتاؤ میں فون کروں اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو ۔۔۔
میں نے کہا میں گھر جاتا ہوں آپ فون کرکے امی کو بتا دیں میں آجاؤں گا میں کتابیں بھی لے آؤں گا ۔۔۔
آنٹی نے مجھ سے ہمارے گھر کا نمبر لیا اور میں باہر نکل گیا اپنے گھر کی طرف چلتا گیا ۔۔۔
ابھی گلی میں مڑنے ہی والا تھا کہ مجھے اسی لڑکے نے روکا اور کہا بلو بات سن ۔۔۔
اسی لڑکے سے مراد وہ لڑکا جن کے گھر شمع ٹیوشن پڑھنے جاتی ہے اس نے روکا تھا وہ اس وقت یہاں کیا کر رہا تھا مجھے اس سے کوئی غرض نہ تھی۔۔۔
شمع یہ بات نہیں جانتی تھی کہ ہماری ان کے ساتھ دور کی رشتہ دات بھی تھی بس کچھ خاندانی لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے زیادہ میل جول نہیں رہا تھا۔۔۔
اس نے مجھے کہا کہ اگر تمہارے پاس وقت ہو تو میں نے تم سے بات کرنی ہے ابھی نہیں کل کر لیں گے ۔۔۔
میں نے کہا ابھی کر لو جو بات کرنی ہے میں بس گھر سے ہو لوں پھر مارکیٹ چلتے ہیں وہاں بیٹھ کر گپ شپ کرتے ہیں۔۔۔
ا س نے کہا جو بات میں نے کرنی ہے وہ ایسے نہیں ہو سکتی اکیلے بیٹھ کر ہی ہو سکتی ہے اس لیے کہہ رہا ہوں کل کسی وقت ملتے ہیں ۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے کل گراؤنڈ میں جب جاؤں گا تب کر لیں گے تم بھی آجانا ہم بات کر لیں گے۔۔۔
اس نے کہا ٹھیک ہے اور ہاں یہ بات کسی کو بتانی نہیں کہ میں تم سے ملنا چاہتا ہوں باقی جب بات ہو گی تو تم خود ہی سمجھ جاؤ گے۔۔۔
میں کہا ٹھیک ہے وہ اپنے رستے چل دیا میں اپنے رستے ہو گیا اس کا نام طاہر تھا ہم ایک ٹاؤن میں رہتے تھے ہماری آپس میں ہیلو ہائے ہی تھی بس برادری بنیاد پر ہم ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے ۔۔۔
میں گھر آیا منہ ہاتھ دھویا تو امی نے کہا کہ ڈاکٹر عمائمہ کا فون آیا تھا وہ کہہ رہی تھی کہ ریحان گھر میں اکیلا ہے ۔۔۔
میں نام سن کر پریشان ہو گیا کہ اب یہ ڈاکٹر عمائمہ کون ہے اور ریحان سے اس کا کیا تعلق ہے میں نے امی سے پوچھا کون ڈاکٹر عمائمہ ۔۔۔
امی نے بتایا کہ تمہارے دوست ریحان کی امی کا نام عمائمہ ہے اس کا فون آیا تھا وہ سب لوگ شادی پر جا رہے ہیں اور گھر میں ریحان اکیلا ہو گا تو تمہیں اس کا پاس بھیج دوں۔۔۔
میں نے کہا امی مجھے نیند نہیں آئے گی رات بھی کافی مشکل سے نیند آئی نئی جگہ پر سونا میرے لیے بہت مشکل ہے۔۔۔
لیکن امی نے کہا بیٹا پہلی بار اس نے کہا اچھا نہیں لگتا اس کو تم پر بھروسہ ہے اس لیے تو کہا ہے چلے جاؤ ۔۔۔
میں نے پوچھا شانزل لوگوں کی امی آگئی ہیں کیا۔۔؟؟
امی نے بتایا کہ ان کا ابو آگیا تھا ہے آج ابھی شانزل نے بتایا ہے اور اس کے نانا کی طبیعیت اب کافی بہتر ہے کل تک اس کی امی بھی آ جائیں گی۔۔۔
میں کہا اچھا اور کھانا مانگا تو امی نے کھانا دیا میں کھانا کھا کر کتابیں اٹھاتے ہی گھر سے نکل گیا ۔۔۔
جا کر ڈاکٹر آنٹی کے گھر کی بیل بجائی تو اسی وقت دروازہ کھل گیا آنٹی کی آواز ہی سنائی دی اس نے بڑی ہی دلکش آواز میں کہا ویلکم ٹو مائی سویٹ ہوم ڈئیر۔۔۔
آنٹی کا نے آگے جھک کر ہاتھ کے اشارے سے مجھے اندر آنے کی دعوت دی میں اندر داخل ہوا تو میرا انداز ہی بدل چکا تھا ہاتھ میں کتابیں صرف دکھاوے کے لیے ہی تھیں ورنہ مجھے جو لگ رہا تھا اس لحاظ سے صرف لن اور پھدی کا کی کھیل ہونے والا تھا۔۔۔۔
ڈاکٹر آنٹی اس وقت اسی ڈھیلی ڈھالی شلوار قمیض میں تھیں ان کے بڑے بڑے تھن جھکنے کی وجہ سے باہر نکلنے کے لیے پر تول رہے آدھے سے زیادہ تو لٹک کر قمیض کے گلے میں پھنس چکے تھے۔میری نظر ان کے بڑے بڑے مموں پر تھی۔۔۔
آنٹی نے مسکراتے ہوئے سیدھے ہوتے ہوئے مجھے دیکھا میں اس کے مموں کو واپس گلے میں غائب ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا آنٹی نے کہا بڑے ناٹی ہو تم میں تو بڑا سیدھا سادہ سا سمجھتی تھی لیکن تم نے ثابت کر دیا کہ سیدھا آج کے دور میں کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔
آنٹی میرے آگے آگے چلتی ہوئی ٹی وی لاونج میں داخل ہوئی میں بھی اس کے پیچھے دائیں بائیں ہلتی گانڈ کو تکتا داخل ہوا آنٹی جاتے ہی ایک صوفے پر بیٹھ گئی لیکن میرے جسم میں آگ سی لگ چکی تھی جب سے گھر سے نکلا تھا میرا سارا جسم اگ بنتا جا رہا تھا۔۔۔
میرا لن بھی پھٹنے والا ہو گیا تھا میرا دل کر رہا تھا ابھی کہ ابھی کوئی پھدی سامنے آئے اور اس میں گھسا دوں میرے لیے یہ ایک نیا مسئلہ بن گیا تھا اوپر سے آنٹی کی ادائیں مجھے اتاولہ کر رہی تھیں۔۔۔
آنٹی نے پتہ نہیں کیسا مشروب تھا ایک بوتل سے اپنے گلاس میں انڈیلا اور چسکیاں بھرنے لگی اس نے دو تین گھونٹوں میں گلاس خالی کر کے رکھ دیا اور مجھ سے باتیں کرنے لگی ۔۔۔
اس کی آواز میں بڑا درد سا بھر گیا تھا وہ کہنے لگی بلو تمہیں پتہ ہے اکیلا رہنا کتنا مشکل ہوتا خاص طور پر جب کوئی عورت ہو اور اس کا شوہر اس کے پاس نہ ہو ایسے حالات میں عورت کا اس دنیا میں رہنے کو دل نہیں کرتا۔۔۔
مرد تو باہر جا کر اپنا دل بہلا لیتا ہے عورت کیا کرے کہاں جائے اپنے اندر ابلتے جذبات جسم کی بھوک جسم کی پیاس کیسے بجھائے بلو میں بڑے سالوں سے اس عذاب سے گزر رہی ہوں میرا دل کرتا ہے کوئی مجھ سے پیار کرے ۔۔۔
اس نے پھر ایک گلاس بھرا اور پی گئی اس نے مجھے اپنے پاس بلایا میں اٹھ کر اس کے پاس جا بیٹھا اس کی آنکھیں لال ہو چکی تھیں اس نے مجھے لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں کہا بلو جب میں نے پہلی بار تمہارا چیک اپ کیا تھا تب مجھے اندازا ہو گیا تھا کہ تم میرے کام آ سکتے ہو۔۔۔
میں نے کئی بار تمہیں ریحان کو بول کر اپنے گھر بلایا تمہیں چیک کیا پھر جب مجھے یقین ہو گیا کہ تم میرے کام آ سکتے ہو تو میں نے تمہیں اپنے قریب لانے کی کوشش کی مجھے شرم بھی آتی تھی کہ اپنے بیٹے کے دوست کے ساتھ میں کیا کرنا چاہ رہی ہوں۔۔۔
لیکن جسم کی ضرورت کے ہاتھوں مجبور تھی کہا کرتی آج بھی میں نے جان بوجھ کر ریحان کو کہا تھا کہ تمہیں ہسپتال لائے کیونکہ اس نے تو چلے جانا تھا میں چاہتی تھی کسی طرح تمہیں گھر بلا لوں۔۔۔
پھر جب ہسپتال میں تمہاری حرکتیں دیکھیں تو میرے اندر آگ لگ گئی اتنے دنوں سے دبی ہوئی آگ کو تم نے تیلی دکھا دی اب کیا کرتی میں اتنی مجبور ہو گئی تھی کہ مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
اسی لیے میں نے تمہیں جان بوجھ کر وہ والی دوائی دی ہے جس کے کھانے سے تمہارے اندر کسی کے ساتھ ہم بستری کرنے کرنے کی علامتیں پیدا ہو گیں تم سے برداشت نہ اور تم میرے پاس آؤ۔۔۔
میں اس سے فائدہ اٹھا سکوں اپنی اتنے سالوں کی پیاس بجھا سکوں یہ سب میرا پلان تھا میں دل میں سوچنے لگا تمہارا تو جو پلان تھا سو تھا لیکن میرا جو پلان ہے وہ جب تمہیں پتہ چلے گا تمہارے اور تمہارے بیٹے کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔۔۔
میں نے آج شام سے پہلے موبائل کر کافی دیر سر کھپایا تھا اور تصویریں بنانا اور ویڈیو بنانا ڈیلیٹ کرنا سیکھ لیا تھا اب جو میں کرنے جا رہا تھا اس کے پیچھے بھی ایک کہانی تھی۔۔۔
یہ سچ ہے کہ مجھے اس دوائی کا نہیں پتہ تھا وہ کس کام کے لیے ہے لیکن اس سے بھی مجھے فائدہ ہی ہوا تھا میں نے آنٹی کے قریب ہوتے کہا کیا کہہ رہی ہیں آپ کو تکلیف ہو تو میں کیسے انکار کر سکتا ہوں آپ مجھے حکم کریں۔۔۔۔
حالانکہ میرے لن کی جو حالت تھی وہ میں بتا نہیں سکتا تھا لیکن میں یہ چاہتا تھا کہ آنٹی خود مجھے کہیں کرو میرے ساتھ میرے پھدی میں اپنا لوہے جیسا سخت گرم ہوتا لن گھسا دو میری پھدی کی پیسا بجھا دو آنٹی کے منہ سے عجیب سی مہک آ رہی تھی مجھے اس کے بارے میں بعد میں پتہ چلا کہ آنٹی شراب نوشی کرتی ہیں تنہائی اور جسم کی آگ سے بچنے کے لیے وہ شراب کا سہارا لیتی ہیں۔۔۔
لیکن شراب جسم کے اندر ابلتے آگ کے بھانبھڑ کیسے ٹھنڈے کر سکتی تھی آنٹی نے میرے لن کو ٹراؤزر کے اوپر سے ہی پکڑ لیا اس کا ہاتھ لگنے کی دیر تھی میرا جسم ایک دم اکڑ گیا آنٹی نے ایک گلاس اور پیا اس کے بعد مجھے اندر کمرے میں لے گئی۔۔۔
جاتے ہی آنٹی نے اپنی شلوار اتار دی مجھے کہا بلو میلے شاتھ ایک وعدہ کلو کشی کو بتاو گے نہیں اول اپنے دوشت لیحان کو تو بالکل بھی نہیں میں نے اس سے وعدہ کیا اور کہا نہیں بتاؤں گا آپ تو بہت اچھی ہیں ۔۔۔
بھلا میں آپ کا دل دکھا سکتا ہوں کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ اس نے کہا ویلی گڈ بوائے لو یوووو آو اپنے دوست کی ماں کی مدد کرو میلا شوہنا بچہ بڑا اااچھا بچہ ہے آ جاو میلے اوپر میں نے ٹراوزر نیچے کیا لن نکالا لن پھنکار رہا تھا ۔۔۔
آنٹی بیڈ کر شلوار اتارے لیٹی ہوئی تھی میں نے ٹراؤزر کو فل نیچے کیا اور بیڈ پر چڑھ گیا آنٹی نے نشے میں ٹن ہونے کے باوجود کہا تمہارا یہ بہت بڑا ہے اس سے سارا پانی نکال کر میری گرمی دور کر دو ۔۔۔
یہ دیکھ کر مجھے تمہارے انکل کی یاد آ گئی ان کا بھی ایسا ہی ہے مجھے بڑا مزہ دیتے تھے جب تک میرے ساتھ رہتے تھے لیکن جب سے وہ دور ہوئے ہیں میری تو دنیا کی ویران ہو گئی ہے۔۔۔
آنٹی کی آنکھوں میں آنسو آگئے میں نے ان پر جھک کر اپنے ہاتھوں سے آنسو صاف کیے اور پھر آنٹی کی ٹانگیں اٹھائیں اور لن کو ہاتھ میں پکڑ کر پھدی کو دیکھا آنٹی کی پھدی دیکھ کر لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ کسی شادی شدہ عورت کی ہے اتنی کومل پھدی تھی اور اس کے لب آپس میں ملے ہوئے تھے۔۔۔
میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ پھدی کو غور سے دیکھتا میں نے لن پر تھوک لگایا آنٹی کی پھدی میں انگلی ڈالی آنٹی لال گلابی پھدی کے پنکھڑیوں سے لب کھولے آنٹی کی پھدی پر ایک بھی بال نہیں تھا بالکل صاف تھی ۔۔۔
اب تک میں نے جتنی پھدی پھدیاں بجائی تھیں سب کے بال تھے یا بالوں کے نشان ہوتے تھے لیکن آنٹی کی پھدی پر ایسے کوئی آثار نہیں تھے جب انگلی پھدی میں پھیری تو اندازہ ہو گیا کہ پھدی مارنے کا مزہ آنے والا ہے۔۔۔
لن کی ٹوپی کو پھدی کے لبوں میں پھیرا ایک بار اچھا خاصا تھوک لن پر لگایا لن کو فل چکنا کیا اور ٹوپی پھدی کے پانی سے گیلی ہو گئی تھی ۔۔۔
آنٹی کی آواز بند ہو چکی تھی میں نے اپنی جیب سے موبائل نکالنے کا سوچا پھر سوچا ابھی تو پوری رات باقی ہے پھر کر لوں گا جو کرنا ہے ابھی لن اور پھدی کے ملاپ پر دھیان دینا چاہئیے۔۔۔۔
ٹوپی کو پھدی کے لبوں میں رگڑ کر میں نے پھدی کا سوراخ ڈھونڈا اور ٹوپی کو پھدی کی چھوٹی سی موری میں پھنسا لیا۔۔۔
آنٹی کے منہ سے سئیی کی آواز نکلی اس نے اپنی ٹانگیں ہلا کر مجھے ہلا شیری دی میں لن کر دباؤ بڑھانے لگا ۔۔۔
لن کی ٹوپی اندر ہوئی کچھ حصہ لن کا بھی گھس گیا مجھے ایسا مزہ صرف کنوری پھدی مارنے میں آیا تھا وہ بھی سمیرہ کی پھدی ۔۔۔
تھوڑا اور دباؤ ڈالا لن کا کچھ حصہ اور اندر اترگیا میں نے اپنے ہاتھ آنٹی کے دائیں بائیں رکھے اس کی ٹانگیں اٹھا کر اپنی کمر پر رکھیں ۔۔۔
لن کو تھوڑا سا پیچھے کھینچا پھر زیادہ زور لگا کر ایک گھسا مارا آدھا لن اندر اتر گیا آنٹی نے اپنے ہاتھ میری کمر پر رکھ لیے ۔۔۔
میں نے ایک بار پھر لن کو باہر کھینچ کر دوبارہ گھسایا اس بار پہلے سے زیادہ لن اندر اتر گیا۔۔۔
اب مجھے ایسا لگنے لگا کہ لن پھدی کے آخری حصے تک پہنچ گیا ہے آگے رستہ بند ہے اس لیے میں نے وہیں سے گھسے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔
آہستہ اہستہ اپنی رفتار بڑھانے لگا گھسے تیز ہوتے گئے میرا لن پھدی کی گرمی پا کر اور پھول گیا تھا۔۔۔
گھسوں کی رفتار کے ساتھ ساتھ میرا جوش بھی بڑھتا گیا آنٹی کا نشہ بھی اترنے لگا تھا وہ بھی آہ آہ پلیز آرام سے کرو ۔۔۔
بہت عرصے بعد اس میں کوئی لن کا رہا ہے ورنہ اتنے عرصے سے انگلی سے ہی گزارا کر رہی ہوں۔۔۔
آنٹی کی ایسی باتیں سن کر بھی میں نہیں سن رہا تھا میرا اندر تک گرم ہو چکا تھا لن تو اپنی حد سے بھی کہیں زیادہ گرم ہو چکا تھا۔۔۔
آنٹی میرے کر گھسے کر آہ اہ آہممم کی آواز نکالنے لگی چند ہی گھسوں کے بعد آنٹی نے اوں اوں اہ آہ آہ ہمممم آہ کی آوازیں نکالنی شروع کر دیں۔۔۔
میں بڑی مشکل سے خود کو زوردار گھسا مارنے سے روک رہا تھا میں نے اپنی سپیڈ بہت تیز کر لی تھی اب میرے ہاتھ آنٹی کے مموں پر تھے۔۔۔
میں دونوں ہاتھوں سے قمیض کے اوپر سے ممے دبا رہا تھا اور گھسے ماری جا رہا تھا آنٹی آنکھیں بند کیے لیٹی مزے لے رہی تھی۔۔۔
آنٹی کا جوش بڑھتا گیا اس کا جسم اکڑا اس نے میری کمر پر ٹانگیں کسیں مجھے اپنے اوپر گرایا ۔۔۔
اس کے ہاتھوں کے ناخن میری پیٹھ پر چبھنے لگے اس کے منہ سے اوں اوہ اہ آہ یسسسسس سئییییی کی آوازیں بلند ہوتی گئیں۔۔۔
وہ بہت اونچی آواز میں چیخ رہی تھی اس کے انداز سے اس اندر بہت شدت سے لگی آگ کا پتہ چل رہا تھا۔۔۔
ایک دم اس نے مجھے ذور سے کھینچ کر اپنے اوپر گرا لیا وہ زور سے آہ آہ آہ کرتی ہوئی فارغ ہوئی۔۔۔