تلاشِ زِیست 19

 

راجہ: کسی کا بھید اگر پتا چل جائے تو اس کی مرضی کے بغیر اسے کھولنا اچھا تو نہیں ہوتا نا؟ بس اس لیے میں نے نہیں پوچھا۔ اور ویسے بھی ٹائم ہی کہاں تھا ہمارے پاس؟ لیکن۔۔ 

رانی: لیکن کیا راجہ؟ 

اتنا بول کر رانی میری آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ 

راجہ: پہلے نہا لو، پھر بات کرتے ہیں۔ 

رانی: ہوممم۔۔ ٹھیک ہے۔ 

پھر میں نے رانی کو پانی میں اتار دیا۔ سمندر کا پانی میرے لنڈ سے کچھ ہی اوپر تھا۔ آگے جانا سیف نہیں تھا، ورنہ اپنے لنڈ کی وجہ سے شاید میں رانی کو آگے بھی لے جاتا۔ 

رانی کو بھی میری ہی طرح سے پانی کا ایکسپیریئنس نہیں تھا۔ پانی میں آتے ہی وہ ڈرنے لگی۔ رات کا ٹائم، ایک سنسان آئی لینڈ، اور وہ بھی سمندر کے پانی میں، جس کے اندر وہ اپنی زندگی میں کبھی نہیں گئی تھی۔ رانی ڈرنے لگی۔ 

رانی: راجہ، کچھ پیچھے چلو، یہاں مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ 

راجہ: کچھ نہیں ہوتا، تم یہیں نہا لو۔ میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔ 

رانی: نہیں راجہ، یہاں مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ میں پہلے کبھی سمندر میں نہیں اتری۔ پلیز راجہ، تھوڑا کم پانی میں جاتے ہیں۔ 

اب میں رانی کو کیسے بتاتا کہ میرا لنڈ بالوں سے باہر نکل کر پورا کھڑا ہو چکا ہے؟ رانی کو یہ نہیں پتا تھا، اور میں اسے بتا بھی نہیں پا رہا تھا۔ جھجھک تھی، پہلے کبھی کسی لڑکی کے سامنے اس طرح ننگا نہیں ہوا تھا۔ سارا دن جو حالت تھی، وہ تو ایک مجبوری تھی۔ لیکن اب سب مجھے عجیب لگ رہا تھا۔ 

لیکن رانی میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کم پانی کی طرف لے جانے لگی۔ 

“مرتا۔۔ کیا نہ کرتا”

مجھے رانی کے ساتھ ہی جانا پڑا۔ واپس مڑتے ہی میرا موٹا لمبا لنڈ پانی سے باہر آ گیا تھا۔ لیکن ابھی رانی کی نظر نہیں پڑی تھی میرے لنڈ پر۔ میں مرد ہو کر شرما رہا تھا، اور رانی لڑکی ہو کر مجھ سے بھی کم شرما رہی تھی۔ 

جیسے ہی پانی میرے لنڈ سے چار انچ نیچے ہوا تو رانی رک گئی اور مجھے دیکھ کر بولی۔۔ 

رانی: راجہ، یہاں ٹھیک ہے۔ 

رانی میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔ 

راجہ: ٹھیک ہے تو پھر تم نہاؤ۔ میں یہیں تمہارے لیے کھڑا رہتا ہوں۔ تم ذرا جلدی کرو، ہمیں باہر بھی جانا ہے۔ 

رانی مجھے دیکھ کے مسکرائی اور پانی میں ڈبکی لگانے کے لیے جیسے ہی جھکی تو اس کی نظر میرے کھڑے لنڈ پر چلی گئی۔ رانی بری طرح سے شرما گئی۔ وہ ڈبکی لگانا بھول گئی۔ رانی کو میرا لنڈ دکھ گیا تھا۔ اور ایک بار تو جھکے جھکے ہی اسٹیچو بن گئی۔ 

پھر کھڑی ہوئی اور میری طرف پیٹھ کر کے کانپنے لگی۔ رانی کو اچانک سے کچھ زیادہ ہی شرم آنے لگی تھی۔ آتی بھی کیسے نہ، پہلے کبھی کسی کا دیکھا جو نہیں تھا۔ اب جو دیکھا وہ بھی اتنے پاس میں، تو رانی کی حالت تو پھر ایسی ہونی ہی تھی۔ 

مجھے پتا نہیں کیا ہوا، میں نے رانی کو پیچھے سے پکڑ لیا اور میرا لنڈ رانی کی گانڈ میں چبھ گیا۔ 

رانی: سیییییی۔۔ 

رانی سسکی لینے لگی۔ رانی پانی میں اور بھی کانپنے لگی۔ رانی کے بدن کی گرمی بڑھنے لگی۔ 

بدن تو میرا بھی گرم ہو چکا تھا۔ یہ سب اچانک سے ہی ہو رہا تھا۔ ہم دونوں ہی اس سب میں اناڑی تھے۔ جوانی ساری ہی آئی لینڈ پر پھنسے ہوئے گزر گئی تھی۔ رانی کا نہیں پتا تھا مجھے، لیکن میں تو اسی آئی لینڈ پر ہی جوان ہوا تھا۔ 

میں رانی کے اوپر جھکا اور رانی کے کان کے پاس اپنا منہ لے جاتے ہوئے بولا۔۔ 

راجہ: تمہارا نام کیا ہے؟ 

میری آواز میں مدہوشی سی آنے لگی تھی۔ بہت ہی دھیرے سے میرے منہ سے الفاظ نکل کر رانی کے کانوں میں سمائے تھے۔ ایک الگ ہی قسم کا ماحول بن گیا تھا۔ ایک آئی لینڈ، پھر سمندر کے ساحل سے کچھ آگے سمندر کے پانی میں، میری بانہوں میں سمایا ایک لڑکی، میرا کھڑا لنڈ لڑکی کے پیچھواڑے میں گھسا ہوا تھا، چاند کی چاندنی میں، سمندر کے پانی میں، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا جو جسم کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے اور بھی زیادہ بھڑکائے جا رہی تھی۔ ہمارے جسموں میں ہلچل پیدا کر کے ہمیں ایک اور ہی دنیا دکھنے لگی تھی۔ یہاں میرا لنڈ کھڑا اور رانی کی گانڈ میں چبھتا ہوا رانی کو کانپنے پر مجبور کر رہا تھا۔ اس سب میں سیکس یا ہوس کا کوئی بھی چکر نہیں تھا۔ لیکن جو بھی تھا، ہماری سمجھ سے باہر تھا۔ 

ایسی ہی سچویشن میں میری آواز رانی کے کانوں میں سمائی۔ رانی سے اس کا نام پوچھتے ہوئے میری آواز کانپ رہی تھی۔ سمندر کا ٹھنڈا پانی اور پھر بھی ہمارے اندر آگ بھڑکنے لگی تھی۔ لیکن پھر بھی ہم دونوں کانپ رہے تھے۔ 

رانی: (کانپتی ہوئی آواز میں) رینو۔۔ رینوکا۔ 

رانی رُک رُک کر بولی۔ ضرور اس کی بھی چوت گیلی ہو گئی تھی۔ تب مجھے اتنا پتا نہیں تھا اس سب کا، بھلے ہی میرا لنڈ کھڑا ہو گیا تھا۔ میں اناڑی تھا اور میری فیلنگز میرے کنٹرول سے باہر ہونے لگی تھیں۔ 

میں ان ایکسپیریئنسڈ تھا۔ قید خانے میں مشقت کے علاوہ کبھی کچھ کیا ہی نہیں تھا اور کسی سے زیادہ بات کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ 

میں رینو کے کان پر جھکا ہوا تھا اور میرا لنڈ رینو کے چوتڑوں میں پھنسا ہوا تھا۔ میری عجیب سی حالت ہونے لگی تھی۔ میری سانس گرم ہو کر رینو کے کان کو گرم کرنے لگی تھی۔ مجھ سے بولنا مشکل سا ہونے لگا تھا۔ رینو کو بھی یہ سب برا نہیں لگ رہا تھا۔ پتا نہیں کیوں وہ بھی مجھے اس سب سے روک نہیں پا رہی تھی۔ 

ہم دونوں ہی وحشی شکل و صورت کے تھے۔ قید خانے میں رہتے رہتے خود کا حلیہ بھی جنگلیوں جیسا ہی ہو گیا تھا۔ رینو لڑکی تھی، لیکن اس کے سر کے بال کٹے ہوئے تھے۔ شاید اس نے خود کو چھپانے کے لیے اپنے بال چھوٹے رکھے ہوئے تھے۔ اور رینو کے بال بھی ہماری ہی طرح سے کنڈل جیسے بنے ہوئے تھے۔ 

ایسی حالت میں بھی ہمارے اندر ایک عجیب سی فیلنگز آ رہی تھی۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسی فیلنگز کا کبھی سامنا نہیں کیا تھا۔ مٹھ تک نہیں ماری تھی۔ اپنی من مرضی سے اپنے لنڈ کو کبھی ہلا کر کھڑا نہیں کیا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے لنڈ اپنا پانی نکال لیا کرتا تھا۔ بس اتنا ہی تھا میری لائف میں۔ اور میں اس بارے کچھ نہیں جانتا تھا۔ لیکن رینو کے بدن کی گرمی مجھے کچھ اور بھی احساس دلانے میں لگی ہوئی تھی۔ 

یہ سب میرے لیے نیا اور مزے سے بھرپور تھا۔ میری سانسیں اور بھی گرم ہونے لگیں اور میرا لنڈ رینو کی گانڈ کے چھید میں پھنسا ہوا تھا۔ لیکن آگے کیا کرنا ہے، مجھے صحیح سے پتا نہیں تھا۔ بس خود کی عجیب سی فیلنگز کو کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا۔ اس لیے میں رینو کے اوپر پیچھے سے ہی جھکا ہوا تھا۔ 

میرا لنڈ ہی رینو کی گانڈ میں دھنسا ہوا تھا۔ میں نے ابھی تک رینو کو پکڑا نہیں تھا۔ میں بس اپنا چہرہ ہی رینو کے کان کے پاس لایا تھا۔ اور ایسا کرنے سے بھی مجھے ایک عجیب سا مزہ  ملنے لگا تھا۔ اندر سے آواز آ رہی تھی کہ بس یونہی عمر بیت جائے اور میں رینو کے پاس ایسی ہی کھڑا رہوں۔ 

Source link

Leave a Comment