میں رینو کے منہ سے اس کا نام سن کر بدبدانے لگا۔ میرا لنڈ رینو کی گانڈ کی دراڑ میں تھا۔ اور میرا چہرہ رینو کے کان پر جھکا ہوا تھا۔ اور میں کسی اور ہی دنیا میں جا پہنچا تھا۔
میرا لنڈ کھڑا تھا اور مجھے اس سے پریشانی نہیں ہو رہی تھی۔ اور نہ ہی مجھے اندر سے بے چینی سی لگ رہی تھی۔ میرا لنڈ اپنی مرضی سے کھڑا ہوا تھا۔ اور ہر گزرتے پل اس کی اکڑن اور بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اس کا دباؤ اور بھی رینو کی گانڈ کے چھید میں گھسنے کے لیے بڑھنے لگا تھا۔
میں رینو کے نام کو ہی دھیرے دھیرے اس کے کان میں بدبانے لگا۔ رینو بھی مدہوش ہونے لگی تھی۔ میری تو ٹھیک ہے، جیسی بھی حالت تھی، لیکن رینو کو کیوں میرے ہی جیسی فیلنگز آ رہی تھیں؟ رینو پانی میں نہانے کی بجائے میرے لنڈ کو اپنی گانڈ پر اپنی مرضی سے فیل کر رہی تھی۔
میں نے رینو کو ایسا کرنے کے لیے نہیں کہا تھا۔ ہم دونوں ہی کچھ بھی اپنی مرضی سے نہیں کر رہے تھے۔ بس سب کچھ خود بخود ہی ہو رہا تھا۔ کچھ منٹ ہمیں ایسے ہی گزر گئے۔ نہ میں نے خود کو اور رینو کی جانب بڑھایا، اور نہ ہی رینو نے کچھ کہا۔
پھر میں نے رینو کو بولا۔۔
راجہ: رینو۔۔ کتنا پیارا نام ہے تمہارا۔ اب تم نہا لو، پھر باہر بھی جانا ہے۔ یہاں کچھ گڑبڑ بھی ہو سکتی ہے۔
رینو میری بانہوں سے نکلنا ہی نہیں چاہتی تھی۔ اس کے جسم کی گرمی اور سرسراہٹ بہت بڑھ چکی تھی۔ اب رینو کو میں نے بولا تو رینو مجھ سے الگ ہونے کو ماننا ہی نہیں چاہتی تھی۔
جیسے پہلے اس نے مجھے چومنا شروع کیا تھا۔ رینو کے دل میں بھی وہی ہونے لگا تھا جو میرے دل میں ہو رہا تھا۔ پتا نہیں میرے دل میں زیادہ گڑبڑ تھی یا میرے لنڈ میں۔ یہ مجھے نہیں پتا تھا۔ میں اپنی فیلنگز کو صحیح سے سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
رینو بھی مجھ سے الگ ہونے کی خواہش مند نہیں تھی۔ میں نے رینو کے پیٹ پر اپنے ہاتھ رکھ دیے۔ مجھے ایسا کرنے میں بڑا مزا آنے لگا۔ میرا لنڈ کچھ اور بھی اکڑ گیا تھا ایسا کرنے سے۔
راجہ: رینو، جلدی سے نہا لو۔ یہاں خطرہ ہو سکتا ہے۔
رینو نے خود پر کسی حد تک قابو پایا۔ اس کی سانس کچھ تیز سی چلنے لگی تھی۔ رینو نے مجھ سے الگ ہو کر اپنا چہرہ میری طرف کیا۔ اور پھر اچانک سے میرے گلے لگ گئی۔
وہ بہت ہی زیادہ کانپ رہی تھی۔ پتا نہیں کیوں، لیکن یہ سب بہت مزے والا تھا ہم دونوں ہی کے لیے۔
راجہ: رینو، کیا ہوا؟
رانی: پتا نہیں راجہ، مجھے کیا ہونے لگا ہے۔ آج سارا دن ہی میرا من بس تمہیں ہی دیکھنے کو مچلتا رہا ہے۔ راجہ، ایسا کیوں ہو رہا ہے میرے ساتھ؟ اور سچ کہوں تو آج جو میں نے تمہارا ساتھ دیا ہے، وہ بھی بس تمہیں ہی سوچ کر، ورنہ میں اتنی مضبوط اور ہمت والی بھی نہیں ہوں۔ بس دل بار بار پکار رہا تھا کہ تمہارے سنگ سنگ ہمیشہ ہی ایسی رہوں۔ اور اسی لیے تمہارے ساتھ اتنی ہمت کر پائی، ورنہ پڑی ہوتی کہیں جنگل میں۔ میرا دل تمہارے بغیر رہنے کو نہیں مانے گا۔ اس لیے سارا دن ہی یہ تمہارے لیے ہی مچلتا رہا۔ اور مجھے ہمت نہ ہارنے کو کہتا رہا۔ راجہ، زندگی کی خواہش تو مجھے بہت تھی، لیکن زندہ رہنے کی ہمت ختم ہوتی ہوئی مجھے محسوس ہو رہی تھی۔ لیکن پھر جب دل میں تمہارے لیے کچھ عجیب سا ہونے لگا تو میری زندہ رہنے کی ہمت خود بخود ہی بڑھتی چلی گئی۔ میرا دل تمہیں کھونے سے انکاری ہونے لگا تھا۔ بس ایسے ہی تڑپ میرے دل میں چلتی رہی اور میرا جسم اس کا ساتھ دیتے ہوئے چلتا رہا تھا۔
رانی کی آنکھوں میں نمی سی آنے لگی۔ چاند کی روشنی میں رانی کی آنکھیں چمکنے لگی تھیں۔
اب میرے دل میں بھی تو رینو کے لیے ویسا ہی تھا، جو رینو نے بتا دیا تھا۔ اور رینو بھی مجھ سے میری ہی طرح الگ نہیں ہونا چاہتی تھی۔ اس کے دل نے مجھے اپنا مان لیا تھا۔ اور میرے دل نے رینو کو اپنا بنا لیا تھا۔
رانی کی بات سن کر میں نے اپنے ہونٹ رینو کے گال پر رکھ دیے اور رینو کے گالوں کو محسوس کرنے لگا۔ اگر میں کہوں کہ رینو کے گال بہت ہی خوبصورت تھے، تو یہ جھوٹ ہوگا، کیونکہ ابھی تک نہ میں نے اور نہ رینو نے صحیح سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔ ہمارا تو حلیہ ہی انسان کہلانے کے قابل نہیں تھا۔ لیکن ہمارے دل کی دھڑکن ایک دوسرے میں جذب ہو جانا چاہتی تھی۔ یہاں سیکس اور صورت دیکھ کر اندر سے فیلنگز آنے والی کوئی بات ہی نہیں تھی۔ یہاں ہم ایک دوسرے کے ساتھ اور پھر ایک دوسرے کی کیئر کی بدولت ایک دوسرے کے ہو گئے تھے۔ جیسا دل میرا تھا، ویسا ہی رینو کا بھی تھا۔ میری ہی طرح سے رینو بھی اسی آئی لینڈ پر پھنسی ہوئی تھی۔ ویسے بھی سارا دن مجھے ہوش ہی کہاں تھا؟ میں تو ظہیر اور سنجے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اور رینو کو دیکھنا ممکن نہیں تھا۔ اور اب جب کچھ ہوش ٹھکانے آئے تھے، تو اندھیرا ہو چکا تھا، اور چاند کی چاندنی بھی رینو کو صحیح سے نہیں دکھا پا رہی تھی۔ لیکن رینو اندر سے ایک انتہائی خوبصورت لڑکی تھی۔ میرا دل مجھے بول رہا تھا، اور دل کم ہی دھوکا دیتا ہے۔
میرے ہونٹ رینو کے گال کو چھو کر رینو کو محسوس کرنے میں لگے ہوئے تھے، تو نیچے میرا لنڈ بھی رینو کی چوت کے ہونٹوں پر ٹھوکریں مار رہا تھا۔
رانی نے مجھے کچھ نہیں کہا۔ رینو خود بھی مجھ میں سما جانا چاہتی تھی۔
میں رینو میں کھونے لگا تھا کہ مجھے یاد آیا کہ ہم بیچ سمندر میں ہیں۔ یہاں سے جلدی ہی نکلنا ضروری ہے۔ میں نے رینو کو خود ہی نہلانے کا سوچا، ویسے تو وہ پتا نہیں کتنا ٹائم لگا دیتی۔
میں رینو کو لے کر نیچے بیٹھنے لگا۔ رینو میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نیچے بیٹھ گئی۔ ہم دونوں کے ہی صرف سر باہر تھے۔ میرا من مچلنے لگا اور پھر میرے ہاتھ پانی کے اندر ہی رینو کے بدن پر چلنے لگے۔ میرے ہاتھوں کے چھونے سے رینو بیتاب ہونے لگی۔ رینو میں مستی بڑھی تو رینو خود کو میرے گلے لگنے سے روک نہ پائی۔
میرے گلے لگتے ہی رینو کی گرم سانسیں میری گردن کو چھونے لگیں۔ ہم دونوں میں ہی گرمی بڑھنے لگی تھی۔ پر ہمیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ہم اس گرمی کا کیا کریں۔
قدرت خود ہی سکھا دیتی ہے سب کچھ۔ میرے ہاتھ چلتے ہوئے جیسے ہی رینو کے بوبز پر پڑے تو رینو نے مجھے کس کے پکڑ لیا۔ اور رانی کی سانس میں کچھ اور بھی اتار چڑھاؤ آنے لگا۔
میں نے رینو کے بوبز کو پکڑا تو مجھے محسوس ہوا کہ رینو نے اپنے بوبز کو کس کے باندھا ہوا ہے۔ شاید اسی لیے رینو کو صحیح سے پہچاننے میں غلط فہمی ہو رہی تھی۔ رینو کے بوبز کس کے بندھے ہوئے ہونے کی وجہ سے دبے ہوئے تھے۔