br>
امی مجھ سے بات کر کے نیچے چلی گئیں۔ میں نیچے اتر کر نازیہ کے روم میں چلا گیا، نازیہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔ میں نازیہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر آواز دی: "جان اب کیسی طبیعت ہے؟" نازیہ نے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور بولی: "آپ کے ہی کام ہیں، آپ نے جو کیا ہے"۔ میں نے کہا: "جان پہلی دفعہ ایسا ہوتا ہے"۔ نازیہ نے پوچھا: "امی کہاں ہیں؟" میں نے کہا: "امی کچن میں ہیں"۔ نازیہ اٹھنے لگی تو میں نے کہا: "نازی لیٹی رہو"۔ نازی نے کہا کہ اس نے امی کو سب کچھ بتا دیا ہے کیونکہ امی کو اس کی حالت دیکھ کر شک ہو گیا تھا۔ نازی کہنے لگی کہ اب جو ہو گا دیکھا جائے گا، پہلے تو امی نے بہت غصہ کیا کہ تم نے سگے بھائی کے ساتھ یہ سب کیا تو میں نے کہا: "امی آپ کو داماد اور بیٹا ایک ساتھ مل گئے ہیں، اب آپ کو میری شادی کی فکر نہیں ہوگی، میری شادی کامران سے ہو گئی ہے آپ بھی اس بات کو مان لیں، یہ بات گھر میں ہی رہے گی اور گھر جیسا پیار کہیں اور نہیں مل سکتا"۔ میں نے پوچھا پھر امی نے کیا کہا؟ نازی بولی: "امی چپ ہو گئیں، کہنے لگیں بس خاندان میں اگر کسی کو پتہ چل گیا تو کیا ہوگا"۔ نازیہ نے امی سے کہا: "خاندان میں کسے پتہ چلے گا؟ نہ آپ بتائیں گی اور نہ بھائی، تو بس آپ اس بات کی فکر نہ کریں"۔ میں نے نازیہ کے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے کہا: "لو یو جان، یہ پرابلم تو حل ہو گئی، اب ہم دونوں میاں بیوی بن کر رہیں گے اور امی کی ٹینشن بھی ختم ہو گئی"۔ نازیہ نے میرے ہاتھ پر گرفت سخت کی اور بولی: "کامی جان آپ کی ہی رہوں گی ساری زندگی"۔ میں بیڈ سے اٹھا اور کہا: "اوکے جان تم آرام کرو میں شاپ پر چلتا ہوں"۔ نازی بولی: "کامی اب کھانا کھا کر جانا امی کھانا بنا رہی ہیں"۔ میں نے کہا: "نہیں جان میں بس چلتا ہوں، ثانی نظر نہیں آرہی"۔ نازی بولی: "ثانی خالہ کے ساتھ مارکیٹ گئی ہے"۔
میں نازی کے پاس سے اٹھ کر کچن میں آگیا، امی کھانا بنا رہی تھیں۔ میں پیچھے سے جا کر امی سے لپٹ گیا: "امی مل آئے اپنی چہیتی بیوی سے؟" میں نے امی کے ممے دباتے ہوئے کہا: "جان تم بھی میری چہیتی بیوی ہو"۔ امی مجھے اپنے سے الگ کرتے ہوئے بولیں: "اچھا مجھے کھانا بنانے دو"۔ میں نے پیچھے سے امی کی گردن پر بوسہ دیا اور اپنا لن امی کی گانڈ پر دباتے ہوئے کہا: "جان وہ تمہاری بیٹی بھی ہے اور تم دونوں سے میں بہت پیار کرتا ہوں"۔ امی مجھے مڑ کر دیکھتے ہوئے بولیں: "کامران ایک وعدہ کرو کہ نازی کی وجہ سے مجھ سے دور تو نہیں ہو جاؤ گے؟" میں نے لن گانڈ پر رگڑتے ہوئے کہا: "نہیں جان تم کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟ آج رات تم کو چودنا ہے بس، آج رات کو تیار رہنا آج تمہاری گانڈ اور چوت مارنی ہے"۔ امی بولیں: "ہاں ماں کی گانڈ بھی مار کر میرا حال بھی نازیہ جیسا کر دو گے؟ مجھے نہیں مروانی گانڈ اور اب مجھے چھوڑو اور شاپ پر جاؤ"۔ میں نے کہا: "اوکے جی بس آج کی رات تمہارے نام"۔ امی بولیں: "جب رات ہو گی تو دیکھا جائے گا"۔ میں نے امی کے گال پر پیار کیا اور شاپ پر چلا گیا۔ امی ابھی بھی ناراض لگ رہی تھیں لیکن جب لن چوت میں جائے گا تو ناراضگی ختم ہو جائے گی، یہ سوچتے ہوئے میں شاپ پر آگیا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔
شام کو موبائل پر ثانی کا میسج آیا۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی بزی تو نہیں ہیں؟
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں میری گڑیا۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی آپ صبح کچن میں امی کے ساتھ کیا کر رہے تھے؟
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ناشتے کا پوچھنے گیا تھا۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی جھوٹ نہ بولیں آپ اپنا لوڑا امی کی بنڈ کے ساتھ لگا کر کھڑے تھے امی بھی آپ کو کچھ نہیں کہہ رہی تھیں، مجھے تو لگتا ہے آپ بھی ناصر بھائی کی طرح امی کی پھدی مار چکے ہیں۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری گڑیا اب تم نے صبح یہ سب دیکھ ہی لیا ہے تو پھر تم ٹھیک کہہ رہی ہو، میں نے امی کی چوت بھی مار لی ہے اور آج رات کو بھی چودوں گا اب بولو۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اف بھائی اس کا مطلب میرا اندازہ صحیح تھا کہ آپ دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی بہت زیادہ تبھی تو امی مجھ سے چوداتی ہیں۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مطلب آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے؟
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری جان تم سے بھی کرتا ہوں، جب تمہاری چوت لن لینے کے قابل ہو جائے گی تو تم کو بھی چودوں گا، ابھی میرا موٹا اور لمبا لن تمہاری چوت برداشت نہیں کر پائے گی۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی یہ کیا بات ہوئی؟ بس آپ نے مجھے بھی پیار کرنا ہے۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا جب ٹائم ملا تو اپنی چھوٹی سی گڑیا کی بھی خواہش پوری کروں گا۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سچ بھائی؟
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بولا جی سچ۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے بھائی میں انتظار کروں گی جب آپ میرے ساتھ بھی پیار کریں گے، آج تو آپ امی کی چودائی کریں گے تو مجھ سے میسج پر بات نہیں کریں گے۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں آج امی میرے روم میں ہوں گی آج مشکل ہے۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوکے آپ کو ایک بات بتاؤں؟
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی بتاؤ۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امی ابھی نہا کر آئی ہیں اور بہت ٹائٹ شرٹ پہنی ہوئی ہے، لگتا ہے امی آپ کے لیے تیاری کر رہی ہیں، آج رات کو آپ نے امی کی پھدی جو مارنی ہے، اس ٹائم امی بہت اچھی لگ رہی ہیں بھائی میرا بہت دل کر رہا ہے کہ میں بھی دیکھوں کہ امی آپ سے کیسے پھدی مرواتی ہیں۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو مشکل ہے لیکن ایک طرح سے دکھا سکتا ہوں۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی وہ کیسے؟ جلدی بتائیں۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اپنے موبائل پر ریکارڈنگ کر کے تم کو دکھا دوں گا۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واؤ بھائی زبردست بس یہ ٹھیک ہے، آپ ویڈیو بنا کر پھر مجھے دکھا دینا لو یو بھائی، اچھا بھائی میں کچن میں جا رہی ہوں بائے۔
ثانی سے میسج پر بات کر کے اندازہ ہوا کہ امی کا آج چدنے کا پورا موڈ ہے۔ میں یہی سوچ رہا تھا کہ امی کی کال آگئی۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی امی؟
امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کامران کب تک آرہے ہو؟
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیگم بولو تو ابھی آجاؤں۔
امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس زیادہ پیار نہ دکھاؤ، فون اس لیے کیا تھا کہ آتے ہوئے کولڈ ڈرنک لیتے آنا۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوکے جان لیتا آؤں گا۔
امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوکے۔
امی اوپر اوپر سے ناراض تھیں لیکن اندر سے چوت مروانے کو پوری تیار تھیں۔ میں نے ٹائم دیکھا تو 9 بج رہے تھے، میں نے اسلم صاحب کو کہا کہ آپ شاپ بند کر دیجیے گا میں گھر جا رہا ہوں، اسلم صاحب میرے قابل اعتماد ملازم تھے اور شاپ کو زیادہ تر وہی سنبھالتے تھے۔ میں شاپ سے نکل کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے سے امی کی پسند کی کولڈ ڈرنک لے کر گھر پہنچ گیا۔ گیٹ ثانی نے کھولا، ثانی کو دیکھا تو لن کو جھٹکا لگا، ثانی نے پنک ٹائٹز اور ہاف سلیوز شرٹ جو اس کے پیٹ تک تھی اور اوپر کے دو بٹن کھلے ہوئے تھے پہنی ہوئی تھی، شرٹ مموں سے ٹائٹ تھی جس میں سے ثانی کے ٹینس سائز کے ممے پتا چل رہے تھے۔ ثانی مجھے دیکھتے ہوئے بولی: "بھائی کہاں گم ہو گئے بائیک تو کھڑی کریں"۔ میں نے بائیک کھڑی کی اور کولڈ ڈرنک ثانی کو دیتے ہوئے اس کے چوتڑ پر ہاتھ مارا اور کہا: "میری گڑیا بہت اچھی لگ رہی ہو"۔ ثانی کے چوتڑ کو دبایا تو ثانی بولی: "اوچ درد ہوا ہے" اور اپنے چوتڑوں کو سہلانے لگی۔ میں نے ثانی کے کان میں کہا: "امی سے زیادہ تو تم تیار ہو تم کو دیکھ کر لن کھڑا ہو گیا ہے"۔ ثانی یہ سنتے ہی شرما کر اندر بھاگ گئی۔
میں نے گیٹ بند کیا اور لن کو پینٹ میں صحیح کیا اور اندر چلا گیا۔ اندر گیا تو نازیہ صوفے پر بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی، نازی نے مجھے دیکھتے ہی سلام کیا۔ میں اس کے سامنے بیٹھ گیا اور اس کی طبیعت کا پوچھا، نازیہ بولی اب کافی بہتر ہے۔ نازیہ بولی: "آپ کے لیے پانی لاؤں؟" میں بولا: "نہیں جان تم بیٹھو ثانی پلا دے گی"۔ نازیہ نے ثانی کو آواز دی کہ بھائی کے لیے پانی لاؤ۔ ثانی کچن سے پانی کا گلاس لے کر آئی، آج تو ثانی بھی میرا امتحان لے رہی تھی، اس نے ایسی ٹائٹز پہنی تھی کہ شرٹ اوپر ہوتی تو اس کا تھوڑا سا پیٹ بھی نظر آتا اور نیچے چوت کا پتا چلتا، ٹائٹز چوت سے بھی چپکی ہوئی تھی۔ ثانی گلاس لے کر آئی اور میرے سامنے کھڑے ہو کر پانی دیا، میں پانی پیتے ہوئے اپنی چھوٹی بہن کے مموں اور چوت کا نظارہ کر رہا تھا تو امی کی آواز کچن سے آئی: "ثانی ادھر آؤ"۔ ثانی گلاس لے کر کچن کی طرف چلی گئی، جاتے ہوئے ثانی کی چھوٹی سی گانڈ بھی الگ ہی نظارہ دے رہی تھی۔ امی ابھی تک کچن میں تھیں، امی کو میں نے ابھی تک نہیں دیکھا تھا۔ میں کچن میں گیا تو امی روٹیاں پکا رہی تھیں، امی کو سلام کیا امی نے جواب دیا۔ ثانی مجھے کچن میں دیکھتے ہی مسکراتے ہوئے کچن سے باہر چلی گئی، ثانی نے امی سے کہا: "امی میں ٹی وی دیکھ رہی ہوں کوئی کام ہو تو بلا لیجیے گا"۔
ثانی کے باہر جاتے ہی میں نے پیچھے سے امی کو لپٹایا اور کان میں کہا: "جان کیسی ہو؟" امی بولیں: "اپنی دوسری بیوی کا حال احوال تو لے لیا پہلے، میں کچن میں ہوتی تھی تو تم پہلے کچن میں آتے تھے، آج آتے ہی نازیہ کے پاس چلے گئے"۔ میں نے کہا: "جان اس کی طبیعت کا پوچھا اور پانی پی کر اپنی جان کے پاس آگیا"۔ امی بولیں: "اچھا اب اوپر جا کر فریش ہو میں کھانا لگاتی ہوں"۔ میں نے امی کے گال پر پیار کیا اور کچن سے باہر آیا تو ثانی مجھے دیکھتے ہوئے بولی: "بھائی فریش ہو کر جلدی آئیں بہت بھوک لگی ہے"۔ میں بولا: "بس آیا"۔ میں اپنے روم میں آیا، کپڑے اتار کر ننگا واش روم میں چلا گیا اور شاور کھول کر نہانے لگا۔ سوچا آج ثانی کے نام کی مٹھ لگا لوں ثانی بھی آج بہت مست لگ رہی ہے، لگتا ہے اب اس کی چوت بھی لن لینے کے لیے تیار ہو گئی ہے۔
لن پر صابن لگتے ہی لن کو سہلانے لگا کہ ثانی اس کو پکڑے تو مزہ ہی آجائے گا، یہ سوچتے ہی لن کھڑا ہو گیا۔ میں لن پر صابن لگا کر کھڑا تھا کہ ثانی کی آواز آئی: "بھائی جلدی آئیں امی کھانے کے لیے بلا رہی ہیں"۔ ثانی واش روم کے پاس کھڑی ہو کر مجھے آواز دے رہی تھی، ثانی کی آواز سنتے ہی میں نے واش روم کا دروازہ کھول دیا۔ ثانی باہر کھڑی تھی اور میں ننگا اس کے سامنے کھڑا تھا، لن کھڑا ہوا تھا اور اس پر صابن لگا ہوا تھا۔ ثانی لن کو دیکھتے ہوئے بولی: "بھائی جلدی چلیں"۔ میں نے ثانی کو دیکھتے ہی مٹھ لگانی شروع کر دی، ثانی بھی مجھے مٹھ لگاتے ہوئے دیکھ رہی تھی اور اس کا چہرہ گلابی ہو گیا تھا۔ میں نے ثانی سے کہا: "میری گڑیا جلدی سے شرٹ کے بٹن کھول کر مجھے ممے دکھا دو"۔ ثانی نے لن کو دیکھتے ہوئے کسی روبوٹ کی طرح اپنی شرٹ کے بٹن کھول دیے، شرٹ کے نیچے ثانی نے بریزر نہیں پہنی تھی، 32 سائز کے ممے دیکھتے ہی میرے منہ سے ایک آہ نکلی اور میرے لن نے منی کا فوارہ چھوڑ دیا۔ میں نے مٹھ تو بہت دفعہ ماری لیکن آج چھوٹی بہن کے ممے دیکھتے ہوئے مٹھ مارنے کا الگ ہی مزہ آیا۔ ثانی بہت غور سے یہ سب دیکھنے کے بعد اس کو احساس ہوا کہ یہ کیا ہوا، ثانی نے جلدی سے شرٹ کے بٹن بند کیے اور نیچے بھاگ گئی۔ میں نے اپنے جسم پر پانی ڈالا، لن کو صاف کیا اور ٹراؤزر پہن کر نیچے آگیا۔ نیچے آیا تو امی نے کھانا ٹیبل پر لگا دیا تھا، ثانی اور نازی ایک ساتھ بیٹھے تھے۔ میں امی کے ساتھ کرسی پر بیٹھ گیا، ثانی کی شرٹ کے اب 3 بٹن کھلے تھے، ثانی جب کھانا کھانے سر نیچے کرتی تو ثانی کے مموں کی لائن اور گولائیاں پتا چلتیں۔ آج ماں اور بہن دونوں ہی میرے صبر کا امتحان لے رہی تھیں، امی نے بھی کھلے گلے کی ٹائٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی جس کی وجہ سے امی کے ممے باہر نکلنے کو بے چین تھے۔ امی کھانا کھاتے ہوئے بولیں: "ثانی کل تم کالج نہیں جانا کیونکہ نازیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور میری بھی بینک سے چھٹی ختم ہو گئی ہے، مجھے تو صبح بینک جانا ہے تم بھائی کو ناشتہ بنا دینا"۔ ثانی بولی: "جی امی آپ فکر نہ کریں میں بھائی کو ناشتہ کروا دوں گی"۔ نازی بولی: "مجھے بھی اٹھا دینا میں بنا دوں گی"۔ امی نازیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں: "نہیں تم نے ابھی کوئی کام نہیں کرنا ہے دو تین دن آرام کرو ڈاکٹر نے سختی سے کہا ہے کہ تم نے کوئی کام نہیں کرنا ہے"۔ نازیہ بولی: "امی میں اب ٹھیک ہوں"۔ امی نازیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں: "ہاں مجھے پتا ہے تم کتنی ٹھیک ہو، ابھی بھی ٹھیک طرح چلا نہیں جاتا اور کہتی ہو ٹھیک ہوں"۔ میں نے نازیہ کو کہا: "نازیہ امی ٹھیک کہہ رہی ہیں تم دو تین دن آرام کرو جب پوری طرح ٹھیک ہو جاؤ تو پھر کر لینا"۔ ثانی بولی: "جی آپی امی ٹھیک کہہ رہی ہیں، آپ ابھی بھی چلتی ہیں تو آپ کے چہرے پر تکلیف کا پتا چلتا ہے، آپ کو کہاں تکلیف ہے؟" امی بیچ میں بولتے ہوئے بولیں: "ثانی تم ذہن پر زیادہ زور نہ دو بس کھانا کھاؤ نازی کو میڈیسن دو اور جلدی سو جانا"۔ امی نے کھانا ختم کیا اور ٹیبل سے اٹھ کر کچن میں چلی گئیں، ثانی نے بھی کھانا کھا لیا تھا، ثانی ٹیبل سے برتن اٹھانے لگی۔ نازیہ بھی اٹھنے لگی تو میں نے کہا: "آرام سے رکو میں آتا ہوں"۔ میں نازیہ کے پاس گیا، نازیہ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مجھے پکڑ کر کھڑی ہو گئی، میں نازیہ کو سہارا دے کر بیڈ تک لایا۔ امی کچن سے مجھے دیکھ رہی تھیں کہ میں نازیہ کو سہارا دے کر اس کے بیڈ روم میں لے کر جا رہا ہوں، امی کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات تھے۔ میں نے نازیہ کو بیڈ پر لٹایا، نازی بیڈ پر لیٹتے ہوئے بولی: "کامی آپ کا یہ ہنی مون یاد رہے گا، بیوی کو بیڈ پر ہی لٹا دیا"۔ میں بولا: "جان بس ایک دو دن میں بالکل ٹھیک ہو جاؤ گی"۔ نازیہ بولی: "کامی یہ آپ کی ساس کا موڈ کیوں خراب ہے؟" میں بولا: "جان تمہاری امی بھی ہیں"۔ نازی بولی: "لیکن اب تو وہ میرے ساتھ ایسے پیش آرہی ہیں جیسے میں ان کی بہو ہوں، سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتیں"۔ میں بولا: "جان میں سمجھا دوں گا پریشان نہ ہو"۔ نازی کے ہونٹوں پر بوسہ کر ہی رہا تھا کہ ثانی روم میں داخل ہوئی، اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا میں ایک دم سے سیدھا ہوا۔ ثانی بیڈ کے پاس آئی اور بولی: "آپی دوا کھا لیں"۔
میں وہاں سے اٹھ کر کچن میں گیا تو امی کچن سے نکل رہی تھیں، مجھے دیکھتے ہوئے بولیں: "اب تم بھی سو جاؤ جا کر"۔ میں امی کے قریب ہوا: "جان میں روم میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں"۔ یہ کہتے ہوئے میں اوپر روم میں آگیا اور امی کا انتظار کرنے لگا کیونکہ مجھے پتا تھا جب تک ثانی نہیں سوئے گی امی اوپر نہیں آئیں گی۔ موبائل پر میسج آیا دیکھا تو ثانی کا میسج تھا۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی کیا کر رہے ہیں؟
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں لیٹا ہوں۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امی کا انتظار ہو رہا ہے؟
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں لیکن جب تک تم سوؤ گی نہیں امی نہیں آئیں گی۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ اچھا لیکن ابھی تو امی نہانے گئی ہیں اور میرا خیال ہے نائٹی پہن کر آپ کے پاس آئیں گی۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم تو پوری جاسوس ہو تم کو کیسے پتا؟
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امی نے الماری سے ابھی نکالی ہے، میں فریج کے پاس کھڑی تھی تو امی اپنی الماری میں سے نکال رہی تھیں۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا جی لیکن اب تم سو جاؤ اور ہم دونوں کو چودائی کرنے دو۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوکے بھائی میں سو جاتی ہوں لیکن صبح آپ نے اس چودائی کی مووی دکھانی ہے۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بولا اوکے جان دکھا دوں گا۔
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی آپ جو اس وقت واش روم میں جو کر رہے تھے دیکھ کر بہت مزہ آرہا تھا میری پھدی میں کچھ گیلا گیلا ہو گیا تھا بھائی آپ کا لوڑا تو زبردست لگتا ہے۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بولا میری گڑیا کی پھدی بھائی کا لن دیکھ کر گیلی ہو گئی؟
ثانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی بھائی اچھا اب میں سوتی ہوں صبح بات ہو گی نازی آپی تو سو گئی ہیں آپ اور امی مزے کریں میں سوتی ہوں بائے گڈ نائٹ۔
میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گڈ نائٹ۔
اب لگتا ہے کہ امی جلدی آجائیں گی، میں نے اپنا ٹراؤزر اتار دیا اور ننگا لیٹ کر امی کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ دیر کے بعد امی نے روم کا دروازہ کھولا اور روم میں آگئیں، امی کو دیکھا تو وہ ایک سیکسی بم لگ رہی تھیں، ہونٹوں پر لال لپ اسٹک آنکھوں میں کاجل بال پونی اسٹائل میں، شارٹ نائٹی جو گاؤن ٹائپ تھی گھٹنوں سے اوپر اور کمر پر ایک ڈوری بندھی ہوئی تھی۔ میں بیڈ سے اٹھ کر امی سے لپٹ گیا: "بیگم بہت انتظار کروایا"۔ امی مجھے پیچھے ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے بولیں: "بے وفا شوہر ہو، میرے جاتے ہی میری سوکن لے کر آگئے، میں نے آنا نہیں تھا لیکن بس تمہارا خیال آگیا"۔ میں بولا: "بیگم اس کو بھی قبول کر لو تم کو سمجھایا تو ہے کہ تم دونوں میری جان ہو میرا پیار ہو"۔ امی کے گاؤن کی ڈوری کھولتے ہوئے بولا: "جان تم تو میرے دل کی رانی ہو اور رانی راج کرتی ہے، تو یہ باتیں چھوڑو اور لائف کو انجوائے کرو"۔ یہ کہتے ہوئے میں امی کے ہونٹوں کو چوسنے لگا اور دوسرا ہاتھ امی کے مموں کو پکڑ کر دبانے لگا، امی کے ممے سخت ہو گئے تھے اور نپل بھی اکڑ گئے تھے۔ امی نے مجھے پیچھے کیا اور گاؤن اتار کر مجھ سے لپٹتے ہوئے بولیں: "کامی تم نے پہلی دفعہ مجھے ایسا چودا تھا کہ اب میں تم سے الگ نہیں ہو سکتی، جانی تمہارے لن میں ایسا کیا جادو ہے کہ جب بھی تمہارے لن کا سوچتی ہوں تو چوت گیلی ہو جاتی ہے، تم نے مجھے ایسا نشہ اپنے لن کا اور میری چوت کا دیا ہے کہ میں اب تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی"۔ یہ کہتے ہوئے امی نے مجھے بیڈ پر لیٹا دیا اور خود میرے اوپر چڑھ کر مجھے پیار کرنے لگیں، ہم دونوں ننگے ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے ایک دوسرے کو پیار کر رہے تھے۔ میرے دونوں ہاتھ امی کے موٹے موٹے چوتڑوں پر تھے اور نیچے چوت لن کے ساتھ تھی، ممے میرے سینے میں دبے ہوئے تھے، ایک مدہوشی کے عالم میں ایک دوسرے کے ہونٹوں کا رس پی رہے تھے۔ امی میرے اوپر سے اٹھ کر اپنی دونوں ٹانگیں میرے دائیں بائیں کر کے چوت کو میرے منہ پر لا کر بولیں: "کامی چوس چوت کو چاٹ چوت کو اندر تک"۔ چوت میرے منہ کے پاس تھی میں نے زبان باہر نکالی اور امی کی کلین چوت جو بالوں سے صاف تھی اور سیکس کی گرمی کی وجہ سے کچھ پھول گئی تھی، چوت کے لپس آپس میں جڑے ہوئے تھے۔ امی نے اپنے ہاتھ سے چوت کے لپس کھولے اور بولیں: "جانی زبان چوت میں ڈال کر چوس"۔ میں نے تھوڑا سر اوپر کیا اور زبان چوت میں ڈال دی، زبان چوت میں ڈالتے ہی امی کے منہ سے ایک لمبی آہ نکلی: "اففف اوہ جانی مزہ آگیا ہاں ایسے چوس اوففف اوہ لو یو پوری زبان چوت کے اندر ڈال دے آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اففف"۔
امی چوت کو میرے منہ پر رگڑ رہی تھیں میں بھی تیز تیز زبان سے چوت کو چاٹ رہا تھا، میرے اس طرح کرنے سے امی کا جسم اکڑ گیا اور امی کی چوت کا پانی میرے منہ میں آنے لگا جس کو میں سارا پی گیا۔ امی فارغ ہو کر میرے اوپر سے اٹھ کر میری ٹانگوں کے بیچ میں آگئیں اور میرے کھڑے لن کو منہ میں لے کر چوسنے لگیں۔ امی پورا لن منہ میں لے کر چوس رہی تھیں لن اور ٹٹے پورے گیلے ہو گئے تھے۔ امی نے لن کو منہ سے نکالا اور بولیں: "جان اب لن چوت میں ڈال دو"۔ یہ کہتے ہوئے امی بیڈ پر ٹانگیں کھول کر لیٹ گئیں اور بولیں: "جانی لن ڈال دو چوت کو نہ ترساؤ"۔ میں امی کے اوپر آیا لن کا ٹوپا امی کی چوت پر رکھا اور لن پھسلتا ہوا ایک ہی جھٹکے میں چوت میں گم ہو گیا۔ لن جاتے ہی امی پاگل ہو گئیں: "اوہ بہن چود آرام سے، اب تو تو بہن چود بن گیا، آہ چود اور تیز نازی کو جیسے چودا تھا مجھے بھی ایسے ہی چود اففف جانی مار اپنی ماں کی چوت اوفففف بہت مزہ آرہا ہے جانی اس لن پر میں قربان چود"۔ میں نے اپنی رفتار تیز کر دی امی کی گرم اور گیلی چوت کے اندر لن چوت کی ٹھکائی کر رہا تھا، روم میں امی کی سسکیاں اور گالیاں گونج رہی تھیں۔ چودائی کی تھپ تھپ نے روم کا منظر ہی تبدیل کر دیا تھا۔ امی اب اس پوزیشن میں تھک گئی تھیں وہ اٹھ کر گھوڑی بن گئیں اور بولیں: "بہن چود اب پیچھے سے اپنی بیوی کو چود آج اپنی پہلی بیوی کی چوت کی آگ کو ٹھنڈا کر دے"۔ میں امی کی گانڈ پر ہاتھ رکھ کر مزیدار چودائی کر رہا تھا میرا لن سیدھا اس بچہ دانی سے ٹکرا رہا تھا جہاں سے میں پیدا ہوا تھا، بچہ دانی سے لن ٹکراتے ہی امی کی بس ہو گئی، چوت نے میرے لن کو جکڑ لیا اور امی کے فارغ ہوتے ہی میرے لن نے بھی ہار مان لی اور ہم دونوں ایک ساتھ فارغ ہو گئے۔
The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 29) appeared first on Urdu Stories.