گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 15)

ہم اسی طرح چلتے ہوئے دکان پر گئے بے مقصد وہاں بیٹھ کر گپیں ہانکتے رہے ۔ کچھ اور گاؤں کے لڑکے بھی آ گئے کافی دیر ہنسی مذاق چلتا رہا ۔

عصر کے وقت ہم واپس گھر آئے میں شہر جانے کے لیے گھر سے نکل پڑا ۔

جیسا کہ پہلے سب دوستوں کو بتایا تھا کہ ہمارا گاؤں مین روڈ سے کافی ہٹ کر ہے اور ہمیں بس میں سوار ہونے کے لیے پیدل جانا پڑتا تھا یا سائیکل وغیرہ پر ایک لمبا راستہ تھا جو ایک چھوٹا سا سٹاپ تھا وہاں تک جاتے تھے۔

لیکن پیدل جانے کے لیے ایک شارٹ کٹ تھا جس سے ہم زیادہ تر جایا کرتے تھے۔

میں اسی شارٹ کٹ رستے سے جایا کرتا تھا۔جو ہمارے گاؤں سے سڑک تک صرف تین کلومیٹر تھا 2.5 کلومیٹر کچی سڑک تھی اور اس کے ریتلی زمین تھی جس میں گزر کر جاتے تھے ۔

اس زمین کو کسی اور گاؤں سے آ کر کسی نے آباد کیا تھا اور کافی درخت لگائے تھے ایک اچھا ماحول بنایا ہوا تھا۔

ہم اکثر ادھر سے گزرا کرتے تھے اس لیے ان کی عورتیں بھی ہمیں پہچانتی تھیں ۔

میں اپنی مستی میں اسی ریتلی زمین میں سے گزر رہا تھا کہ مجھے پیاس لگی تو وہاں لگے ٹیوب ویل پر پانی پینے چلا گیا ۔

پانی پیا ساتھ ہی ہاتھ منہ بھی دھو لیا اپنے سلکی بالوں میں ہاتھ پھیرا بولوں اچھے سیٹ کیا کیونکہ میرے بال کافی سلکی تھے اس لیے ہاتھوں سے ہی کنگی ہو جاتی تھی ۔

بال سیٹ کرنے کے بعد میں درختوں کی چھاؤں میں چلتا ہوا گنگناتا ہوا آگے بڑھا۔

ابھی میں تھوڑا ہی آگے بڑھا تھا کہ میرے نتھنوں سے خوشبو کا جھونکا ٹکرایا ۔

میں نے بے اختیار اپنے قدم روک لیے آنکھیں بند کیں اور سانس اندر کھینچ کر خوشبو سے اپنے من کو معطر کرنے لگا۔

میں کسی اور جہاں میں پہنچ گیا بس سانس کو کھینچ کر خوشبو سے اپنے اندر کو معطر کر رہا تھا کہ ایک سریلی آواز میرے کانوں کے پردے سے ٹکرائی مجھے لگا کسی اپسرا نے کوئی اٹکھیلی کی ہو جیسے کسی گلوکار نے سریلے گیت کا سر چھیڑ دیا ہو۔

میں ابھی اسی کشمکش میں تھا کہ یہ آواز حقیقی ہے یا صرف میرا ابہام ہے۔ آواز پھر ابھری اور ہیلو کون ہو۔

اس بار آواز مجھے واضح اور اپنے قریب سے سنائی دی۔

آواز کا لوچ وہی تھا مٹھاس بھی بھرپور تھی لیکن تھا کوئی انسان ہی میں جھٹ سے دنیائے حقیقی میں لوٹ آیا اور اپنی آنکھیں کھول دیں۔

آنکھیں کیا کھولیں میں تو جھپکنا ہی بھول گیا آواز کا سریلہ پن تو تھا ہی لیکن چہرے پر معصومیت کشادہ پیشانی بڑی بڑی آنکھیں باریک سرخ ہونٹ لمبی لمبی جھالروں سی پلکیں ٹھوڑی پر تل سرخ ہوتا چہرہ اور سیب جیسے رخساروں پر موتیوں کی طرح چمکتے پسینے کے قطرے لمبی صراحی دار گردن قد میں میرے برابر بالکل میرے روبرو کھڑی ایک حسیں مورت کے حسن نے مجھے مبہوت کر دیا ۔

میں اس پری ہستی کی خوبصورتی سے اتنا متاثر ہوا کہ اس کا سوال بھول گیا ۔

اس ماہ رخ نے پھر اپنے شربتی ہونٹ کو کھولا اور ہونٹوں سے پھول برساتے الفاظ نکلے کون ہو۔ سنائی نہیں دے رہا میں کچھ پوچھ رہی ہوں۔ اس بار الفاظ میں کچھ درشتی تھی ۔

میں تو اسکے حسن سے اتنا مرعوب ہو چکا تھا کچھ بول نہ پایا بس یہ ہی بولا کییییی۔

پھر سرسراتی آواز آئی اوو اردو نہیں آتی لگدا تا پڑھیا لکھیا واں

میں کھسیا گیا اور بولا ایسی بات نہیں ہے وہ تووو بسسسس۔

تیزی سے اچھا تو پھر بتایا کیوں نہیں کون ہو اور ادھر کیا کر رہے ۔

میں جھٹ بولا میں ساتھ والے گاؤں سے ہوں شہر جا رہا ہوں تو ادھر سے گزر رہا تھا ۔

وہ بولی گزر رہے تھے یا کھڑے کھڑے سو رہے تھے۔

میی جھجک اب ختم ہو گئی تھی اس لیے بے دھڑک بولا جا ہی رہا تھا کہ ۔۔۔۔

میں نے بات ادھوری چھوڑ دی تو وہ بولی کیا۔۔۔۔۔

میں نے پھر کہا جا رہا تھا ایک سریلی گنگناہٹ سنائی دی اس آواز کی چاشنی میں ایسا ڈوبا کہ بھول گیا کہ کہاں ہوں

اس نے شرما کر منہ نیچے کیا اور بولی چل جاو اپنا کام کرو مجھے پتہ چل گیا ہے سب جاؤ تمہاری بس نکل جائے گی۔

اور خود ایک طرف چل پڑی جیسے ہی وہ مڑی کیا بتاؤں

اس کی کمراورکمر کے نیچے اس کے ابھار گول مٹول بناوٹ مجھے اب پتہ چلا کہ اس نے دوپٹہ گلے میں ڈالا ہوا تھا کیونکہ اس لمبے بال اس کی کمر پر ایسے لہرا رہے تھے جیسے سمندر کی لہریں چودویں کی رات کو بے قابو ہو جاتی ہیں ۔

اسکے چمکیلے لمبے سلکی بال گانڈ سے تھوڑا اوپر تک آ رہے تھے۔

میں اس کے حسن میں کھویا تھا وہ اپنی مستی میں کمر مٹکاتے تیز تیز چلتی جا رہی تھی ۔

جیسے جیسے وہ دور جا رہی تھی میرا دل بے قرار ہوتا جا رہا تھا۔

شاید میں ہوش کی دنیا میں نہ آتا اگر بس کا ہارن سنائی نہ دیتا جیسے ہی بس کا ہارن سنائی دیا اس دلکش حسینہ نے بھی رک کر اپنا چاند سا مکھڑا پیچھے گھمایا اور ہاتھ سے کچھ اشارہ کیا جس کی مجھے سمجھ نہ آئی یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ بھی بس کا کہک رہی ہے۔

میں نے ایک دم پانچواں گئیر لگایا اور بھاگ کھڑا ہوا اور پھر روڈ پر کی جا کر رکا میں بھی روڈ پر پہنچ گیا اور بس بھی وہاں آ کر رک گئی۔

میں بس میں سوار ہوا اور بس چل پڑی میں پھر اس حسین و جمیل دوشیزہ کے چہرے کے نقوش میں کھو گیا ۔

ایسا کھویا کہ کسی کے جھنجھوڑنے سے ہوش آیا۔

بس کنڈکٹر مجھے کندھے سے پکڑ کر ہلاتے ہوئے کہہ رہا تھا او کاکے شہر آ گیا چل میرا پت تو وی ہن اتر جا ۔

میں ہونقوں کی اس کی طرف دیکھا تو وہ بولا ہن تینوں کار دے بوہے اگے لاہ آواں یا آپے سی چلا جاویں گا۔

میں شرمندہ ہوتا ہوا اترا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔

پھر سی وہی کھلتے گلاب سا چہرہ بے باک انداز کانوں میں رس گھولتی آواز مجھ پر سوار ہو گئ۔

اور میں سڑک پر ہی رک گیا کسی نے مجھے کھینچ کر ایک طرف کیا اور بولا بیٹا اگر مرنا ہے تو کہیں اور جا کر مرو۔

جا میرا پت شاباش چل جا ادھر سے۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔

مجھے اپنا آپ خالی سا لگ رہا تھا۔ بس ایک کی چہرہ بار بار آنکھوں میں گھوم رہا تھا۔

کسی نہ کسی طرح گھر پہنچ گیا شام ہو چکی تھی نہا دھو کر تازہ دم ہوا۔اور باہر نکل کر دروازے میں بیٹھ گیا۔

اور اپنی حالت پر آج کے حالات واقعات پر غور کرنے لگ گیا اور سوچنے لگ گیا کہ میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔

میں اپنے خیالوں میں گم تھا میرے کندھے پرکنکر لگا میرے منہ سے گالی نکل گئی۔

میں دائیں بائیں دیکھا کوئی نظر نہ آیا میں اٹھ کر کھڑا ہوا پھر نظر گھمائی لیکن کچھ بھی نظر نہ آیا۔

میں پھر بیٹھ گیا تو میرے کانوں سے ہلکی سی آواز ٹکرائی بلو بات سن۔۔۔۔

میں نے آواز کی سمت کا اندازہ لگایا اور اٹھ کر دیکھا تو مجھے شانزل اپنی بیٹھک کے دروازے میں کھڑی دکھائی دی۔

میں سمجھ گیا کہ اسی نے کنکر مارا ہوگا۔

میں اس کے قریب گیا تو جلدی سے بولی رات کو 11 بجے یہ دروازہ کھلا ہو گا آجانا۔

میں نے اوکے بولا اور واپس آ گیا ۔

کھانا وغیرہ کھایا اور سکول کا کام وغیرہ کیا اور سونے کے لیٹ گیا بتاتا چلوں کہ ہم سب لوگ گرمیوں میں گھر کے صحن میں چارپائیوں پر سوتے تھے ایک طرف بڑا کولر لگا ہوتا اور دو لائینوں میں چارپائیاں بچھائی ہوتی تھیں۔

میں لیٹ کر سب کے سونے کا انتظار کرنے لگا کافی دیر انتظار کرنے کے بعد جب مجھے لگا کہ سب سو گئے کیں میں دبے پاؤں اٹھا اور اندر کمروں سے ہوتا ہوا بیٹھک میں گیا۔

بیٹھیک کا دروازہ کھولا اور چپکے سے باہر سے کنڈی لگائی جو ہم اکثر دن میں لگا کر نکل جاتے تھے۔

ساتھ ہی شانزل کا گھر تھا اور میں کوئی ہزار مرتبہ ان کے گھر جا چکا تھا ۔

لیکن آج ایک تو آدھی رات کا وقت دوسرا غلط کام کے لیے غلط نیت سے جا رہا تھا ۔

اس لیے میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں ۔

میں شانزل کی بیٹھک کے پاس پہنچا ہاتھ کے دباؤ سے دروازہ چیک کیا تو کھل گیا۔

میں ڈرتے ڈرتے اندر داخل ہوا۔

اندر گھپ اندھیرا تھا ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ پھر بھی میں آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا دروازہ بند کر چکا تھا۔

کچھ دیر بعد میری آنکھوں نے اندھیرے سے سمجھوتا کر لیا۔ اور کافی حد تک دیکھنے لگ گییں۔اور شانزل بھی آ گئی اس نے گھر والی طرف کا دروازہ بند کیا اور آ کرمجھے گلے لگالیا۔۔۔۔

افففففففف اس کے سنگترے کے سائز کے ممے میرے سینے سے لگے ۔میں نے اس کے شربتی ہونٹوں پر اپنی زبان پھیرنی شروع کر دی۔

ساتھ کی اپنے ایک ہاتھ کو اس کی کمر پر رکھا جبکہ دوسرا ہاتھ اس کے باہر کو نکلے چوتڑوں پر رکھ دیا۔

اس کے چوتڑ گول مٹول گوشت کی دو پہاڑیاں تھیں جن کے درمیان میں ایک ندی جیسی لکیر تھی جو ان کو الگ الگ کر رہی تھی۔

میں نے چوتڑوں کو دباتے مسلتے ہوئے ہاتھ کی ایک سائیڈ کو اس کی گانڈ کی دراڑ میں بھی پھیرنا شروع کر دیا۔ زبان اس کے ہونٹوں پر ہاتھ اس کے چوتڑوں پر جب میں نے زیادہ آگے بڑھنے کی کوشش میں اپنا ہاتھ اس کی شلوار میں داخل کیا۔

شانزل جلدی سے پیچھے ہوئی اور بولی بلو۔۔

میرے پیریڈز چل رہے ہیں ۔

مجھے بہت غصہ آیا کہ مجھے کیوں بلایا جب ایسا تھا تو مجھے بلانے کا کیا مقصد تھا یکدم میں غلط انداز سے سوچنے لگ گیا کہ ہو نہ ہو اج یہ مجھ سے اس دن کا بدلہ لے گی ۔۔۔۔۔



Source link

Leave a Comment