گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 16)

جیسے ہی میرے دماغ میں اس کے بارے میں یہ بات آئی میں نے بھی کہا جو ہو گا دیکھا جائے گا۔

کیونکہ مجھے شک نہیں بلکہ یقین ہو گیا تھا کہ شانزل جھوٹ بول رہی ہے اس کو ماہواری وغیرہ کچھ نہیں ائی میں نے پھر سے اس کوگلے لگایا اس کےنرم وگداز سینے کو اپنے سینے سے ںھینچ لیا ۔

ساتھ ہی اپنے ہونٹ اس کے گلاب سے ہونٹوں پر رکھ دییے اور ان سے رس کشید کرنے لگا ۔ اپنا ایک ہاتھ اس کی گردن پر رکھا اور دوسرا ہاتھ اس کے بھاری چوتڑوں پر رکھ کر چوتڑوں کو اپنی مٹھی میں بھر کر دبانے لگا۔

اس کےہونٹوں کا رس کشید کرتے ہوئے جب میں نے دیکھا کہ اس نے بھی اپنی بانہیں میرے گرد کس لی ہیں ۔ تو میں اپنا ہاتھ اس کی گردن سے ہٹا لیا میں نے ہاتھ ہٹایا تو اس نے میرے سر کے پیچھے ہاتھ رکھا اور بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔

میں نے اپنا ہاتھ آزاد کرواتے ہی مما پکڑ کر دبانا شروع کر دیا اپنی زبان سے اس کے ہونٹوں پر دستک جس کو فوراً ہی اندر جانے کا پروانہ مل گیا اور پھر زبانوں کی لڑائی شروع ہو گئی۔

اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ ایک ہاتھ چوتڑوں پر دوسرے میں گول مٹول ممے تھے اور ہونٹوں کے لب ایک دوسرے سے گتھم گتھا تھے۔

جب کہ میرا لن لاچار ہو کر کبھی اس کی ایک ران پر اپنا سر ٹکراتا تو کبھی دوسری پر شانزل مدہوش ہوتی جا رہی تھی میں نے خود کو تھوڑا ایڈجسٹ کیا اور اپنا ہتھیار اس کی ٹانگوں کے بیچ رکھ دیا۔

جیسے ہی لن ٹانگوں میں گیا اس نے جلدی سے ٹانگیں بھینچ کر لن کو اپنے بس میں کر لیا۔

لن ٹانگوں میں کیا گیا ایک دم ببر شیر ہو گیا اپنے منہ سے اس کی گوشت سے بھرپور پھدی کے لبوں کو چومنے لگا ۔

مجھے اب سو فیصد یقین ہو گیا تھا کہ اس کو ماہواری وغیرہ کچھ نہیں آئی ہوئی سب ڈرامہ کر رہی تھی۔

میں نے بھی تھوڑا لن کو پھدی کے لبوں سے کھیلنے کی اجازت دیتے ہوئے ہلکہ سا گھسا لگانا شروع کر دیا لیکن اس کے ہونٹوں کے رستے منہ میں گھسی زبان کی درازیاں نہ روکیں اور نہ ہی اپنے ہاتھوں کی شر انگیزیوں سے باز آیا ۔

اسی وجہ سے شانزل مجھے بے بس ہوتی نظر آ رہی تھی۔ میں نےاپنے ہاتھوں کا جادو چلانا جاری رکھا مموں والا ہاتھ نیچے لانا شروع کر دیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی گانڈ کی پھاڑیوں کو دبانا جاری رکھا نیچے سے لن کو بھی اس کی پھدی سے رگڑتا رہا ۔

ابھی میرا ہاتھ اس کے مکھن جیسے پیٹ پر ہی پہنچا تھا کہ وہ ماہ پروین نے مجھے اپنے اوپر کھینچتے ہوئے پیچھے لیٹ گئی ۔

میں بھی اس کے اوپر لیٹتا چلا گیا لن کو پھدی تک واضح رسائی مل گئی کیونکہ ہم اس طرح بیڈ پر گرے تھے کہ اس کی ٹانگیں نیچےلٹک رہی تھیں باقی کا جسم بیڈ پر تھا۔

یہ میرے لیے زیادہ خوش آئین تھا اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے اسںکی قمیض کو ایک ہاتھ سے اوپر کرنا شروع کیا جو ہاتھ اس کی گانڈ پر تھا اس کو بھی نکال لیا اور اس کے مموں پر رکھ دیا اپنا منہ اس کے منہ سے ہٹایا اور اپنی زبان اس کی گردن پر کان کے قریب پھیرنی شروع کر دی۔ میرے ایسا کرنے سے اس کے جسم کو جھٹکا لگا۔۔۔۔۔

مجھے اس کا ویک پوائنٹ مل گیا اب میں نے اس جگہ کے آگے پیچھے زبان کو گھمانا شروع کر دیا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شانزل نے اپنی ٹانگوں میں لن کو دبانا شروع کر دیا میں نے اپنے ہاتھوں کی مصروفیات کو ترک نہ کیا ایک ہاتھ سے اس کی قمیض کو اوپر کرتا ہوا مموں تک لے آیا اور دوسرا ہاتھ مسلسل اس کے مموں کو دبانے میں مصروف تھا۔۔۔۔

کان کی لو کے قریب زبان گھماتے ہو ئے میں نے اپنا ہاتھ اس کے پیٹ پر مساج کے انداز میں پھیرنا سٹارٹ کیا اور مسلسل سرکاتے ہو ئے نیچے لیتا گیا۔

دوسرے ہاتھ کو مموں سے ہٹا کر قمیض کو اور اوپر کرتے ہو برئیزئیر سے اوپر کر دی جس میں شانزل نے اپنی کمر اٹھا کر مدد کی ۔

میں تھوڑا اوپر اٹھا اور اس کے سیاہ بریزیر میں قید گورے چٹے مموں کو دیکھا میرے منہ میں پانی بھر آیا اتنے خوبصورت ممے ہوں اور ان کو زبان اور ہونٹوں سے داد نہ دینا زیادتی ہوتی ہے۔۔

اپنی للچائی ہوئی زبان کو اس کے مموں کی کلیویج میں رکھ کر اس کے جسم سے اٹھنے والی خوشبو اور اس کے پسینے کا ذائقہ زبان کے راستے اپنے معدے میں اتارنے لگا۔۔

ساتھ ہی اپنے ہاتھ کو اس کی شلوار کے نیفے تک لے گیا اور اس کے مثانے والی جگہ پر پھیرنے لگا اب اس نے باقاعدہ اچھل اچھل کر لن پر اپنی پھدی مارنی شروع کر دی تھی۔۔۔۔

لیکن ابھی تک لن اور پھدی کے درمیان تین پردے موجود تھے میں نے اپنے ہاتھ کی الٹی سائڈ کو اس کی پھدی سے تھوڑا اوپر پھیرنا شروع کیا اور اپنی زبان کو مموں کے درمیان میں موجود خلا میں پھیرنا جاری رکھا۔

اس کی تڑپ انتہا کو پہنچ رہی تھی میں نے یکدم اپنا ہاتھ نیچے کی طرف لیجاتے ہوئے اس کی شلوار کو ہاتھ کی مدد سے نامحسوس انداز میں اتارنا شروع کر دیا اور شلوار اس کے گوڈوں تک لے گیا اسی دوران میں نے اپنا ناڑا کھول لیا اور لن کو باہر نکال لیا ۔

پھر اپنا ہاتھ اس کی پھدی پر رکھ کر پھدی کو مٹھی میں بھر لیا اس کا جسم ایک دم کانپا ایک تو کنواری اوپر سے ان چھوئی پھدی جب میرے ہاتھ کی مٹھی میں آئی تو شانزل بے قابو ہو گئی اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ کر دبا دیا۔

اس سانسیں لمبی ہو گئیں اور اکھڑنے لگیں اس نے میرا سر اوپر اٹھایا اور مجھے اپنے اوپر کھینچ لیا اور میرے ہونٹوں اپنے ہونٹوں کا قبضہ جما لیا ۔

بہت ہی جوشیلے پن سے چوسنے لگ گئی میں نے بھی موقع کا فائدہ اٹھایا اور اپنے آپ کو اس کے اوپر سیٹ کرنے کے لیے اپنے پاؤں کی مدد سے اس کی شلوار کو پاؤں تک لے گیا پھر بہت پیار سے بیغیر ایک لفظ منہ سے نکالے پاؤں ہی کی مدد سے اس کے ایک پاؤں سے بھی شلوار نکال دی ۔

اب اس کا نیچے کا دھڑ الف ننگا تھا جب کہ اوپر والا لچکیلا بدن مموں تک مادرزاد ننگا تھا ۔

اس کے ہونٹوں سے اپنی ہونٹوں کو لڑانا جاری رکھا اور ایک ہاتھ اس کے بریزئیر میں ڈال کر ایک مما پکڑ لیا افففف اس کے ممے کی نرمی اور نازک پن الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا ۔

میں نے اس کے ممے کے اوپر بہت ہی چھوٹے سے نپل کو اپنی انگلیوں میں پکڑ کر کھینچنا مسلنا شروع کر دیا ساتھ ہی اس کی ٹانگوں کو تھوڑا کھول کر ان کے درمیان آ گیا لیکن یہ کوشش کی کہ میرا لن اس کی پھدی کو نہ چھوئے دوسرے ہاتھ کی ایک انگلی پھدی کی گہرائی ماپنے کے لیے اندر ڈال دی انگلی کو جیسے ابلتے پانی میں ڈال دیا ہو اتنی زیادہ گرم پھدی کک میری انگلی جلنے لگ گئی۔

انگلی ڈالنے سے شانزل نے ایک لمبی سانس کے ساتھ آآآآۃہہہ کیا۔ اور اپنی گانڈ کو نیچے اے اٹھا یا۔

لیکن میں نے ایک لمحے کے وقفے سے انگلی باہر نکال لی۔ اب میں سمجھ گیا کہ پھدی چدنے کے کیے بالکل گرم ہے کیوںکہ کہ میں نے کسی سے سنا تھا جب پھدی گرم ہو تو ٹھوک دو۔

میں نے اچھے سے خود کو ایڈجسٹ کیا اس کی ٹانگوں کو اٹھایا اس نے بھی کوئی اعتراض نہ کیا آرام سے اپنی ٹانگیں اٹھا لیں۔

اپنے ہاتھ اس کی ٹانگوں کے پیچھے سے گزار کر اپنے قابو میں کر لیں اور لن کو اس پھدی کے لبوں لگا دیا ہاتھ نیچے لیجاکر لن کی سمت اس طرح کی کہ وہ اندر نہ جائے بالکہ اس کی پھدی کے لبوں میں سما جائے اور خود کو حرکت دینے لگا۔

لن اب اس کی پھدی میں عمودا نیچے سے اوپر لبوں کے اندر رگڑ کھاتا ہوا دانے پر لگتا ہو اوپر جاتا پھر اسی طرح نیچے آتا شانزل اب بے اختیار ہوتی جا رہی تھی اس کے اندر لنینےکی اگ دھک اٹھی تھی لیکن میں ابھی اس کو مزید تڑپا نا چاہتا تھا اس لیے صرف لن کی رگڑ اس کے دانے اور پھدی کے لبوں تک کی محدود رکھ رہاتھا ۔

جب نیچے آتا تو وہ اپنی گانڈ اٹھا کر لن کو لینے کی کوشش کرتی میں جلدی اے اوپر کی طرف دھکیل دیتا اسی طرح کچھ دیر کرتا رہا اب اس کی نے باقاعدہ سسکاریاں بھرنا اور میرے ہونٹوں کو کاٹنا شروع کر دیا تھا۔

مجھے اس کی حالت پر ترس آگیا لن کو نیچے لایا جو اب اس کی چوت سے بار بار نکلنے والے پانی سے جو اس کی چوت سے نکل کر گانڈ کی طرف بہتا ہوا جا رہا تھا اچھی طرح تر ہو چکا تھا۔

اس کی چوت کی سے نکلنے والے پانی کی شہوت انگیز مہک کمرے میں چار سو پھیل کر ماحول کو اور بھی رومانوی بنا رہی تھی۔

لن کو چوت کے چھوٹے سے سوراخ پر رکھنے ضرورت کی پیش نہیں ائی جب لن کو نیچے لایا تو یہ بات سچ ثابت ہو گئی کہ لن اپنا رستہ خود ڈھونڈ لیتا ہے۔ ہاں جی لن صاحب نے سیدھا چوت کے منے سے سوراخ پر جا کر ڈیرا جما لیا۔

لن کی ٹوپی پر واضح طور پر چوت کی گرم محسوس ہو رہی تھی اب میری بھی برداشت کی انتہا ہق گئی میں نے اس کی ٹانگوں کے گرد لپٹے بازوں کو مزید اگے کی طرف کیا اور اپنے ہاتھ اس کے کندھوں کے نیچے رکھ کر کندھے تھام کر اس کو بالکل بے بس کرنے کا پورا انتظام کر لیا۔

اب اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹوں کی حکمرانی قائم کی اور نیچے سے لن کو سیٹ کیا اب تو مجھے لگنے لگا تھآ کہ اس کی چوت لن کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے لیکن اتنا سوچنے کا وقت کس کے پاس تھا۔

لن پر دباؤ بڑھایا لن کی ٹوپی جو چوت کے پانی سے فل چپڑی جا چکی تھی ہلکی سی آواز مے ساتھ اندر چلی گئی جیسے ہی ٹوپی اندر گئی اسکا جسم اکڑا۔

وہ میرے نیچے مچلی لیکن میں اس کا بندوست پہلے ہی کر چکا تھا اس لیے اس کی کوشش کو کامیابی نہ ملی۔

میں دباؤ مزید بڑھایا لن تھوڑا سا مزید اندر گیا چوت کی گرمی اپنی انتہا کو پہنچ رہی تھی لن کی جلد مجھے لگا جیسے جل رہی ہے اس کی چوت کی گرمی نے میرے اندر تک آگ لگا دی میں نے اسی گرمی کے نشے سے چور لن کو ہلکا سا باہر نکالا اور پورا زور لگا کر دھکا مارا لن اندر سیل کو توڑتے ہوئے جا پھنسا ۔

شانزل بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپی اسکی غوں غوں غوں کی آوازیں میرے منہ میں دب گئیں لیکن میں اب رکنے والا کہاں تھا ایک دفعہ پھر پیچھے ہوا پھر دھکا لگایا لیکن لن صاحب نے اگے جا نے سے انکار کر دیا اگے تو جیسے انڈیا نے کنکریٹ کی دیوار کھڑی کر دی تھی ۔ میں نے وہیں ہلکے ہلکے گھسے لگانے شروع کر دییے۔

میں اس کی چوت کی گرمی کی وجہ سے بہت جلد مزے کی گہرائیوں میں اترتا گیا۔

گھسوں کی سپیڈ بڑھتی گئی اس کی آہوں سسکیوں کی کوئی سمجھ نہیں آ رہی تھی کیونکہ میں نے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے سی رکھا تھا۔

لن کے وار جاری رکھے چند کی منٹ بعد اس شانزل کا جسم اکڑنا شروع ہوگیا میرا بھی ویسا کی حال ہو گیا تھا۔ پورے جسم سے جیسے کوئی چیز لن کی طرف بھاگ رہی ہو سپیڈ بھی تیز ترین حد کو پہنچ چکی تھی۔

اسی تیز رفتاری کی وجہ سے میرا خروج کا وقت اور شانزل کا انزال کا وقت ایک ساتھ آگیا ۔

ادھر اس کی چوت نے میرے لن کو جکڑا اس کے جسم نے جھٹکا کھایا دوسری طرف میرا خون ٹانگوں سے لن تک آیا اس کی چوت نے اپنے مسام کھول کر لن برسات کی دوسری طرف لن نے چوت کی برسات سے خوش ہو کر اس کی گہرائی میں اپنے گاڑھے جوس سے چھڑکاؤ کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا ۔

ہم اپنی مستی میں ڈوبے ایک دوسرے کی گرمی اپنے اپنے اعضائے تناسل کے ایکدوسرے سے پیار لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اندر کہیں سے۔۔۔۔۔۔





Source link

Leave a Comment