br>
تو اسد نے پہلے میرے لن کی طرف دیکھا اور
بولا سالا صاب لن کو چکنا تو کرلے
میں نے کہا کیسے
تو اس نے سرھانے کے پاس پڑی ایک شیشی مجھے پکڑاتے ھوے کہا اسکو پہلے لن پر اچھی طرح لگا پھر مُٹھ مار
میں نے شیشی کا ڈھکن کھولا اور اپنی ھتھیلی پر الٹایا تو اس میں سے منی کی طرح کا سفید سا گاڑھا گاڑھا محلول نکلا اور اس میں سے خوشبو سی آرھی تھی میں کہ
یار یہ کیا ھے
تو بولا
ماما نظر نھی آرھا شیمپو ھے
تو میں نے حیرانگی سے پوچھا یہ کیا ھوتا ھے
تو وہ ہنس کر بولا
جا اوے گانڈو
اس سے سر کے بالوں کو دھوتے ہیں
اور میں سر کو جھٹکا کہ شیمپو کو لن پر لگا کر مُٹھ مارنے لگ گیا
شیمپو کے ساتھ مُٹھ مارتے ہوے مجھے بھی اب مزہ آرھا تھا اور ایک عجیب سے لُطف کی لہر میرے جسم میں گزر رھی تھی کے اچانک اسد کے لن سے منہ کے فوارے چھوٹنا شروع ھوگئے اور کچھ دیر تک اسد لمبے لمبے سانس لیتا رھا
مگر میرے چھوٹنے کا امکان ابھی تک دور دور تک نھی تھا مجھے بس مزہ ھی آرھا تھا مگر لن چھوٹنے کا نام نھی لے رھا تھا
اسد اٹھ کر واش روم چلا گیا تھا اور میں اپنی دھن میں دے دھنا دھن لگا ھوا تھا اب تو شیمپو بھی خُشک ھو چکا تھا میں نے تین چار دفعہ تھوک پھینک کر گیلا کیا مگر پھر خشک ھو جاتا تھا
اسد واش روم سے فری ھو کر واپس کمرے میں آگیا
اور حیرانگی سے میری طرف دیکھتے ھوے بولا
اوے توں حالے تک فارغ نئی ھویا
میں نے کہا یار کچھ نکل ھی نھی رھا
تو اسد بولا
پہلے کبھی چھوٹا ھے تو میں نے نفی میں سر ہلا دیا تو اسد بولا
فیر میرا لوڑا چُھٹیں گاں اویں اپنی باواں وچ کھلیاں پان لگیا ھویاں اے
چار دن تیل دی مالش کر فیر ویکھیں تیرے لن وچوں وی کیویں فوارے نکلدے
میں بھی ھاتھ چلا چلا کر تھک چکا تھا
میں ایسے ھی اٹھا اور واش روم میں گھس کر اپنا آپ دھویا اور باہر آگیا
اسد نے ٹی وی بند کردیا تھا اور فلم بھی نکال کر چھپا دی تھی اور ہم کمرے سے نکل کر سیڑیاں اترنے لگے جب میں اسد کے پیچھے پیچھے آدھی سیڑیاں ھی اترا تھا کہ مجھے نیچے کچن سے وہ حسن کی شہزادی نکلتی ھوئی ٹی وی لاونج میں آتی ھوئی نظر آئی اسکے ھاتھ میں چاے کا بڑا سا مگ پکڑا ھوا تھا اور چاے کی چسکیا لیتی ھوئی
بڑی ادا سے چلی آرھی تھی
دوستو اس حسینہ کا کیا قیامت فگر تھا
اس نے ہلکے پیلے رنگ کی شرٹ اور سفید شلوار پہنی ھوئی تھی اور قمیض کی اتنی فٹنگ تھی کہ میرے جیسا پینڈو یہ ھی سوچتا رہتا کہ یہ قمیض کے اندر گُھسی کیسے اور قمیض کافی شورٹ تھی جو اسکے گُٹنوں سے بھی اوپر اور پھدی والے حصہ سے کچھ نیچے تھی
اسکے چھتیس سائز کے ممے آگے کو ایسے تنے ھوے تھے کہ جیسے ابھی قمیض کو پھاڑ کر باہر نکل آئیں اور پیٹ تو بلکل نظر ھی نھی آرھا تھا کمر ایسی تھی کہ میں دونوں ھاتھ کی انگلیاں جوڑ کر کمر کو پکڑتا تو میرے ھاتھوں میں اسکی کمر آجاتی
دوپٹہ نام کی چیز ھی نظر نھی آئی
وہ ظالم جب چاہے کی چُسکی لیتی تو ساتھ اپنی لمبی سی پلکوں کو جھپکاتی اور اس کے گلابی ہونٹ خوش قسمت کپ کو چھو کر آپس میں مل جاتے اور اس کے نرم سے روئی کے گولے جیسے پنک گالوں پر ڈنپل بن جاتا
پانچ فٹ پانچ انچ کی یہ حسینہ حسن کا کرشمہ تھی
چاے کے کپ کو ہونٹ لگاتے ھی اس حسینہ نے اپنی ساگر جیسی آنکھوں پر چھاوں کی ہوئی پلکوں کو اٹھا کر میری طرف دیکھا آنکھوں سے آنکھیں ملیں دونوں کے قدم رک گئے
اور اس ظالم کو شاید ہوش آیا اور میری موجودگی کا احساس ھوا
اور وہ میرے دل پر چُھریاں چلاتی واپس پلٹی اور اسکی بتیس سائز کی گول مٹول پیچھے نکلی ھوئی گانڈ تھر تھرائی اور ساتھ ھی گانڈ کو چھلکاتی ھوئی تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے کی طرف چلدی اسے دیکھتے دیکھتے ھی وہ قاتلہ میرا سب کچھ لے کر میری نظروں سے اوجھل ہوگئی اور میں وہیں خالی ھاتھ رھ گیا
اتنے میں اسد کی آواز آئی کہ آ بھی جاو سکول کی چھٹی کا ٹائم ھوگیا ھے تو میں ایکدم سے ہڑبڑایا اور تیز تیز قدم اٹھاتا ھوا نیچے آگیا اور گھر سے نکلتے وقت اسد نے اندر منہ کرکے آواز دی
مہری دروازہ لاک کر لو
اور ہم سکول کی طرف تیز تیز قدموں سے چل پڑے میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ کیا نام ھوا مہری اب میں اسد سے بھی نھی پوچھ سکتا تھا کہ تمہاری بہن کا اصل نام کیا ھے
خود ھی جوڑ توڑ لگا کر سوچنے لگ پڑا جب کچھ سمجھ نہ آیا تو اسی نام پر اکتفا کیا
اور من ھی من میں ٹھنڈی آہ بھر کر دل نے پکارا مہرییییی
سکول کے قریب پہنچے تو چھٹی ھوچکی تھی اور اسد نے مجھے الوداع کیا اور واپس گھر کی طرف ھی چلا گیا دل تو میرا بھی کررھا تھا کہ دوبارا پھر اس کے ساتھ چلا جاوں مگر مجبوری تھی
میں سیدھا عظمی کے سکول گیا اور ان دونوں کو ساتھ لے کر گھر کی طرف چلدیا
مگر میرے دماغ پر مہری ھی چھائی ھوئی تھی جبکہ عظمی کی گانڈ ہل ہل کر مجھے اپنی طرف متوجہ کر رھی تھی مگر میرا دھیان کہیں اور ھی تھا
راستے میں عظمی نے کافی دفعہ مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی اور ہنسی مزاق کا ماحول بنایا مگر میں سیریس ھی رھا
تو عظمی نے مجھ سے پوچھا بھی کہ کیا ھوا سکول سے مار پڑی ھے یا طبعیت خراب ھے
مگر میں نے اسے ٹال مٹول کردیا
ایسے ھی ہم گھر پہنچ گئے
دوستو کافی دن ایسے ھی گزر گئے کھیتوں کی فصلیں بھی کٹ چکی تھی بلکہ اسکی جگہ نئی فصل بھی کھیت سے سر اٹھا رھی تھی
اسد روز مجھ سے پوچھتا سنا آج مالش کی کوئی فرق پڑا کہ نھی پڑا کبھی کبھار وہ میرا لن بھی پکڑ کر چیک کرلیتا اور مجھے کہتا واہ یار بڑی جلدی تیل اثر کررھا ھے اور دوبارا اسد کے گھر جانے کا بھی اتفاق نہ ھوا
اسکی یہ بھی ایک وجہ تھی کہ دوسرے دن ماسٹر جی نے میری اچھی بھلی کلاس لی تھی اور دوبارا سکول سے بھاگنے پر سکول سے نکال دینے کی دھمکی بھی ملی تھی اس لیے میری دوبارا جرات نھی ھوئی
فصلیں ابھی چھوٹی تھی اس لیے مجھے عظمی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا بھی موقع میسر نہ آیا
اور روز جاتے ھوے باجی صدف کی گانڈ اور آتے ھوے عظمی اور کبھی نسرین کی گانڈ کا نظارا ملتا رھتا
وقت کا پہیہ اتنی تیزی سے گھوما کہ پتہ ھی نہ چلا کہ کب سالانہ پیر سر پر آگئے
پڑھائی میں جتنا تیز پہلے تھا مگر اسد کی دوستی کی وجہ سے اب اتنا ھی نالائک ھوگیا تھا
پیپروں کے شروع ھونے میں ایک مہینہ رھ گیا تھا
اور موسم بھی کافی سرد ھوچکا تھا
میں نے عظمی کو بتایا کہ یار میری تو پیپروں کی تیاری ھی نھی ھورھی میں تو اس سال فیل ہو جاوں گا
تو عظمی نے کہا تم بھی ہمارے ساتھ باجی صدف کے گھر ٹیویشن پڑھنے چلے جایا کرو
مجھے اسکا مشورہ کافی مفید لگا اور ویسے بھی میں باجی صدف کے جسم کا نظارا کرنے کے لیے ترسا رھتا تھا
میں نے امی سے بات کی کہ شہر کی پڑھائی بہت مشکل ھے اس لیے مجھے بھی باجی صدف کے پاس ٹیویشن رکھوا دو
امی نے بھی حامی بھر لی کہ میرے پُتر نوں پڑائی دا کناں فکر اے
دوسرے دن سے میں نے ٹیوشن جانا شروع کردیا میں جب بھی باجی صدف کہ گھر جاتا تو باجی صدف ویسے ھی میری گال پر چٹکی لاًزمی کاٹتی اور میں انکی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک دیکھتا.
اب یہ چمک کیسی تھی مجھے اس کا اندازہ لگانا مشکل ھو رھا تھا کیوں کہ وہ میرے ساتھ کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرتی جس کی وجہ سے میں فائنل ڈسیزن لے سکتا
مگر ایک بات تھی جو میں نے نوٹ کی کہ باجی صدف اپنے مموں پر دوپٹہ نھی لیتی تھی اور کام چیک کروانے جب میں انکے پاس جاتا تو اسکے گلے سے انکے مموں کا اوپر والا حصہ صاف نظر آتا
تھا
اس کے چہرے کی نسبت اسکے مموں والا حصہ ذیادہ سفید تھا
ایک دن ہم ٹیوشن کے لیے باجی صدف کے گھر گئے تو باجی صدف گھر میں نظر نھی آئی تو انکی امی نے بتایا کہ تم لوگ بیٹھ کر پڑھنا شروع کرو تمہاری باجی نہا رھی ھے
انکا واش روم بیرونی دروازے کے بلکل ساتھ ھی تھا
ہم اپنی جگہ پر بیٹھ کر کتابیں بیگ میں سے نکالنے لگ گئے
تو باجی صدف کی امی نے مجھے آواز دی کے یاسر بیٹا بات سنو میں جلدی سے اٹھا اور انکے پاس پہنچ گیا تو آنٹی نے کہا کہ بیٹا
پوڑی لا کے ٹارے توں چھیٹیاں تھلے سُٹ دے
)
(سیڑی لگا کر واش روم کے بلکل سامنے بیرونی دیوار کے ساتھ بنے برآمدے سے کپاس کی سوکھی چھڑیاں اتار دو)
میں نے آنٹی کے حکم کی تعمیل کرتے ھو ے کہا اچھا آنٹی جی ابھی اتار دیتا ھوں
میں نے بانس کی بنی ھوئی سیڑھی اٹھائی اور دیوار کے ساتھ لگا کر برآمدے کی چھت پر چڑھ گیا اور سوکھی سوکھی چھڑیاں چُن چُن کر نیچے پھینکنے لگ گیا
ابھی میں نے چند ھی چھڑیاں نیچے پھینکیں تھی کہ اچانک میرا دھیان واش روم کی دیوار پر بنے بڑے سے روشن دان پر پڑا
جیسے ھی میری نظر روشن دان کے اندر پڑی کیوں کہ واش روم کی چھت برآمدے کی چھت سے کافی چھوٹی تھی اس لیے چھت پر کھڑے ہوکر واش روم کا اندر کا سارا منظر بلکل صاف نظر آتا تھا حطہ کہ واش روم کا فرش بھی نظر آتا تھا
روشن دان کا سوراخ کافی بڑا سا تھا اور آگے کوئی جالی وغیرہ بھی نھی تھی
میں تو واش روم کے اندر کا منظر دیکھتے ھی رھ گیا
کی صدف بلکل ننگی کھڑی تھی
)دوستو ایک بات یاد رکھنا جس آنٹی اور جس باجی پر نیت خراب ھوگئی تھی انکو میں صرف نام سے پکاروں گا،،،،
صدف ٹانگیں کھولے کھڑی اپنی پھدی پر کچھ لگا رھی تھی مجھے اسکا ایک مما نظر آیا
میں نے جلدی سے پہلے نیچے دیکھا تو مجھے آنٹی کہیں نظر نھی آئی اور عظمی اور نسرین اور باقی کے بچے دوسری طرف منہ کرکے پڑھنے میں مصروف تھے
میں نے موقع کا فائدہ اٹھایا اور تھوڑا پیچھے ھوکر واش روم میں دیکھنے لگ گیا
اب نیچے سے کوئی مجھے دیکھ نھی سکتا تھا کہ میں اوپر کیا کررھا ھوں
صدف بڑے آرام سے پھدی پر بال صفا پوڈر کا لیپ کررھی تھی کچھ دیر بعد صدف ٹانگیں پھلا کر دیورا کے ساتھ ٹیک لگا کر لکڑی کی پھٹی پر بیٹھ گئی
اب صدف کے نیم گورے ممے بلکل صاف نظر آرھے تھے اسکے مموں پر براون سا دائرہ بنا ھوا تھا اور چھوٹے چھوٹے نپل تھے پیٹ بلکل اندر کی طرف گیا ھوا تھا
کچھ دیر صدف ایسے ھی بیٹھی رھی
تب میں اٹھا اور کچھ چھڑیاں اور اٹھا کر نیچے پھینک دیں
اور پھر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا
تب صدف پانی کے ٹب سے ڈبے میں پانی ڈال کر پھدی والے حصہ کو دھو رھی تھی اور ذور ذور سے پھدی کو مل مل پھر پانی ڈال دیتی
پھر صدف کھڑی ھوئی اور تولیہ لے کر پھدی کو صاف کرنے لگ گئی
مجھے صرف اسکی ٹانگیں ھی نظر آرھی تھی اور ایک مما نظر آرھا تھا کیوں کے صدف سائڈ پوز سے کھڑی تھی
پھدی صاف کر کے وہ پھر ٹانگیں کھول کر تھوڑا نیچے جھک کر اپنی پھدی کا معائنہ کرنے لگ گئی کہ کوئی بال رھ تو نھی گیا
جب اچھی طرح اس نے تسلی کرلی تو پھر سے لکڑی کی پھٹی پر بیٹھ گئی اور اپنے بالوں کی پونی کھولی اور جھٹکے سے سر کو دائیں بائیں کر کے بالوں کو کھلارنے لگی صدف
جیسے جیسے بالوں جھٹکتی اسکے ممے بھی ویسے ھی ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے
میرا لن ایکدم اکڑ گیا اور میں ھاتھ سے لن کو حوصلہ دینے لگ گیا
پھر صدف سر جھکا کر پانی کے ڈبے بھر بھر کر اپنے سر کے بالوں کو گیلا کرنے لگ گئی پھر اس نے کپڑے دھونے والا صابن اٹھایا اور سر کے
بالوں کو لگانے لگ گئی اور اچھی طرح صابن لگا کر بالوں کو منہ کے آگے کر کے سر جھکا کر بالوں کو دونوں ھاتھوں میں لے کر ھاتھ آپس میں رگڑنا شروع کردیا کچھ دیر ایسے ہی کرتی رھی
اور میں وقفے وقفے سے چھڑیاں اٹھا کر نیچے پھینکتا رھا
پھر صدف نے بالوں کو اچھی طرح سے دھویا اور اپنے جسم پر پانی ڈالنا شروع کردیا
اور ساتھ ساتھ کبھی اپنے مموں کو مسلتی کبھی نیچے ھاتھ لیجا کر پھدی کو مسلتی اور کبھی کمر کے پیچھے ھاتھ لیجا کر کمر کو مسلتی
واش روم میں 100واٹ کا بلب جل رھا تھا جس کی گولڈن لائٹ میں صدف کا جسم چمک رھا تھا
کے بعد اس نے تین انگلیاں گانڈ کی دراڑ میں ڈال کر ھاتھ کو اوپر نیچے کر کے دراڑ کی صفائی کرنے لگ گئی
پھر وہ اپنی جگہ پر بیٹھ گئی اور پانی اپنے جسم پر ڈالنا شروع کردیا
میں فل مست ھوکر پورا دھیان لگا کر صدف کے سیکسی جسم کا نظارہ کر رھا تھا اور اس کے انگ انگ کو باخوبی زہن نشین کررھا تھا
صدف نے سارے جسم کو اچھی طرح سے دھو لیا تھا اور اب وہ ایک جھٹکے سے کھڑی ھوئی جب وہ کھڑی ھوئی تو اسکے دودہ کے پیالے ایسے چھلکے جیسے ابھی پیالوں سے سارا دودہ اچھل کر باہر گر جاے گا صدف نے تولیہ روشن دان میں لٹکا دیا تھا
صدف نے جیسے ھی میری طرف منہ کر کے تولیہ پکڑنے کے لیے ھاتھ آگے بڑھایا تو اسکی سیدھی نظر مجھ پر پڑی اور نظروں سے نظریں ملی اور صدف نے جلدی سے تولیہ کھینچا اور اپنے مموں کے آگے کرتے ھوے ایک زور دار چیخ ماری
اور ساتھ ھی مجھے واش روم کی طرف آنٹی کے دوڑے آنے کی آواجیسے ھی میں نے صدف کی چیخ سنی اور ساتھ ھی آنٹی کے دوڑے آنے کی آواز سنی تو
میری تو گانڈ پھٹ گئی
میں خود کو کوسنے لگ گیا
کہ
پین یکہ صبر نئی ہوندا سی ہن پتہ لگے گا ہور ویکھ ممے تے پھدیاں
خیر مجھے اور تو کچھ نہ سوجا میں نے جلدی جلدی سے تین چار چھڑیوں کے بنڈل اٹھاے اور نیچے پھینک کر
جلدی سے سیڑھی سے اتر کر نیچے صحن میں آگیا تو میں نے واش روم کی طرف دیکھا تو آنٹی عظمی اور نسرین بھی دروازے کے باہر کھڑی صدف سے پوچھ رھی تھی کیا ھوا مگر اندر سے کوئی آواز نہ آئی میں جلدی سے جاکر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا اور کتاب نکال کر پڑھنے لگ گیا
پڑھتا کیا میری تو ڈر کے مارے گانڈ پھٹ رھی تھی
مجھے تو یہ سمجھ نھی آرھی تھی کہ میں اب کروں کیا اور میرے ساتھ ھوگا کیا
،،
اتنے میں صدف سر کے بالوں کو تولیہ لپیٹے واش روم سے نکلی اور کسی سے بھی کچھ بات کیے بغیر تیز تیز قدم اٹھاتی میرے پاس سے گزر کر کمرے کی طرف چلی گئی
اور کمرے کے دروازے پر کھڑی ھوکر پیچھے مڑ کر دیکھا اور ایک قہر بھری نظر مجھ پر ڈالی اور کمرے میں داخل ہو کر ذور سے دروازہ بند کردیا
میری تو بیٹھے کی ٹانگیں کانپ رھی تھی کہ پتہ نھی آنے والا وقت کیسا ھوگیا صدف اور اسکی امی میرے ساتھ کیا کرے گی صدف کا ابو تو تھا بھی بڑے غصے والا اور بدمعاش ٹائپ کا تھا
اتنے میں عظمی اور نسرین بھی میرے پاس آکر بیٹھ گئی میں نے انجان بنتے ھوے عظمی سے پوچھا کہ تم لوگ کدھر گئے تھے تو عظمی بولی تمہیں باجی کی چیخ نھی سنائی دی تو میں نے حیران ھوتے ھوے کہا کہ نھی میں تو ٹارے کے اوپر چڑھ کر چھیٹیاں پھینک رھا تھا
تو کیا ھوا تھا باجی نے چیخ کیوں ماری تھی
تو صدف نے منہ بسورتے ھوے کہا پتہ نھی آنٹی نے پوچھا بھی تھا مگر وہ ڈری سی اپنے کمرے میں چلی گئی کچھ بولی ھی نھی
تب آنٹی کی مجھے آواز آئی
کہ یاسر
میں نے گبھراے ھوے آنٹی کی طرف بنا دیکھے کہا
ججججی آنٹی ججججی تو آنٹی بولی
پتر اینیاں وڑیاں چھیٹیاں تھلے سُٹ دیتیاں ای میں تے تینوں تھوڑیان جیاں کیاں سی
تو میں اب آنٹی کو کیا بتاتا کہ تمہاری بیٹی کی مہربانی ھے جو اس نے مجھے اپنے دھیان لگائی رکھا تھا
میں نے کہا آنٹی جی مجھے پتہ نھی چلا کہو تو دوبارا اوپر رکھ دوں
تو آنٹی بولی
نئی رہن دے کل کم آ جان گیاں پہلے ای تھک گیا ھویں گا
میں خاموش رھا اور پڑھنے کی ایکٹنگ کرنے لگ گیا جبکہ میرا دل دماغ صدف کے کمرے کی طرف تھا
اور سوچ رھا تھا کہ اب سالی باہر نکل کر پتہ نھی کیا ہنگامہ کرے گی
تبھی سامنے کمرے کا دروازہ کھلا اور صدف نے منہ باھر نکال کر اپنی امی کو آواز دی اور دوبارا دروازہ بند کردیا
آنٹی جلدی سے کمرے کی طرف چلی گئی اور دروازہ کھول کر اندر داخل ھوگئی
میری تو حالت ایسے ھوگئی کہ کاٹو تو جسم میں لہو نھی
رہی سہی کسر بھی نکل گئی
میرا دماغ پھٹنے والا ھوگیا کہ
کاکا اب خیر نھی صدف نے اپنی ماں کو بتانے کے لیے اندر بلایا ھے اور اس نے اپنی ماں کو
سب کچھ بتا دینا ھے اور آنٹی نے اپنے بندے کو
تے کاکا تینوں فیر وجے ای وجے
اونے تے تینوں ویسے ای وڈ کے رکھ دینا اے
ایسے ھی الٹے سیدھے خیال میرے دماغ میں چل رھے تھے
مجھے کچھ اور تو نہ سوجا
میں نے جلدی سے کتابیں اپنے بیگ میں رکھنا شروع کردی اور ایکدم سے اٹھا اور بیگ کندھے سے لٹکایا اور باہر کو چلدیا
تو عظمی نے حیران ھوتے ھوے مجھے آواز دی کے کدھر جارھے ھو تو میں نے کہا میرے سر میں درد ھورھا ھے مجھے چکر آرھے ھیں باجی کو بتا دینا میں گھر جارھا ھوں
میں نے عظمی کا جواب سنے بغیر باہر دروازے کی طرف دوڑ لگا دی اور کب میں گھر پہنچا مجھے نھی پتہ رات کو مجھے بہت تیز بخار چڑھ گیا میرا جسم کانپ رھا تھا
عظمی لوگ دوسرے دن سکول ٹائم ہمارے گھر آئیں اور امی سے پوچھنے لگ گئی کہ یاسر ابھی تک تیار نھی ھوا تو امی نے بتایا کہ وہ تو کل کا بیمار پڑا ھے تو عظمی اور نسرین دونوں کمرے میں ائیں اور میرے ماتھے ہر ھاتھ رکھ کر بخار چیک کرنے لگ گئی
میں نے کہا تم جاو سکول میں نے آج نھی جانا
تو وہ دونوں بولیں ہم اکیلی کیسے جائیں گی
نہ بابا ہمیں تو ڈر لگتا ھے تو میں نے کہا ڈر کیسا باجی بھی تو ساتھ ھی جاے گی تو وہ دونوں بولیں
جاتے ھی ساتھ ھونگی واپسی پر تو اکیلی ھی آئیں گی
ہم بھی آج چھٹی کرلیتی ہیں کل تمہارے ساتھ ھی جائیں گی تو میں خاموش ھوگیا اب میں کیا انکو کہتا مجھ سے تو ہلا نھی جارھا تھا بخار کی شدت اتنی تھی
وہ دونوں کچھ دیر بیٹھی اور اپنے گھر بتانے کے لیے چلی گئی کہ میری طبعیت نھی سہی ھے
کچھ ھی دیر بعد آنٹی فوزیہ گبھرائی ھوئی کمرے میں آئی انکے پیچھے ھی عظمی اور امی بھی تھیں
آنٹی نے آتے ھی میرا منہ سر چومنا شروع کردیا اور بولی
ھاے ھاے کی ھویا میرے شزادے نوں کیویں بخار نال تپدا پیا اے
میں انٹی کے اتنے بے تحاشا پیار اور فکر کو دیکھ کر رونے لگ گیا
آنٹی نے مجھے اٹھایا اور اپنے سینے کے ساتھ لگا کر مجھے چپ کروانے لگ گئی
میں اور ذور ذور سے بچوں کی طرح رونے لگ گیا
تو عظمی کہنے لگی
امی ایدھے سارے ڈرامے نے کل چنگا پلا سی
تو آنٹی نے غصہ سے نیچے جھک کر اپنی چپل اٹھائی اور عظمی کو دے ماری اور بولی
چل دفعہ ھو کسے کُتی دی بچی میرا لال بخار نال ادھ موا ھوگیا تے تینوں بکواس کرن دئی پئی اے
عظمی کو جب جوتا پڑا تو.
ناچاھتے ھوے بھی روتے روتے میری. ہنسی نکل گئی اور عظمی مجھے گھورتے ھوے اہنے منہ پر ھاتھ پھیرتے ھوے برا سا منہ بنا کر ایک سائڈ پر کھڑی ھوگئی
اور آنٹی نے میرا سر پکڑا کر پھر اپنے سینے سے لگا لیا اور میرے سر پر ھاتھ پھیرنے لگ گئی
آنٹی کا پیار دیکھ کر مجھے خود پرغصہ آنے لگ گیا کہ
میں کتنا برا ھوں کہ آنٹی مجھے اپنی بیٹیوں سے بھی بڑھ کر پیار کرتی ہیں اور میرے لیے کتنی فکر مند ہیں اور میں کتنا گھٹیا اور گندا انسان ھوں جو ہر وقت انکے بارے میں غلط سوچتا رھتا ھوں اور انکو گندی نظر سے دیکھتا رہتا ہوں
مجھے رہ رہ کر اپنے آپ پر غصہ آرھا تھا اور شرمندگی سے اپنے آپ میں مرا جارھا تھا
خیر آنٹی ددوگھنٹے کے قریب میرے پاس ھی بیٹھی رھی اور مجھے اپنے ھاتھ سے دلیہ کھلایا
پھر آنٹی شام کو آنے کا کہہ کر مجھے پھر ڈھیر سارا پیار کرکے چلی گئی اور میں اکیلا لیٹا آنے والے اچھے برے وقت کے بارے میں سوچتا رھا
اچانک مجھے خیال آیا کہ اگر صدف نے اپنی امی کو بتایا ھوتا تو لازمی عظمی یا نسرین کو بھی پتہ چل جانا تھا مگر انہوں نے میرے ساتھ ایسی کوئی بات نھی کی
پھر نیگٹیو سوچ نے آگھیرا کہ بچو اگر عظمی لوگوں کے سامنے بات کرنا ھوتی تو صدف نے اپنی ماں کو اندر کمرے میں کیون بلانا تھا. وہ باہر آکر بھی کہہ سکتی تھی
انہیں سوچوں میں مجھے پتہ ھی نھی چلا کہ میں کب سو گیا
شام کو میری بہن نے مجھے اٹھایا کہ تیری ٹیویشن والی باجی اور اسکی امی ائی ہیں
ان دونوں کا سن کر میری تو ٹانگیں پھر کانپنے لگ گئیں
اور میں نے کانپتے ھوے مری ھوئی آواز نکالتے ھوے اپنی بہن نازی کو کہا کہ انکو کہو کہ میں سورھا ھون
تو وہ غصہ سے بولی
صبح کے سوے مرے ھو ابھی تک نیند نھی پوری ھوئی
وہ اتنی دور سے ائی ہیں اور تم نواب زادے بہانے بنا رھے ھو
میں نے غصہ سے اسکی طرف دیکھتے ھوے کہا کہ
جانی اے کہ نئی
تو وہ پیر پٹختی ھوئی باہر چلی گئی
اس سے پہلے کہ میں کچھ سوچتا آنٹی اور صدف کمرے میں داخل ھویں
انکو دیکھتے ہی میرا رنگ اڑ گیا اور اتنے میں انٹی اگے بڑھیں اور میرے سر پر پیار دیتے ھوے بولیں کیا ھو یاسر بیٹا کل تو اچھے بھلے تھے
ہمیں بتا کر بھی نھی آے چپ کر کے گھر آگئے تھے
میری وجہ سے تمہاری طبعیت خراب ھوئی ھے نہ میں تمہیں چھیٹیاں اتارنے کو کہتی نہ تمہارا یہ حال ھوتا
صدف میرے سامنے کھڑی بڑے غور سے مجھے دیکھے جارھی تھی جیسے مجھے پہچاننے کی کوشش کررھی تھی
میں ڈرتا اس سے نظریں بھی نھی ملا رھا تھا
پھر آنٹی صدف کو یہ کہہ کر چلی گئی
کہ
تم اپنے ویرے کے پاس بیٹھو میں ذرہ آپاں کے پاس جارھی ہوں
مجھے یہ سن کر پھر ایک جھٹکا سا لگا کہ شاید آنٹی امی کو میری کرتوت بتانے جارھی ھے
تو آنٹی کے جاتے ھی صدف مجھے گھورتے ھوے میرے پاس میرے کولہوں کے پاس بیٹھ گئی اور آگے ہوکر میرے گال پر ذور سے چُٹکی کاٹ کر بولی
ہاں جی سناو بے شرم ویرے کیویں بخار چڑیا
تو میں شرم سے ڈوبا جارھا تھا چپ کر کے منہ دوسری طرف کر کے رونے لگ گیا
تو صدف نے ایک ھاتھ میرے دائیں طرف میری
بغل کے قریب رکھا اور میرے اوپر جُھک کر اپنا منہ میرے منہ کے کچھ فاصلے پار کرتے ھوے ایک ھاتھ سے میرا چہرہ پکڑ کر سیدھا کیا اس حالت میں صدف کے ممے میرے سینے سے کچھ فاصلے پر ھی تھے
جبکہ اسکی گانڈ میرے کولہوں کے ساتھ لگی ھوئی تھی اور اسکے ناف کا حصہ بھی میرے پیٹ کے ساتھ لگا ھوا تھا
صدف بولی
بچو ذیادہ ڈرامے نہ کر
اب تجھے بڑے رونے آرھے ہیں جب بے شرموں کی طرح مجھے ننگا نہاتے ھوے دیکھ رہا تھا تب تیرا یہ رونا کہاں تھا
شکر کرو میں نے امی کو یاں ابو کو نھی بتایا ورنہ جو تیرا حال ھونا تھا
تجھے پتہ نھی
ابھی تیری عمر ھے یہ کام کرنے کی جو تو کررھا ھے
شرم کر اپنی عمر دیکھ اور کام دیکھ ابھی سے تجھے جوانی چڑھی ھوئی ھے بڑا ھوکر کیا کرے گا
صدف نے ایک ھی سانس میں مجھے لمبا سا لیکچر دے دیا
مجھے یہ سن کر کچھ حوصلہ ھوگیا کہ صدف نے گھر نھی بتایا اور شکر ادا کرنے لگ گیا
صدف اسی سٹائل میں میرے اوپر جھکی ھوئی میرے منہ کو اپنی انگلیوں اور انگھوٹھے سے ایسے دبایا ھوا تھا جیسے بچے کو زبردستی دوائی پلانے کے لیے اسکا منہ ایسے پکڑ کر زبردستی کھولتے ہیں
میں سکتے کے عالم میں صدف کے چہرے کی طرف دیکھی جارھا تھا جس کے چہرے پر نہ پیار تھا نہ ھی غصہ
پھر صدف میرے منہ کو ہلاتے ھوے بولی
بتا اب تیرا کیا کروں
بتاوں اپنے ابو کو یا تیری امی کو
تو میں چت لیٹا ھوا تھا اور صدف میرے اوپر جھکی ھوئی تھی اسکی چھاتی میرے سینے سے تھوڑا ھی اوپر تھی
میرے ھاتھ بلکل سیدھے چارپائی پر تھے
میں نے صدف کی جب پھر دھمکی سنی تو میں اس سے ھاتھ جوڑ کر معافی مانگنے کے لیے اپنے دونوں ھاتھ اوپر کر نے لگا تو میرے دونوں ھاتھوں کی انگلیاں پہلے اسکے پیٹ سے ٹکرائیں پھر دونوں مموں سے نپل کے نچلے حصہ سے ٹکرائیں اور نپلوں کو چھوتی ھوئی صدف کے چہرے کے سامنے کرکے ھاتھ جوڑ لیے میری دونوں کہنیاں اب بھی صدف کے دونوں مموں کے ساتھ ٹچ تھی یہ سب اتنی جلدی سے ھوا کہ صدف کو سنبھلنے کا موقع ھی نھی ملا
مگر یہ سب ھوا غیر ارادی طور پر تھا
میں نے روتے ھوے ھاتھ جوڑتے کہا باجی مجھے معاف کردو
کی قسم میں نے جان بوجھ کر آپ کو نھی دیکھا تھا بس ایسے انجانے میں مجھ سے غلطی ھوگئی
پلیز آئندہ کبھی بھی ایسا نھی ھوگا
پلیز کسی کو مت بتانا
تو صدف بولی بس بس زیادہ ڈرامے مت کرو
مجھے سب پتہ ھے
کہ تم مجھے کن نظروں سے دیکھتے ھو
اس دن جب میں گری تھی تب بھی کیا اچانک ھی سب ھوا تھا
اور روز جاتے ھوے میں نوٹ کرتی رہتی ھوں تمہاری نظریں کدھر ھوتی ہیں
میں یہ سب سن کر مزید شرمندہ ھونے لگ گیا
اچانک مجھے اپنی کہنیوں پر صدف کے مموں کا لمس محسوس ھوا اور میرا ایکدم دھیان اسکے مموں پر چلا گیا اور اسکی گانڈ تو پہلے ھی میرے ساتھ جڑی ھوئی تھی اتنا خیال آتے ھی میرے لن ساب نے انگڑائی لی اور کھڑا ھوگیا
صدف اپنی دھن میں مجھے گنوای جارھی تھی کہ
جب تم کام چیک کروانے آتے ھو تب بھی تمہاری نظریں کدھر ھوتی ہیں اب اتنے معصوم بن رھے ھو
اچھا سب باتیں چھوڑو یہ بتاو جب میں سکول جاتے گرنے لگی تھی تو تم نے جب مجھے پیچھے سے جپھی ڈالی تھی تو تمہاری قمیض کیوں اوپر ھوئی ھوئی تھی
میں نے کہا مجھے نھی پتہ
کہاں سے اور کیوں قمیض اوپر تھی
صدف بولی اچھا سب بھول گئے میں بتاوں کس چیز نے تمہاری قمیض اوپر کی ھوئی تھی
اس سے پہلے کے میں کچھ سمجھتا صدف نے ھاتھ پیچھے کر کے میرے اکڑے ھوے لن کو پکڑ لیا جو تیل کی مالش کر کر شیش ناگ بن چکا تھا
صدف نے لن کو پکڑتے ھوے کچھ کہنے کے لیے لب ہلاے اس کے منہ سے بس اتنا ھی نکلا
اسسسسسسسسس کییییییی وجہہہہہہہ
اور صدف کا منہ حیرانگی سے کھلے کا کھلا رھ گیا
اور کچھ سیکنڈ اس نے میرے لن کو اچھی طرح سے ٹٹول کر چیک کیا کہ واقعی. اسکے ھاتھ میں میرا ھی لن ھے
تو اسے ایک جھٹکا لگا اور جمپ مار کر کھڑی ھوگئی اور میرے اکڑے لن کو جو قمیض کو تمبو بناے کھڑا تھا
آنکھیں پھاڑے دیکھی جارھی تھی اور پھر ایکدم اسے ہوش آیا اور چہرے پر دونوں ہاتھ رکھ کر بنا کچھ کہے باہر بھاگ گئی.
دوسرے دن میری طبیعت کافی بہتر ھوچکی تھی اور صدف کا خوف بھی تقریبا اتر چُکا تھا
میں سکول کے لیے تیار ھونے لگ گیا امی نے مجھے کافی روکا کہ آج بھی چھٹی کر لو
مگر میں نے سکول جانے کا اصرار کر کے امی کو منا لیا اور تیار ھوکر آنٹی فوزیہ کے گھر جا پہنچا آنٹی سے سلام دعا اور حال احوال بتانے کے بعد ہم تینوں گھر سے نکل آے اور میں سیدھا کھیت کی طرف جانے لگا تو عظمی نے میرا بازو پکڑتے ھوے کہا کہ باجی کو بھی ساتھ لے کر جانا ھے وہ ہمارا انتظار کررھی ھوگی تو میں نے کہا یار چلو وہ خود ھی آجاے گے ہمیں پہلے ھی دیر ھورھی ھے
مگر عظمی اور نسرین کی ضد کی وجہ سے مجھے مجبوراً صدف کے گھر جانا پڑا ہم جب اندر داخل ھوے تو صدف برقعہ پہنے تیار بیٹھی تھی اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پھر نظریں جھکا کر باہر کی طرف چل پڑی ہم بھی اسکے پیچھے پیچھے گھر سے نکل کر سکول کی طرف چل پڑے
دوستوں جہاں پہلے کپاس کی فصل ھوا کرتی تھی اب وہاں بھی مکئی کی فصل کاشت کردی تھی اور مکئی کا ان دوستوں کو پتہ ھے جو گاوں میں رہتے ہیں کہ یہ فصل دنوں میں بڑھتی ھے اور تقریبا سات آٹھ فٹ ھوجاتی ھے
ہم آگے پیچھے چل رھے تھے میں سب سے پیچھے تھا اور میرے آگے عظمی تھی اور اس کے آگے صدف اور سب سے آگے نسرین تھی
کچھ دور جاکر صدف کو پتہ نھی کیا ھوا وہ بہانے سے عظمی کو آگے کر کے خود پیچھے آگئی
اور مڑ کر مجھے دیکھا
اسکی آنکھوں میں مجھے واضح طور پر شرارت نظر آرھی تھی
مگر میں نے اسکے دیکھنے کا کوئی رسپونس نھی دیا اور
میں نے غور سے اسکی گانڈ کو ایک نظر دیکھا تو
آج اسکی گاند کافی باہر کو نکلی ھوئی تھی
میں نے دوبارا غور سے دیکھا تو واقعی ایسا ھی تھا
میں سوچ ھی رھا تھا کہ یہ کیا ماجرا ھے کہ
چلتے چلتے میری نظر اسکے پاوں کی طرف پڑی تو
آج وہ اونچی ہیل پہن کر آئی تھی جس کی وجہ سے اسکی گانڈ مزید باہر کو نکلی ھوئی تھی
اور وہ جب قدم آگے کو بڑھاتی تو اسکی گانڈ کا ایک حصہ جب اوپر کو جاتا تو ساتھ برقعے کو بھی کھینچ کر اوپر لے جاتا
اسکی سیکسی گانڈ دیکھ کر میرا تو دماغ خراب ھونے لگ گیا
جبکہ میں نے سوچ لیا تھا کہ کچھ بھی ھوجاے آج کے بعد صدف کے جسم کو نھی دیکھنا کیوں کہ سالی کو پتہ نھی کیسے پتہ چل جاتا تھا
خیر میں ناچاھتے ھوے بھی مسلسل نظر ٹکاے صدف کی گانڈ کو دیکھی جارھی تھا
کہ اچانک صدف رکی اور ایکدم پیچھے مڑ کر میری طرف دیکھا
اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سر کے اشارے سے پوچھا کیا دیکھ رھے ھو
تو میں نے شرمندہ سا ھوکر سر نیچے جھکا لیا
ایسا بس چند ھی سیکنڈ کے لیے ھوا تھا
اور صدف بڑی ادا سے منہ دوسری طرف کر کے پھر چلنے لگ گئی
بس ایسے ھی تانکہ جھانکی میں ہم سکول پہنچ گئے