ثانی۔ بھائی بیلنس کا آپ نے ڈال دیا تھا اس کا کہا ہے، پتا نہیں آپ کیا ڈالنے کا کہہ رہے ہیں۔
میں۔ میں بھی بیلنس کا ہی کہہ رہا تھا۔
ثانی۔ آپ تو ابھی ڈالنے کا کہہ رہے تھے۔
میں۔ ارے ایسے ہی کہا تھا اب نہانے جاؤں، کپڑے اتار کر کھڑا ہوں۔
ثانی۔ اف بھائی کتنے بے شرم ہیں آپ، ننگے ہیں!
میں۔ ہاں اور بے شرم کی کیا بات ہے تمہارے سامنے تو ننگا نہیں ہوں، اور کیا تم کپڑے اتار کر نہیں نہاتیں؟ تم بھی تو ننگی ہو کر نہاتی ہو گی۔
ثانی۔ جی ننگی ہو کر نہاتی ہوں لیکن جیسے آپ بتا رہے ہیں میں تو کسی کو نہیں بتاتی۔
میں۔ ابھی تم نے مجھے تو بتا دیا۔
ثانی۔ آپ نے بتایا تو اس پر میں نے بھی بتا دیا۔
میں۔ کب سے کھڑا ہے۔
ثانی۔ بھائی کیا کھڑا ہے؟
میں۔ میری گڑیا تمہارا بھائی نہانے کے لیے کھڑا ہے۔
ثانی۔ اچھا بھائی آپ نہانے جائیں مجھے پیشاب آرہا ہے میں پیشی کرنے جا رہی ہوں۔
میں۔ شلوار اتار کر کرنا۔
ثانی۔ بھائی شلوار اتار کر ہی کروں گی، شلوار کے اندر تو نہیں کر سکتی۔
میں۔ اوکے اب تم پیشی کرو میرا بھی کھڑا ہو گیا ہے پٹی کرنے کے لیے۔
ثانی۔ بھائی آپ بہت بے شرم ہو گئے ہیں، آپ نہائیں پھر بات کروں گی، بائے۔
ثانی سے بات کرنے کے بعد میں نے شاور لیا اور روم میں آگیا تو موبائل کی بیل بجی، دیکھا تو نازی کی کال تھی۔
میں۔ جی میری دلہن!
نازی۔ اپنی دلہن کو لینے نہیں آئیں گے؟
میں۔ جی جان میں لینے آرہا ہوں۔
میں ننگا ہی اپنے روم سے نیچے آگیا۔ نازیہ کے روم میں آیا تو نازیہ پنک کلر کی ہاف نائٹی میں دروازے پر کھڑی تھی۔ نازی کو دیکھتے ہی ہوش گم ہو گئے، نازی اس ٹرانسپیرنٹ نائٹی میں بہت سیکسی لگ رہی تھی۔ پنک بریزر اور پنک انڈرویر صاف نظر آرہا تھا، بال کھلے ہوئے، ہونٹوں پر لال لپسٹک، ہاتھوں میں موتیے کے گجرے، آنکھوں میں کاجل، آج نازیہ کا حسن سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ میں اس کے حسن کی چکا چوند میں گم تھا کہ نازیہ بولی: "کامران کہاں غائب ہیں اور آپ تو ننگے ہی نیچے آگئے"۔
میں۔ نازی میں تو تمہارے حسن میں کھو گیا تھا جان، بہت پیاری اور سیکسی لگ رہی ہو۔
نازی ایک ادا سے۔ کامران اپنی دلہن کو گود میں اٹھا کر اپنے روم میں لے چلو۔
میں آگے بڑھا اور نازیہ کو گود میں اٹھا کر اوپر اپنے روم میں لے آیا اور روم لا کر نازیہ کو بیڈ پر بٹھا دیا۔ نازیہ نئی نویلی دلہن کی طرح سر جھکا کر بیٹھی تھی۔ میں نے کہا "نازیہ ہاتھ آگے کرو"۔ نازیہ نے ہاتھ آگے کیا میں نے اس کے ہاتھ پر پیار کیا اور رنگ نازیہ کی انگلی میں پہنا دی۔
میں۔ جان یہ تمہاری منہ دکھائی۔
نازیہ نے رنگ دیکھی اور کہا "کامران یہ رنگ ہم دونوں کے پیار کی نشانی ہے" اور یہ کہتے ہوئے نازیہ کھڑی ہوئی اور مجھ سے لپٹ گئی اور بولی "کامران آج بھی ہماری سہاگ رات ہے کل تو درد کی وجہ سے مزہ نہیں آیا تھا آج مجھے لن کا پورا مزہ لینا ہے"۔
نازیہ مجھ سے لپٹی ہوئی تھی، میرے دونوں ہاتھ نازیہ کی نرم اور سڈول گانڈ کو سہلا رہے تھے۔ نازیہ نے میرے ہونٹوں کو اپنے منہ میں لیا ہوا تھا۔ میں نازیہ کی گانڈ اور جسم پر ہاتھ پھیر رہا تھا، نیچے سے نازیہ چوت کو لن کے ساتھ رگڑ رہی تھی۔ ہم دونوں کچھ دیر تک فرینچ کسنگ کرتے رہے۔ میں نے نازیہ کو اپنے جسم سے الگ کیا اور کہا "جان نائٹی اتار دوں؟" نازیہ نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر کر دیے۔ میں نے نازیہ کی نائٹی اتار دی۔
نازیہ اب پنک بریزر اور پنک انڈر ویئر میں بلو فلم کی ہیروئن لگ رہی تھی۔ میں نے نازیہ کو بیڈ پر لٹایا اور نازیہ کے اوپر لیٹ کر ہم دونوں پاگلوں کی طرح ایک دوسرے کو پیار کر رہے تھے۔ ہماری زبانیں ایک دوسرے کے منہ میں تھیں، کبھی نازیہ میری زبان چوستی کبھی میں نازیہ کی زبان چوستا۔ نازیہ بہت گرم ہو گئی تھی، نیچے لن اور چوت کا پیار ہو رہا تھا۔
نازیہ نے مجھے ہٹاتے ہوئے کہا "جانی اپنی دلہن کا بریزر اور انڈر ویئر بھی اتار دو"۔ میں نے نازیہ کا بریزر اتارا، نازیہ کے دودھ کی طرح سفید ممے بریزر میں سے باہر آگئے۔ نازیہ کے مموں پر پیار کر کے نیچے آیا جہاں نازیہ کا انڈر ویئر اتنا گیلا تھا مجھے لگا نازیہ نے پیشاب کر دیا ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔ نازیہ کا انڈر ویئر اتار کر نازیہ کی پنک چوت جو چکنی اور بالوں سے صاف تھی، دیکھ کر منہ میں پانی آگیا۔
میں۔ جان چوت تو بہت چکنی ہو رہی ہے۔
نازیہ۔ جانی آپ کے لیے تیار کی ہے۔
چوت کی لائن سے نازی کا رس نکل رہا تھا جو ایک الگ ہی نظارہ دے رہا تھا۔ اب اتنی پیاری اور گیلی چوت سامنے ہو تو پھر برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ میں نے اپنا منہ نازیہ کی چوت پر رکھ دیا۔ چوت پر ہونٹ لگتے ہی نازیہ نے اپنی چوت اوپر کر دی۔
نازیہ۔ اوف بھائی آہ۔۔۔۔۔۔ آہ اف!
نازیہ مزے سے سسکیاں لیتے ہوئے بولی "آہ بھائی چوسو اپنی بہن کی چوت جو تمہاری بیوی بن گئی ہے آہ"۔
نازیہ نے گانڈ اٹھا کر چوت میرے منہ سے لگا دی تھی۔ میں نے دونوں ہاتھ نازیہ کی گانڈ کے نیچے رکھے ہوئے تھے اور زبان سے اپنی بہن کی چوت چاٹنے میں جو مزہ آرہا تھا وہ بیان نہیں کر سکتا۔ میں نے اپنی زبان نازیہ کی چوت کے اندر کر کے زبان اندر باہر کر رہا تھا۔ نازیہ کی سیکسی آوازیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ نازیہ گانڈ اٹھا اٹھا کر اپنے بھائی سے چوت چسوا رہی تھی۔ میرا پورا منہ نازیہ کی چوت کے پانی سے گیلا ہو گیا تھا۔
نازیہ۔ بھائی میری جان بہت مزہ آرہا ہے۔
میں۔ اب ہم دونوں ایک دوسرے کو مزہ دیں گے۔
نازیہ۔ جانی وہ کیسے؟
پھر میں 69 کی پوزیشن میں آیا، اپنا لن نازیہ کے منہ پر رکھا اور اپنا منہ نازیہ کی چوت پر رکھا۔ اب ہم بھائی بہن 69 کی پوزیشن میں ایک دوسرے کو مزہ دے رہے تھے۔ نازیہ میرا لن منہ میں لے کر چوس رہی تھی اور میں نازیہ کی چوت کا مزہ لے رہا تھا۔ نازیہ لن بہت اچھا چوس رہی تھی۔
میں۔ جان چوت تیار ہے لن لینے کے لیے؟
نازیہ نے لن منہ سے نکالا اور بولی "جانی تیار ہے اب چودائی شروع کرو"۔
میں اٹھ کر نازیہ کی ٹانگوں کے بیچ میں آیا اور لن نازیہ کی چوت سے رگڑنے لگا۔ نازیہ سسکی لیتے ہوئے بولی "جانی لن چوت میں ڈال دو کیوں تڑپا رہے ہو، چوت شوہر کا لن لینے کو تیار ہے"۔ یہ سنتے ہی میں نے لن کا ٹوپا چوت کے اندر کیا تو نازیہ بولی "جانی آرام سے ابھی درد ہوا ہے"۔ میں تھوڑا رک گیا جب نازیہ نے کہا کہ اب اور اندر کرو پھر میں نے اور لن چوت کے اندر کر دیا۔
نازیہ۔ اوف بھائی آپ کا لن کتنا سخت ہے، بس اسی طرح آہستہ آہستہ پورا لن چوت کے اندر کر دیں۔
میں نے آرام آرام سے پورا لن اندر کر دیا اور نازیہ کے اوپر لیٹ کر نازیہ کے ممے چوسنے لگا۔ نیچے لن پورا چوت کے اندر تھا اور اوپر نپل منہ میں لے کر چوس رہا تھا۔ اب نازیہ نارمل ہو گئی تھی۔
نازیہ۔ جانی اب چودنا شروع کرو۔
میں نے اپنے ہونٹ نازیہ کے ہونٹوں پر رکھے اور نازیہ کی چودائی شروع کر دی۔ نازیہ کی چوت میں آج لن آرام سے اندر باہر ہو رہا تھا۔
نازیہ۔ جانی اب اپنے لن سے تیز تیز چودائی کرو آج چوت کو مزہ دے دو، اب چوت پھٹ تو گئی ہے اب کوئی ڈر نہیں چودو جان!
میں نے نازیہ کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور نازیہ کی چودائی شروع کر دی، نازیہ کا چہرہ سیکس کی وجہ سے لال ہو رہا تھا۔ نازیہ مزے میں بولے جا رہی تھی "جانی اور اندر کرو پورا لن ڈال کر چودو اف اہ اوہ ہائے مر گئی اوف کامی چودو مجھے پورا لن ڈال کر چودو مارو اپنی بہن کی چوت"۔ نازیہ تھک گئی تھی، اس نے ٹانگیں سیدھی کیں اور سانس لینے کے لیے رکی۔ میں نے کہا "جان اب گھوڑی بنو"۔
نازیہ۔ جانی گھوڑی نہیں ڈوگی اسٹائل کہو۔
اور نازیہ یہ کہتے ہوئے ڈوگی اسٹائل میں آگئی۔ نازیہ کی نرم گانڈ میرے سامنے تھی، دل کر رہا تھا کہ آج گانڈ کا بھی افتتاح کروں لیکن میں نے سوچا گانڈ پھر کبھی ابھی چوت کو چودنے کا مزہ لیا جائے۔
نازیہ۔ جان لن ڈالو چوت میں!
میں نے پیچھے سے لن چوت پر رکھا اور ایک جھٹکے سے پورا لن چوت کے اندر کر دیا۔ لن چوت کے اندر جاتے ہی نازیہ زور سے چیخی "بھائی آرام سے بہت درد ہوا ہے"۔
میں۔ جان اب نہیں ہو گا۔
نازیہ۔ بھائی اب اندر باہر کرو۔
میں نازیہ کے اوپر چڑھ گیا اور آگے سے دونوں ممے پکڑ کر چودائی شروع کر دی، ڈوگی اسٹائل میں چودنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ اب نازیہ بھی گانڈ ہلا ہلا کر لن چوت کے اندر باہر کر رہی تھی۔ "بھائی اس اسٹائل میں چودائی کا مزہ الگ ہے، کامی آپ نے تو وہ مزہ کروا دیا I love you! ہاں چودو اور جانی، ایسی خوشی ہے کہ میں بتا نہیں سکتی اب تو یہ چوت آپ کے لن کی دیوانی ہو گئی ہے، چوت مروانے کا اپنا ہی مزہ ہے"۔
میرا لن نازیہ کی بچہ دانی سے ٹکرا رہا تھا، لن بچہ دانی سے ٹکراتا تو نازیہ اپنی گانڈ اور میری طرف دباتی۔ کمرے میں بھائی بہن کی چودائی کی سیکسی آوازیں اور تھپ تھپ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔
نازیہ۔ کامی میں فارغ ہونے والی ہوں آپ باہر فارغ ہونا۔
نازیہ ایک دم سیدھی لیٹ گئی اور ٹانگیں کھول کر بولی "جانی اندر کرو"۔ میں نے لن چوت کے اندر کر دیا، نازی مجھ سے لپٹ گئی اور اپنی دونوں ٹانگیں میرے گرد لپیٹ کر چوت مروانے لگی۔ نازی میری زبان چوس رہی تھی، اب اس کی چوت نے میرے لن کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا اور نازیہ کی گرم چوت نے پانی چھوڑ دیا تھا۔ میرا لن بھی اب پانی نکالنے کو تیار تھا۔ میں نے لن چوت سے نکالا اور نازیہ کے گورے جسم پر اپنے لن کی منی نکال دی اور نڈھال ہو کر نازی کے برابر لیٹ گیا۔
نازی نے میری طرف کروٹ لے کر مجھے پیار کرنا شروع کیا۔
نازیہ۔ جانی مزہ آگیا! (میرا ہاتھ اپنی چوت پر رکھتے ہوئے) جانی آج وعدہ کرو مجھے کبھی نہیں چھوڑنا اور اس چوت کی روز چودائی کرنا۔
میں۔ جان چوت اور لن کا کھیل اب شروع ہو گیا ہے اب یہ چلتا رہے گا اور تم میرے بچے کی ماں بھی بنو گی۔
نازیہ۔ جی جانی، تمہارا بچہ میں ہی پیدا کروں گی، اب نہ میں شادی کروں گی نہ آپ کرنا، بس اب ہم دونوں میاں بیوی بن گئے ہیں۔ میں نے آپ کو اپنا شوہر تسلیم کر لیا ہے اب کسی اور مرد کی میری زندگی میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 21) appeared first on Urdu Stories.