ہماری پیاری سی معصوم اور پاکیزہ بہن۔۔۔(قسط2)

ہماری پیاری سی معصوم اور پاکیزہ بہن۔۔۔

ناظم نے اچانک اپنے جسم کو زور زور سے آگے پیچھے کر نا شروع کر دیا وہ مزے کی لہر میں تھا میں بھی مزے لے رہا تھا کہ اچانک میرے منہ سے ایک چیخ نکلی اور میں منہ کے بل آگے کی طرف جاگر اور اصل ہوایوں کہ انجانے میں ناظم سے دھکا کچھ زیادہ لگ گیا اور اس کا لن جس کا منہ سیدھا میری گانڈ کے سوراخ کی طرف تھا ٹوپی تک میری گانڈ میں گھس گیا اور میری چیخ نکل گئی نا ظم بہت ڈر گیا تھا اور میرے پاس بیٹھ کر مسلسل معافی مانگ رہا تھا کہ بھائی جان بوجھ کر نہیں کیا لن ایک دم جوش میں غلطی سے سلپ ہو گیا کچھ دیر بعد تکلیف تھوڑی کم ہوئی تو میں نے ناظم کو بولا کہ چلو آ جاؤ۔۔۔
لیکن اب دھیان سے کرنا کہیں ایسا نا ہو کہ پھر سے اندر گھسا دو اور مجھے مار ہی ڈالو تو وہ بڑی آہستہ سے دوبارہ پھر لن درار میں ڈال کر آگے پیچھے کرنا شروع ہو گیا لیکن میں نے محسوس کیا کہ وہ پہلے والی گرم جوشی ختم ہو چکی تھی جیسے ہی میں نے سامنے شیشے کی طرف دیکھا تو مجھے اس کا منہ اترا ہوا نظر آیا مجھ سے رہا نا گیا اور میں نے پوچھ لیا کہ ناظم کیا پرابلم ہے؟
تو وہ کہنے لگا بھائی ایسے مزہ نہیں آ رہا تو میں نے پوچھا کیوں جی اب ایسا کیا کریں کہ بھائی کو مزہ آ جائے تو وہ ہچکچاتے ہوئے بولا کہ بھائی پھر سے تھوڑا اندر کروں کیا، پلیز آرام سے کروں گا، میں حیران رہ گیا کہ یہ حرامی چھوٹا ہو کر میری گانڈ مارنے کے چکر میں ہے اور میں ایویں ہی سوچی جا رہا تھا۔۔۔
تو میں اسے بولا کہ ٹھیک ہے ناظم تم ایسا کر لو لیکن میرا خیال ہے کہ ہمیں آئل استعمال کرنا چاہیے ورنہ بہت درد ہو گا وہ تھوڑا کنفیوز نظر آرہا تھا تو میں نے کہا ارے اب اتنا آگے بڑھ چکے ہیں اب کا ہے کی شرماہٹ اب ہم دونوں بھائی ایک
دوسرے سے ہی مزہ لے لیا کریں گے جس میں کچھ بھی پرابلم نہیں ہو گا اور ناہی کسی اور کو پتہ چلے گا تو ناظم کی آنکھوں میں رضامندی کا اظہار دیکھ کر میں ایک دم آگے بڑھا اور اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے اور اس کے ہونٹوں اور زبان کو چوسنا شروع کر دیا
نا ظم نے بھی فوراً رسپونس دیا کچھ ہی لمحوں میں ہم لپ سے لپ لگا چکے تھے اس طرح کسنگ کرتے کرتے ہم کرسی سے
ہٹ کر بیڈ کی طرف چل پڑے اور وہاں ناظم لیٹ گیا جبکہ میں اس کے اوپر چڑھ کر کسنگ کرنے لگا میرا دل کر رہا تھا کہ ناظم میرا لن چوسے پر میں یہ بھی جانتا تھا کہ اس کیلئے مجھے اس کا لن چوسنا پڑے گا تو میں نے ڈائیریکٹ اس کی ٹانگوں کے بیچ میں بیٹھ کر اس کا لن اپنے منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا
نا ظلم جو کہ ایک دم بوکھلا کر اٹھا تھا مزے کی انتباہ محسوس کرتے ہی رک گیا اور سسکیاں بھرنے لگا چند منٹ اس کا لن چوسنے کے بعد میں بیڈ پر ہی گھٹنوں کے بل الٹا ہو گیا اور ناظم کو کہا کہ پہلے آئل لگا کر اچھی طرح میری گانڈ کا سوراخ نرم کر لو اس سے درد نہیں ہو گی تو وہ چپکے سے جا کر الماری میں سے آئل کی بوتل اٹھا لایا۔۔۔۔
اور تھوڑا سا آئل میری گانڈ پر لکا کر سوراخ پر مساج کرنے لگا اور گانڈ کے سوراخ پر اس کا ہاتھ محسوس ہوتے ہی کپکپاہٹ سی محسوس ہوئی اور میں مزے کے وادیوں میں کھوتا چلا گیا اس نے ایک انگلی میری گانڈ میں ڈالی اور اندر باہر کرنے لگا مجھے ایک عجیب سی راحت مل رہی تھی چند لمحوں بعد اس نے دوسری انگلی بھی ساتھ مال کر دو انگلیاں گانڈ میں ڈال دیں اور میرے ہونٹ بھینچے گئے لیکن میرے منہ سے آواز نا نکلی تھوڑی دیر بعد ہی انگلیاں میری گانڈ میں رواں ہو گئیں اور آسانی سے اندر باہر جانے لگیں۔۔۔
تو میں نے اسے اپنے اوپر آنے کو بولا تو ناظم میرے پیچھے آکر کھڑا ہو گیا اور اپنی دائیں ٹانگ میرے دائیں طرف رکھی اور اپنا لن میری گانڈ کے سوراخ پر رکھا اور دباؤ ڈالا مجھے لگا جیسے میری گانڈ میں کسی نے مرچوں والا ڈنڈہ ڈال دیا ہو میں تھوڑا کسمسا کر آگے اچھلا لیکن منہ سے آواز نہ نکالی مجھے پتہ تھا۔۔۔
کہ یہ کام کرنا ہی کرنا ہے ناظم زور بڑھاتا گیا اور میں اپنے ہونٹ بھینچے پڑا رہا اب لن آدھے سے زیادہ میرے اندر جابچکا تھا اور میری گانڈ کے اندر درد سی اٹھ رہی تھی تبھی میں نے اس کو ذرا رکنے کو بولا اور کہا ابھی فلحال یہاں ہی آگے پیچھے کرو اور اس نے آہستہ سے لن کو اندر ہی بلانا شروع کر دیا اور آگے پیچھے کرنے لگا اس کے دونوں ہاتھ میری گانڈ پر رکھے ہوئے تھے اس نے ایک ہاتھ سے ساتھ ساتھ میرے ٹوں کو چھونا اور مساج کرنا شروع کر دیا جس سے مجھے بلکا بلکا مزہ آنے لگا اور تکلیف میں واضح کمی محسوس ہوئی۔۔۔
پھر اس نے پوچھا کہ بھائی درد تو نہیں ہو رہا تو میں نے کہا نہیں یار آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا اندر ڈلوانے کا بھی اپنا ہی مزہ ہے میں اس کو یہ تاثر دینا چاہتا تھا کہ میں اس ٹائم فل جوبن کا مزہ لے رہا ہوں ۔۔۔ اور گانڈ مروانے کے نشے میں ڈوبا ہوا ہوں۔۔ ساتھ ہی میں نے اپنے منہ سے سیکسی قسم کی آوازیں بھی نکالنا شروع کر دیں پھر کچھ منٹ بعد اسے بولا کہ ابھی سارا لن آہستہ سے اندر ڈال دو تو اس نے ہلتے ہوئے دباؤ بڑھانا شروع کیا اور لن اپنی جگہ بناتا ہوا دو منٹ میں ہی سارا اندر چلا گیا سچ بتاؤں تو آدھے لن تک تو تکلیف ہوئی تھی باقی آدھا لن تو آسانی سے اندر چالا گیا۔۔۔
اور جو تھوڑی بہت تکلیف ہوئی تھی اس کو میں نے ظاہر نہیں کیا میں نہیں چاہتا تھا کہ اپنی باری پر وہ ڈر جائے یا کچھ ایسا ہو جائے جس کی وجہ سے میں اس چکنی گانڈ سے محروم رہ جاؤں۔۔۔ ناظم کی حرکت جاری تھی اور وہ اپنا لن ابھی تھوڑی سپیڈ سے اندر باہر کر رہا تھا جب وہ اپنا لن باہر تک لا کر اندر دھکیلتا تو مجھے بہت زیادہ جلن کا احساس ہوتا لیکن میں چپ رہا کیونکہ یہ تکلیف برداشت کے قابل تھی کچھ پانچ منٹ بعد ہی مجھے اس کا لن اپنی گانڈ میں پھولتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔
اور اس نے ایک تیز جھٹکا مارا اور اس کے منہ سے ایک سیٹی کی برآمد ہوئی اور میری گانڈ کو منی سے بھرنا شروع کر دیا جب منی اچھی طرح سے نچوڑ چکا تو ایک سائیڈ پے بیڈ پر ہی لیٹ گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا اور میں اٹھ کر واش روم کی طرف چل دیا !! درد تو مجھے ہو رہا تھا پر اتنا بھی نہیں کہ میں چل نا سکوں۔۔۔
واش روم میں جاکر میں نے اچھی طرح اپنی صفائی کی اور گرم پانی کے ساتھ اپنی گانڈ کی ٹکور کی تو درد میں کافی افاقہ ہوا۔۔۔۔ واپس آیا تو ناظم ابھی تک لیٹا ہوا تھا میں اس کے ساتھ ہی لیٹ گیا اور ہم دونوں کسنگ کرنے لگے پھر کسنگ کرتے ہوئے میں نے اپنا ہاتھ اس کی گانڈ پر پھیرنا شروع کیا تو وہ تھوڑا کھسپھسایا لیکن میں نے اپنا کام جاری رکھا جب میرا لن پوری طرح سے اکڑ گیا تو میں اسے لے کر کرسی پر چلا آیا اور اس کو کرسی پر بٹھا کر اپنا لن چوسنے کو بولا تو وہ بڑی رغبت اور مہارت سے میرا لن چوسنے لگا۔۔۔
اس کے چوہوں میں بالکل کسی پروفیشنل گانڈو جیسی مہارت تھی دو منٹ میں ہی مجھے اپنے جسم میں لذت آمیز راحت اٹھتی محسوس ہوئی اور میں نے اپنا لن اس کے منہ سے نکال لیا اور اس کو کرسی پر ہی ڈوگی سٹائل میں ہونے کو بولا تو وہ اپنے دونوں ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل الٹا ہو گیا اور اپنی گانڈ کو اوپر کی طرف اٹھا دیا میں نے اپنے لن اور اسکی گانڈ پر اچھی طرح آئل لگایا اور آگے جھکتے ہوئے اس کو بوال کہ اب میرا لن اپنے ہاتھ سے صحیح جگہ اپنے سوراخ پر رکھو جہاں سے میں اندر ڈال سکوں ۔۔۔۔
اس نے میرے لنڈ کی ٹوپی کو اپنے سوراخ پر رکھا اور کہا بھائی اب زور لگاؤ میں نے ہلکا سا دباؤ ڈالا تو ٹوپی اس کی گانڈ کے اندر چلی گئی اور وہ بلبلا اٹھا اور درد کی شدت سے بولا ۔۔۔۔۔ اوئے مر گیا میں ۔۔۔۔۔۔۔ بھائی بہت درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ اف۔۔۔۔۔۔۔ بھائی آرام سے ابھی اور نہیں کرنا !!!! میں نے اپنا دایاں ہاتھ آگے نکالا اور نیچے کی طرف لا کر اس کے لن کو پکڑ کر ہالنے لگا تا کہ اسے بھی مزے آئے اور تکلیف کا احساس کم سے کم ہو۔۔۔۔
اسی طرح دو منٹ میں ہی اس کا لن کھڑا ہونے لگا تو میں نے ایک جھٹکا اور مارا تو میرا لن تقریبًا چار انچ تک اس کی گانڈ میں داخل ہو گیا وہ درد سے گھٹی گھٹی آواز میں چلا رہا تھا اور مجھے کہہ رہا تھا بھائی مجھے بہت درد ہو رہا ہے اسے باہر نکالو پلیز ۔۔۔۔۔ میں اسے ریلیکس کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ بار بار مجھے باہر نکالنے کو بول رہا تھا لیکن میں جانتا تھا کہ اگر ابھی میں نے باہر نکال لیا تو شاید وہ پھر مجھے دوبارہ اندر نہیں ڈالنے دے گا !!!! میں نے اسکی مٹھ تیزی سے مارنی جاری رکھی۔۔۔
اور ساتھ ساتھ بلکا بلکا دباؤ اس کی گانڈ پر بڑھاتا گیا نتیجتا چند منٹ میں ہی میرا پورا لن جڑ تک اس کی گانڈ میں داخل ہو چکا تھا۔۔۔۔ وہ جسمانی طور پر مجھ سے کمزور تھا اسی لیے میں نے اسے آسانی سے جھکڑ رکھا تھا جبکہ وہ مسلسل کوشش کر رہا تھا کہ میری گرفت سے نکل جائے ساتھ ہی میں نے اپنا کام جاری رکھا اور اس کے لن کو سہالتا رہا تھوڑی ہی دیر میں وہ تھوڑا پر سکون ہو گیا تو ہاتھ کے ساتھ ساتھ میں نے اپنے لن کو بھی حرکت دینی شروع کر دی۔۔۔
اور آہستہ آہستہ اس کی گانڈ میں اندر باہر کرنے لگا !!!! ابھی مجھے اتنا مزہ آنے لگا کہ مجھے ناظم کے درد کی پرواہ ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔ وہ بھی اب ریلیکس ہو چکا تھا اس کا درد مزے میں تبدیل ہو گیا تھا کچھ دیر بعد میں نے اپنا منی اس کی گانڈ میں ہی نکال دیا اور میرے ہاتھ نے اسے بھی منزل تک پہنچا دیا۔۔۔ اب ہم دونوں پُر سکون ہو چکے تھے تھوڑی دیر سانسیں بحال کرنے کے بعد میں نے خاموشی توڑی اور پوچھا چھوٹے زیادہ درد تو نہیں ہوا تمہیں۔۔۔۔؟
تو وہ کہنے لگا بھائی پہلے تو میری جان ہی نکل گئی تھی پھر آہستہ آہستہ درد کم ہونے لگا اور مزہ بھی آیا۔۔۔۔ پھر ہم سونے کیلئے لیٹ گئے ۔۔۔۔۔۔!!!! اس دن کے بعد ہماری یہ روٹین بن گئی ہم روز رات سونے سے پہلے ایک دوسرے کا لن چوستے اور چدائی کرتے تھے ۔۔۔۔ سب گھر والے حیران تھے کہ ان کی آپس میں اتنی زیادہ انڈر سٹینڈنگ ہو گئی ہے خاص طور پر میری امی اکثر بہنوں کو نصیحت کرنے لگیں کہ ان سے کچھ سیکھو۔۔۔۔۔
تم لوگ تو سارا وقت آپس میں لڑتی جھگڑتی رہتی ہو اپنے بھائیوں کی طرح پیار اور امن سے رہا کرو اور ہم دونوں یہ بات سن کر مسکر ا دیتے۔ اب یہاں کہانی کے اس موڑ پر آکر ضرورت ہے کہ میں اپنی آپی کے بارے میں چند باتیں بتا دوں آپی کا نام روبی ہے بہت ہی نفاست پسند ہیں ہلکی سی بھی گندگی برداشت نہیں کرتیں اور پردے کی بہت سخت پابندی کرتی ہیں،
ہمہ وقت اسکارف پہنے رکھتی ہیں انکا گالبی رنگ اور ان کا لباس ان کی شخصیت کو اور بھی جازب بنا دیتا ہے۔۔ دوسری چھوٹی بہن کا نام نازیہ ہے ہم لوگ اس کو ناز کہہ کر پکارتے ہیں وہ ناظم کی ہم عمر اور اس کے ساتھ جڑواں پیدا ہوئی تھی ۔۔۔ ناز کے بارے میں باقی تفصیل اس کی انٹری کے ساتھ بتائی جائے گی۔۔۔
مجھے اور ناظم کو چدائی کا کھیل کھیلتے ہوئے تین مہینے ہو گئے تھے لن چوسائی گانڈ چاٹنی اور سیکس کی ساری پوزیشنیں ہم لوگ اختیار کرتے تھے۔ ایک رات ہم لوگ کمرے کا دروازہ لاک کرنا بھول گئے اور کمپیوٹر پر سیکسی مووی دیکھنا شروع کر دی، اس وقت ہم ننگے تھے ۔۔۔۔۔ میں نے ناظم کو اشارہ کیا اور وہ اٹھ کر میرے اوپر لیٹ گیا اور کسنگ کرنا شروع کر دی کچھ دیر کسنگ کرنے کے بعد میں نے ناظم کو لن چوسنے کو کہا اب پوزیشن یہ تھی کہ میں بیڈ پر نیم دراز تھا جبکہ ناظم میری دونوں ٹانگوں کے درمیان الٹا لیٹ کر میرا لن چوس رہا تھا اور میری آنکھیں مزے کی شدت سے بند تھیں کہ کمرے میں جیسے اچانک بمب پھٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ تیری —- یہ تم دونوں کیا کر رہے ہو میں اچھلا اور دروازے کی طرف دیکھا تو دروازہ کھلا ہوا تھا اور دروازے میں روبی آپی کھڑی ہوئی تھیں ،، ان کی آنکھیں پھٹی ہوئیں تھیں اور وہ شاک کی کیفیت میں کھڑی تھیں اور ان کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا۔۔۔۔ میری تو روح فنا ہو گئی اور ناظم تو ایسے تھا جیسے کاٹو تو لہو نہ نکلے ، ادھر اب پتہ نہیں ماحول کی ٹینشن تھی یا پھر اس وجہ سے کہ ناظم نے ابھی لن کو منہ سے نکالا ہی تھا اچانک میرے لن نے جھٹکا کھایا اور منی کی دھار بہنے لگی اور ناظم کا چہرہ بھگو گئی اس وقت
روبی آپی کی نظریں منی چھوڑتے لن پر تھی۔۔۔۔
میں شرم سے جمع ہو کر رہ گیا اور خود کو بیڈ شیٹ میں لپیٹ لیا ناظم بھی میرے ساتھ ہی چھپنے کی کوشش کرنے لگا تبھی روبی آپی چلائی۔۔۔۔۔۔ ساگر تم ہوش میں تو ہو۔۔۔؟ ہائے
بےغیرت انسان بڑے بھائی ہونے کے ناطے تم پے رول پاتال بن رہے ہو اپنے سگے چھوٹے بھائی کے ساتھ ۔۔۔۔ ساگر تم شرم سے مر کیوں نا گئے یہ حرکت کرنے سے پہلے۔۔۔
میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تم یہ گندگی پھیالؤ گے۔۔۔۔۔۔ اس طرح وہ کچھ دیر ہم پر چلاتی رہیں میں نے تھوڑا اتر کر کپڑے اٹھانے کی کوشش کی تو روبی آپی بولی وہیں لیٹے رہو۔۔۔۔ انہوں نے اپنے قدم بیڈ کی طرف بڑھائے تو ان کی نظر کمپوٹر اسکرین پر پڑی جہاں ایک سیکس مووی چل رہی تھی جس میں ایک کالا حبشی ایک گوری چٹی لڑکی کو چود رہا تھا اس کا موٹا لن اندر باہر ہوتا صاف نظر آرہا تھا روبی آپی نے ہماری طرف دیکھا اور چلائی۔
تو ایسی نیچ اور گھٹیا چیزیں دیکھ دیکھ کر تم لوگوں کا دماغ خراب ہوا ہے۔۔۔
اور یہ بول کر کمپیوٹر کی طرف چل دیں وہ ابھی کمپیوٹر سے چند قدم کے فاصلے پر تھیں کہ مودی میں حبشی نے اپنا لن لڑکی کی چوت سے باہر نکالا اور لڑکی اس کے سامنے سیدھی
ہو کر بیٹھ گئی حبشی کا لن کم از کم آٹھ انچ کا رہا ہوگا لڑکی نے اس 8 انچ کے لن کو اپنے منہ کے اوپر رکھا اور چاٹنے لگی اور لن نے منی چھوڑنا شروع کر دی جو کہ ساری کی ساری لڑکی کے کھلے منہ میں گرنے لی یہ دیکھ کر روبی آپی چند لمحوں کیلئے رک سی گئی۔۔۔
پھر جب انہوں نے آگے بڑھ کر کمپیوٹر کو آف کیا تب تک لڑکی حبشی کے لن کا سارا پانی پی چکی تھی۔۔۔۔ آپی نے کمپیوٹر آف کر دیا۔۔۔۔ جب تک آپی کمپیوٹر کو آف کر کے مڑی میں اپنا کچھا پہن لیا تھا اور ناظم بھاگ کر واشروم میں گھس گیا۔۔۔۔ میں دو قدم آپی کی طرف بڑھا اور زمین پر بیٹھ گیا ۔۔۔ وہ شعلہ بار نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔۔ میں نے کہا سوری آپی ہم لوگ بہت زیادہ اکسائیٹڈ ہو گئے تھے تبھی ایسی غلطی ہوئی تو آپی بولیں ۔۔۔۔۔ آکسائیٹڈ۔۔ وہ بھی بھائی کے ساتھ۔۔.
اگر منہ کالا ہی کرنا تھا تو کہیں اور جا کر کسی لڑکی کے ساتھ کر سکتے تھے یا اپنی جنسی خبیث روح والا کوئی لڑکا دیکھ لیتے جو کم از کم تمہارا بھائی نہیں ہوتا ۔۔ میں نے محسوس کیا کہ اسکرین پر لن والا سین دیکھنے کے بعد آپی کے لہجے میں واضح کمی آئی تھی اب وہ پہلے کی طرح جاتا نہیں رہی تھیں۔۔۔
آپی سائیڈ میں گئی اور کچھ سوچنے لگی۔ چند منٹ اس طرح گزر گئے پھر میں نے سمجھتے ہوئے خوف زدہ ہی آواز میں
پوچھا آپی کیا آپ یہ سب امی ابو کو بھی بتاؤ گی ۔۔۔ وہ ایسے چونکیں جیسے یہاں سے بلکل ہی غافل تھیں اور بوجھل سے لہجے میں بولیں ساگر میں نہیں جانتی کہ میں کیا کروں گی۔۔۔
کیا کہوں گی لیکن تم دونوں کو شرم آنی چاہیے اگر ایسی حرکتیں کرنی ہی ہیں تو باہر جا کر کسی اور کے ساتھ کہیں اور کرو۔۔۔ میں نظریں جھکائے بیٹھا رہا۔۔۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد میں نے نظریں اٹھائیں تو آپی خاموشی سے چھت کی طرف دیکھ رہی تھیں اور ان کا ذہن جیسے کہیں اور الجھا ہوا تھا ۔ آخر ان کا قصہ بھی ختم ہو چکا تھا اور وہ بلکل نارمل تھا۔۔۔۔ مجھے اپنی طرف دیکھتے ہوئے پایا تو بولیں اب اٹھو اور جا کر ناظم کو دیکھو وہ پاگل ابھی تک واش روم میں بند ہے۔۔۔۔
میں اٹھا تو وہ بھی میرے ساتھ ہی آئیں اور واشروم کے پاس جا کے بولیں ۔۔۔ ناظم مجھے تم سے بلکل بھی یہ امید نہیں تھی۔ تم دونوں ہی گندگی میں ڈوبے ہوئے تھے تبھی اندر سے ناظم کی روتی ہوئی آواز سنائی دی کہ آپی مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی پر خدارا یہ بات امی ابو کو مت بتانا اور یہ کہہ کر اس نے باقاعدہ رونا شروع کر دیا۔۔۔ آپی نے مجھے دیکھا اور بولی اس پاگل کو چپ کرواؤ اور کچھ شرم کرو تم دونوں۔۔۔
یہ کہہ کر آپی کمپیوٹر کی طرف چل پڑی اور پاس جا کر کمپیوٹر پر کچھ کیا اور پھر باہر چلی گئیں میں نے بھاگ کر دروازہ لاک کیا اور واشروم کے پاس جا کر ناظم سے بولا کہ آپی چلی گئیں ہیں اب باہر آجاؤ تو وہ فورا باہر آگیا اور آ کر اپنے کپڑے پہنے اور مجھے کہنے لگا کہ بھائی اگر آپی نے امی ابو کو بتا دیا تو کیا ہو گا۔۔۔۔ میرے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا لیکن اس کو بولا کہ کچھ نہیں ہوگا آپی کسی کو نہیں بتائیں گی لیکن میرے اپنے شاٹ ہو چکے تھے کہ نجانے اب کیا ہو گا۔۔۔۔
کافی دیر اسی طرح کی سوچوں میں گم رہا اچانک مجھے خیال آیا کہ کمینے ترے کارناموں والی موویز تو ڈلیٹ کر دوں تا کہ اگر آپی اور کسی کو بتا بھی دے تو دکھانے کیلئے اس کے پاس کوئی ثبوت نہ ہو لیکن جیسے ہی میں کمپیوٹر آن کرنے لگا تو دیکھا کہ اس کی پاور کیبل غائب ہے اور یاد آیا کہ جانے سے پہلے آپی کمپیوٹر کے پاس کھڑی کچھ کر رہی تھی جس کا مطلب تھا کہ پاور کیبل آپی لے گئی ہیں۔۔۔۔ لیکن انہوں نے ایسا کیوں کیا یہ سوچتے ہوئے میں بیڈ پر آ کر لیٹ گیا اور ناظم اتنی دیر میں سو چکا تھا۔
اور میں سوچوں کے گھوڑے دوڑانے لگا کہ ضرور آپی امی ابو کو بتا دیں گی اس لیے کیبل ساتھ لے گئیں ہیں تا کہ میں ثبوت نہ مٹا سکوں یہ سوچتے ہی خوف کی اک لہر نے مجھے گھیر لیا لیکن کچھ دیر بعد جب نیند مجھ پر غالب آنے لگی تو میں نے اپنی فطرت کے مطابق اپنے زہن کو جھنک دیا کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔۔۔۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا مار پیٹ کہ تھک ہار کر گھر سے نکال دیں گے نا، نکال دیں اب میں خود بھی کما سکتا ہوں وغیر وغیرہ۔۔۔۔۔
میں عمر کے جس حصے میں تھا ایسی باقی سوچیں ویسے بھی اس عمر کا خاصہ ہیں۔ اچھی سوچوں کے تانے بانے بنا کے میں نیند کی آغوش میں چلا گیا۔۔۔اگلی صبح جب آنکھ کھلی تو سب سے پہلا سوال ہمارے ذہن میں بھی تھا کہ اب کیا ہو گا۔۔۔ میں جلدی جلدی کالج کیلئے تیار ہو کر باہر نکلا تو امی ٹیبل پر ہمارے لیے ناشتہ لگا رہی تھیں جبکہ پہلے ہمیشہ روبی آپی ہمارے لیے کھانا لگاتی تھیں اور آخر میں خود کھا کر یونیورسٹی جاتی تھیں۔۔۔
میں ٹیمیل پر بیٹھا ہی تھا کہ ناظم بھی کمرے سے نکلتا دکھائی دیا۔۔۔ ٹھیک اسی وقت روبی آپی اور ناز کے مشترکہ کمرے کا دروازہ بھی کھلا اور ناز اپنی یونیفارم میں ملبوس باہر نکلی۔ کھلے دروازے سے اندر نظر ڈالی تو روبی آپی بیڈ پر لیٹی نظر آئی۔ ناظم ایسے میرے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جیسے بلی کے سامنے چوہا۔ میں نے اسے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا ہی تھا کہ اتنے میں امی اور ناز کچن سے کھانا لیکر باہر آگئیں اور ٹیبل پر ساتھ بیٹھ گئیں۔۔۔۔امی ناز سے کہہ رہی تھیں۔۔ بتاؤ ! کہ ضرور تم نے اور روٹی نے بازار سے کچھ غلط ملط چیز کھائی ہوگی اس لیے روبی کا پیٹ خراب ہے اور وہ یونیورسٹی نہیں جا رہی اور ناز مسلسل انکار کر رہی تھی کہ امی ہم نے بازار سے کچھ نہیں منگوایا۔
ان کی بحث سے مجھے روبی آپی کی ناشتے پر نظر نہ آنے کی وجہ معلوم ہوگئی اور میں نے اور ناظم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو دل میں یہی خیال آیا کہ شکر ہے روبی آپی سے سامنا نہیں ہوا۔۔۔۔ لیکن ابھی تک میں اندر سے سہما ہوا تھا نجانے ہمارے گھر سے نکلنے کے بعد روبی آپی امی کو سب بتا دے۔۔۔۔ ہم گھر سے بس سٹاپ تک ایک ساتھ ہی جاتے اور وہاں کی اپنی اپنی بس میں بیٹھ جاتے تھے۔ آج بھی ہم تینوں ایک ساتھ نکلے بس سٹاپ پر پیچ کر ناظم اور ناز اپنی بس میں بیٹھ کر اپنے سکول چلے گئے اور میں بھی اپنے کالج کی طرف چل دیا۔۔۔۔
میر ذہن بہت الجھا ہوا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے ذہن میں کوئی بات نگلی ہوئی ہے لیکن ہضم نہیں ہو پا رہی تھی ۔۔ اسی الجھن میں کالج سے بھی جلدی نکل آیا ۔۔۔ گھر میں داخل ہوتے ہوئے بھی میں نے احتیاط رکھی کہ آپی سے سامنا مت ہو۔۔۔۔ میں ابھی فلحال آپی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ گھر کی ایک الگ چابی میرے پاس ہوتی تھی تو میں صدر دروازے کا لاک کھول کر آرام سے اندر داخل ہوا اور چاروں طرف نظر ماری پر کوئی بھی نظر نا آیا جبکہ میرے حساب سے امی اور روبی آپی کو گھر میں ہونا چاہیے تھا جب مجھے کوئی نظر نہ آیا تو میں اپنا سر جھٹک کر اوپر اپنے کمرے کی طرف چل پڑا
ابھی چند سیڑھیاں ہی چڑھا تھا کہ امی اپنے کمرے سے نکلیں مجھ پر نظر پڑی تو پوچھا ساگر بیٹا خیریت تو ہے آج اتنی جلدی آگئے۔۔۔
تو میں نے کہا کہ آج تمام ٹیچرز نے ہڑتال کی ہوتی ہے اور آپ تو جانتی ہیں میں ان کاموں سے دور بھاگتا ہوں اس لیے گھر چالا آیا تو امی نے بغل میں موجود اپنا برقع کھولا اور پہنتے ہوئے پھر کسی کو کوسنے لگیں۔۔ خطاب کرنے کے بعد مجھے کہا میں تیری نجمہ خالہ کی طرف جا رہی ہوں اس نے مجھے بلایا ہے۔۔۔ میں روبی کو بتانے اوپر جارہی تھی تا کہ وہ دروازہ بند کر لے۔۔۔ اتنی دیر سے وہ اوپر جا کر بیٹھی ہوئی ہے اور میرے لیے سیڑھیاں چڑھنا بہت دشوار ہے۔۔۔۔
یہ کہ کر مجھے دروازہ بند کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے باہر نکل گئیں ۔۔ میں نے دروازے کو لاک کیا اور اوپر جانے کیلئے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔۔۔۔ اوپر یا تو ہمارا روم ہے یا سٹڈی روم ہے پہلے میں نے آپی کو دیکھنے کیلئے سٹڈی روم میں جھانکا لیکن وہاں آپی نہیں تھی سٹڈی روم میں نہیں ہونے کا مطلب وہ ہمارے روم میں ہیں تو اچانک میری چھٹی حس نے مجھے آگاہ کر دیا کہ کچھ لو گڑ بڑ ہے۔۔۔
میں دبے پاؤں چلتا ہوا اپنے کمرے کے دروازے تک آیا اور ہلکا سا جھانک کر دیکھا تو پتہ چلا کہ دروازہ اندر سے لاک ہے۔ میں نے سوچا بالکونی بھی ہے میں وہاں سے جاتا ہو اور سٹڈی روم میں آیا اور اس کی ونڈو سے باہر کی طرف بالکونی پر آ گیا اور دبے پاؤں ہی جاتا ہوا اپنے روم کی وندو تک جانا کیا اور تیسری وندو کو ہلکا سا دبایا تو لاک کھلا ہوا ہی تھا ہم دونوں بھائی کبھی بھی اس ونڈو کو لاک نہیں کرتے تھے کہ کبھی تو ضرورت پڑ سکتی ہے اور آج ضرورت پڑھ ہی گئی ۔۔ جیسے ہی میں نے اندر دیکھا میرا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا … آپی رونی اندر کمرے میں موجود تھی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔



Source link

Leave a Comment